As-Sa'diAl‑Waqi'ah · 56:58–96

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Al-Waqi'ah 56:58–96

56:58–62Page 536

أَفَرَءَيۡتُم مَّا تُمۡنُونَ ٥٨

Have you seen that which you emit?1

ءَأَنتُمۡ تَخۡلُقُونَهُۥٓ أَمۡ نَحۡنُ ٱلۡخَٰلِقُونَ ٥٩

Is it you who creates it, or are We the Creator?

نَحۡنُ قَدَّرۡنَا بَيۡنَكُمُ ٱلۡمَوۡتَ وَمَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوقِينَ ٦٠

We have decreed death among you, and We are not to be outdone

عَلَىٰٓ أَن نُّبَدِّلَ أَمۡثَٰلَكُمۡ وَنُنشِئَكُمۡ فِي مَا لَا تَعۡلَمُونَ ٦١

In that We will change your likenesses and produce you in that [form] which you do not know.1

وَلَقَدۡ عَلِمۡتُمُ ٱلنَّشۡأَةَ ٱلۡأُولَىٰ فَلَوۡلَا تَذَكَّرُونَ ٦٢

And you have already known the first creation, so will you not remember?

بھلا بتاؤ تو جو منی تم ٹپکاتے ہو (58) کیا تم پیدا کرتے ہو اس کو یا ہم ہیں (اس کے) خالق؟(59) ہم ہی نے مقدر کر دی ہے تمھارے درمیان موت اور نہیں ہم عاجز (بلکہ قادر ہیں)(60) اس بات پر کہ بدل کر لے آئیں (اور مخلوق) تم جیسی، اور نئے سرے سے پیدا کریں تمھیں ایسی (صورت) میں جو نہیں جانتے تم (61) اور یقیناً تم نے جان لیا ہے پہلی پیدائش کو، پھر کیوں نہیں تم نصیحت پکڑتے؟ (62)

[62-58] یعنی کیا تم نے منی کے ذریعے سے اپنی تخلیق کی ابتدا پر غور کیا جو تم (اپنی بیویوں کے رحم میں)ٹپکاتے ہو؟ کیا اس منی اور اس سے جو کچھ پیدا ہوتا ہے، اس کے تم خالق ہو یا اس کا خالق اللہ تعالیٰ ہے جس نے تم میں، یعنی مرد اور عورت میں شہوت پیدا کی ہے اور اس کے لیے دونوں میں سے ہر ایک کی راہ نمائی فرمائی، میاں بیوی کے درمیان محبت پیدا کی، ان کے درمیان مودت اور رحمت کا تعلق قائم کیا جو تناسل کا سبب ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تخلیق اول کے ذریعے سے تخلیق ثانی پر استدلال کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ عَلِمۡتُمُ النَّشۡاَةَ الۡاُوۡلٰى فَلَوۡلَا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ بے شک تمھاری تخلیق کی ابتدا پر قدرت رکھنے والی ہستی، تمھیں دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت رکھتی ہے۔

56:63–67Page 536

أَفَرَءَيۡتُم مَّا تَحۡرُثُونَ ٦٣

And have you seen that [seed] which you sow?

ءَأَنتُمۡ تَزۡرَعُونَهُۥٓ أَمۡ نَحۡنُ ٱلزَّٰرِعُونَ ٦٤

Is it you who makes it grow, or are We the grower?

لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَٰهُ حُطَٰمٗا فَظَلۡتُمۡ تَفَكَّهُونَ ٦٥

If We willed, We could make it [dry] debris, and you would remain in wonder,1

إِنَّا لَمُغۡرَمُونَ ٦٦

[Saying], "Indeed, we are [now] in debt;

بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُومُونَ ٦٧

Rather, we have been deprived."

بھلا بتلاؤ تو جو تم بوتے ہو(63)کیا تم اگاتے ہو اسے یا ہم ہیں اگانے والے؟ (64) اگر ہم چاہیں تو البتہ کر دیں اس کو ریزہ ریزہ پھر ہو جاؤ تم پشیمان ہونے والے (65) کہ بلاشبہ ہم البتہ چٹی ڈال دیے گئے (66)بلکہ ہم محروم ہی رہ گئے (67)

[67-63] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر احسان ہے جس کے ذریعے سے وہ انھیں اپنی توحید، اپنی عبادت، اور اپنی طرف رجوع کی دعوت دیتا ہے کہ اس نے ان کے لیے کھیتی باڑی اور باغات کو میسر کر کے انھیں نعمتوں سے نوازا ہے۔ اس کھیتی باڑی اور باغات سے خوراک، رزق اور پھل مہیا ہوتے ہیں جو ان کی ضرورت، حاجات اور ان کے مصالح میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا شکر ادا کرنا اور ان کا حق ادا کرنا تو کجا، وہ ان نعمتوں کو شمار تک نہیں کر سکتے۔پس فرمایا:﴿ ءَاَنۡتُمۡ تَزۡرَعُوۡنَهٗۤ اَمۡ نَحۡنُ الزّٰرِعُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم نے اس کو اگا کر زمین سے نکالا ہے؟ کیا تم نے اس کو نشوونما دی؟ کیا تم ہو جنھوں نے اس کے خوشوں اور اس کے پھل کو نکالا، یہاں تک کہ وہ تیار شکل میں اناج اور پکا ہوا پھل بن گیا؟ یا یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی ہے جو یہ سب کچھ سر انجام دینے میں متفرد ہے اور اسی نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے۔ تمھارے فعل کی غایت اور انتہا تو بس یہ ہے کہ تم زمین میں ہل چلاتے اور اسے پھاڑ دیتے ہو اور پھر اس میں بیج ڈال دیتے ہو، تمھیں کوئی علم نہیں کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے اور اس سے زیادہ پر تمھیں کوئی قدرت و اختیار نہیں، اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ فرمایا کہ کھیتی خطرات کی زد میں رہتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کر کے، تمھاری گزاران اور ایک مدت مقررہ تک استعمال کے لیے اسے باقی نہ رکھتا (تو یہ کھیتی کبھی محفوظ نہ رہتی۔)﴿لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنٰهُ﴾’’ اور اگر ہم چاہتے تو اسے کردیتے۔‘‘ یعنی یہ کاشت کی گئی کھیتی اور اس کے اندر موجود پھل کو ﴿حُطَامًا﴾ ریزہ ریزہ کیا گیا چورا، جس میں کسی قسم کا کوئی فائدہ ہے نہ رزق کا کام دیتا ہے ﴿ فَظَلۡتُمۡ﴾ یعنی اس کے چورا اور بھس بنائے جانے کے سبب سے، اس کے بعد کہ تم نے اس میں بہت مشقت اٹھائی اور بہت زیادہ اخراجات برداشت کیے ، پھر تم رہ جاتے۔﴿ تَفَكَّهُوۡنَ﴾ ندامت اٹھانے والے اور اس مصیبت پر حسرت زدہ ہو نے والے جو تم پر نازل ہوئی، تمھاری ساری فرحت، مسرت اور لذت زائل ہو جاتی اور تم کہہ اٹھتے :﴿اِنَّا لَمُغۡرَمُوۡنَ﴾ ’’کہ بلاشبہ ہم پر چٹی ڈال دی گئی۔‘‘ یعنی ہم نے نقصان اٹھایا، ہم پر ایسی مصیبت نازل ہوئی، جس نے ہمیں ہلاک کر ڈالا، پھر اس کے بعد تمھیں معلوم ہوتا کہ یہ مصیبت تم پر کہاں سے آئی اور کس سبب سے یہ آفت تم پرآن پڑی؟ پھر تم کہتے ﴿بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُوۡمُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم تو بالکل ہی محروم رہ گئے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش بیان کرو کہ اس نے تمھارے لیے کھیتی اگائی، اسے باقی رکھا ۔اسے تمھارے لیے پایۂ تکمیل کو پہنچایا، اس پر کوئی آفت نہ بھیجی جس کی وجہ سے تم اس کے فائدے اور اس کی بھلائی سے محروم ہو جاتے۔

56:68–70Page 536

أَفَرَءَيۡتُمُ ٱلۡمَآءَ ٱلَّذِي تَشۡرَبُونَ ٦٨

And have you seen the water that you drink?

ءَأَنتُمۡ أَنزَلۡتُمُوهُ مِنَ ٱلۡمُزۡنِ أَمۡ نَحۡنُ ٱلۡمُنزِلُونَ ٦٩

Is it you who brought it down from the clouds, or is it We who bring it down?

لَوۡ نَشَآءُ جَعَلۡنَٰهُ أُجَاجٗا فَلَوۡلَا تَشۡكُرُونَ ٧٠

If We willed, We could make it bitter, so why are you not grateful?

بھلا بتلاؤ تو وہ پانی جو تم پیتے ہو (68) کیا تم نے نازل کیا ہے اسے بادلوں سے یا ہم ہیں نازل کرنے والے؟(69) اگر ہم چاہیں تو کر دیں ہم اسے کھارا تو کیوں نہیں تم شکر کرتے؟ (70)

[70-68] جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے بندوں کو طعام کی نعمت سے نوازا ہے تو اس نے اس خوشگوار شیریں پانی کی نعمت کا بھی ذکر فرمایا جسے وہ پیتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو حاصل کرنا آسان اور سہل نہ بنایا ہوتا تو اس کے حصول کا تمھارے پاس کوئی راستہ نہ تھا۔ وہی ہے جس نے بادل میں سے اس کو نازل کیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بارش نازل کرتا ہے، پھر روئے زمین پر اور زمین کے نیچے، اس پانی سے بہتے ہوئے دریا اور ابلتے ہوئے چشمے بن جاتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے اسے خوشگوار شیریں بنایا جسے لوگ مزے سے پیتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اسے کھاری اور کڑوا بنا دیتا جس سے فائدہ نہ اٹھایا جا سکتا۔ ﴿ فَلَوۡلَا تَشۡكُرُوۡنَ﴾ پس تم ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں نہیں ادا کرتے، جو اس نے تمھیں عطا کی ہیں؟

56:71–74Page 536

أَفَرَءَيۡتُمُ ٱلنَّارَ ٱلَّتِي تُورُونَ ٧١

And have you seen the fire that you ignite?

ءَأَنتُمۡ أَنشَأۡتُمۡ شَجَرَتَهَآ أَمۡ نَحۡنُ ٱلۡمُنشِـُٔونَ ٧٢

Is it you who produced its tree, or are We the producer?

نَحۡنُ جَعَلۡنَٰهَا تَذۡكِرَةٗ وَمَتَٰعٗا لِّلۡمُقۡوِينَ ٧٣

We have made it a reminder1 and provision for the travelers,2

فَسَبِّحۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلۡعَظِيمِ ٧٤

So exalt the name of your Lord, the Most Great.

بھلا بتلاؤ تو وہ آگ جو تم جلاتے ہو (71) کیا تم نے پیدا کیا ہے اس کا درخت یا ہم ہیں پیدا کرنے والے؟ (72) ہم ہی نے بنایا ہے اسے یاد دہانی کا ذریعہ اور فائدہ مسافروں کے لیے (73) سو تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو نہایت عظمت والا ہے (74)

[73-71] یہ ایک ایسی نعمت ہے جو ضروریات زندگی میں داخل ہے جس سے مخلوق مستغنی نہیں رہ سکتی کیونکہ لوگ اپنے بہت سے امور اور حوائج میں اس کے محتاج ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے آگ کی نعمت کو متحقق کیا ہے جس کو اس نے درختوں کے اندر وجود بخشا، مخلوق میں یہ قدرت نہ تھی کہ وہ اس کے درخت کو پیدا کرتے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے سر سبز درخت سے آگ کو پیدا کیا، تب یکایک یہ بندوں کی ضرورت کے مطابق جل اٹھتی ہے، جب وہ اپنی ضرورت سے فارغ ہو جاتے ہیں تو اسے بجھا دیتے ہیں۔ ﴿ نَحۡنُ جَعَلۡنٰهَا تَذۡكِرَةً﴾ یعنی ہم نے اس کو بندوں کے لیے ان کے رب کی نعمت اور جہنم کی آگ کی یاد دہانی بنایا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نافرمان لوگوں کے لیے تیار کیا ہے، یہ (یاد دہانی) ایک کوڑا ہے جو اس کے بندوں کو نعمتوں بھری جنت کی طرف ہانکتا ہے ﴿ وَّمَتَاعًا لِّلۡمُقۡوِيۡنَ﴾ یعنی فائدہ اٹھانے والوں یا مسافروں کے لیے کچھ سامان زیست بنایا، اللہ تعالیٰ نے مسافروں کو اس لیے مخصوص فرمایا کیونکہ مسافر کے لیے اس کا فائدہ دوسروں کی نسبت زیادہ ہے اور شاید اس کا سبب یہ بھی ہو کہ دنیا تمام تر مسافر خانہ ہے۔ پس اس آگ کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں مسافروں کے لیے سامان زیست اور آخرت کے دائمی گھر کی یاد دہانی بنایا ہے۔

[74] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کو بیان فرمایا جو بندوں کی طرف سے اس کی حمد و ثنا ، اس کے شکر اور اس کی عبادت کی موجب ہیں تو اس نے اپنی تسبیح و تحمید کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ یعنی اپنے رب عظم کی تنزیہ بیان کیجیے جو اسماء و صفات میں کامل اور بے پایاں احسانات اور بھلائیوں کا مالک ہے۔ اپنے دل، زبان اور جوارح کے ساتھ اس کی حمد و ستائش بیان کیجیے کیونکہ وہ اس کا اہل اور اس بات کا مستحق ہے کہ اس کا شکر ادا کیا جائے، اس کی ناشکری نہ کی جائے، اس کو یاد رکھا جائے اس کو فراموش نہ کیا جائے اور اس کی اطاعت کی جائے، نافرمانی نہ کی جائے۔

56:75–87Page 536

۞ فَلَآ أُقۡسِمُ بِمَوَٰقِعِ ٱلنُّجُومِ ٧٥

Then I swear by the setting of the stars,1

وَإِنَّهُۥ لَقَسَمٞ لَّوۡ تَعۡلَمُونَ عَظِيمٌ ٧٦

And indeed, it is an oath - if you could know - [most] great.

إِنَّهُۥ لَقُرۡءَانٞ كَرِيمٞ ٧٧

Indeed, it is a noble Qur’ān.

فِي كِتَٰبٖ مَّكۡنُونٖ ٧٨

In a Register well-protected;1.

لَّا يَمَسُّهُۥٓ إِلَّا ٱلۡمُطَهَّرُونَ ٧٩

None touch it except the purified [i.e., the angels].

تَنزِيلٞ مِّن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٨٠

[It is] a revelation from the Lord of the worlds.

أَفَبِهَٰذَا ٱلۡحَدِيثِ أَنتُم مُّدۡهِنُونَ ٨١

Then is it to this statement that you are indifferent

وَتَجۡعَلُونَ رِزۡقَكُمۡ أَنَّكُمۡ تُكَذِّبُونَ ٨٢

And make [the thanks for] your provision that you deny [the Provider]?

فَلَوۡلَآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلۡحُلۡقُومَ ٨٣

Then why, when it [i.e., the soul at death] reaches the throat

وَأَنتُمۡ حِينَئِذٖ تَنظُرُونَ ٨٤

And you are at that time looking on -

وَنَحۡنُ أَقۡرَبُ إِلَيۡهِ مِنكُمۡ وَلَٰكِن لَّا تُبۡصِرُونَ ٨٥

And We [i.e., Our angels] are nearer to him than you, but you do not see -

فَلَوۡلَآ إِن كُنتُمۡ غَيۡرَ مَدِينِينَ ٨٦

Then why do you not, if you are not to be recompensed,

تَرۡجِعُونَهَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٨٧

Bring it back,1 if you should be truthful?

پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی (75) اور بلاشبہ یہ البتہ قسم ہے، اگر تمھیں علم ہو، بہت بڑی (76) کہ بلاشبہ یہ قرآن ہے نہایت معزز (77) کتاب محفوظ میں (78) نہیں ہاتھ لگاتے اس کو مگر پاک (فرشتے) ہی(79) نازل کردہ ہے رب العالمین کی طرف سے (80) کیا پس اس حدیث (قرآن) سے تم بے اعتنائی کرتے ہو؟ (81) اور کرتے ہو تم اپنا حصہ یہ کہ تم تکذیب کرتے ہو (82) پس کیوں نہیں، جب پہنچتی ہے (روح) حلق تک (83) اور تم اس وقت دیکھتے ہو (84) اور ہم زیادہ قریب ہوتے ہیں اس سے تمھاری نسبت اور لیکن نہیں دیکھتے ہو تم (85) پس کیوں نہیں، اگر ہو تم نہیں بدلہ دیے جاؤ گے (86) پھیر لاتے تم اس (روح) کو، اگر ہو تم سچے؟ (87)

[75، 76] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ستاروں کی اور ان کے منازل ، یعنی ان کے غروب کے مقامات اور ان کے سقوط کی جگہ کی قسم کھائی ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان حوادث کی قسم کھائی ہے جو ان اوقات میں واقع ہوتے ہیں جو اس کی عظمت، اس کی کبریائی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی قسم کھائی ہے، اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا :﴿ وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِيۡمٌ﴾ اور یہ قسم صرف اس لیے عظمت کی حامل ہے کہ ستاروں، ان کی رفتار اور ان کے غروب کے مقامات میں ان کے سقوط کی جگہوں میں بہت سی نشانیاں اور عبرتیں ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔

[77] جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے قرآن کا اثبات، نیز یہ کہ قرآن حق ہے جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ۔ یہ کریم ہے، یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہت زیادہ علم والا ہے، ہر بھلائی اور ہر علم اللہ تعالیٰ کی کتاب سے مستفاد اور مستنبط ہوتا ہے۔

[78]﴿ فِيۡ كِتٰبٍ مَّكۡنُوۡنٍ﴾ ’’ کتاب محفوظ میں ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کی آنکھوں سے مستور ہے، یہ کتاب مکنون لوح محفوظ ہے، یعنی یہ قرآن لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ اور ملأاعلیٰ میں فرشتوں کے ہاں قابل عظمت ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب ہو جو ان فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی وحی اور رسالت کے لیے نازل کرتا ہے، اور مراد یہ ہے کہ یہ کتاب شیاطین سے مستور ہے شیاطین کو اس میں تغیر تبدل ، کمی بیشی اور چوری کرنے کی قدرت حاصل نہیں۔

[79]﴿ لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَ۠﴾ ’’اسے صرف پاک (فرشتے) ہی چھوتے ہیں۔‘‘ یعنی قرآن کریم کو صرف ملائکہ کرام ہی چھوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام آفات، گناہوں اور عیوب سے پاک کیا ہے۔ جب قرآن کو پاک ہستیوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا اور ناپاک اور شیاطین اس کو چھو نہیں سکتے تو آیت کریمہ تنبیہاً اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاک شخص کے سوا کسی کے لیے قرآن کو چھونا جائز نہیں ۔

[80]﴿ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یہ قرآن جو ان صفاتِ جلیلہ سے موصوف ہے، ربِ کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو دینی اور دنیاوی نعمتوں کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کرتا ہے، وہ جلیل ترین چیز جس کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کی تربیت کی، اس قرآن کو نازل کرنا ہے جو دونوں جہانوں کے مصالح پر مشتمل ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایسا رحم فرمایا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ان پر واجب ہے کہ وہ اس قرآن کو قائم کریں، برسر عام اس کا اعلان کریں، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیں، اور اس کو کھلم کھلا بیان کریں۔

[81] بنابریں فرمایا: ﴿ اَفَبِهٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡهِنُوۡنَ﴾ ’’پھر تم اس کلام (قرآن) سے بے پروائی کرتے ہو؟‘‘یعنی کیا تم اس کتاب عظیم اور ذکر حکیم کو مخلوق کے خوف، ان کے عار اور ان کی زبانوں کے ڈر سے چھپاتے ہو؟ ایسا کرنا مناسب ہے نہ لائق شان ہے، لائق شان اور مناسب تو یہ ہے کہ اس بات میں مداہنت کی جائے جس کے بارے میں انسان کو وثوق حاصل نہ ہو۔رہا قرآن کریم تو یہ ایسا حق ہے کہ جب بھی کوئی مقابلہ کرنے والا اس کا مقابلہ کرتا ہے تو یہی غالب آتا ہے اور کوئی بھی حملہ آور اگر اس قرآن کے ساتھ حملہ کرتا ہے تو یہ اپنے مدمقابل کے مقابلے میں کامیاب رہتا ہے۔ قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مداہنت کی جائے نہ اسے چھپایا جائے بلکہ برسر عام اس کا اعلان کیا جائے۔

[82]﴿ وَتَجۡعَلُوۡنَ رِزۡقَكُمۡ اَنَّـكُمۡ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ تم جھٹلاتے پھرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت کا مقابلہ وظیفۂ تکذیب اور اس کی نعمت کی ناسپاسی کے ذریعے سے کرتے ہو اور کہتے ہو ’’فلاں ستارے کے طلوع ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی‘‘ اور تم نعمت کو ان ہستیوں کی طرف منسوب کرتے ہو جنھوں نے یہ نعمتیں عطا نہیں کیں۔ پس تم نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں ادا نہ کیا کہ اسی نے تم پر یہ بارش برسائی ہے تاکہ وہ تمھیں اور زیادہ اپنے فعل و کرم سے سرفراز کرے کیونکہ کفر و تکذیب نعمتوں کو اٹھا لینے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے نازل ہونے کے اسباب ہیں۔

[85-83]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ حِيۡنَىِٕذٍ تَنۡظُرُوۡنَۙ۰۰وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡؔكُمۡ وَلٰكِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ یعنی جب روح حلق تک پہنچتی ہے اور تم اس حالت میں موت کے آنے کا منظر دیکھ رہے ہوتے ہو، حالانکہ ہم اپنے علم اور اپنے فرشتوں کے ذریعے سے، مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے۔

[86، 87]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ غَيۡرَ مَدِيۡنِيۡنَ۰۰ تَرۡجِعُوۡنَهَاۤ۠﴾ ’’پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں، تو کیوں نہیں اس روح کو پھیر لیتے۔‘‘ یعنی بھلا جب تم اس زعم باطل میں مبتلا ہو کہ تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا نہ تمھارا حساب کتاب کر کے تمھیں جزا و سزا دی جائے گی تو تم روح کو بدن میں واپس کیوں نہیں لے آتے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو۔‘‘ حالانکہ تم اقرار کرتے ہو کہ تم اس روح کو بدن میں واپس لانے سے عاجز ہو، تب تمھیں یا تو اس حق کا اقرار کرنا ہو گا جو محمد کریمﷺ لے کر آئے ہیں یا تم عناد رکھو گے، پس تمھارا حال اور تمھارا برا انجام معلوم ہے۔

56:88–96Page 537

فَأَمَّآ إِن كَانَ مِنَ ٱلۡمُقَرَّبِينَ ٨٨

And if he [i.e., the deceased] was of those brought near [to Allāh],

فَرَوۡحٞ وَرَيۡحَانٞ وَجَنَّتُ نَعِيمٖ ٨٩

Then [for him is] rest and bounty and a garden of pleasure.

وَأَمَّآ إِن كَانَ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلۡيَمِينِ ٩٠

And if he was of the companions of the right,

فَسَلَٰمٞ لَّكَ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلۡيَمِينِ ٩١

Then [the angels will say], "Peace for you; [you are] from the companions of the right."

وَأَمَّآ إِن كَانَ مِنَ ٱلۡمُكَذِّبِينَ ٱلضَّآلِّينَ ٩٢

But if he was of the deniers [who were] astray,

فَنُزُلٞ مِّنۡ حَمِيمٖ ٩٣

Then [for him is] accommodation of scalding water

وَتَصۡلِيَةُ جَحِيمٍ ٩٤

And burning in Hellfire.

إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ حَقُّ ٱلۡيَقِينِ ٩٥

Indeed, this is the true certainty,

فَسَبِّحۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلۡعَظِيمِ ٩٦

So exalt the name of your Lord, the Most Great.

پس لیکن اگر ہے وہ (مُردہ) مقربین میں سے ہو (88) تو ہے (اس کے لیے) راحت اور خوشبو اور نعمتوں والا باغ(89) اور لیکن اگر ہے وہ اصحاب الیمین میں سے (90) تو (کہا جائے گا:) سلامتی ہے تیرے لیے، (تو) اصحاب الیمین میں سے ہے (91) اور لیکن اگر ہے وہ، تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے (92) تو مہمانی ہو گی (اس کی) گرم کھولتے پانی سے (93) اور داخل کرنا ہے جہنم میں (94) بلاشبہ یہ (خبر) یہی یقینی حق ہے (95) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظیم ہے (96)

[88، 89] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کے اوائل میں، قیامت کے دن تین گروہوں، یعنی مقربین، اصحاب یمین اور مکذبین کے احوال کا ذکر فرمایا، پھر اس کے آخر میں ان کے ان احوال کا ذکر فرمایا جب موت کا وقت آ پہنچے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠﴾ اگر مرنے والا اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں سے ہو گا۔ اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو واجبات و مستحبات کی ادائیگی اور محرمات و مکروہات اور بے فائدہ مباحات سے اجتناب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کے حصول میں کوشاں رہے ہوں گے۔ ﴿ فَرَوۡحٌ﴾ تب ان کے لیے راحت و اطمینان ، فرحت و سرور اور قلب و روح کی نعمتیں ہوں گی ﴿وَّرَيۡحَانٌ﴾ یہ ایسی لذت بدنی کے لیے ایک جامع لفظ ہے جو مختلف انواع کےماکولات و مشروبات پر مشتمل ہو۔کہا جاتا ہے ’’ریحان‘‘ سے مراد معروف خوشبو ہے، تب یہ کسی چیز کی نوع کے ذریعے سے اس کی جنس عام کی تعبیر کے باب میں سے ہے۔ ﴿ وَّجَنَّتُ نَعِيۡمٍ ﴾ ’’اور نعمتوں والی جنت ہے۔‘‘ جو دونوں امور کی جامع ہو گی، اس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے۔ مقربین کی موت کے قرب کے وقت، ان کو ان نعمتوں کی بشارت دی جاتی ہے جس کی بنا پر فرحت اور سرور سے ان کی ارواح اڑنے لگتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّةِ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ۰۰ نَحۡنُ اَوۡلِيٰٓؤُكُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ١ۚ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَشۡتَهِيۡۤ اَنۡفُسُكُمۡ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَدَّعُوۡنَؕ۰۰نُزُلًا مِّنۡ غَفُوۡرٍ رَّحِيۡمٍ۰۰﴾( حٰمۗ السجدۃ:41/30-32) ’’بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے، پھر اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوں گے اور کہیں گے کہ تم ڈرو نہ غم کھاؤ ، اور جنت کی خوشخبری سے خوش ہو جاؤ جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا، دنیا کی زندگی میں بھی ہم تمھارے دوست تھے اور آخرت (کی زندگی) میں بھی (ہم تمھارے دوست ہوں گے) اس جنت میں تمھارے لیے ہر وہ چیز ہو گی جس کی تمھارے دل خواہش کریں گے اور اس میں تمھیں ہر وہ چیز ملے گی جو تم طلب کرو گے۔ یہ سب کچھ رب غفور و رحیم کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہو گا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد : ﴿ لَهُمُ الۡبُشۡرٰؔى فِي الۡحَؔيٰؔوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’(یونس:10/64) ’’ان کے لیے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری ہے۔‘‘ کی تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ مذکورہ بشارت، دنیا کی زندگی کی بشارت ہے۔

[90، 91]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور اگر وہ داہنے ہاتھ والوں میں سے ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے واجبات کو ادا کیا اور محرمات کو ترک کیا، اگرچہ ان سے بعض ایسے حقوق کے بارے میں کوتاہی سرزد ہوئی جن سے ان کے ایمان اور توحید میں خلل واقع نہیں ہوا﴿فَـــ﴾ تو ان میں سے ہر کسی سے کہا جائے گا: ﴿سَلٰمٌ لَّكَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ تمھارے اصحاب یمین بھائیوں کی طرف سے تمھیں سلامتی حاصل ہے۔ یعنی جب وہ ان کے پاس پہنچے گا اور ان سے ملاقات کرے گا تو وہ اسے سلام اور خوش آمدید کہیں گے۔ یا اس سے کہا جائے گا کہ دنیا کی آفات، مصائب اور عذاب سے تم سلامت ہو کیونکہ تم اصحاب یمین میں سے ہو جو ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچتے رہے ہیں۔

[94-92]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور لیکن اگر وہ تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے ہوا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حق کو جھٹلایا اور ہدایت کے راستے سے بھٹک گئے ﴿ فَنُزُلٌ مِّنۡ حَمِيۡمٍۙ۰۰ وَّتَصۡلِيَةُ جَحِيۡمٍ ۰۰﴾ تو جس روز وہ اپنے رب کی خدمت میں حاضر ہوں گے، اس روز ان کی ضیافت یہ ہو گی کہ ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا جو ان کو گھیرے گی اور ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی اور جب وہ پیاس کی شدت سے پانی مانگیں گے ﴿ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ١ؕ بِئۡسَ الشَّرَابُ١ؕ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا﴾(الکہف:18؍29) ’’تو انھیں ایسا کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا، جو پگھلے ہوئے تانپے کے مانند گرم ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا، ان کا مشروب کتنا برا، اور ان کی آرام گاہ کتنی بری ہو گی۔‘‘

[95]﴿ اِنَّ هٰؔذَا﴾ یہ سب کچھ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، مثلاً: بندوں کے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا، اور اس کی تفاصیل ﴿ لَهُوَ حَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’بلاشبہ یہی (مذکور) حق الیقین ہے۔‘‘ یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ بلکہ یہ ثابت شدہ حق ہے جس کا وقوع لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے، اس پر قطعی دلائل پیش کیے ہیں اور اس کی حیثیت خرد مندوں کے نزدیک ایسے ہے گویا کہ وہ اس کا ذائقہ چکھ رہے ہوں اور اس کی حقیقت کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔ پس انھوں نے اس امر پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی کہ اس نے ان کو اس عظیم نعمت اور اتنی بڑی عنایت سے مختص کیا۔

[96] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’لہٰذا تو اپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کر۔‘‘ پس پاک ہے ہمارا رب عظیم، منزہ اور بہت بلند و برتران باتوں سے جو منکرین حق (اس کے بارے میں)کرتے ہیں۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском