As-Sa'diAl‑An'am · 6:145–153

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Al-An'am 6:145–153

6:145–146Page 147

قُل لَّآ أَجِدُ فِي مَآ أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٖ يَطۡعَمُهُۥٓ إِلَّآ أَن يَكُونَ مَيۡتَةً أَوۡ دَمٗا مَّسۡفُوحًا أَوۡ لَحۡمَ خِنزِيرٖ فَإِنَّهُۥ رِجۡسٌ أَوۡ فِسۡقًا أُهِلَّ لِغَيۡرِ ٱللَّهِ بِهِۦۚ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٖ وَلَا عَادٖ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ١٤٥

Say, "I do not find within that which was revealed to me [anything] forbidden to one who would eat it unless it be a dead animal or blood spilled out or the flesh of swine - for indeed, it is impure - or it be [that slaughtered in] disobedience, dedicated to other than Allāh.1 But whoever is forced [by necessity], neither desiring [it] nor transgressing [its limit], then indeed, your Lord is Forgiving and Merciful."

وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمۡنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٖۖ وَمِنَ ٱلۡبَقَرِ وَٱلۡغَنَمِ حَرَّمۡنَا عَلَيۡهِمۡ شُحُومَهُمَآ إِلَّا مَا حَمَلَتۡ ظُهُورُهُمَآ أَوِ ٱلۡحَوَايَآ أَوۡ مَا ٱخۡتَلَطَ بِعَظۡمٖۚ ذَٰلِكَ جَزَيۡنَٰهُم بِبَغۡيِهِمۡۖ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ ١٤٦

And to those who are Jews We prohibited every animal of uncloven hoof; and of the cattle and the sheep We prohibited to them their fat, except what adheres to their backs or the entrails or what is joined with bone. [By] that We repaid them for their transgression. And indeed, We are truthful.

کہہ دیجیے! نہیں پاتا میں اس میں جو وحی کی گئی ہے میری طرف کوئی چیز حرام کسی کھانے والے پر جو کھائے اسے مگر یہ کہ ہو وہ مردار یا خون بہایا ہوا یا گوشت سورکا پس یقینا وہ ناپاک ہے یا وہ فسق ہے کہ نام پکارا گیا اللہ کے سوا کسی اورکا اس پر، پھر جو شخص لاچار ہو جائے (بشرطیکہ) نہ ہو وہ سرکش اور نہ حد سے گزرنے والا تو آپ کا رب ہے بہت بخشنے والا رحم کرنے والا(145) اور اوپر ان کے جو یہودی ہوئے حرام کیا تھا ہم نے ہر ناخن والا(جانور) اور گائے اور بکری میں سے حرام کیں ہم نے ان پر چربیاں ان دونوں کی مگر جس کو اٹھایا ہوا ہو ان کی پیٹھوں یاآنتوں نے یا جو ملی ہو ساتھ ہڈی کے، یہ سزا دی ہم نے انھیں بوجہ ان کی سرکشی کےاور یقینا ہم البتہ سچے ہیں(146)

[145] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امر پر مشرکین کی مذمت کی کہ انھوں نے حلال کو حرام ٹھہرایا اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا اور ان کے اس قول کا ابطال کیا تو اس نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کے سامنے واضح کر دیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا چیز ان پر حرام ٹھہرائی ہے تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ حلال ہے اور جو کوئی اس کی تحریم کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے وہ جھوٹا اور باطل پرست ہے۔ کیونکہ تحریم صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول کے توسط سے ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ قُلۡ لَّاۤ اَجِدُ فِيۡ مَاۤ اُوۡحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَّطۡعَمُهٗۤ ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے کہ میں نہیں پاتا اس وحی میں کہ مجھ کو پہنچی ہے کسی چیز کو حرام کھانے والے پر جو اس کو کھائے‘‘ یعنی اس کو کھانے کے علاوہ اس سے دیگر فوائد حاصل کرنے یا نہ کرنے سے قطع نظر، میں کوئی چیز نہیں پاتا جس کا کھانا حرام ہو۔ ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ يَّكُوۡنَ مَيۡتَةً ﴾ ’’مگر یہ کہ وہ چیز مردار ہو‘‘ مردار وہ جانور ہے جو شرعی طریقے سے ذبح کیے بغیر مر گیا ہو۔ یہ مرا ہوا جانور حلال نہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ﴾(المائدہ: 5؍3) ’’حرام کر دیا گیا تم پر مردار، خون اور خنزیر کا گوشت۔‘‘ ﴿ اَوۡ دَمًا مَّسۡفُوۡحًا ﴾ ’’یا بہتا ہوا خون‘‘ یہ وہ خون ہے جو ذبیحہ کو ذبح کرتے وقت اس میں سے خارج ہوتا ہے کیونکہ اس خون کا ذبیحہ کے بدن میں رہنا ضرر رساں ہے۔ جب یہ خون بدن سے نکل جاتا ہے تو گوشت کا ضرر زائل ہو جاتا ہے۔ لفظ کے مفہوم مخالف سے مستفاد ہوتا ہے کہ جانور کو ذبح کرنے کے بعد جو خون گوشت اور رگوں میں بچ جاتا ہے وہ حلال اور پاک ہے۔ ﴿ اَوۡ لَحۡمَ خِنۡزِيۡرٍ فَاِنَّهٗ رِجۡسٌ ﴾ ’’یا سور کا گوشت کہ وہ ناپاک ہے‘‘ یعنی مذکورہ تینوں اشیا گندی ہیں یعنی ناپاک اور مضر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے تم پر لطف و کرم کرتے ہوئے اور تمھیں خبائث کے قریب جانے سے بچانے کے لیے ان گندی اشیا کو حرام قرار دے دیا ہے۔ ﴿ اَوۡ فِسۡقًا اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ ﴾ یا ذبیحہ کو اللہ کے سوابتوں اور ان معبودوں کے لیے ذبح کیا گیا ہو جن کی مشرکین عبادت کرتے ہیں ۔ یہ فسق ہے اور فسق سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل کر اس کی معصیت میں داخل ہو جانا۔ ﴿ فَمَنِ اضۡطُرَّ ﴾ ’’پس اگر کوئی مجبور ہوجائے۔‘‘ یعنی بایں ہمہ اگر کوئی ان حرام اشیا کو استعمال کرنے پر مجبور ہے حاجت اور ضرورت نے اسے ان اشیا کو کھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ وہ اس طرح کہ اس کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں اور بھوک کے باعث اس کو اپنی جان کا خوف ہے ﴿ غَيۡرَ بَاغٍ ﴾ ’’نافرمانی کرنے والا نہ ہو۔‘‘ یعنی بغیر کسی اضطراری حالت کے اس کو کھانے کا ارادہ نہ رکھتا ہو ﴿ وَّلَا عَادٍ ﴾ ’’اور نہ زیادتی کرنے والا ہو‘‘ (عاد) سے مراد ہے، ’’ضرورت سے زائد کھا کر حد سے تجاوز کرنے والا‘‘ ﴿ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’تو بلاشبہ تمھارا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جو شخص اس حالت کو پہنچ جائے اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ نرمی کی ہے۔ اہل علم نے اس آیت کریمہ میں مذکورہ محرمات پر حصر کے بارے میں مختلف رائے کا اظہار کیا ہے۔ کیونکہ اس کے علاوہ بھی محرمات موجود ہیں جن کا یہاں ذکر نہیں کیا گیا ، مثلاً:(کچلیوں والے) درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے تمام پرندے، وغیرہ چنانچہ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ان زائد چیزوں کی تحریم سے قبل نازل ہوئی ہے، اس لیے یہ حصر مذکور ان اشیا میں تحریم متاخر کے منافی نہیں ہے۔ کیونکہ یہ چیزیں اس وقت اس زمرے میں نہیں آتی تھیں جس وقت مذکورہ حرمت کی وحی آپ کی طرف بھیجی گئی تھی۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ آیت مبارکہ تمام محرمات کی تحریم پر مشتمل ہے، البتہ بعض کی تحریم کی تصریح کر دی گئی ہے اور بعض کی تحریم اس کے معنی اور حرمت کی عمومی حرمت سے اخذ کی گئی ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیت کریمہ کے اواخر میں مردار، خون اور خنزیر کے گوشت کی تحریم کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ فَاِنَّهٗ رِجۡسٌ ﴾ ’’وہ ناپاک ہے‘‘ اور یہ ایسا وصف ہے جو تمام محرمات کو شامل ہے۔ کیونکہ تمام محرمات (رِجْس) یعنی گندگی اور ناپاک ہیں۔ اور یہ محرمات سب سے زیادہ ناپاک ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو گندگی اور ناپاکی سے بچانے کے لیے ان کو حرام قرار دیا ہے۔ ناپاک اور محرمات کی تفاصیل سنت نبوی سے اخذ کی جاتی ہیں کیونکہ سنت قرآن کی تفسیر کر کے اس کے مقاصد کو بیان کرتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے کھانے والے کے لیے صرف اسی چیز کو حرام قرار دیا جس کا اس نے ذکر فرمایا۔ اور تحریم کا مصدر صرف اللہ تعالیٰ کی شریعت ہے۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مشرکین اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کے رزق کو حرام قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور اس کی طرف ایسی بات منسوب کرتے ہیں جو اس نے نہیں کہی۔ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں خنزیر کی حرمت کا ذکر نہ کیا ہوتا تو اس کا قوی احتمال تھا کہ آیت کریمہ کا سیاق مشرکین کے مذکورہ بالا ان اقوال کی تردید میں ہے جس میں انھوں نے ان چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا اور اپنے نفس کی فریب دہی کے مطابق اس میں مشغول ہو گئے۔ اور یہ خاص طور پر چوپایوں کے بارے میں ہے۔ اور ان چوپایوں میں کچھ بھی حرام نہیں سوائے ان اشیا کے جن کا ذکر آیت کریمہ میں کر دیا گیا ہے۔ مردار اور غیر اللہ کے نام پر پکاری گئی چیز اور ان کے سوا دیگر تمام اشیا حلال ہیں ۔ اس احتمال کی بنا پر، خنزیر کا یہاں ذکر شاید اس مناسبت سے کیا گیا ہو کہ بعض جہال خنزیر کو (بَھِیْمَہُ اَلْاَنْعَام) میں داخل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خنزیر بھیڑ بکری کی نوع میں سے ہے۔ اس قسم کا توہم نصاریٰ میں سے جہلاء اور ان جیسے بعض دیگر لوگوں کو لاحق ہوا ہے۔ وہ خنزیر کو اسی طرح پالتے ہیں جیسے مویشیوں کو پالا جاتا ہے اور اس کو حلال سمجھتے ہیں ۔ اور وہ اس کے اور دیگر مویشیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے۔

[146] پس یہ تمام محرمات جو اس امت پر حرام قرار دی گئی ہیں یہ حفاظت اور تنزیہہ کی خاطر ہے۔اور وہ چیزیں جو اہل کتاب پر حرام قرار دی گئیں ان میں سے بعض پاک اور طیب تھیں مگر سزا کے طور پر ان چیزوں کو ان پر حرام کر دیا گیا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَعَلَى الَّذِيۡنَ هَادُوۡا حَرَّمۡنَا كُلَّ ذِيۡ ظُفُرٍ ﴾ ’’اور یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن والے جانور کو حرام کر دیا تھا‘‘مثلاً: اونٹ اور اس قسم کے دیگر جانور ﴿ وَمِنَ الۡبَقَرِ وَالۡغَنَمِ حَرَّمۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور گائے اور بکری میں سے حرام کیے تھے‘‘ ان کے بعض اجزاء ﴿ شُحُوۡمَهُمَاۤ ﴾ اور وہ تھی ان کی چربی۔ اور ہر قسم کی چربی ان پرحرام نہ تھی بلکہ صرف دنبے کی چکتی اور اوجھڑی اور آنتوں کی باریک چربی حرام تھی، اس لیے اس میں سے حلال چربی کو مستثنی قرار دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اِلَّا مَا حَمَلَتۡ ظُهُوۡرُهُمَاۤ اَوِ الۡحَوَايَاۤ﴾ ’’مگر وہ چربی جو پشت پر اور انتڑیوں کے ساتھ لگی ہوتی ہے‘‘ ﴿ اَوۡ مَا اخۡتَلَطَ بِعَظۡمٍ ﴾ ’’یا وہ چربی جو ہڈی کے ساتھ پیوست ہوتی ہے۔‘‘ ﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یہودیوں پر نافذ کی گئی یہ تحریم ﴿ جَزَيۡنٰهُمۡ بِبَغۡيِهِمۡ ﴾ ’’ایک سزا تھی جو ہم نے ان کو دی تھی ان کی شرارت پر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کے بارے میں ان کے ظلم و تعدی کی جزا تھی، پس اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر ان کے لیے یہ چیزیں حرام کر دی تھیں ﴿وَاِنَّا لَصٰؔدِقُوۡنَ﴾ ’’اور ہم سچ کہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم جو کچھ کہتے ہیں جو کرتے ہیں اور جو فیصلہ کرتے ہیں ، سب صدق پر مبنی ہوتا ہے اور اہل ایقان کے نزدیک اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا اور سب سے اچھے فیصلے کرنے والا کون ہے؟

6:147Page 148

فَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل رَّبُّكُمۡ ذُو رَحۡمَةٖ وَٰسِعَةٖ وَلَا يُرَدُّ بَأۡسُهُۥ عَنِ ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ ١٤٧

So if they deny you, [O Muḥammad], say, "Your Lord is the possessor of vast mercy; but His punishment cannot be repelled from the people who are criminals."

اور اگر جھٹلائیں وہ آپ کو تو کہہ دیجیے تمھارا رب وسیع رحمت والا ہےاور نہیں پھیراجاتا اس کا عذاب مجرم قوم سے(147)

[147] یعنی اگر یہ مشرکین آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ ترغیب و ترہیب کے ذریعے سے ان کو دعوت دیتے رہیے اور ان کو آگاہ کیجیے کہ اللہ تعالیٰ ﴿ ذُوۡ رَحۡمَةٍ وَّاسِعَةٍ ﴾ ’’بے پایاں رحمت کا مالک ہے‘‘ جو تمام مخلوقات کو شامل ہے۔ لہذا اس کی رحمت کی طرف اس کے اسباب کے ذریعے سے سبقت کرو۔ جس کی اساس اور بنیاد محمد مصطفیﷺ اور ان پر نازل ہونے والی وحی کی تصدیق ہے۔ ﴿ وَلَا يُرَدُّ بَاۡسُهٗ عَنِ الۡقَوۡمِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اس کا عذاب گناہ گاروں سے نہیں ٹالا جاتا‘‘ یعنی جن کے جرائم اور گناہ بہت بڑھ گئے ہوں ، اس لیے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے والے جرائم سے بچو، ان میں سب سے بڑا جرم محمد مصطفی صلوات اللہ علیہ وسلامہ کی تکذیب ہے۔

6:148–149Page 148

سَيَقُولُ ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُواْ لَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَآ أَشۡرَكۡنَا وَلَآ ءَابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمۡنَا مِن شَيۡءٖۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ حَتَّىٰ ذَاقُواْ بَأۡسَنَاۗ قُلۡ هَلۡ عِندَكُم مِّنۡ عِلۡمٖ فَتُخۡرِجُوهُ لَنَآۖ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا تَخۡرُصُونَ ١٤٨

Those who associated [others] with Allāh will say, "If Allāh had willed, we would not have associated [anything] and neither would our fathers, nor would we have prohibited anything." Likewise did those before deny until they tasted Our punishment. Say, "Do you have any knowledge that you can produce for us? You follow not except assumption, and you are not but misjudging."

قُلۡ فَلِلَّهِ ٱلۡحُجَّةُ ٱلۡبَٰلِغَةُۖ فَلَوۡ شَآءَ لَهَدَىٰكُمۡ أَجۡمَعِينَ ١٤٩

Say, "With Allāh is the far-reaching [i.e., conclusive] argument. If He had willed, He would have guided you all."

عنقریب کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا، اگر چاہتا اللہ تو نہ شرک کرتے ہم او ر نہ باپ دادا ہمارےاور نہ حرام کرتے ہم کوئی چیز، اسی طرح جھٹلایا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، یہاں تک کہ چکھا انھوں نے ہمارا عذاب، کہہ دیجیے! کیا ہے تمھارے پاس کچھ علم؟ تو نکالو تم اس کو ہمارے لیے نہیں پیروی کرتے تم مگر گمان کی اور نہیں ہو تم مگر اٹکل پچو کرتے (148) کہہ دیجیے! پس اللہ ہی کے لیے ہے دلیل محکم پھر اگر وہ چاہتا تو ہدایت دیتا تم سب کو(149)

[148] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے خبر ہے کہ مشرکین اپنے شرک اور اللہ تعالیٰ کی حلال ٹھہرائی ہوئی چیزوں کو حرام ٹھہرانے پر اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے دلیل پکڑتے ہیں اور اپنے آپ سے مذمت کو دور کرنے کے لیے، اللہ تعالیٰ کی مشیت کو جو خیر و شر ہر چیز کو شامل ہے، دلیل بناتے ہیں ، چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کہا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا لَوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدۡنَا مِنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ شَيۡءٍ﴾(النحل: 16؍35) ’’وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا کہتے ہیں کہ اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرتے۔‘‘پس یہ وہ دلیل ہے جو انبیا و رسل کو جھٹلانے والی قومیں انبیاء کی دعوت کو رد کرنے کے لیے پیش کرتی رہی ہیں مگر یہ ان کے کسی کام آئی نہ اس نے انھیں کوئی فائدہ ہی دیا اور یہی ان کی عادت رہی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہلاک کر کے عذاب کا مزا چکھایا۔ اگر ان کی یہ دلیل صحیح ہوتی تو ان سے عذاب کو ہٹا لیا جاتا اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب میں مبتلا نہ کرتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب صرف اسی پر نازل ہوتا ہے جو اس کا مستحق ہوتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ یہ ان کی فاسد دلیل اور انتہائی گھٹیا شبہ ہے اور اس کی متعدد وجوہات ہیں ۔ (۱) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اگر ان کی دلیل صحیح ہوتی تو ان پر عذاب نازل نہ ہوتا۔ (۲) دلیل کے لیے ضروری ہے کہ اس کی بنیاد علم اور برہان ہو۔ اگر دلیل محض گمان اور اندازے پر مبنی ہو، جو حق کے مقابلے میں کوئی کام نہیں آسکتی تو یہ باطل ہے۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ هَلۡ عِنۡدَؔكُمۡ مِّنۡ عِلۡمٍ فَتُخۡرِجُوۡهُ لَنَا﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تمھارے پاس کوئی علم ہے تو ہمارے سامنے پیش کرو‘‘ پس اگر ان کے پاس علم ہوتا حالانکہ وہ سخت جھگڑالو لوگ ہیں تو وہ اسے ضرور پیش کرتے اگر انھوں نے کوئی علمی دلیل پیش نہیں کی تو معلوم ہوا کہ وہ علم سے بے بہرہ ہیں ۔ ﴿اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَخۡرُصُوۡنَ﴾ ’’تم تو نرے گمان پر چلتے ہو اور صرف تخمینے ہی کرتے ہو‘‘ اور جو کوئی اپنے دلائل کی بنیاد گمان اور اندازوں پر رکھتا ہے وہ باطل پرست اور خسارے میں پڑنے والا ہے اور جب اس کی بنیاد سرکشی، دشمنی اور شروفساد پر ہو تو اس کی کیفیت کیا ہوگی؟

[149](۳) حجت بالغہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، جو کسی کے لیے کوئی عذر نہیں رہنے دیتی، جس پر تمام انبیا و مرسلین، تمام کتب الہیہ، تمام آثار نبویہ، عقل صحیح، فطرت سلیم اور اخلاق مستقیم متفق ہیں ۔ پس معلوم ہوا کہ جو کوئی اس آیت قاطعہ کی مخالفت کرتا ہے وہ باطل ہے کیونکہ حق کی مخالفت کرنے والا باطل کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ (۴) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر انسان کو قدرت اور ارادہ عطا کیا ہے جس کے ذریعے سے وہ ان تمام افعال کے ارتکاب پر قادر ہے جن کا اسے مکلف کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان پر کوئی ایسی چیز واجب نہیں کی جس کے فعل پر وہ قدرت نہیں رکھتا اور نہ کسی ایسی چیز کو اس پر حرام ٹھہرایا ہے جس کو ترک کرنے کی وہ طاقت نہیں رکھتا۔ پس اس کے بعد قضاء و قدر کو دلیل بنانا محض ظلم اور مجرد عناد ہے۔ (۵) اللہ تعالیٰ نے بندوں کے افعال میں جبر نہیں کیا بلکہ ان کے افعال کو ان کے اختیار کے تابع بنایا ہے۔ پس اگر وہ چاہیں تو کسی فعل کا ارتکاب کریں اور اگر چاہیں تو اس فعل کے ارتکاب سے باز رہ سکتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کا انکار صرف وہی کر سکتا ہے جو حق کے ساتھ عناد رکھتا ہے اور محسوسات کا انکار کرتا ہے۔ کیونکہ ہر شخص حرکت اختیاری اور حرکت جبری میں امتیاز کر سکتا ہے اگرچہ تمام حرکات اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے ارادہ کے تحت آتی ہیں ۔ (۶) اپنے گناہوں پر قضاء و قدر کو دلیل بنانے والے تناقض (تضاد) کا شکار ہیں ۔ کیونکہ ان کے لیے اس کو درست ثابت کرنا ممکن نہیں ۔ بلکہ اگر کوئی مارپیٹ یا مال وغیرہ چھین کر ان کے ساتھ برا سلوک کر کے تقدیر کا بہانہ پیش کرتا ہے تو وہ اس شخص کی دلیل کو کبھی قبول نہیں کریں گے اور اس شخص پر سخت ناراض ہوں گے۔ نہایت عجیب بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کی ناراضی کے کاموں پر تو قضا و قدر کا عذر پیش کرتے ہیں اور اگر کوئی ان کے ساتھ برا سلوک کر کے ان کو یہی دلیل پیش کرتا ہے تو اسے قبول نہیں کرتے۔ (۷) قضا و قدر سے استدلال کرنا ان کا مقصد نہیں ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ قضا و قدر کا عذر دلیل نہیں ۔ ان کا مقصد تو صرف حق کو ٹھکرانا اور اس کو روکنا ہے کیونکہ وہ حق کو یوں سمجھتے ہیں جیسے کوئی حملہ آور ہو، چنانچہ وہ ہر صحیح یا غلط خیال کے ذریعے سے، جو ان کے دل میں آتا ہے، حق کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

6:150Page 148

قُلۡ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ يَشۡهَدُونَ أَنَّ ٱللَّهَ حَرَّمَ هَٰذَاۖ فَإِن شَهِدُواْ فَلَا تَشۡهَدۡ مَعَهُمۡۚ وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِمۡ يَعۡدِلُونَ ١٥٠

Say, [O Muḥammad], "Bring forward your witnesses who will testify that Allāh has prohibited this." And if they testify, do not testify with them. And do not follow the desires of those who deny Our verses and those who do not believe in the Hereafter, while they equate [others] with their Lord.

کہہ دیجیے! لے آؤ تم اپنے گواہ، وہ جو گواہی دیں اس بات کی کہ بلاشبہ اللہ نے حرام کیا ہے ان کو پھر وہ گواہی دیں تونہ گواہی دیں آپ ان کے ساتھ او ر نہ پیچھے چلیں آپ ان کی خواہشات کے جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کواور (نہ) ان کے جو نہیں ایمان لاتے آخرت پر اور وہ اپنے رب کے ساتھ برابر ٹھہراتے ہیں(150)

[150] یعنی آپ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال ٹھہرائی ہوئی چیزوں کو حرام ٹھہرایا اور اس تحریم کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا، کہ وہ اپنے ان گواہوں کو لے آئیں جو یہ گواہی دیں کہ اس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ جب ان سے یہ بات کہی جائے گی تو مندرجہ ذیل دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہو گی :(۱) یا تو وہ اس پر کسی کو گواہ کے طورپر پیش ہی نہیں کر سکیں گے، تب اس صورت میں ان کا دعویٰ باطل اور دلیل اور گواہوں سے محروم ہو گا۔ (۲) یا وہ کسی ایسے گواہ کو پیش کر دیں گے جو ان کے لیے گواہی دے مگر کسی جھوٹے اور بہتان طراز کے سوا کوئی شخص اس پر گواہی نہیں دے سکتا اور ایسے جھوٹے اور بہتان طراز شخص کی گواہی قابل قبول نہیں ہے۔ یہ معاملہ ایسے امور میں شمار نہیں ہوتا جس پر کسی عادل گواہ کا گواہی دینا جائز ہو، بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ اور آپ کے متبعین کو اس گواہی سے روکتے ہوئے فرمایا:﴿ فَاِنۡ شَهِدُوۡا فَلَا تَشۡهَدۡ مَعَهُمۡ١ۚ وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَالَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ وَهُمۡ بِرَبِّهِمۡ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر وہ گواہی دیں تو آپ ان کے ساتھ گواہی نہ دیں اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور وہ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور وہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو برابر ٹھہراتے ہیں ‘‘ یعنی وہ بتوں اور اپنے گھڑے ہوئے معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دیتے ہیں ۔ چونکہ وہ یوم آخرت کا انکار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی توحید کے قائل نہیں اس لیے ان کی خواہشات ان کے اس عقیدے کے مطابق ہیں جو شرک اور تکذیب پر مبنی ہے۔ جن کا یہ معاملہ ہو تو مناسب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے بہترین ہستی کو ان کی اتباع کرنے اور ان کے ساتھ گواہی دینے سے روک دے۔ تب معلوم ہوا کہ ان کا اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانا ان کی گمراہ کن خواہشات نفس کی پیداوار ہے۔

6:151–153Page 148

۞ قُلۡ تَعَالَوۡاْ أَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡۖ أَلَّا تُشۡرِكُواْ بِهِۦ شَيۡـٔٗاۖ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنٗاۖ وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَوۡلَٰدَكُم مِّنۡ إِمۡلَٰقٖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَإِيَّاهُمۡۖ وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَۖ وَلَا تَقۡتُلُواْ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِي حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ ١٥١

Say, "Come, I will recite what your Lord has prohibited to you. [He commands] that you not associate anything with Him, and to parents, good treatment, and do not kill your children out of poverty; We will provide for you and them. And do not approach immoralities - what is apparent of them and what is concealed. And do not kill the soul which Allāh has forbidden [to be killed] except by [legal] right. This has He instructed you that you may use reason."

وَلَا تَقۡرَبُواْ مَالَ ٱلۡيَتِيمِ إِلَّا بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ أَشُدَّهُۥۚ وَأَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ وَٱلۡمِيزَانَ بِٱلۡقِسۡطِۖ لَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۖ وَإِذَا قُلۡتُمۡ فَٱعۡدِلُواْ وَلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبَىٰۖ وَبِعَهۡدِ ٱللَّهِ أَوۡفُواْۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ ١٥٢

And do not approach the orphan's property except in a way that is best [i.e., intending improvement] until he reaches maturity. And give full measure and weight in justice. We do not charge any soul except [with that within] its capacity. And when you speak [i.e., testify], be just, even if [it concerns] a near relative. And the covenant of Allāh fulfill. This has He instructed you that you may remember.

وَأَنَّ هَٰذَا صِرَٰطِي مُسۡتَقِيمٗا فَٱتَّبِعُوهُۖ وَلَا تَتَّبِعُواْ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَن سَبِيلِهِۦۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ ١٥٣

And, [moreover], this is My path, which is straight, so follow it; and do not follow [other] ways, for you will be separated from His way. This has He instructed you that you may become righteous.

کہہ دیجیے! آؤ پڑھتا ہوں میں جو کچھ کہ حرام کیا تمھارے رب نے اوپر تمھارے، یہ کہ نہ شریک ٹھہراؤ تم ساتھ اس کے کسی چیز کواور ساتھ والدین کے احسان کرواور مت قتل کرو اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈرسے، ہم ہی رزق دیتے ہیں تمھیں اور انھیں اور مت قریب جاؤ بے حیائی کے کاموں کے، جو ظاہر ہوں ان میں سے اور جو پوشیدہ اور مت قتل کرو اس جان کو جس کو حرام کیا اللہ نے مگر ساتھ حق کے، یہ(سب باتیں) وصیت کی ہے اللہ نے تمھیں ان کی تا کہ تم سمجھو (151) اور مت قریب جاؤ تم یتیم کے مال کے مگر ساتھ اس طریقے کے جو بہترین ہو یہاں تک کہ پہنچ جائے وہ اپنی پختگی کواور پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کے نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی طاقت کے مطابق ہی اور جب کہو تم تو انصاف سے کام لو، اگرچہ ہو وہ قریبی ہی اور عہد اللہ کا پورا کرو تم یہ وصیت کی ہے (اللہ نے) تمھیں اس کی تاکہ تم نصیحت حاصل کرو (152)اور بلاشبہ یہ میرا راستہ ہے سیدھا، پس پیروی کرو تم اسی کی اور مت پیروی کرو تم (اور) راستوں کی، پس الگ کردیں گے وہ تمھیں اس (اللہ) کے راستے سے یہ وصیت کی ہے (اللہ نے) تمھیں اس کی تاکہ تم ڈرو(153)

[151] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے ان چیزوں کو حرام قرار دے ڈالا جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا ﴿ تَعَالَوۡا اَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’آؤ، میں سنا دوں جو حرام کیا ہے تم پر تمھارے رب نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے عام طور پر کیا چیز حرام کی ہے۔ یہ تحریم سب کے لیے ہے اور ماکولات و مشروبات اور اقوال و افعال وغیرہ تمام محرمات پر مشتمل ہے۔ ﴿ اَلَّا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ ﴾ ’’یہ کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تھوڑا یا زیادہ ہرگز شرک نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کی حقیقت یہ ہے کہ مخلوق کی اسی طرح عبادت کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے۔ یا مخلوق کی تعظیم اسی طرح کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی تعظیم کی جاتی ہے۔ یا ربوبیت اور الوہیت کی صفات مخلوق میں ثابت کی جائیں ۔ جب بندہ ہر قسم کا شرک چھوڑ دیتا ہے تو وہ اپنے تمام احوال میں موحد اور اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص بندہ بن جاتا ہے۔ پس بندوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حق کا تذکرہ کرنے کے بعد سب سے زیادہ موکد حق سے ابتدا کی اور فرمایا ﴿ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ۠ اِحۡسَانًا ﴾ ’’اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔‘‘ یعنی اقوال حسنہ اور افعال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ ہر وہ قول و فعل جس سے والدین کو کوئی منفعت حاصل ہو یا اس سے مسرت حاصل ہو تو یہ ان کے ساتھ حسن سلوک ہے اور حسن سلوک کا وجود نافرمانی کی نفی کرتا ہے۔ ﴿ وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَؔكُمۡ ﴾ ’’اور نہ قتل کرو تم اپنی اولاد کو‘‘ یعنی اپنے بچوں اور بچیوں کو ﴿ مِّنۡ اِمۡلَاقٍ ﴾ ’’ناداری کے (اندیشے) سے۔‘‘ یعنی فقر اور رزق کی تنگی کے سبب سے۔ جیسا کہ جاہلیت کے ظالمانہ دور میں ہوتا تھا۔ جب اس حال میں ان کو قتل کرنے سے روکا گیا ہے جبکہ وہ ان کی اپنی اولاد ہو تو پھر ان کو بغیر کسی موجب کے قتل کرنا یا دوسروں کی اولاد کو قتل کرنا تو بطریق اولیٰ ممنوع ہو گا۔ ﴿ نَحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَاِيَّاهُمۡ ﴾ ’’ہم رزق دیتے ہیں تم کو اور ان کو‘‘ یعنی ہم نے تمام مخلوق کے رزق کی ذمہ داری لی ہوئی ہے۔ یہ تم نہیں ہو جو اپنی اولاد کو رزق عطا کرتے ہو بلکہ تم خود اپنے آپ کو بھی رزق عطا نہیں کر سکتے، پھر تم ان کے بارے میں تنگی کیوں محسوس کرو۔ ﴿وَلَا تَقۡرَبُوا الۡفَوَاحِشَ ﴾ ’’اور بے حیائی کے کاموں کے قریب نہ جاؤ‘‘ یہاں فواحش سے مراد بڑے بڑے اور فحش گناہ ہیں ﴿ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ ﴾ ’’جو ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔‘‘ یعنی کھلے گناہوں کے قریب جاؤ نہ چھپے ہوئے گناہوں کے۔ نہ کھلے گناہوں کے متعلقات کے قریب پھٹکو اور نہ قلب و باطن کے گناہوں کے متعلقات کے قریب جاؤ۔ فواحش کے قریب جانے کی ممانعت فواحش کے مجرد ارتکاب کی ممانعت سے زیادہ بلیغ ہے۔ کیونکہ یہ فواحش کے مقدمات اور ان کے ذرائع اور وسائل سب کو شامل ہے۔ ﴿وَلَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہ قتل کرو اس جان کو جس کو اللہ نے حرام کیا ہے‘‘ اس سے مراد مسلمان جان ہے خواہ مرد ہو خواہ عورت، چھوٹا ہو یا بڑا، نیک ہو یا بد۔ اسی طرح اس کافر جان کو قتل کرنا بھی قتل ناحق ہے جو عہد و میثاق کی وجہ سے معصوم ہو ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر حق کے ساتھ‘‘مثلاً: شادی شدہ زانی، قاتل، مرتد ہو کر مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والا۔ ﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’یہ‘‘ مذکورہ بالاتمام امور ﴿ وَصّٰؔىكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اس کے ساتھ تم کو حکم کیا ہے تاکہ تم سمجھو‘‘ یعنی شاید تم اللہ تعالیٰ کی وصیت کو سمجھو، پھر تم اس کی حفاظت کرو، اس کی رعایت کرو اور اس کو قائم کرو۔ یہ آیتِ کریمہ دلالت کرتی ہے کہ بندہ اپنی عقل کے مطابق ان امور کو قائم کرتا ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا ہے۔

[152]﴿ وَلَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡيَتِيۡمِ ﴾ ’’اور نہ قریب جاؤ تم یتیم کے مال کے‘‘ یعنی مال کھانے کے لیے یا اپنے لیے معاوضہ بنانے یا بغیر کسی سبب کے مال لینے کے لیے۔ ﴿ اِلَّا بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ﴾ ’’مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو۔‘‘ یعنی البتہ ایسے طریقے سے ان کے مال کے قریب جاؤ جس سے ان کے مال کی اصلاح ہو اور وہ اس مال سے فائدہ اٹھائیں ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اس طریقے سے یتیموں کے مال کے قریب جانا اور اس میں تصرف کرنا جائز نہیں جس سے یتیموں کو نقصان پہنچتا ہو۔ اور اس طریقے سے بھی ان کے مال کے قریب جانا جائز نہیں جس میں کوئی نقصان تو نہ ہو البتہ اس میں کوئی مصلحت بھی نہ ہو۔ ﴿ حَتّٰى يَبۡلُغَ اَشُدَّهٗ﴾ ’’حتیٰ کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے۔‘‘ یعنی یہاں تک کہ یتیم بالغ اور سمجھ دار ہو جائے اور اسے مال میں تصرف کرنے کی معرفت حاصل ہو جائے اور جب وہ سمجھ دار اور بالغ ہو جائے تو اس وقت مال اس کے حوالے کیا جائے اور وہ خود اپنی صوابدید کے مطابق اس مال میں تصرف کرے۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ یتیم بالغ ہونے سے قبل اپنے مال میں تصرف نہیں کر سکتا۔ اس کے سرپرست کو مال میں احسن طریقے سے تصرف کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ مال کے تصرف پر یہ پابندی یتیم کے بالغ ہونے پر ختم ہو جائے گی۔ ﴿ وَاَوۡفُوا الۡكَـيۡلَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’نہایت عدل و انصاف سے ناپ تول کو پورا کرو‘‘ یعنی جب تم انصاف کے ساتھ ناپ تول کو پورا کرنے کی ذمہ داری کو ادا کرنے میں جدوجہد کرو گے تو ﴿لَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا﴾ ’’ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق۔‘‘ یعنی ہم اس کی مقدرت کے مطابق اسے مکلف بناتے ہیں اور ایسی چیز کا مکلف نہیں بناتے جو اس کے بس سے باہر ہو، پس جو کوئی ناپ تول کو پورا کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے اور اس میں ہرگز کوتاہی نہیں برتتا تو لاعلمی میں کوئی تقصیر باقی رہ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔ اس آیت کریمہ سے علمائے اصول یہ اصول اخذ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ پس اسے جو حکم دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے ممکن حد تک اس کی تعمیل کرتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ ﴿وَاِذَا قُلۡتُمۡ﴾ ’’جب کوئی بات کہو۔‘‘ یعنی جب تم کوئی بات کہو جو لوگوں کے درمیان کسی فیصلے، کسی خطاب کی تفصیل پر مبنی ہو یا تم احوال و مقالات پر کلام کر رہے ہو ﴿ فَاعۡدِلُوۡ﴾ ’’تو انصاف سے کہو۔‘‘ یعنی صدق، انصاف اور عدم کتمان کو مدنظر رکھتے ہوئے ان لوگوں کے درمیان جن کو تم پسند کرتے ہو یا ناپسند کرتے ہو، عدل سے بات کرو کیونکہ جسے آپ ناپسند کرتے ہیں اس کے بارے میں یا اس کے مقالات کے بارے میں اس کے خلاف حد سے بڑھ کر بات کرنا ظلم ہے جو کہ حرام ہے۔ بلکہ اگر صاحب علم اہل بدعت کے مقالات و نظریات پر کلام کرتا ہے تو اس پر فرض ہے کہ وہ ہر حق دار کو اس کا حق عطا کرے اور ان مقالات میں جو کچھ حق اور باطل موجود ہے اس کو پوری طرح بیان کرے کہ ان مقالات میں کون سی چیز حق کے قریب اور کون سی چیز حق سے دور ہے۔ فقہاء نے یہاں تک ذکر کیا ہے کہ قاضی پر فرض ہے کہ وہ فریقین کے درمیان اپنے لہجے اور اپنی نظر میں بھی انصاف کرے۔ ﴿ وَبِعَهۡدِ اللّٰهِ اَوۡفُوۡا﴾ ’’اور اللہ کا عہد پورا کرو‘‘ یہ آیت کریمہ اس عہد کو بھی شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے اپنے حقوق پورے کروانے کے بارے میں لیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو مخلوق کے درمیان واقع ہوتا ہے۔ پس ان تمام معاہدوں کو پورا کرنا فرض اور ان کو توڑنا یا ان میں خلل اندازی کرنا حرام ہے ﴿ذٰلِكُمۡ﴾ مذکورہ تمام احکام میں ﴿ وَصّٰؔىكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تم کو حکم کر دیا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو‘‘ یعنی وہ تمام احکام جو اس نے تمھارے لیے بیان کیے ہیں اور تم اللہ تعالیٰ کی اس وصیت کو پوری طرح قائم کرو جو اس نے تمھیں کی ہے اور تم ان تمام حکمتوں اور احکام کی معرفت حاصل کر لو جو ان کے اندر ہیں ۔

[153] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام بڑے بڑے احکام اور اہم شرائع کو واضح کر دیا تو اب ان کی طرف سے زیادہ عمومیت کی حامل بات کی طرف اشارہ فرمایا: ﴿وَاَنَّ هٰؔذَا صِرَاطِيۡ مُسۡتَقِيۡمًا﴾ ’’اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے۔‘‘ یعنی یہ اور اس قسم کے دیگر احکام، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے اپنی کتاب میں بیان کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ کا سیدھا راستہ ہے جو معتدل، آسان اور نہایت مختصر ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کی منزل تک پہنچاتا ہے ﴿فَاتَّبِعُوۡهُ﴾ ’’پس اس کی پیروی کرو‘‘ تاکہ تم فوز و فلاح، تمناؤں اور فرحتوں کو حاصل کر سکو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ﴾ ’’اور راستوں پر نہ چلنا۔‘‘ یعنی ان راستوں پر نہ چلو جو اللہ تعالیٰ کے راستے کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ﴾ ’’پس وہ تمھیں اس (اللہ) کے راستے سے جدا کردیں گے۔‘‘ یعنی یہ راستے تمھیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے اور تمھیں دائیں بائیں دوسرے راستوں پر ڈال دیں گے اور جب تم صراط مستقیم سے بھٹک جاؤ گے تو تمھارے سامنے صرف وہ راستے رہ جائیں گے جو جہنم تک پہنچانے والے ہیں ۔ ﴿ذٰلِكُمۡ وَصّٰؔىكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’یہ حکم کر دیا ہے تم کو تاکہ تم متقی بن جاؤ‘‘ کیونکہ جب تم علم و عمل کے اعتبار سے ان احکام کی تعمیل کرو گے جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے سامنے بیان کیا ہے تو تم اللہ تعالیٰ کے متقی اور فلاح یاب بندے بن جاؤ گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے صراط مستقیم کو واحد ذکر کر کے اپنی طرف مضاف کیا ہے کیونکہ صرف یہی ایک راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس راستے پر گامزن لوگوں کی مدد کرتا ہے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском