As-Sa'diAr‑Rahman · 55:1–45

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

الرحمن

Ar-Rahman

The Beneficent · Medinan · 78 ayahs

55:1–13Page 531

ٱلرَّحۡمَٰنُ ١

The Most Merciful

عَلَّمَ ٱلۡقُرۡءَانَ ٢

Taught the Qur’ān,

خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ ٣

Created man,

عَلَّمَهُ ٱلۡبَيَانَ ٤

[And] taught him eloquence.

ٱلشَّمۡسُ وَٱلۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٖ ٥

The sun and the moon [move] by precise calculation,

وَٱلنَّجۡمُ وَٱلشَّجَرُ يَسۡجُدَانِ ٦

And the stars and trees prostrate.1

وَٱلسَّمَآءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ ٱلۡمِيزَانَ ٧

And the heaven He raised and imposed the balance

أَلَّا تَطۡغَوۡاْ فِي ٱلۡمِيزَانِ ٨

That you not transgress within the balance.

وَأَقِيمُواْ ٱلۡوَزۡنَ بِٱلۡقِسۡطِ وَلَا تُخۡسِرُواْ ٱلۡمِيزَانَ ٩

And establish weight in justice and do not make deficient the balance.

وَٱلۡأَرۡضَ وَضَعَهَا لِلۡأَنَامِ ١٠

And the earth He laid [out] for the creatures.

فِيهَا فَٰكِهَةٞ وَٱلنَّخۡلُ ذَاتُ ٱلۡأَكۡمَامِ ١١

Therein is fruit and palm trees having sheaths [of dates]

وَٱلۡحَبُّ ذُو ٱلۡعَصۡفِ وَٱلرَّيۡحَانُ ١٢

And grain having husks and scented plants.

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ١٣

So which of the favors of your Lord would you deny?1

رحمن(1) سکھایا اس نے قرآن(2) پیدا کیا اس نے انسان کو(3) سکھایا اس کو بولنا(4) سورج اور چاند (چلتے ہیں) ایک حساب سے(5) اور بیلیں اور درخت سجدہ کرتے ہیں(6) اور آسمان، اسی (رحمن) نے بلند کیا اس کو اور اسی نے رکھی ترازو(7) تاکہ نہ تجاوز کرو تم تولنے میں(8) اور قائم کرو تم وزن کو انصاف سے، اور نہ کمی کرو تم تولی جانے والی چیز میں(9) اور زمین، اسی نے رکھا (بچھایا) اس کو مخلوق کے لیے (10) اس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت (جن کے شگوفے اور پھل ہوتے ہیں) غلافوں والے (11) اور دانے(اناج اور غلے) ہیں بھوسے والے اور پھول خوشبو دار (12) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی تم دونوں(اے جن و انس!) جھٹلاؤ گے؟ (13)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] اس سورۂ کریمہ کا افتتاح اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ ﴾ سے ہوا ہے جو اس کی بے پایاں رحمت، عمومی احسان، بے شمار بھلائیوں اور وسیع فضل و کرم پر دلالت کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو اس کی رحمت اور ان کے آثار یعنی دینی، دنیاوی، اور اخروی نعمتوں پر دلالت کرتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں تک پہنچایا۔ اپنی ان نعمتوں کی ہر جنس اور نوع کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دونوں جماعتوں، یعنی جن و انس کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کریں۔ چنانچہ فرماتا ہے:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔‘‘

[2] پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا :﴿ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ﴾ یعنی اس نے اپنے بندوں کو قرآن کے الفاظ و معانی کی تعلیم دی اور اس کے الفاظ کو بندوں پر آسان کر دیا۔ یہ اس کی سب سے بڑی عنایت اور رحمت ہے، جو بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے ان پر بہترین الفاظ میں اور واضح ترین معانی کے ساتھ عربی قرآن نازل کیا جو ہر بھلائی پر مشتمل اور ہر برائی سے روکتا ہے۔

[3، 4]﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ﴾ انسان کو بہترین صورت میں، کامل اعضاء اور پورے اجزاء کے ساتھ نہایت محکم بنیاد پر تخلیق فرمایا، باری تعالیٰ نے انسان کو پوری مہارت کے ساتھ بنایا اور اسے تمام حیوانات پر امتیاز بخشا ﴿ عَلَّمَهُ الۡبَيَانَ﴾ یعنی اسے ما فی الضمیر کو بیان کرنا سکھایا اور یہ تعلیم نطقی اور تعلیم خطی دونوں کو شامل ہے، مافی الضمیر کا بیان جس کی بنا پر آدمی کو اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات پر امتیاز بخشا، اس کا شمار اللہ کی سب سے بڑی اور جلیل ترین نعمتوں میں ہوتا ہے۔

[5]﴿ اَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ﴾ ’’سورج اور چاند ایک حساب سے چلتے ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو پیدا کیا، ان کو مسخر کیا، جو بندوں پررحمت اور ان کے ساتھ عنایت کے طور پر ایک متعین حساب اور مقررانداز سے چل رہے ہیں، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے بندوں کے مصالح کا انتظام کرتا ہے تاکہ بندے ماہ و سال کی گنتی اور حساب کی معرفت حاصل کر لیں۔

[6]﴿ وَّالنَّجۡمُ وَالشَّجَرُ يَسۡجُدٰؔنِ ﴾ آسمان کے ستارے اور زمین کے درخت سب اپنے رب کو پہچانتے ہیں، اس کو سجدہ کرتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے مصالح اور منافع کے لیے ان کو مسخر کر رکھا ہے۔

[7، 8]﴿ وَالسَّمَآءَؔ رَفَعَهَا﴾ یعنی ارضی مخلوقات کے لیے آسمان کی چھت کو بلند کیا ﴿ وَوَضَعَ الۡمِيۡزَانَ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو وضع کیا، یعنی بندوں کے درمیان، اقوال و افعال میں عدل جاری کیا۔ اس سے مراد صرف معروف میزان ہی نہیں بلکہ وہ جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں ، معروف میزان، ناپ تول جس کے ذریعے سے اشیاء اور دیگر مقداروں کو ناپا جاتا ہے، دیگر پیمانے جن کے ذریعے سے مجہولات کو منضبط کیا جاتا ہے اور وہ حقائق بھی داخل ہیں جن کے ذریعے سے مخلوقات میں فرق کیا جاتاہے اور ان کے ذریعے سے ان کے درمیان عدل قائم کیا جاتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَلَّا تَطۡغَوۡا فِي الۡمِيۡزَانِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے میزان نازل فرمائی تاکہ تم حقوق اور دیگر معاملات میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ اگر معاملہ عقل اور تمھاری آراء کی طرف لوٹتا تو ایسا خلل واقع ہوتا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہےاور آسمان، زمین اور ان کے رہنے والے فساد کا شکار ہو جاتے ہیں۔

[9]﴿ وَاَقِيۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اور تم وزن انصاف سے کرو۔‘‘ یعنی جہاں تک تمھاری قدرت، طاقت اور تمھارے امکان میں ہے، وزن کو انصاف کے ساتھ قائم رکھو۔ ﴿ وَلَا تُخۡسِرُوا الۡمِيۡزَانَ﴾ یعنی اسے کم نہ کرو کہ اس کی ضد پر عمل کرنے لگو، اس سے مراد ہے ظلم و جور اور سرکشی ہے۔

[10]﴿ وَالۡاَرۡضَ وَضَعَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس کی کثافتوں، اس کے استقرار اور اس کے اوصاف و احوال سمیت بنایا۔ ﴿ لِلۡاَنَامِ﴾ مخلوق کے لیے تاکہ وہ زمین کو ٹھکانا بنائے، زمین ان کے لیے ہموار فرش کا کام دے، یہ اس پر عمارتیں تعمیر کریں، زمین پر کھیتی باڑی کریں، باغات لگائیں، کنویں کھودیں، اس کے راستوں پر چلیں، اس کی معدنیات اور ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھائیں جن کی انھیں حاجت اور ضرورت ہو،

پھر اللہ تعالیٰ نے خوراک کی ضروری اشیاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

[11]﴿ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ﴾ ’’اس میں لذیذ پھل ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ تمام درخت ہیں جو پھل پیدا کرتے ہیں جنھیں بندے مزے سے کھاتے ہیں، مثلاً: انگور، انجیر، انار اور سیب وغیرہ ۔﴿ وَّالنَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَؔكۡمَامِ﴾ ’’اور کھجور کے درخت ہیں جن کے شگوفے غلافوں میں لپٹے ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی غلاف والی کھجوریں جو گچھے سے پھوٹتی ہیں جو تھوڑی تھوڑی کر کے نکلتی ہیں یہاں تک کہ مکمل ہو جاتی ہیں ، تب وہ خوراک بن جاتی ہیں جس کو کھایا جاتا ہے، اس کو ذخیرہ کیا جاتا ہے، مقیم اور مسافر اس کو توشہ بناتے ہیں، کھجور بہترین پھلوں میں سے نہایت لذیذ پھل ہے۔

[12]﴿ وَالۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ﴾ ’’اور بھوسے والے دانے (اناج) ۔‘‘ یعنی نال دار اناج جسے گاہا جاتا ہے ، پھر مویشیوں وغیرہ کے لیے اس کے بھوسے سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس میں گیہوں، جو، مکئی، چاول اور چنا وغیرہ داخل ہیں ﴿وَالرَّيۡحَانُ﴾ ’’اور خوشبودار پھول ہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے رزق کی تمام اقسام مراد ہوں جس کو آدمی کھاتے ہیں۔ تب یہ خاص پر عطف عام کے باب میں شمار ہو گا اور اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عمومی اور خصوصی خوراک اور رزق سے نوازا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد معروف ریحان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی خوش کن اور فاخرہ خوشبوؤ ں کو زمین میں سے مہیا کر کے، ان سے اپنے بندوں کو نوازا ہے جو روح کو مسرت عطا کرتی ہیں اور ان سے نفوس میں انشراح پیدا ہوتا ہے۔

[13] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا جن کا آنکھوں اور بصیرت کے ذریعے سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور خطاب دونوں گروہوں یعنی جنات اور انسانوں کے لیے ہے، اس لیے اپنی نعمتوں کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا :﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ یعنی (اے جن و انس!) تم اللہ تعالیٰ کی کون کون سی دینی اور دنیاوی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت کریمہ جنات کے سامنے تلاوت فرمائی تو ان کا کیا ہی خوبصورت جواب تھا۔ جب بھی آپ ﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ پڑھتے تو وہ جواب میں کہتے:لَا بِشَیْءٍ مِّنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ ’’اے ہمارے رب!ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، پس تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا کا مستحق ہے۔‘‘ (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ الرحمٰن، حدیث: 3291) اسی طرح بندۂ مومن کو چاہیے کہ جب اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کی آیات تلاوت کی جائیں تو وہ ان کا اقرار کرے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اس کی حمد و ثنا بیان کرے۔

55:14–16Page 531

خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِن صَلۡصَٰلٖ كَٱلۡفَخَّارِ ١٤

He created man from clay like [that of] pottery.

وَخَلَقَ ٱلۡجَآنَّ مِن مَّارِجٖ مِّن نَّارٖ ١٥

And He created the jinn from a smokeless flame of fire.

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ١٦

So which of the favors of your Lord would you deny?

اس نے پیدا کیا انسان کو کھنکھناتی مٹی سے جیسے ٹھیکری (14) اور اس نے پیدا کیا جن کو شعلۂ آتش سے (15) پس (کون)کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (16)

[14] یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر نعمت ہے کہ اس نے انھیں اپنی قدرت اور کاریگری کے آثار دکھائے کہ ﴿خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ﴾ انسان کے جد امجد حضرت آدمu کو گیلی مٹی سے پیدا کیا ﴿مِنۡ صَلۡصَالٍ كَالۡفَخَّؔارِ﴾ جس کے نم کو مہارت کے ساتھ محکم کیا گیا تھا یہاں تک کہ وہ خشک ہو گئی اور اس میں آگ پر پکائے گئے ٹھیکرے کی آواز کے مانند کھنکھنانے کی آواز پیدا ہوئی ۔

[15]﴿وَخَلَقَ الۡجَآنَّ ﴾ اور جنات کے باپ ابلیس لعین کو پیدا کیا۔ ﴿مِنۡ مَّارِجٍ مِّنۡ نَّارٍ﴾ آگ کے صاف شعلے سے یا اس سے مراد وہ شعلہ ہے جس کے ساتھ دھواں ملا ہوا ہو۔ یہ آیت کریمہ آدمی کے عنصر کے شرف پر دلالت کرتی ہے جسے گارے اور مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جو وقار، ثقل اور منافع کا محل ہے، بخلاف جنات کے عنصر ، یعنی آگ کے جو خفت، طیش شر اور فساد کا محل ہے۔

[16] جب اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں کی تخلیق اور ان کا مادۂ تخلیق بیان فرمایا، یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا احسان تھا تو ارشاد فرمایا :﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾’’( اے جن و انس!) پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘

55:17–18Page 532

رَبُّ ٱلۡمَشۡرِقَيۡنِ وَرَبُّ ٱلۡمَغۡرِبَيۡنِ ١٧

[He is] Lord of the two sunrises and Lord of the two sunsets.1

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ١٨

So which of the favors of your Lord would you deny?

(وہی) رب ہے دونوں مشرقوں کا اور رب ہے دونوں مغربوں کا (17) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (18)

[17، 18] یعنی اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کا رب ہے جس پر سورج، چاند اور روشن ستارے طلوع اور غروب ہوتے ہیں اور وہ سب کچھ جس کے اندر چاند سورج ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں مشرق اور مغرب کو سورج کے گرمیوں اور سردیوں کے مقاماتِ طلوع و غروب ہونے کے اعتبار سے تثنیہ ذکر کیا ہے۔ واللہ أعلم.

55:19–23Page 532

مَرَجَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ يَلۡتَقِيَانِ ١٩

He released the two seas,1 meeting [one another];

بَيۡنَهُمَا بَرۡزَخٞ لَّا يَبۡغِيَانِ ٢٠

Between them is a barrier so neither of them transgresses.

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٢١

So which of the favors of your Lord would you deny?

يَخۡرُجُ مِنۡهُمَا ٱللُّؤۡلُؤُ وَٱلۡمَرۡجَانُ ٢٢

From both of them emerge pearl and coral.

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٢٣

So which of the favors of your Lord would you deny?

رحمٰن نے جاری کیے دو سمندر جو باہم ملتے ہیں(19) ان دونوں کے درمیان ایک پردہ ہے، نہیں تجاوز کرتے وہ دونوں (20) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (21) نکلتے ہیں ان دونوں (سمندروں )سے موتی اور مونگے (22) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (23)

[23-19] یہاں بحرین سے مراد ہے: میٹھے پانی کا سمندر اور نمکین پانی کا سمندر جو آپس میں مل جاتے ہیں۔ (دریا کا) میٹھا پانی نمکین سمندر میں گرتا ہے ، پھر دونوں قسم کے پانی ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان زمین کو ایک رکاوٹ بنا رکھا ہے، ایک پانی دوسرے پانی پر سرکشی نہیں کرتا اور یوں دونوں پانیوں کی منفعت حاصل ہوتی ہے۔لوگ میٹھے پانی کو خود پیتے ہیں اور اس سے اپنے باغات اور کھیتی باڑی کو سیراب کرتے ہیں، کھاری پانی فضا کو پاک صاف کرتا ہے، اس میں وہیل، مچھلیاں، موتی اور گھونگے پیدا ہوتے ہیں اور یہ کشتیوں اور دیگر بحری سواریوں کے لیے مستقر اور مسخر ہوتا ہے۔

55:24–25Page 532

وَلَهُ ٱلۡجَوَارِ ٱلۡمُنشَـَٔاتُ فِي ٱلۡبَحۡرِ كَٱلۡأَعۡلَٰمِ ٢٤

And to Him belong the ships [with sails] elevated in the sea like mountains.

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٢٥

So which of the favors of your Lord would you deny?

اور اسی کی ہیں (کشتیاں) چلنے والی، جو بلند کی ہوئی ہیں سمندر میں پہاڑوں کی مانند (24) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (25)

[24، 25] یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے سمندروں میں چلنے والی کشتیوں کو مسخر کیا جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے سمندر کے سینے کو چیرتی چلی جاتی ہیں جن کو آدمیوں نے بنایا ہے جو اپنی عظمت کی وجہ سے بڑے بڑے پہاڑوں کی مانند دکھائی دیتی ہیں۔ لوگ ان کشتیوں پر سواری کرتے ہیں اور ان پر اپنا سامان، مال تجارت اور دیگر اشیاء لادتے ہیں جن کی وہ ضرورت اور حاجت محسوس کرتے ہیں۔ آسمانوں اور زمین کی حفاظت کرنے والی ہستی ان کشتیوں کی حفاظت کرتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جلیل القدر نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾(اے جن و انس!) پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

55:26–28Page 532

كُلُّ مَنۡ عَلَيۡهَا فَانٖ ٢٦

Everyone upon it [i.e., the earth] will perish,

وَيَبۡقَىٰ وَجۡهُ رَبِّكَ ذُو ٱلۡجَلَٰلِ وَٱلۡإِكۡرَامِ ٢٧

And there will remain the Face1 of your Lord, Owner of Majesty and Honor.

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٢٨

So which of the favors of your Lord would you deny?

سب (کے سب) جو(اس زمین) پر ہیں فنا ہوجانے والے ہیں (26) اور باقی رہے گا چہرہ آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (27) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (28)

[28-26] یعنی زمین کی ہر چیز، انسان، جنات، جانور اور تمام مخلوقات فنا اور ہلاک ہو جائیں گے اور وہ زندہ ہستی باقی رہ جائے گی جو کبھی نہیں مرے گی ﴿ ذُو الۡجَلٰلِ وَالۡاِكۡرَامِ﴾ جو عظمت اور کبریائی کی مالک ہے جو مجد اور بزرگی کی مالک ہے جس کی بنا پر اس کی تعظیم اور عزت کی جاتی ہے اور اس کے جلال کے سامنے سر تسلیم خم کیا جاتا ہے اَلْإِکْرَام سے مراد بے پایاں فضل و جود ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء و خواص کو مختلف انواع کے اکرام کے ذریعے سے تکریم بخشتا ہے جس کی بنا پر اس کے اولیاء و خواص اس کی تکریم کرتے، اس کے جلال کا اقرار کرتے ہیں، اس کی تعظیم کرتے ہیں، اس سے محبت کرتے ہیں، اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں۔ ﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴾ ’’پھر (اے جن و انس!) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

55:29–30Page 532

يَسۡـَٔلُهُۥ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ كُلَّ يَوۡمٍ هُوَ فِي شَأۡنٖ ٢٩

Whoever is within the heavens and earth asks Him; every day He is in [i.e., bringing about] a matter.1

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٣٠

So which of the favors of your Lord would you deny?

اسی سے مانگتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے۔ ہر روز(وقت) وہ ایک (نئی) شان میں ہے(29) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (30)

[29، 30] یعنی اللہ تعالیٰ بذاتہ تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔ وہ بے پایاں جود و کرم کا مالک ہے۔ تمام مخلوق اس کی محتاج ہے، وہ اس سے اپنی تمام حوائج کے متعلق اپنے حال وقال کے ذریعے سے سوال کرتے ہیں۔ وہ لمحہ بھر بلکہ اس سے بھی کم وقت کے لیے اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ ﴿ كُلَّ يَوۡمٍ هُوَ فِيۡ شَاۡنٍ﴾ ’’ہر روز (ہر وقت) ایک (نئی) شان میں ہوتا ہے۔‘‘ یعنی وہ محتاج کو غنی کرتا ہے، ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے، کسی قوم کو عطا کرتا ہے، کسی کو محروم کرتا ہے، وہ موت دیتا اور زندگی عطا کرتا ہے، وہی کسی کو جھکاتا اور کسی کو بلند کرتا ہے۔ کوئی کام اسے کسی دوسرے کام سے غافل نہیں کرتا، مسائل اسے کسی غلطی میں مبتلا نہیں کر سکتے، مانگنے والوں کا اصرار کے ساتھ مانگنا اور سوال کرنے والوں کا لمبا چوڑا سوال اسے زچ نہیں کر سکتا۔پاک ہے وہ ذات جو فضل و کرم کی مالک اور بے حد و حساب عطا کرنے والی ہے جس کی نوازشیں زمین اور آسمان والوں، سب کے لیے عام ہیں۔ اس کا لطف و کرم ہر آن اور ہر لحظہ تمام مخلوق پر سایہ فگن ہے۔ نہایت بلند ہے وہ ہستی جس کو گناہ گاروں کا گناہ اور اس سے اور اس کے کرم سے ناواقف فقراء کا استغنا عطا کرنے سے روک نہیں سکتا۔ یہ تمام معاملات جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ہر روز کام میں ہوتا ہے، وہ تقادیر اور تدابیر ہیں جن کو اس نے ازل میں مقدر کر دیا تھا، اللہ تبارک و تعالیٰ ان کوان اوقات میں جن کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے، نافذ کرتا رہتا ہے، یہ اس کے احکام دینی ہیں جو اوامر و نواہی پر مشتمل ہیں اور یہ اس کے احکام کونی و قدری ہیں جن کو وہ اپنے بندوں پر اس وقت تک جاری کرتا رہے گا جب تک کہ ان کا قیام اس دنیا میں ہے۔جب یہ مخلوقات تمام ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ سب کو فنا کر دے گا اور وہ چاہے گا کہ ان پر اپنے احکام جزائی نافذ کرے، انھیں اپنے عدل و فضل اور بے پایاں احسانات کا مشاہدہ کرائے جن کے ذریعے سے وہ اسے پہچانتے ہیں، اس کی توحید بیان کرتے ہیں، وہ مکلفین کو امتحان و ابتلا کے گھر سے ہمیشہ کی زندگی والے گھر میں منتقل کرے گا، تب وہ ان احکام کو نافذ کرنے کے لیے فارغ ہو گا جن کی تنفیذ کا وقت آ پہنچا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا درج ذیل ارشاد اسی بات پر دلالت کرتا ہے:

55:31–32Page 532

سَنَفۡرُغُ لَكُمۡ أَيُّهَ ٱلثَّقَلَانِ ٣١

We will attend to you, O prominent beings.1

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٣٢

So which of the favors of your Lord would you deny?

عنقریب ہم فارغ ہوں گے تمھارے لیے اے جن و انس! (31) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (32)

[31، 32] یعنی ہم تمھارے حساب کتاب اور تم نے جو اعمال دنیا میں کیے ہیں، ان کی جزا و سزا دینے کے لیے فارغ ہوں گے۔

55:33–34Page 532

يَٰمَعۡشَرَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ إِنِ ٱسۡتَطَعۡتُمۡ أَن تَنفُذُواْ مِنۡ أَقۡطَارِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ فَٱنفُذُواْۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلۡطَٰنٖ ٣٣

O company of jinn and mankind, if you are able to pass beyond the regions of the heavens and the earth, then pass. You will not pass except by authority [from Allāh].

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٣٤

So which of the favors of your Lord would you deny?

اے گروہ جن و انس! اگر طاقت رکھتے ہو تم یہ کہ نکل جاؤ تم کناروں سے آسمانوں اور زمین کے تو نکل جاؤ ،نہیں نکل سکتے تم مگر غلبے ہی سے (33) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (34)

[33، 34] جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے روز جمع کرے گا تو انھیں ان کی کمزوری و بے بسی اور اپنی کامل طاقت، اپنی مشیت اور قدرت کی تنفیذ سے آگاہ کرے گا، ان کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہوئے فرمائے گا:﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ یعنی اے جنوں اور انسان کی جماعت! اگر تمھیں کوئی راستہ اور کوئی سوراخ ملتا ہے جہاں سے تم اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور اس کی سلطنت سے نکل بھاگو ﴿ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾ تو تم نکل بھاگو لیکن تم قوت، طاقت اور کامل قدرت کے بغیر اللہ تعالیٰ کی سلطنت سے باہر نہیں نکل سکتے۔ یہ قوت انھیں کہاں سے حاصل ہو،حالانکہ وہ خود اپنے آپ کو کوئی نفع یا نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتے ہیں نہ زندگی اور موت کا، اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہیں۔اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی شخص کلام نہیں کر سکے گا اور مدھم سی آوازوں کے سوا تم کچھ نہیں سن سکو گے، اس مقام پر بادشاہ اور غلام، سردار اور رعایا، غنی اور محتاج سب برابر ہوں گے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کا ذکر فرمایا جو اس دن ان کے لیے تیار کی گئی ہوں گی ، چنانچہ فرمایا:

55:35–36Page 532

يُرۡسَلُ عَلَيۡكُمَا شُوَاظٞ مِّن نَّارٖ وَنُحَاسٞ فَلَا تَنتَصِرَانِ ٣٥

There will be sent upon you a flame of fire and smoke,1 and you will not defend yourselves.

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٣٦

So which of the favors of your Lord would you deny?

چھوڑا جائے گا تم پر دونوں شعلہ ٔ آتش اور دھواں پس نہیں بچ سکو گے تم دونوں (عذاب سے)(35) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (36)

[35، 36] یعنی تم پر آگ کے صاف شعلے چھوڑے جائیں گے۔ ﴿وَ نُحَاسٌ﴾ ’’اور دھواں۔‘‘ اور یہ ایسے شعلے ہوں گے کہ ان میں دھواں ملا ہوا ہوگا۔معنیٰ یہ ہے کہ یہ دونوں قبیح چیزیں تم پر چھوڑی جائیں گی جو تمھیں گھیر لیں گی، پس تم خود مدد کر سکو گے نہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور تمھاری مدد کر سکے گا۔ چونکہ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی تخویف، اس کی طرف سے ان کے لیے ایک نعمت اور ایک کوڑا ہے جو انھیں بلند ترین مقاصد اور بہترین مواہب کے حصول کے لیے رواں دواں رکھتا ہے۔ اس لیے اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’ پھر (اے جن و انس!) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘

55:37–42Page 532

فَإِذَا ٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ فَكَانَتۡ وَرۡدَةٗ كَٱلدِّهَانِ ٣٧

And when the heaven is split open and becomes rose-colored like oil1 -

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٣٨

So which of the favors of your Lord would you deny? -

فَيَوۡمَئِذٖ لَّا يُسۡـَٔلُ عَن ذَنۢبِهِۦٓ إِنسٞ وَلَا جَآنّٞ ٣٩

Then on that Day none will be asked about his sin among men or jinn.1

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٤٠

So which of the favors of your Lord would you deny?

يُعۡرَفُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ بِسِيمَٰهُمۡ فَيُؤۡخَذُ بِٱلنَّوَٰصِي وَٱلۡأَقۡدَامِ ٤١

The criminals will be known by their marks, and they will be seized by the forelocks and the feet.

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٤٢

So which of the favors of your Lord would you deny?

پس جب پھٹ جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ سرخ جیسے سرخ چمڑا (37) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (38)پس اس دن نہ پوچھا جائے گا اپنے گناہ کی بابت کوئی انسان اور نہ کوئی جن(39) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (40) پہچان لیے جائیں گے مجرم اپنے چہرے کی علامت ہی سے پس پکڑے جائیں گے وہ پیشانی کے بالوں اور قدموں سے (41) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (42)

[37، 38]﴿ فَاِذَا انۡشَقَّتِ السَّمَآءُ ﴾ یعنی جب قیامت کے روز، ہولناکیوں، شدت غم اور خوف کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا، سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے اور ستارے بکھر جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ﴾ ’’تو وہ ہوجائے گا۔‘‘ شدت خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے ﴿ وَرۡدَةً كَالدِّهَانِ﴾ ’’سرخ چمڑے کی طرح سرخ مائل ۔‘‘ یعنی تانبے اور پگھلے ہوئے سیسے وغیرہ کی طرح ہو جائے گا ۔

[39، 40] یعنی جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہوا، اس کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے ان سے سوال نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور شاہد، ماضی اور مستقبل، ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ بندوں کے احوال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق ان کو جزا دے۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اہل خیر اور اہل شر کی کچھ علامات مقرر کر رکھی ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جائیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران: 3؍106) ’’اس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ۔‘‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

[41، 42] یعنی مجرموں کو ان کی پیشانیوں کے بالوں اور ان کے پاؤ ں سے پکڑ کر جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا اور جہنم کی طرف انھیں گھسیٹ کر لے جایا جائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان سے محض زجر و توبیخ اور جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہوا، اس کے تحقق کے لیے سوال کرے گا۔ حالانکہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بارے میں وہ ان سے بہتر جانتا ہےمگر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مخلوق پر اس کی حجت بالغہ اور حکمت جلیلہ ظاہر ہو جائے۔

55:43–45Page 533

هَٰذِهِۦ جَهَنَّمُ ٱلَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا ٱلۡمُجۡرِمُونَ ٤٣

This is Hell, which the criminals deny.

يَطُوفُونَ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَ حَمِيمٍ ءَانٖ ٤٤

They will circulate between it and scalding water, heated [to the utmost degree].

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٤٥

So which of the favors of your Lord would you deny?

(انھیں کہا جائے گا:) یہی ہے جہنم وہ جو جھٹلاتے تھے اس کو مجرم لوگ (43) وہ چکر لگائیں گے درمیان اس (جہنم) کے اور درمیان سخت گرم کھولتے پانی کے (44) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (45)

[45-43] جنھوں نے وعد و وعید کو جھٹلایا، جب ان پر جہنم کی آگ بھڑکے گی، تو ان سے کہا جائے گا:﴿هٰؔذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيۡ يُكَذِّبُ بِهَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾’’ یہی وہ جہنم ہے جسے گناہ گار جھٹلاتے تھے۔‘‘ پس ان کی تکذیب ان کو رسوا کرے گی اور اب وہ اس کے عذاب، اس کی سزا، اس کی بھڑکتی ہوئی آگ اور اس کی بیڑیوں کا مزا چکھیں، یہ ان کے لیے ان کی تکذیب کی جزا ہے۔ ﴿يَطُوۡفُوۡنَ بَيۡنَهَا﴾ ’’وہ جہنم کے درمیان گھومیں گے۔‘‘ یعنی جہنم اور اس کے شعلوں کے طبقوں میں گھومتے پھریں گے۔ ﴿وَبَيۡنَ حَمِيۡمٍ اٰنٍ﴾ اور وہ سخت کھولتے ہوئے پانی کے درمیان بھی گھومیں گے جس کی حرارت انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی اور زمہریر جس کی ٹھنڈک بہت شدید ہو گی۔ ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’پھر (اے جن و انس!) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘

جب اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ وہ مجرموں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے تقویٰ شعار لوگوں کی جزا کا بھی ذکر فرمایا:

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском