As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Adh-Dhariyat 51:38–60
51:38–40Page 522
وَفِي مُوسَىٰٓ إِذۡ أَرۡسَلۡنَٰهُ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٖ ٣٨
And in Moses [was a sign], when We sent him to Pharaoh with clear authority.1
فَتَوَلَّىٰ بِرُكۡنِهِۦ وَقَالَ سَٰحِرٌ أَوۡ مَجۡنُونٞ ٣٩
But he turned away with his supporters and said, "A magician or a madman."
فَأَخَذۡنَٰهُ وَجُنُودَهُۥ فَنَبَذۡنَٰهُمۡ فِي ٱلۡيَمِّ وَهُوَ مُلِيمٞ ٤٠
So We took him and his soldiers and cast them into the sea, and he was blameworthy.
اور موسیٰ (کے قصے) میں (نشانی ہے)، جب بھیجا ہم نے اس کو فرعون کی طرف ساتھ دلیل (معجزے) ظاہر کے (38) پس اس نے رو گردانی کی بہ سبب اپنی قوت کے اور کہا: (موسیٰ) ساحر یا مجنون ہے(39) پس گرفت کی ہم نے اس کی اور اس کےلشکروں کی اور پھینک دیا ہم نے ان کو سمندر میں اس حال میں کہ وہ قابل ملامت تھا (40)
[38]﴿ وَفِيۡ مُوۡسٰۤى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو جو واضح آیات اور ظاہری معجزات کے ساتھ مبعوث فرمایا، اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔
[39] چنانچہ جب حضرت موسیٰu واضح معجزہ لے کر آئے تو فرعون نے منہ موڑ لیا ﴿ بِرُؔكۡنِهٖ﴾ ’’اپنے لشکر کے ساتھ‘‘ یعنی اس نے حق سے روگردانی کی اور حضرت موسیٰu کی طرف التفات نہ کیا بلکہ انھوں نے حضرت موسیٰu میں جرح و قدح کی اور کہنے لگے: ﴿ سٰحِرٌ اَوۡ مَجۡنُوۡنٌ﴾ یعنی موسیٰ میں ان دو چیزوں میں سے ایک چیز ضرور ہے۔جو چیز موسیٰ پیش کر رہا ہے وہ جادو اور شعبدہ بازی ہے، یہ حق نہیں ہے یا موسیٰ مجنون ہے، اس سے جو کچھ صادر ہوتا ہے، اسے، اس کے فاتر العقل ہونے کی وجہ سے، اخذ نہ کیا جائے۔ حالانکہ انھیں پوری طرح علم تھا خاص طور پر فرعون جانتا تھا کہ حضرت موسیٰ u سچے ہیں ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا ﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے ظلم اور تکبر سے آیات الٰہی کا انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل تو ان کو تسلیم کر چکے تھے۔‘‘ اور حضرت موسیٰ uنے فرعون سے فرمایا :﴿ قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ ﴾(بنی اسرائیل: 17؍102)’’تجھے علم ہو چکا ہے کہ ان بصیرت افروز نشانیوں کو آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کیا ۔‘‘
[40]﴿فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ وَهُوَ مُلِيۡمٌ﴾ ’’پس ہم نے اسے اور اس کے لاؤ شکر کو پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا۔‘‘ اور وہ قابل ملامت کام کرنے والا تھا۔‘‘ یعنی وہ گناہ گار، حد سے تجاوز کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی کرنے والا تھا پس غالب اور مقتدر ہستی نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔
51:41–42Page 522
وَفِي عَادٍ إِذۡ أَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ ٱلرِّيحَ ٱلۡعَقِيمَ ٤١
And in ʿAad [was a sign], when We sent against them the barren wind.1
مَا تَذَرُ مِن شَيۡءٍ أَتَتۡ عَلَيۡهِ إِلَّا جَعَلَتۡهُ كَٱلرَّمِيمِ ٤٢
It left nothing of what it came upon but that it made it like disintegrated ruins.
اور عاد (کے قصے) میں (نشانی ہے) جب بھیجی ہم نے ان پر ہوا بانجھ (بے برکت)(41) نہیں چھوڑتی تھی وہ کسی چیز کو کہ آتی تھی وہ اس پر، مگر کر دیتی تھی اس کو مانند بوسیدہ ہڈی کے (42)
[41]﴿ وَفِيۡ عَادٍ﴾ ’’اور عاد میں بھی ۔‘‘نشان عبرت ہے جو ایک معروف قبیلہ تھا۔ ﴿ اِذۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الرِّيۡحَ الۡعَقِيۡمَ﴾ جب انھوں نے اپنے نبی ہود u کو جھٹلایا تو ہم نے ان پر نامبارک ہوا بھیجی جو خیر سے خالی تھی۔
[42]﴿مَا تَذَرُ مِنۡ شَيۡءٍ اَتَتۡ عَلَيۡهِ اِلَّا جَعَلَتۡهُ كَالرَّمِيۡمِ﴾ ’’وہ جس پر سے بھی گزرتی تو وہ اسے ریزہ ریزہ کیے بغیرنہ چھوڑتی۔‘‘ یعنی ریزہ ریزہ کی ہوئی بوسیدہ چیز کے مانند۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ ہستی جس نے قوم عاد کو ان کی قوت اور طاقت کے باوجود ہلاک کر ڈالا، کامل قوت و اقتدار کی مالک ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی، وہ نافرمانی کرنے والوں سے انتقام لے سکتی ہے۔
51:43–45Page 522
وَفِي ثَمُودَ إِذۡ قِيلَ لَهُمۡ تَمَتَّعُواْ حَتَّىٰ حِينٖ ٤٣
And in Thamūd, when it was said to them, "Enjoy yourselves for a time."
فَعَتَوۡاْ عَنۡ أَمۡرِ رَبِّهِمۡ فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلصَّٰعِقَةُ وَهُمۡ يَنظُرُونَ ٤٤
But they were insolent toward the command of their Lord, so the thunderbolt seized them while they were looking on.
فَمَا ٱسۡتَطَٰعُواْ مِن قِيَامٖ وَمَا كَانُواْ مُنتَصِرِينَ ٤٥
And they were unable to arise, nor could they defend themselves.
اور ثمود(کے قصے) میں (نشانی ہے)، جب کہا گیا ان سے، تم فائدہ اٹھاؤ ایک وقت (تین دن) تک (43) پس انھوں نے سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے تو پکڑ لیا ان کوکڑک نے اس حال میں کہ وہ دیکھ رہے تھے (44) پھر نہ استطاعت رکھی انھوں نے کھڑے ہونے کی اور نہ تھے وہ بدلہ لینے والے ہی (45)
[43]﴿وَفِيۡ ثَمُوۡدَ﴾ ’’اور ثمود میں بھی۔‘‘ ایک عظیم نشان عبرت ہے، جب اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت صالحu کو مبعوث کیا تو انھوں نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کے ساتھ عناد کا رویہ رکھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف واضح معجزے کے طورپر اونٹنی بھیجی ۔مگر ان کی سرکشی اور نفرت اور بڑھ گئی ﴿ اِذۡ قِيۡلَ لَهُمۡ تَمَتَّعُوۡا حَتّٰى حِيۡنٍ۰۰﴾’’چنانچہ انھیں کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھالو۔‘‘
[44]﴿فَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهِمۡ فَاَخَذَتۡهُمُ الصّٰؔعِقَةُ﴾ ’’تو انھوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی تو ان کو کڑک نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ہلاک کر دینے والی ایک بہت بڑی کڑک نے آ لیا ﴿ وَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ اور وہ اپنی اس سزا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔
[45]﴿ فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مِنۡ قِيَامٍ﴾ ’’پس وہ اٹھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔‘‘ جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات حاصل کرتے ﴿ وَّمَا كَانُوۡا مُنۡتَصِرِيۡنَ ﴾ اور نہ وہ اپنے لیے کوئی مدد ہی حاصل کر سکے۔
51:46Page 522
وَقَوۡمَ نُوحٖ مِّن قَبۡلُۖ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمٗا فَٰسِقِينَ ٤٦
And [We destroyed] the people of Noah before; indeed, they were a people defiantly disobedient.
اور (ہلاک کیا ہم نے) قوم نوح کو، (اس سے) پہلے، بلاشبہ وہ تھے لوگ نافرمان (46)
[46] یعنی اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کے ساتھ بھی یہی کیا، جب انھوں نے حضرت نوح uکو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر آسمان سے اور زمین سے بے پناہ سیلاب بھیجا، جس نے ان کے آخری آدمی تک کو غرق کر دیا اور کافروں کا ایک بھی بستا ہوا گھر باقی نہ چھوڑا۔ یہ ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی عادت اور سنت ہے جو اس کی نافرمانی کرتے ہیں۔
51:47–51Page 522
وَٱلسَّمَآءَ بَنَيۡنَٰهَا بِأَيۡيْدٖ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ ٤٧
And the heaven We constructed with strength,1 and indeed, We are [its] expander.
وَٱلۡأَرۡضَ فَرَشۡنَٰهَا فَنِعۡمَ ٱلۡمَٰهِدُونَ ٤٨
And the earth We have spread out, and excellent is the preparer.
وَمِن كُلِّ شَيۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَيۡنِ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ ٤٩
And of all things We created two mates [i.e., counterparts]; perhaps you will remember.
فَفِرُّوٓاْ إِلَى ٱللَّهِۖ إِنِّي لَكُم مِّنۡهُ نَذِيرٞ مُّبِينٞ ٥٠
So flee to Allāh.1 Indeed, I am to you from Him a clear warner.
وَلَا تَجۡعَلُواْ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَۖ إِنِّي لَكُم مِّنۡهُ نَذِيرٞ مُّبِينٞ ٥١
And do not make [as equal] with Allāh another deity. Indeed, I am to you from Him a clear warner.
اور آسمان، بنایا ہم نے اس کو ساتھ قوت کے، اور بلاشبہ ہم البتہ وسعت والے ہیں (47) اور زمین، بچھایا ہم نے اس کو پس اچھا بچھانے والے ہیں (ہم)(48) اور ہر چیز کو پیدا کیا ہم نے جوڑا (جوڑا) شاید کہ تم نصیحت پکڑو(49) پس دوڑو تم اللہ کی طرف بلاشبہ میں تمھیں اس سے ڈرانے والا ہوں ظاہر (50) اور نہ بناؤ تم اللہ کے ساتھ معبود دوسرا، بلاشبہ میں تمھیں اس سے ڈرانے والا ہوں ظاہر (51)
[47] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظیم قدرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَالسَّمَآءَ بَنَيۡنٰهَا﴾ یعنی ہم نے آسمان کو تخلیق کیا اور نہایت مہارت سے بنایا اور اسے زمین اور اس کی موجودات کے لیے چھت بنایا۔ ﴿ بِاَيۡىدٍ﴾ ’’ قوت سے۔‘‘ یعنی عظیم قدرت و قوت کے ساتھ۔ ﴿ وَّاِنَّا لَمُوۡسِعُوۡنَ﴾ اور ہم اس کو اس کے کناروں اور گوشوں تک وسعت دیتے ہیں، نیز ہم اپنے بندوں کے لیے بھی رزق کو وسیع کرتے ہیں۔ بیابانوں کے چٹیل میدانوں میں سمندروں کی سرکش موجوں میں اور عالم علوی اور عالم سفلی میں ان کے کناروں تک کوئی جاندار ایسا نہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنا رزق بہم نہ پہنچایا ہو جو اس کے لیے کافی ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسے احسان سے نہ نوازا ہو جو اسے بے نیاز کرتا ہو۔ پس پاک ہے وہ ذات جس کا جود و کرم تمام مخلوقات کے لیے عام ہے اور نہایت بابرکت ہے وہ ہستی جس کی بے پایاں رحمت تمام جانداروں پر سایہ کناں ہے۔
[48]﴿ وَالۡاَرۡضَ فَرَشۡنٰهَا﴾ یعنی ہم نے زمین کو مخلوق کے لیے فرش بنایا ہے تاکہ وہ ان تمام امور پر متمکن ہوں جو ان کے مصالح سے تعلق رکھتے ہیں ، مثلاً: گھر بنانا، باغات لگانا، کھیتی باڑی کرنا، بیٹھنا اور ان راستوں پر چلنا جو ان کو ان کے مقصد تک پہنچاتے ہیں۔ اور چونکہ فرش کبھی تو ہر لحاظ سے انتفاع کے قابل ہوتا ہے اور کبھی کسی لحاظ سے قابل انتفاع نہیں ہوتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے مکمل طور پر بہترین طریقے سے ہموار کیا ہے اور اس بنا پر اپنی حمد و ثنا بیان کرتے ہو ئے فرمایا:﴿ فَنِعۡمَ الۡمٰهِدُوۡنَ﴾ ’’پس ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں۔‘‘ جس نے اپنی حکمت اور رحمت کے تقاضے کے مطابق زمین کو ہموار کیا۔
[49]﴿ وَمِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَيۡنِ ﴾ یعنی حیوانات کی ہر نوع میں نر اور مادہ دو اصناف پیدا کیں ۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی بدولت جو اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کے دوڑے بناکر تم پر کیں، غور و فکرکرو اور اس کی حکمت یہ ہے کہ اس نے جوڑوں کی تخلیق کو تمام حیوانات کی انواع کی بقا کا سبب بنایا تاکہ تم ان کی افزائش، ان کی خدمت اور ان کی تربیت کا انتظام کرو جس سے مختلف منافع حاصل ہوتے ہیں۔ ﴿ فَفِرُّوۡۤا اِلَى اللّٰهِ﴾ ’’لہٰذا تم اللہ کی طرف دوڑو۔‘‘
[50] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی ان آیات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے جو خشیت الٰہی اور انابت الی اللہ کی موجب ہیں، اس لیے اس چیز کا حکم دیا جو اس غور و فکر کی مقصود و مطلوب ہے، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف فرار ہونا، یعنی جو چیز ظاہری اور باطنی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے، اسے چھوڑ کر اس چیز کی طرف فرار ہونا جو ظاہری اور باطنی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، جہالت سے فرار ہو کر علم کی طرف آنا، کفر سے بھاگ کر ایمان کی طرف آنا، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے فرار ہو کر اس کی اطاعت کی طرف آنا اور غفلت کو چھوڑ کر ذکر الٰہی کی طرف آنا۔پس جس نے ان امور کو مکمل کر لیا، اس نے تمام دین کی تکمیل کر لی، اس سے خوف زائل ہو گیا اور اسے اس کی منزلِ مراد اور مطلوب و مقصود حاصل ہو گیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی طرف اس رجوع کو ’’فرار‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے کیونکہ غیر اللہ کی طرف رجوع میں خوف اور ناپسندیدہ امور کی بہت سی انواع پنہاں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع میں انواع و اقسام کے پسندیدہ امور، امن مسرت، سعادت اور فوز و فلاح پوشیدہ ہیں۔پس بندہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے بھاگ کر اس کی قضا و قدر کی طرف آئے اور ہر وہ ہستی جس سے آپ ڈرتے ہیں اس سے بھاگ کر اللہ تعالیٰ کی پناہ لیں۔ کیونکہ اس خوف کی مقدار کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ کی طرف فرار ہو گا ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ مِّؔنۡهُ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ یعنی میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔
[51]﴿ وَلَا تَجۡعَلُوۡا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’اور اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا الٰہ نہ بناؤ۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف فرار میں شمار ہوتا ہے، بلکہ یہی اس کی طرف حقیقی فرار ہے کہ بندہ غیر اللہ کو معبود بنانے کو ترک کر کے، یعنی بتوں، اللہ تعالیٰ کے خود ساختہ ہمسروں، اور قبروں وغیرہ کو جن کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے، چھوڑ کر اپنے رب کے لیے اپنی عبادت، اپنے خوف و رجا، دعا اور انابت کو خالص کرے۔
51:52–53Page 523
كَذَٰلِكَ مَآ أَتَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُواْ سَاحِرٌ أَوۡ مَجۡنُونٌ ٥٢
Similarly, there came not to those before them any messenger except that they said, "A magician or a madman."
أَتَوَاصَوۡاْ بِهِۦۚ بَلۡ هُمۡ قَوۡمٞ طَاغُونَ ٥٣
Did they suggest it to them?1 Rather, they [themselves] are a transgressing people.
اسی طرح نہیں آیا تھا ان لوگوں کے پاس جو ان سے پہلے تھے کوئی رسول مگر انھوں نے کہا، (یہ)ساحر ہے یا مجنون (52) کیا (یہ) ایک دوسرے کو وصیت کرتے آئے ہیں اس (بات) کی؟(نہیں)بلکہ وہ (سارے) لوگ ہی ہیں سرکش (53)
[52] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو مشرکین کی تکذیب کے مقابلے میں تسلی دیتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کرتے ہیں، اس کے بارے میں مختلف بری باتیں کرتے ہیں جن سے وہ منزہ اور پاک ہے۔ ایسی باتیں کہنا ہمیشہ سے ان مجرموں اور رسولوں کو جھٹلانے والوں کی عادت رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا رسول مبعوث نہیں فرمایا جس پر اس کی قوم نے جادوگر اور مجنون ہونے کا بہتان نہ لگایا ہو۔
[53] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اقوال جو ان کے اولین و آخرین سے صادر ہوئے ہیں کیا یہ ایسے اقوال نہیں جن کی انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت اور ایک دوسرے کو تلقین کی ہے؟ پس اس سبب سے ان کا ان اقوال پر اتفاق کر لینا کچھ بعید نہیں۔ ﴿ بَلۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ﴾ ’’بلکہ وہ سرکش لوگ ہیں۔‘‘ ان کے دل اور اعمال، کفر اور سرکشی کے سبب سے باہم مشابہت رکھتے ہیں۔ پس ان کی سرکشی سے جنم لینے والے ان کے اقوال بھی باہم مشابہت رکھتے ہیں۔ اور فی الواقع ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ لَوۡلَا يُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوۡ تَاۡتِيۡنَاۤ اٰيَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّثۡلَ قَوۡلِهِمۡ١ؕ تَشَابَهَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ﴾(البقرہ: 2؍118)’’اور وہ لوگ جو کچھ نہیں جانتے، کہتے ہیں کہ اللہ ہم سے ہم کلام کیوں نہیں ہوتا، یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی اسی طرح ان سے پہلے لوگ ان جیسی باتیں کیا کرتے تھے، ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں۔‘‘ اور اسی طرح اہل ایمان کے دل، چونکہ اطاعت حق اور اس کی طلب اور کوشش میں باہم مشابہ ہیں، اس لیے وہ اپنے رسولوں پر ایمان، ان کی تعظیم و توقیر اور ان کے مرتبے کے لائق خطاب کے ذریعے سے مخاطب ہونے میں جلدی کرتے ہیں۔
51:54–55Page 523
فَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ فَمَآ أَنتَ بِمَلُومٖ ٥٤
So leave them, [O Muḥammad], for you are not to be blamed.
وَذَكِّرۡ فَإِنَّ ٱلذِّكۡرَىٰ تَنفَعُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٥٥
And remind, for indeed, the reminder benefits the believers.
سو آپ منہ پھیر لیں ان سے، پس نہیں ہیں آپ قابلِ ملامت (54) اور آپ نصیحت کرتے رہیں، پس بلاشبہ نصیحت نفع دیتی ہے مومنوں کو(55)
[54] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول کو اعراض کرنے اور جھٹلانے والوں سے روگردانی کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ فَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ﴾ یعنی آپ ان کی پروا کیجیے نہ ان کا کوئی مواخذہ کیجیے، اپنے معاملات پر توجہ مرکوز رکھیے ﴿ فَمَاۤ اَنۡتَ بِمَلُوۡمٍ﴾ ان کے گناہ پر آپ کو کوئی ملامت نہیں، آپ کے ذمہ تو صرف پہنچا دینا ہے جو ذمہ داری آپ ﷺ کے سپرد کی گئی تھی وہ آپ نے پوری کر دی ہے اور جو پیغام دے کر آپ کو بھیجا گیا تھا وہ آپ نے پہنچا دیا ہے۔
[55]﴿ وَّذَكِّرۡ فَاِنَّ الذِّكۡرٰى تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور نصیحت کیجیے، بلاشبہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔‘‘ اور تذکیر کی دو اقسام ہیں:(۱)ایسے امور کے ذریعے سے تذکیر جس کی تفصیل کی معرفت حاصل نہیں ، البتہ وہ فطرت اور عقل کے ذریعے سے مجمل طور پر معروف ہے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عقل میں خیر سے محبت اور خیر کو ترجیح دینا ، شر کو ناپسند کرنا اور اس سے دور بھاگنا ودیعت کر دیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی شریعت اس کے موافق ہے۔ پس شریعت کا ہر امر و نہی، تذکیر ہے۔ تذکیر کامل یہ ہے کہ مامورات شریعت میں بھلائی، حسن اور انسانی مصالح پوشیدہ ہیں ان کا ذکر کیا جائے اور منہیات میں جو نقصانات پنہاں ہیں ان کا ذکر کیا جائے۔(۲) تذکیر کی دوسری قسم ان امور کے ذریعے سے تذکیر ہے جو اہل ایمان کو معلوم ہیں۔ مگر غفلت اور مدہوشی نے انھیں ڈھانپ رکھا ہے، ان کو ان امور کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے، ان کے سامنے ان باتوں کو مکرر بیان کیا جاتا ہے، تاکہ یہ باتیں ان کے ذہن میں راسخ ہو جائیں، ان کو تنبیہ ہوتی رہے اور جن باتوں کی انھیں یاد دہانی ہوئی ہے ان پر عمل پیرا ہوں۔ نیز یہ کہ ان میں نشاط اور ہمت پیدا ہو جو ان کے لیے فائدے اور بلندی کی موجب ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ نصیحت اور تذکیر مومنوں کو فائدہ دیتی ہے، کیونکہ ان کے پاس جو سرمایۂ ایمان، خشیتِ الٰہی، انابتِ الی اللہ اور اتباع رسول ہے، یہ تمام اوصاف اس بات کے موجب ہیں کہ تذکیر ان کو فائدہ دے اور نصیحت ان کے دل میں اتر جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَذَكِّرۡ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ؕ۰۰ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ۙ۰۰ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَى﴾(الاعلیٰ: 87؍9-11) ’’پس نصیحت کرتے رہیے، اگر نصیحت کوئی فائدہ دے۔ جو خشیت سے بہرہ ور ہے، وہ نصیحت پکڑے گا اور بدبختی کا مارا ہوا اس سے پہلو تہی کرے گا۔‘‘ جس میں ایمان کی رمق ہے نہ نصیحت کو قبول کرنے کی استعداد ہے، اس کو تذکیر اور نصیحت کوئی فائدہ نہیں دیتی، وہ اس شور زدہ زمین کی مانند ہے جس کو بارش سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اس قسم کے لوگوں کے پاس اگر تمام نشانیاں بھی آ جائیں تو وہ پھر بھی اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔
51:56–58Page 523
وَمَا خَلَقۡتُ ٱلۡجِنَّ وَٱلۡإِنسَ إِلَّا لِيَعۡبُدُونِ ٥٦
And I did not create the jinn and mankind except to worship Me.
مَآ أُرِيدُ مِنۡهُم مِّن رِّزۡقٖ وَمَآ أُرِيدُ أَن يُطۡعِمُونِ ٥٧
I do not want from them any provision, nor do I want them to feed Me.
إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلرَّزَّاقُ ذُو ٱلۡقُوَّةِ ٱلۡمَتِينُ ٥٨
Indeed, it is Allāh who is the [continual] Provider,1 the firm possessor of strength.
اور نہیں پیدا کیے میں نے جن اور انسان مگر (اس لیے) تاکہ وہ عبادت کریں میری ہی (56) نہیں چاہتا میں ان سے کوئی رزق اور نہیں چاہتا میں یہ کہ وہ کھلائیں مجھے (57) بلاشبہ اللہ ہی ہے، رزاق، قوت والا، نہایت قوی (58)
[56] وہ مقصد جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے جنات اور انسانوں کو تخلیق فرمایا، تمام انبیاء و رسل کو مبعوث کیا جو لوگوں کو اس مقصد کی طرف بلاتے رہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے جو اس کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف انابت اور ماسوا سے منہ موڑ کر صرف اسی کی طرف توجہ کرنے کو متضمن ہے۔ اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی معرفت سے وابستہ ہے۔ بلکہ بندے میں اپنے رب کی معرفت جتنی زیادہ ہو گی اس کی عبادت اتنی ہی کامل ہو گی۔ یہ وہ مقصد ہے جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے مکلفین کو پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے پیدا نہیں کیا کہ اسے ان سے کوئی ضرورت تھی۔
[57]﴿ مَاۤ اُرِيۡدُ مِنۡهُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ وَّمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ يُّطۡعِمُوۡنِ﴾ ’’ میں ان سے كوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔‘‘ یعنی اللہ عزوجل اس سے بہت بلند ہے کہ وہ کسی بھی لحاظ سے کسی کا محتاج ہو۔ تمام مخلوق اپنی حوائج و مطالب ضروریہ اور غیر ضروریہ میں اس کی محتاج ہے۔
[58] اسی لیے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ رزق کثیر کا مالک ہے۔ زمین میں نہ آسمان میں کوئی ایسا جاندار نہیں جس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ نہ ہو، وہ اس کا ٹھکانا بھی جانتا ہے اور اس جگہ کو بھی جانتا ہے جہاں اس کو سونپا جانا ہے ﴿ ذُو الۡقُوَّةِ الۡمَتِيۡنُ﴾ یعنی وہ تمام قوت اور قدرت کا مالک ہے۔ جس نے اس قدرت کے ذریعے سے عالم علوی اور عالم سفلی کے اتنے بڑے بڑے اجسام کو وجود بخشا، اس قدرت کے ذریعے سے وہ ظاہر و باطن میں تصرف کرتا ہے اور اس کی مشیت تمام مخلوق پر نافذ ہے۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے، جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا ، کوئی بھاگنے والا اسے بے بس کر سکتا ہے نہ کوئی اس کے تسلط سے باہر نکل سکتا ہے۔ یہ اس کی قوت کا کرشمہ ہے کہ اس نے تمام کائنات کو رزق بہم پہنچایا۔یہ اس کی قدرت و قوت ہے کہ وہ مردوں کو دوبارہ زندگی بخشے گا جبکہ بوسیدگی نے ان کو ریزہ ریزہ کر دیا ہو گا، ہوائیں ان (کے ذرات) کو اڑا کر بکھیر چکی ہوں گی، پرندے اور درندے انھیں نگل چکے ہوں گے، اور وہ چٹیل بیابانوں اور سمندر میں بکھر چکے ہوں گے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی اس سے بچ نہیں سکے گا۔ ان کے اجساد کو جو زمین کم کر رہی ہے وہ اسے خوب جانتا ہے، پاک ہے وہ ذات جو قوت والی اور طاقت ور ہے۔
51:59–60Page 523
فَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ ذَنُوبٗا مِّثۡلَ ذَنُوبِ أَصۡحَٰبِهِمۡ فَلَا يَسۡتَعۡجِلُونِ ٥٩
And indeed, for those who have wronged is a portion [of punishment] like the portion of their companions [i.e., predecessors], so let them not impatiently urge Me.
فَوَيۡلٞ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن يَوۡمِهِمُ ٱلَّذِي يُوعَدُونَ ٦٠
And woe to those who have disbelieved from their Day which they are promised.
پس بے شک ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا ایک ڈول(حصہ عذاب)ہے مثل ڈول(حصے)ان کے ساتھیوں کے پس نہ جلدی طلب کریں وہ مجھ سے(عذاب)(59) پس ہلاکت ہے ان کے لیے جنھوں نے کفر کیا، ان کے اس دن (کے آنے) سے جس کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں (60)
[59] وہ لوگ جنھوں نے محمد ﷺ کی تکذیب کر کے ظلم کا ارتکاب کیا، ان کے لیے عذاب اور سزا ہے۔ ﴿ ذَنُوۡبًا﴾ یعنی ان کے لیے بھی اسی طرح حصہ ہے جس طرح ان کے ساتھی اہل ظلم اور اہل تکذیب کے ساتھ کیا گیا۔ ﴿ فَلَا يَسۡتَعۡجِلُوۡنِ۠﴾ اس لیے وہ عذاب کے لیے جلدی نہ مچائیں، کیونکہ قوموں کے بارے میں سنت الٰہی ایک ہی ہے۔ پس ہر جھٹلانے والا شخص جو اپنی تکذیب پر جما ہوا ہے جو توبہ کرتا ہے نہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے، اس پر عذاب ضرور واقع ہو گا، خواہ کچھ مدت کے لیے موخر ہو جائے۔
[60] بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کی وعید سنائی ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ يَّوۡمِهِمُ الَّذِيۡ يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’پس کافروں کے لیے اس دن ہلاکت ہے جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔‘‘ اس سے مراد قیامت کا دن ہے ۔جس میں ان کو مختلف قسم کے عذاب، سزاؤ ں، بیڑیوں کی وعید سنائی گئی ہے، ان کا کوئی مددگار ہو گا نہ کوئی ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا ہو گا۔ ہم اس عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences