As-Sa'diAl‑Waqi'ah · 56:1–57

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

الواقعة

Al-Waqi'ah

The Inevitable · Meccan · 96 ayahs

56:1–26Page 534

إِذَا وَقَعَتِ ٱلۡوَاقِعَةُ ١

When the Occurrence occurs,

لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ ٢

There is, at its occurrence, no denial.

خَافِضَةٞ رَّافِعَةٌ ٣

It will bring down [some] and raise up [others].1

إِذَا رُجَّتِ ٱلۡأَرۡضُ رَجّٗا ٤

When the earth is shaken with convulsion

وَبُسَّتِ ٱلۡجِبَالُ بَسّٗا ٥

And the mountains are broken down, crumbling

فَكَانَتۡ هَبَآءٗ مُّنۢبَثّٗا ٦

And become dust dispersing,

وَكُنتُمۡ أَزۡوَٰجٗا ثَلَٰثَةٗ ٧

And you become [of] three kinds:

فَأَصۡحَٰبُ ٱلۡمَيۡمَنَةِ مَآ أَصۡحَٰبُ ٱلۡمَيۡمَنَةِ ٨

Then the companions of the right - what are the companions of the right?1

وَأَصۡحَٰبُ ٱلۡمَشۡـَٔمَةِ مَآ أَصۡحَٰبُ ٱلۡمَشۡـَٔمَةِ ٩

And the companions of the left - what are companions of the left?1

وَٱلسَّٰبِقُونَ ٱلسَّٰبِقُونَ ١٠

And the forerunners, the forerunners1 -

أُوْلَٰٓئِكَ ٱلۡمُقَرَّبُونَ ١١

Those are the ones brought near [to Allāh]

فِي جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ ١٢

In the Gardens of Pleasure,

ثُلَّةٞ مِّنَ ٱلۡأَوَّلِينَ ١٣

A [large] company of the former peoples

وَقَلِيلٞ مِّنَ ٱلۡأٓخِرِينَ ١٤

And a few of the later peoples,

عَلَىٰ سُرُرٖ مَّوۡضُونَةٖ ١٥

On thrones woven [with ornament],

مُّتَّكِـِٔينَ عَلَيۡهَا مُتَقَٰبِلِينَ ١٦

Reclining on them, facing each other.

يَطُوفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَٰنٞ مُّخَلَّدُونَ ١٧

There will circulate among them young boys made eternal

بِأَكۡوَابٖ وَأَبَارِيقَ وَكَأۡسٖ مِّن مَّعِينٖ ١٨

With vessels, pitchers and a cup [of wine] from a flowing spring -

لَّا يُصَدَّعُونَ عَنۡهَا وَلَا يُنزِفُونَ ١٩

No headache will they have therefrom, nor will they be intoxicated -

وَفَٰكِهَةٖ مِّمَّا يَتَخَيَّرُونَ ٢٠

And fruit of what they select

وَلَحۡمِ طَيۡرٖ مِّمَّا يَشۡتَهُونَ ٢١

And the meat of fowl, from whatever they desire.

وَحُورٌ عِينٞ ٢٢

And [for them are] fair women with large, [beautiful] eyes,

كَأَمۡثَٰلِ ٱللُّؤۡلُوِٕ ٱلۡمَكۡنُونِ ٢٣

The likenesses of pearls well-protected,

جَزَآءَۢ بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٢٤

As reward for what they used to do.

لَا يَسۡمَعُونَ فِيهَا لَغۡوٗا وَلَا تَأۡثِيمًا ٢٥

They will not hear therein ill speech or commission of sin -

إِلَّا قِيلٗا سَلَٰمٗا سَلَٰمٗا ٢٦

Only a saying [of] peace, peace.

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔

[6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔

[9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔

[12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔

[15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔

[17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔

[20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔

[21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔

[24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔

[25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔

[26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔

56:27–40Page 535

وَأَصۡحَٰبُ ٱلۡيَمِينِ مَآ أَصۡحَٰبُ ٱلۡيَمِينِ ٢٧

The companions of the right - what are the companions of the right?

فِي سِدۡرٖ مَّخۡضُودٖ ٢٨

[They will be] among lote trees with thorns removed

وَطَلۡحٖ مَّنضُودٖ ٢٩

And [banana] trees layered [with fruit]

وَظِلّٖ مَّمۡدُودٖ ٣٠

And shade extended

وَمَآءٖ مَّسۡكُوبٖ ٣١

And water poured out

وَفَٰكِهَةٖ كَثِيرَةٖ ٣٢

And fruit, abundant [and varied],

لَّا مَقۡطُوعَةٖ وَلَا مَمۡنُوعَةٖ ٣٣

Neither limited [to season] nor forbidden,

وَفُرُشٖ مَّرۡفُوعَةٍ ٣٤

And [upon] beds raised high.

إِنَّآ أَنشَأۡنَٰهُنَّ إِنشَآءٗ ٣٥

Indeed, We have produced them [i.e., the women of Paradise] in a [new] creation

فَجَعَلۡنَٰهُنَّ أَبۡكَارًا ٣٦

And made them virgins,

عُرُبًا أَتۡرَابٗا ٣٧

Devoted [to their husbands] and of equal age,

لِّأَصۡحَٰبِ ٱلۡيَمِينِ ٣٨

For the companions of the right [who are]

ثُلَّةٞ مِّنَ ٱلۡأَوَّلِينَ ٣٩

A company of the former peoples

وَثُلَّةٞ مِّنَ ٱلۡأٓخِرِينَ ٤٠

And a company of the later peoples.

اور دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے؟ (27)(ہوں گے) بے خار بیریوں میں (28) اور تہ بہ تہ کیلوں میں(29) اور پھیلائی ہوئی چھاؤ ں میں (30) اور پانی بہتے ہوئے (آبشاروں) میں (31) اور ایسے بہ کثرت پھلوں میں (32) جو نہ مقطوع (ختم) ہوں گے اور نہ ممنوع (33) اور ایسے تختوں پر جو اونچے ہوں گے (34) بلاشبہ ہم پیدا کریں گے ان (بیویوں) کو نئے سرے سے (35) پس بنا دیں گے ہم انھیں کنواریاں (36) دلربا، ہم عمر (37) اصحاب یمین کے لیے (38) کثیر جماعت پہلوں میں سے(39) اور کثیر جماعت پچھلوں میں سے (40)

[27] پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے اصحاب یمین کے لیے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور داہنے (ہاتھ) والے کیا (ہی اچھے) ہیں داہنے (ہاتھ)والے۔‘‘ یعنی وہ عظیم الشان لوگ اور بڑے احوال کے مالک ہیں۔[28]یعنی بیری کے کانٹے اور ردی قسم کی ضرر رساں شاخیں تراش دی گئی ہوں گی اور ان کی جگہ نہایت لذیذ پھل لگا دیے جائیں گے۔ گہرا سایہ اور راحت جسم، بیری کے درخت کے خواص میں شمار ہوتے ہیں۔[29، 30]﴿ طَلۡحٍ ﴾معروف درخت ہے، یہ بہت بڑا درخت ہوتا ہے جو صحراؤ ں میں اگتا ہے، اس کی شاخیں لذیذ اور مزیدارپھل سے لدی ہوئی ہوتی ہیں۔[31]یعنی بہت سے چشموں اور بہتی ہوئی ندیوں کا بہتا ہوا اور اچھلتا ہوا پانی ہے۔[32، 33]یعنی یہ پھل دنیا کے پھلوں کے مانند نہیں ہوں گے جو کسی وقت ختم ہو جاتے ہیں اور ان کو تلاش کرنے والوں کے لیے ان کا حصول مشکل ہو جاتا ہے بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے موجود رہیں گے، ان کو بہت قریب سے چنا جا سکے گا، بندۂ مومن کسی بھی حال میں ان کو حاصل کر سکے گا۔[34] یعنی ان بچھونوں کو بہت بلند تختوں سے بھی بلند کیا گیا ہو گا۔ یہ بچھونے ریشم، سونے، موتیوں اور ایسی ایسی چیزوں سے بنے ہوئے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

[35]یعنی ہم نے اہل جنت کی عورتوں کو ایسی تخلیق پر پیدا کیا ہے جو دنیا کی تخلیق سے مختلف ہے۔ یہ ایک ایسی کامل تخلیق ہے جس کو فنا نہیں۔[37,36] ہم جنت کی تمام چھوٹی بڑی عورتوں کو دو شیزائیں بنا دیں گے۔ اس کا عموم، خوبصورت آنکھوں والی حوروں اور دنیا کی عورتوں کو شامل ہے اور یہ وصف ، یعنی دو شیزگی، تمام احوال میں ان کا وصف لازم ہے جس طرح ان کا ﴿ عُرُبًا اَتۡرَابًا﴾’’محبت والیاں اور ہم عمر ہونا۔‘‘ ہر حال میں وصف لازم ہے۔ اَلْعُرُوباس عورت کو کہا جاتا ہے جو اپنے حسن ہیئت، اپنی ناز و ادا، اپنے جمال اور اپنی محبت کی وجہ سے شوہر کو بہت محبوب ہو، یہی وہ عورت ہے کہ جب وہ بات کرتی ہے تو عقلوں کو غلام بنا لیتی ہے اور سننے والا چاہتا ہے کہ اس کی بات کبھی ختم نہ ہو، خاص طور پر جبکہ وہ اس نرم اور مترنم آوازوں میں طربیہ نغمے گا رہی ہوں گی جب اس کا شوہر اس کے ادب، اس کی ہیئت اور اس کے ناز و ادا کی طرف دیکھتا ہے تو اس کا دل فرحت و سرور سے لبریز ہو جاتا ہے، جب وہ اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل ہو جاتی ہے تو وہ جگہ اس کی خوشبو اور نور سے لبریز ہو جاتی ہے، اس میں جماع کے وقت ناز و ادا بھی داخل ہے۔ اَلْاَتْرَاب ان عورتوں کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی عمر میں ہوں، یعنی تینتیس سال کی عمر میں ہوں گی جس کے بارے میں تمنا کی جاتی ہے کہ یہ جوانی کی کامل ترین عمر کی انتہا ہے۔ پس ان کی بیویاں ان کو بہت محبوب، ہم عمر، اتفاق اور الفت کرنے والی، راضی رہنے والی ہوں گی اور ان کے شوہر ان پر راضی ہوں گے، بلکہ وہ دلوں کی فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور نگاہوں کی روشنی ہوں گی۔[38] یعنی (وہ بیویاں) اصحاب یمین کے لیے تیار اور ان کو مہیا کی جائیں گی ۔

[39، 40] لوگوں کی یہ قسم، یعنی اصحاب یمین، اولین میں سے بہت سی تعداد اور آخرین میں سے بہت سی تعداد پر مشتمل ہوں گی۔

56:41–48Page 535

وَأَصۡحَٰبُ ٱلشِّمَالِ مَآ أَصۡحَٰبُ ٱلشِّمَالِ ٤١

And the companions of the left - what are the companions of the left?

فِي سَمُومٖ وَحَمِيمٖ ٤٢

[They will be] in scorching fire and scalding water

وَظِلّٖ مِّن يَحۡمُومٖ ٤٣

And a shade of black smoke,

لَّا بَارِدٖ وَلَا كَرِيمٍ ٤٤

Neither cool nor beneficial.

إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَبۡلَ ذَٰلِكَ مُتۡرَفِينَ ٤٥

Indeed they were, before that, indulging in affluence,

وَكَانُواْ يُصِرُّونَ عَلَى ٱلۡحِنثِ ٱلۡعَظِيمِ ٤٦

And they used to persist in the great violation,1

وَكَانُواْ يَقُولُونَ أَئِذَا مِتۡنَا وَكُنَّا تُرَابٗا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَبۡعُوثُونَ ٤٧

And they used to say, "When we die and become dust and bones, are we indeed to be resurrected?

أَوَءَابَآؤُنَا ٱلۡأَوَّلُونَ ٤٨

And our forefathers [as well]?"

اور بائیں (ہاتھ) والے، کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟ (41)(ہوں گے) سخت گرم ہوا اور گرم کھولتے پانی میں (42) اور سائے میں سیاہ ترین دھوئیں کے (43) نہ (وہ) ٹھنڈا ہو گا اور نہ فرحت بخش (44) بلاشبہ وہ تھے پہلے اس سے خوش حال (45) اور تھے وہ اصرار کرتے اوپر بڑے گناہ (شرک) کے (46) اور تھے وہ کہتے، کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں ہم مٹی اور ہڈیاں تو کیا بے شک ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟ (47) کیا (ہم) اور ہمارے پہلے باپ دادا بھی؟ (48)

[44-41] اصحاب شمال سے مراد، اہل جہنم اور ان کے منحوس اعمال ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا ہے جس کے وہ مستحق ہوں گے، چنانچہ آگاہ فرمایا کہ وہ ﴿ فِيۡ سَمُوۡمٍ ﴾’’ باد سموم میں ہوں گے۔‘‘ یعنی جہنم کی آگ کی حرارت سے گرم کی ہوئی ہوا جو ان کی سانسوں کو پکڑ لے گی اور سخت اضطراب میں مبتلا کر دے گی ﴿ وَّحَمِيۡمٍ﴾ یعنی سخت کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ ﴿ وَّظِلٍّ مِّنۡ يَّحۡمُوۡمٍ﴾ ’’اور سیاہ ترین دھویں کے سارے میں ہوں گے۔‘‘ یعنی آگ کے شعلوں میں ہوں گے جن کے ساتھ دھواں ملا ہوا ہو گا۔ ﴿ لَّا بَارِدٍ وَّلَا كَرِيۡمٍ﴾ یعنی اس میں ٹھنڈک ہو گی نہ وہ خوشگوار ہو گا مقصد یہ ہے کہ وہاں ہم و غم اور حزن و شر ہو گا، جس میں کوئی بھلائی نہ ہو گی کیونکہ ضد کی نفی سے اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے۔

[48-45] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کا ذکر فرمایا جنھوں نے ان کو اس انجام تک پہنچایا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِكَ مُتۡرَفِيۡنَ﴾ یعنی وہ ایسے لوگ تھے کہ ان کی دنیا نے ان کو غافل کر دیا، انھوں نے دنیا کے لیے کام کیا، دنیا کی آسائشوں میں مگن رہے، دنیا سے فائدہ اٹھاتے رہے، دنیا کی مہلت نے ان کو اپنے عمل کو درست کرنے سے غافل رکھا۔ پس یہی وہ خوش حالی ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت کی ہے۔ ﴿وَكَانُوۡا يُصِرُّوۡنَ عَلَى الۡحِنۡثِ الۡعَظِيۡمِ﴾ یعنی وہ بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے تھے اور ان سے توبہ کرتے تھے نہ انھیں ان گناہوں پر ندامت ہی ہوتی تھی۔ بلکہ وہ ایسے کاموں پر مصر رہتے تھے جن سے ان کا آقا ناراض تھا۔ پس انھوں نے نے اپنے آقا کے سامنے بڑے بڑے گناہ پیش کیے جن کی بخشش نہ تھی۔وہ موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرتے تھے اور اس کے وقوع کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے تھے ﴿ اَىِٕذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ۠۰۰ اَوَ اٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَ﴾ ’’کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر دوبارہ کھڑے کیے جائیں گے؟ اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی؟‘‘

اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب اور ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:

56:49–57Page 535

قُلۡ إِنَّ ٱلۡأَوَّلِينَ وَٱلۡأٓخِرِينَ ٤٩

Say, [O Muḥammad], "Indeed, the former and later peoples

لَمَجۡمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَٰتِ يَوۡمٖ مَّعۡلُومٖ ٥٠

Are to be gathered together for the appointment of a known Day."

ثُمَّ إِنَّكُمۡ أَيُّهَا ٱلضَّآلُّونَ ٱلۡمُكَذِّبُونَ ٥١

Then indeed you, O those astray [who are] deniers,

لَأٓكِلُونَ مِن شَجَرٖ مِّن زَقُّومٖ ٥٢

Will be eating from trees of zaqqūm

فَمَالِـُٔونَ مِنۡهَا ٱلۡبُطُونَ ٥٣

And filling with it your bellies

فَشَٰرِبُونَ عَلَيۡهِ مِنَ ٱلۡحَمِيمِ ٥٤

And drinking on top of it from scalding water

فَشَٰرِبُونَ شُرۡبَ ٱلۡهِيمِ ٥٥

And will drink as the drinking of thirsty camels.

هَٰذَا نُزُلُهُمۡ يَوۡمَ ٱلدِّينِ ٥٦

That is their accommodation on the Day of Recompense.

نَحۡنُ خَلَقۡنَٰكُمۡ فَلَوۡلَا تُصَدِّقُونَ ٥٧

We have created you, so why do you not believe?

کہہ دیجیے! بلاشبہ پہلے بھی اور پچھلے بھی(49) یقیناً جمع کیے جائیں گے مقرر وقت پر ایک معلوم دن کے (50) پھر یقیناً تم اے گمراہو! جھٹلانے والو! (51) البتہ کھانے والے ہو گے تھوہڑ کے درخت سے (52) پس (تم) بھرنے والے ہو گے اس سے پیٹ (53) پھر پینے والے ہو گے اس پر گرم کھولتا پانی (54) پھر پینے والے (مانند) پینے پیاسے اونٹوں کے (55) یہ ہو گی مہمانی ان کی روز قیامت (56) ہم ہی نے پیدا کیا تمھیں، پھر کیوں نہیں تصدیق کرتے تم (بعثت کی)؟ (57)

[49، 50] یعنی گزری ہوئی اور آئندہ آنے والی تمام مخلوق کو اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور انھیں ایک مقرر دن میں اکٹھا کرے گا جو اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے ختم ہو جانے پر، ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دینے کے ارادے سے جو انھوں نے دنیا میں کیے تھے ان کو اکٹھا کرنے کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔

[53-51]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ اَيُّهَا الضَّآلُّوۡنَ ﴾ پھر بے شک تم ہدایت کے راستے سے بھٹک کر ہلاکت کے راستے پر چلنے والو! ﴿ الۡمُكَذِّبُوۡنَ۠﴾ رسول اکرم ﷺ اور اس حق کو جو آپ لے کر آئے ہیں اور وعد و وعید کو جھٹلانے والو! ﴿ لَاٰكِلُوۡنَ مِنۡ شَجَرٍ مِّنۡ زَقُّوۡمٍ﴾ ’’تم تھوہر کے درخت سے ضرور کھاؤ گے۔‘‘ یہ قبیح ترین اور خسیس ترین درخت ہے جس کی بدبو انتہائی گندی اور اس کا منظر انتہائی برا ہے۔﴿ فَمَالِــُٔـوۡنَ مِنۡهَا الۡبُطُوۡنَ﴾ ’’اس سے تم اپنے پیٹوں کو بھرو گے۔‘‘ وہ چیز جو انھیں اس درخت کو کھانے پر مجبور کرے گی، حالانکہ یہ بہت ہی گندا درخت ہو گا، بے انتہا بھوک ہوگی جو ان کے کلیجوں کو جلائے جا رہی ہو گی، قریب ہوگا کہ اس بھوک سے ان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ یہ وہ کھانا ہے جس سے وہ اپنی بھوک کو مٹائیں گے جو ان کو موٹا کرے گا نہ ان کی بھوک مٹا سکے گا۔

[54، 56] اور رہا ان کا مشروب تو وہ بدترین مشروب ہے، وہ اس (تھوہر کے) کھانے کے بعد کھولتا ہوا پانی پئیں گے جو ان کے پیٹوں میں جوش مارے گا ، وہ اسے پیاسے کی طرح پئیں گے جس کی پیاس انتہائی شدید ہو۔ ﴿ الۡهِيۡمِ﴾ سے مراد ایک بیماری ہے جو اونٹوں کو لاحق ہوتی ہے، اس بیماری کی وجہ سے پانی پینے سے اونٹ کی پیاس نہیں بجھتی۔ ﴿ هٰؔذَا﴾ یعنی یہ کھانا اور پینا ﴿ نُزُلُهُمۡ﴾ ان کی ضیافت ہو گی ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾’’ قیامت کے دن۔‘‘ اور یہ وہ ضیافت ہے جسے انھوں نے اپنے لیے آگے بھیجا تھا اور جسے انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اس ضیافت پر ترجیح دی جو اس نے اپنے اولیاء کے لیے تیار کر رکھی تھی۔ فرمایا :﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ كَانَتۡ لَهُمۡ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًاۙ۰۰ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا لَا يَبۡغُوۡنَ عَنۡهَا حِوَلًا﴾(الکہف: 18؍107، 108) ’’بے شک جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے، مہمانی کے طور پر ان کے لیے جنت الفردوس ہے، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہاں سے وہ نقل مکانی کرنا نہیں چاہیں گے۔‘‘

[57] پھر اللہ تعالیٰ نے حیات بعد الموت پر عقلی دلیل دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ نَحۡنُ خَلَقۡنٰكُمۡ فَلَوۡلَا تُصَدِّقُوۡنَ﴾ ’’ہم ہی نے تمھیں پیدا کیا، پھر تم (دوبارہ جی اُٹھنے کی) تصدیق کیوں نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ہم نے کسی عاجزی اور تھکاوٹ کے بغیر تمھیں وجود بخشا، اس کے بعد کہ تم کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے، کیا اس کام پر قدرت رکھنے والا، مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بنابریں ان کے حیات بعد الموت کی تصدیق نہ کرنے پر، ان کو زجر و توبیخ کی ہے، حالانکہ وہ ایسے ایسے امور کا مشاہدہ کرتے ہیں جو اس سے زیادہ بڑے اور زیادہ بلیغ ہیں۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском