As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Al-An'am 6:68–83
6:68–69Page 135
وَإِذَا رَأَيۡتَ ٱلَّذِينَ يَخُوضُونَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ حَتَّىٰ يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيۡرِهِۦۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ٦٨
And when you see those who engage in [offensive] discourse1 concerning Our verses, then turn away from them until they enter into another conversation. And if Satan should cause you to forget, then do not remain after the reminder with the wrongdoing people.
وَمَا عَلَى ٱلَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنۡ حِسَابِهِم مِّن شَيۡءٖ وَلَٰكِن ذِكۡرَىٰ لَعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ ٦٩
And those who fear Allāh are not held accountable for them [i.e., the disbelievers] at all, but [only for] a reminder - that perhaps they will fear Him.
اور جب دیکھیں آپ ان کو جو مشغول ہو تے ہیں ہماری آیات میں تو اعراض کریں ان سے ، حتی کہ مشغول ہو جائیں وہ کسی اور بات میں اس کے علاوہ اور اگر بھلاد ے آپ کو شیطان (یہ بات) تو مت بیٹھیں بعد یاد آنے کے، ساتھ ظالم قوم کے (68) اور نہیں ہے ان لوگوں کے ذمے، جو ڈرتے ہیں ، ان کے حساب میں سے کچھ لیکن صرف نصیحت کرناتاکہ وہ ڈریں (69)
[68] اللہ تبارک و تعالیٰ کی آیات میں جھگڑنے اور مشغول ہونے سے مراد ہے ان کے بارے میں ناحق باتیں کرنا، اقوال باطلہ کی تحسین کرنا، ان کی طرف دعوت دینا، اقوال باطلہ کے قائلین کی مدح کرنا، حق سے روگردانی کرنا اور حق اور اہل حق کی عیب چینی کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے اصولی طور پر اپنے رسولﷺ کو اور تبعاًتمام اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کی آیات کی مذکورہ عیب چینی میں مشغول دیکھیں تو اس سے اعراض کریں ۔ باطل میں مشغول لوگوں کی مجالس میں نہ جائیں جب تک کہ وہ کسی اور بحث میں مشغول نہ ہو جائیں ۔ اگر وہ آیات الٰہی کی بجائے کسی اور بحث میں مشغول ہوں تو ان میں بیٹھنا اس ممانعت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ اگر ان میں بیٹھنے میں کوئی راجح مصلحت ہو تو وہ ان میں بیٹھنے پر مامور ہے، اگر ایسا نہ ہو تو یہ بیٹھنا مفید ہے نہ وہ اس پر مامور ہے۔ باطل میں مشغولیت کی مذمت درحقیقت حق میں غور و فکر اور بحث و تحقیق کی ترغیب ہے۔ ﴿ وَاِمَّا يُنۡسِيَنَّكَ الشَّيۡطٰنُ ﴾ ’’اگر شیطان آپ کو بھلا دے۔‘‘ یعنی اگر آپ کو شیطان بھلا دے اور آپ غفلت و نسیان کی وجہ سے ان کی مجلس میں بیٹھ جائیں ﴿ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّكۡرٰى مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ان تمام لوگوں کو شامل ہے جو باطل میں مشغول ہوتے ہیں جو ایسی باتیں کہتے یا کرتے ہیں جن کو حرام ٹھہرایا گیا ہے تو ان لوگوں میں بیٹھنا حرام ہے۔ منکرات کی موجودگی میں جبکہ وہ ان کے ازالے کی قدرت نہ رکھتا ہو، اس مجلس میں حاضر ہونا بھی ممنوع ہے۔ یہ نہی اور ممانعت اس شخص کے لیے ہے جو ایسے لوگوں کی مجلس میں شریک ہوتا ہے اور تقویٰ کا دامن چھوڑ کر ان کے قول اور عمل محرم میں خود بھی شریک ہو جاتا ہے یا ان کے غیر شرعی افعال و اقوال پر خاموشی اختیار کرتا ہے اور ان پر نکیر نہیں کرتا۔ لیکن اگر وہ تقویٰ کا التزام کرتے ہوئے مجلس میں شریک ہو، شرکائے مجلس کو نیکی کا حکم دے، اس برائی اور بری گفتگو سے روکے جو اس مجلس میں صادر ہو، جس سے یہ برائی زائل ہو جائے یا اس میں تخفیف ہو جائے تو ایسی مجلس میں شریک ہونے میں کوئی حرج ہے نہ کوئی گناہ۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
[69]﴿ وَمَا عَلَى الَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ مِنۡ حِسَابِهِمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ وَّلٰكِنۡ ذِكۡرٰى لَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور پرہیز گاروں پر نہیں ہے جھگڑنے والوں کے حساب میں سے کوئی چیز لیکن ان کے ذمے نصیحت کرنی ہے تاکہ وہ ڈریں ‘‘ یعنی صرف اس لیے وہ ان کو وعظ و نصیحت کرے کہ شاید وہ اللہ تعالیٰ سے ڈر جائیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ وعظ و نصیحت کرنے والا ایسا اسلوب کلام استعمال کرے جو مقصود تقویٰ کے حصول میں زیادہ ممد اور کارگر ہو اور اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر وعظ و نصیحت سے برائی میں اضافہ ہونے کا اندیشہ ہو تو وعظ و نصیحت ترک کرنا واجب ہے کیونکہ جو وعظ و نصیحت مطلوب و مقصود کے مخالف ہو تو اس کو ترک کرنا بھی مقصود ہے۔
6:70Page 136
وَذَرِ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ دِينَهُمۡ لَعِبٗا وَلَهۡوٗا وَغَرَّتۡهُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَاۚ وَذَكِّرۡ بِهِۦٓ أَن تُبۡسَلَ نَفۡسُۢ بِمَا كَسَبَتۡ لَيۡسَ لَهَا مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيّٞ وَلَا شَفِيعٞ وَإِن تَعۡدِلۡ كُلَّ عَدۡلٖ لَّا يُؤۡخَذۡ مِنۡهَآۗ أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أُبۡسِلُواْ بِمَا كَسَبُواْۖ لَهُمۡ شَرَابٞ مِّنۡ حَمِيمٖ وَعَذَابٌ أَلِيمُۢ بِمَا كَانُواْ يَكۡفُرُونَ ٧٠
And leave those who take their religion as amusement and diversion and whom the worldly life has deluded. But remind with it [i.e., the Qur’ān], lest a soul be given up to destruction for what it earned; it will have other than Allāh no protector and no intercessor. And if it should offer every compensation, it would not be taken from it [i.e., that soul]. Those are the ones who are given to destruction for what they have earned. For them will be a drink of scalding water and a painful punishment because they used to disbelieve.
اور چھوڑ دیجیے ان لوگوں کو جنھوں نے بنا لیا اپنے دین کوکھیل اور تماشہ اور دھوکے میں ڈالا ان کو حیات دنیا نےاور نصیحت کیجیے آپ ساتھ اس قرآن کے تاکہ (نہ) ہلاک کی جائے کوئی جان بدلے اس کے جو کمایا اس نے، نہیں ہو گا اس کے لیے سوائے اللہ کے کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی اور اگر بدلے میں دے ہر طرح کا فدیہ تو بھی نہ لیا جائے گا اس سے، یہی ہیں وہ لوگ جو ہلاک کیے گئے بوجہ اس کے جو کمایا انھوں نے، ان کے لیے پینا ہو گا گرم پانی اور عذاب ہوگا درد ناک بوجہ اس کے جو تھے وہ کفر کرتے (70)
[70] بندوں سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کریں ، یعنی اللہ وحدہ لا شریک کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں ، اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے محبوب امور کے حصول میں مقدور بھر کوشش صرف کریں اور یہ چیز اس بات کو متضمن ہے کہ قلب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر اور اس کی طرف متوجہ رہے، بندے کی کوشش انتہائی سنجیدہ اور نفع مند ہو نہ کہ غیر سنجیدہ اور یہ کوشش اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو اس میں ریا اور شہرت کی خواہش کا شائبہ نہ ہو۔ یہی وہ حقیقی دین ہے جس کو دین کہا ہے۔ رہا وہ شخص جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے اور وہ صاحب دین اور صاحب تقویٰ ہے اور حالت یہ ہے کہ اس نے دین کو لہو و لعب بنا رکھا ہے اور اس کا قلب اللہ تعالیٰ کی محبت اور معرفت سے خالی ہو کر لہو و لعب میں مستغرق ہو گیا اور ہر اس چیز میں مصروف ہو گیا جو اس کے لیے ضرر رساں ہے وہ اپنے بدن کے ساتھ لہو اور باطل میں مشغول ہے کیونکہ عمل اور بھاگ دوڑ اگر غیر اللہ کے لیے ہو تو وہ لہو و لعب ہے.... تو اس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے، اس سے بچا جائے، اس سے دھوکہ نہ کھایا جائے اور اس کے احوال پر غور کیا جائے، اس کی کارستانیوں سے ہشیار رہے اور وہ تقرب الٰہی والے اعمال سے روکے تو اس کے دھوکے میں نہ آئے۔ ﴿ وَذَكِّرۡ بِهٖۤ﴾ ’’اور اس کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیں ۔‘‘ یعنی قرآن کے ذریعے سے ان کو نصیحت کیجیے جو بندوں کے لیے نفع مند ہے قرآن کے احکامات سنا کر، اس کی تفصیلات بیان کر کے، قرآن میں جو اچھے اوصاف مذکور ہیں ان کی تحسین کر کے اور وہ اوصاف جو بندوں کے لیے ضرر رساں ہیں ان سے ان کو منع کر کے، اس کی انواع کی تفصیل بیان کیجیے اور جو قبیح اوصاف بیان ہوئے ہیں جن کا ترک کرنا ضروری ہے (ان سب کے ساتھ) ان کو نصیحت کیجیے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ کہیں نفس اپنے کسب کی وجہ سے ہلاکت میں نہ ڈال دیا جائے، یعنی بندے کا گناہوں میں گھس جانے، اللہ علام الغیوب کے سامنے جرأت کرنے اور گناہوں پر قائم رہنے سے پہلے اسے نصیحت کیجیے تاکہ وہ باز آجائے اور اپنے فعل سے رک جائے۔ ﴿ لَيۡسَ لَهَا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيٌّ وَّلَا شَفِيۡعٌ ﴾ ’’نہیں ہو گا واسطے اس کے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی‘‘ یعنی نفس کو اس کے گناہوں کا احاطہ کر لینے سے پہلے نصیحت کرو کیونکہ اس کے بعد مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے کام نہ آئے گا۔ نہ کوئی قریبی رشتہ دار اور نہ کوئی دوست، اللہ کے سوا اس کا کوئی ولی اور مددگار نہ ہو گا اور نہ اس کی کوئی سفارش کرنے والا ہو گا ﴿ وَاِنۡ تَعۡدِلۡ كُلَّ عَدۡلٍ ﴾ ’’اگرچہ وہ ہر چیز معاوضے میں دینا چاہے۔‘‘ یعنی اگر یہ نفس ہر قسم کا فدیہ دے خواہ وہ زمین بھر سونا کیوں نہ ہو ﴿ لَّا يُؤۡخَذۡ مِنۡهَا ﴾ ’’وہ اس سے قبول نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ یہ فدیہ کوئی فائدہ دے گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو مذکورہ اوصاف سے موصوف ہیں ﴿ الَّذِيۡنَ اُبۡسِلُوۡا ﴾ ’’جنھیں ہلاک کردیا گیا۔‘‘ یعنی ان کو ہلاک کر دیا گیا اور وہ ہر قسم کی بھلائی سے مایوس ہو گئے اور یہ ان کے اعمال کے سبب سے ہے ﴿لَهُمۡ شَرَابٌ مِّنۡ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’ان کا مشروب ابلتا ہوا گرم پانی ہو گا‘‘ جو ان کے چہروں کو بھون دے گا اور ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا ﴿ وَّعَذَابٌ اَلِيۡمٌۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡفُرُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے کفر کی پاداش میں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘
6:71–73Page 136
قُلۡ أَنَدۡعُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰٓ أَعۡقَابِنَا بَعۡدَ إِذۡ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ كَٱلَّذِي ٱسۡتَهۡوَتۡهُ ٱلشَّيَٰطِينُ فِي ٱلۡأَرۡضِ حَيۡرَانَ لَهُۥٓ أَصۡحَٰبٞ يَدۡعُونَهُۥٓ إِلَى ٱلۡهُدَى ٱئۡتِنَاۗ قُلۡ إِنَّ هُدَى ٱللَّهِ هُوَ ٱلۡهُدَىٰۖ وَأُمِرۡنَا لِنُسۡلِمَ لِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٧١
Say, "Shall we invoke1 instead of Allāh that which neither benefits us nor harms us and be turned back on our heels after Allāh has guided us? [We would then be] like one whom the devils enticed [to wander] upon the earth confused, [while] he has companions inviting him to guidance, [calling], 'Come to us.'"2 Say, "Indeed, the guidance of Allāh is the [only] guidance; and we have been commanded to submit to the Lord of the worlds.
وَأَنۡ أَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَٱتَّقُوهُۚ وَهُوَ ٱلَّذِيٓ إِلَيۡهِ تُحۡشَرُونَ ٧٢
And to establish prayer and fear Him." And it is He to whom you will be gathered.
وَهُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِٱلۡحَقِّۖ وَيَوۡمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُۚ قَوۡلُهُ ٱلۡحَقُّۚ وَلَهُ ٱلۡمُلۡكُ يَوۡمَ يُنفَخُ فِي ٱلصُّورِۚ عَٰلِمُ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِۚ وَهُوَ ٱلۡحَكِيمُ ٱلۡخَبِيرُ ٧٣
And it is He who created the heavens and earth in truth. And the day [i.e., whenever] He says, "Be," and it is, His word is the truth.1 And His is the dominion [on] the Day the Horn is blown. [He is] Knower of the unseen2 and the witnessed;3 and He is the Wise, the Aware.
کہہ دیجیے! کیا پکاریں ہم سوائے اللہ کے ان کو جو نہ نفع دے سکیں ہمیں اورنہ نقصان پہنچا سکیں ہمیں اور پھیر دیے جا ئیں ہم اپنی ایڑیوں پر(الٹے پاؤں ) بعد اس کے کہ ہدایت دی ہمیں اللہ نے، مانند اس شخص کے جسے بہکادیا شیطانوں نے زمین میں ، حیران (پھرتا) ہے ، اس کے کچھ ساتھی ہیں جو بلاتے ہیں اسے سیدھی راہ کی طرف کہ آجا ہمارے پاس، کہہ دیجیے! یقینا ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے اور حکم دیے گئے ہیں ہم کہ مطیع ہو جائیں ہم رب العالمین کے (71)اوریہ کہ قائم کرو نماز اور ڈرو اس (اللہ) سے،اور وہی ہے کہ اس کی طرف اکٹھے کیے جاؤگے تم (72) اور وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے اور جس دن وہ کہے گا ہو جا تو(حشر برپا) ہو جائے گا ۔ اسی کا قول حق ہےاور اسی کی بادشاہی ہوگی جس دن پھونکا جائے گا صور میں ، جاننے والا ہے غیب اور حاضر کااور وہی ہے خوب حکمت والا خبردار (73)
[71]﴿ قُلۡ ﴾ اے رسولﷺ !اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والوں اور اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارنے والوں سے کہہ دو جو تمھیں اپنے دین کی دعوت دیتے ہیں وہ دین جو ان کے معبودوں کے وصف کی تشریح کر کے واضح کرتا ہے۔ ایک عقل مند شخص کو ان معبودوں کو چھوڑنے کے لیے ان کے اوصاف کا ذکر ہی کافی ہے کیونکہ ہر عاقل شخص جب مشرکین کے مذہب میں غور و فکر کرتا ہے تو اس کے بطلان پر دلائل و براہین کے قائم ہونے سے پہلے ہی اس کے بطلان کا اسے قطعی یقین ہو جاتا ہے۔ اور وہ پکار اٹھتا ہے ﴿ اَنَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا ﴾ ’’کیا ہم اللہ کے سوا، ان ہستیوں کو پکاریں جو ہمیں نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان۔‘‘ اس وصف میں ہر وہ ہستی داخل ہے جس کی اللہ کے سوا بندگی کی جاتی ہے کیونکہ وہ نفع دے سکتی ہے نہ نقصان۔ اسے کسی معاملے کا کوئی اختیار نہیں ، تمام معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے قبضہء قدرت میں ہے۔ ﴿ وَنُرَدُّ عَلٰۤى اَعۡقَابِنَا بَعۡدَ اِذۡ هَدٰؔىنَا اللّٰهُ ﴾ ’’اور کیا پھر جائیں ہم الٹے پاؤں ، اس کے بعد کہ اللہ سیدھی راہ دکھا چکا ہم کو‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت سے نوازے جانے کے بعد کیا ضلالت کی طرف پلٹ جائیں ، رشد کو چھوڑ کر گمراہی کی طرف لوٹ جائیں ، نعمتوں بھری جنت کے راستے کو چھوڑ کر ان راستوں پر چل نکلیں جو اپنے سالک کو عذاب الیم کی منزل پر پہنچا دیتے ہیں ؟ رشد و ہدایت رکھنے والا شخص اس حال پر کبھی راضی نہیں رہ سکتا۔ ایسی حالت والے شخص کی مثال اس شخص کی سی ہے ﴿ كَالَّذِي اسۡتَهۡوَتۡهُ الشَّيٰطِيۡنُ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ جسے شیاطین نے بیابان میں اس کے راستے سے بھٹکا دیا ہو جو اس کی منزل کو جاتا تھا ﴿ حَيۡرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصۡحٰؔبٌ يَّدۡعُوۡنَهٗۤ اِلَى الۡهُدَى ﴾ ’’وہ حیران ہے، اس کے ساتھی اسے راستے کی طرف بلاتے ہیں ‘‘ اور شیاطین اسے ہلاکت کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔ وہ دونوں پکارنے والوں کے درمیان حیران و سرگرداں ہے۔ تمام لوگوں کا یہی حال ہے سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ہے، اس لیے کہ لوگ اپنے اندر کشش رکھنے والے امور اور متعارض داعیے رکھتے ہیں ۔ رسالت، عقل صحیح اور فطرت سلیم کے دواعی ﴿ يَّدۡعُوۡنَهٗۤ اِلَى الۡهُدَى ﴾ ’’اس کو صحیح راستے کی طرف بلاتے ہیں ۔‘‘ اور اعلیٰ علیین کی بلندیوں کی طرف دعوت دیتے ہیں اور شیطان کے داعیے اور وہ لوگ جو اس کی راہ پر گامزن ہیں اور نفس امارہ اسے گمراہی اور اسفل سافلین کی پستیوں میں گر جانے کی دعوت دیتے ہیں ۔ لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو اپنے تمام امور میں یا اکثر امور میں ہدایت کے دواعی کے ساتھ چلتے ہیں اور کچھ ایسے لوگ ہیں جن کا رویہ اس کے برعکس ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جن میں دونوں قسم کے داعیے مساوی ہوتے ہیں ، اس وقت دو جاذب امور باہم متعارض ہوتے ہیں ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اہل سعادت اور اہل شقاوت کی پہچان ہوتی ہے۔ ﴿ قُلۡ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الۡهُدٰؔى ﴾ ’’اللہ نے جو راہ بتلائی ہے، وہی سیدھی راہ ہے‘‘ یعنی اس راستے کے سوا کوئی راستہ ہدایت کا راستہ نہیں ، جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی زبان پر مشروع کیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر راستے گمراہی، موت اور ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ﴿وَاُمِرۡنَا لِنُسۡلِمَ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم پروردگار عالم کے تابع رہیں ‘‘ یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مانیں اس کے اوامرونواہی کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں اور اس کی عبودیت کے تحت داخل ہو جائیں کیونکہ یہ بندوں پر سب سے بڑی نعمت اور اس کی سب سے کامل ربوبیت ہے جو اس نے اپنے بندوں تک پہنچائی ہے۔
[72]﴿ وَاَنۡ اَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اور یہ کہ نماز پڑھتے رہو۔‘‘ یعنی ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم نماز کو اس کے تمام ارکان، شرائط، سنن اور اس کی تکمیل کرنے والے تمام امور کے ساتھ قائم کریں ﴿ وَاتَّقُوۡهُ ﴾ ’’اور اس سے ڈرتے رہو۔‘‘ جس چیز کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اسے بجا لا کر اور جس چیز سے روکا ہے اس سے اجتناب کر کے تقویٰ کا التزام کرو ﴿ وَهُوَ الَّذِيۡۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہی تو ہے جس کے پاس تم جمع کیے جاؤگے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز تم اس کے پاس جمع ہو جاؤ گے اور وہ تمھیں تمھارے اچھے اور برے اعمال کی جزا دے گا۔
[73]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’وہی ذات ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ‘‘ تاکہ وہ بندوں کو حکم دے اور بعض چیزوں سے روکے پھر اس پر انھیں ثواب و عقاب دے ﴿ وَيَوۡمَ يَقُوۡلُ كُنۡ فَيَكُوۡنُ١ؕ۬ قَوۡلُهُ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور جس دن کہے گا کہ ہو جا تو وہ ہو جائے گا، اس کا ارشاد برحق ہے۔‘‘ جس میں کوئی شک ہے نہ کوئی ایچ پیچ اور نہ اللہ تعالیٰ کوئی عبث بات کہتا ہے ﴿وَلَهُ الۡمُلۡكُ يَوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ ﴾ ’’اور اسی کی بادشاہی ہے جس دن پھونکا جائے گا صور‘‘ یعنی قیامت کے روز۔ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر قیامت کے دن کا ذکر اس لیے کیا ہے، حالانکہ وہ ہر چیز کا مالک ہے کیونکہ قیامت کے دن تمام ملکیتیں ختم ہو جائیں گی اور اللہ واحد و قہار کی ملکیت باقی رہ جائے گی۔ ﴿عٰؔلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ١ؕ وَهُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡخَبِيۡرُ ﴾ ’’وہ جاننے والا ہے چھپی اور کھلی باتوں کا اور وہی حکمت والا، خبردار ہے‘‘ جو حکمت تام، نعمت کامل اور احسان عظیم کا مالک ہے، اس کا علم اسرار نہاں ، باطنی راز اور چھپے ہوئے امور کا احاطہ کیے ہوئے ہے جس کے سوا کوئی معبود اور کوئی رب نہیں ۔
6:74–83Page 137
۞ وَإِذۡ قَالَ إِبۡرَٰهِيمُ لِأَبِيهِ ءَازَرَ أَتَتَّخِذُ أَصۡنَامًا ءَالِهَةً إِنِّيٓ أَرَىٰكَ وَقَوۡمَكَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ ٧٤
And [mention, O Muḥammad], when Abraham said to his father Āzar, "Do you take idols as deities? Indeed, I see you and your people to be in manifest error."
وَكَذَٰلِكَ نُرِيٓ إِبۡرَٰهِيمَ مَلَكُوتَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلِيَكُونَ مِنَ ٱلۡمُوقِنِينَ ٧٥
And thus did We show Abraham the realm of the heavens and the earth that he would be among the certain [in faith].
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيۡهِ ٱلَّيۡلُ رَءَا كَوۡكَبٗاۖ قَالَ هَٰذَا رَبِّيۖ فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَآ أُحِبُّ ٱلۡأٓفِلِينَ ٧٦
So when the night covered him [with darkness], he saw a star. He said, "This is my lord."1 But when it set, he said, "I like not those that set [i.e., disappear]."
فَلَمَّا رَءَا ٱلۡقَمَرَ بَازِغٗا قَالَ هَٰذَا رَبِّيۖ فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمۡ يَهۡدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلضَّآلِّينَ ٧٧
And when he saw the moon rising, he said, "This is my lord." But when it set, he said, "Unless my Lord guides me, I will surely be among the people gone astray."
فَلَمَّا رَءَا ٱلشَّمۡسَ بَازِغَةٗ قَالَ هَٰذَا رَبِّي هَٰذَآ أَكۡبَرُۖ فَلَمَّآ أَفَلَتۡ قَالَ يَٰقَوۡمِ إِنِّي بَرِيٓءٞ مِّمَّا تُشۡرِكُونَ ٧٨
And when he saw the sun rising, he said, "This is my lord; this is greater." But when it set, he said, "O my people, indeed I am free from what you associate with Allāh.
إِنِّي وَجَّهۡتُ وَجۡهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ حَنِيفٗاۖ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ٧٩
Indeed, I have turned my face [i.e., self] toward He who created the heavens and the earth, inclining toward truth, and I am not of those who associate others with Allāh."
وَحَآجَّهُۥ قَوۡمُهُۥۚ قَالَ أَتُحَٰٓجُّوٓنِّي فِي ٱللَّهِ وَقَدۡ هَدَىٰنِۚ وَلَآ أَخَافُ مَا تُشۡرِكُونَ بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يَشَآءَ رَبِّي شَيۡـٔٗاۚ وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمًاۚ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ ٨٠
And his people argued with him. He said, "Do you argue with me concerning Allāh while He has guided me? And I fear not what you associate with Him [and will not be harmed] unless my Lord should will something. My Lord encompasses all things in knowledge; then will you not remember?
وَكَيۡفَ أَخَافُ مَآ أَشۡرَكۡتُمۡ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمۡ أَشۡرَكۡتُم بِٱللَّهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهِۦ عَلَيۡكُمۡ سُلۡطَٰنٗاۚ فَأَيُّ ٱلۡفَرِيقَيۡنِ أَحَقُّ بِٱلۡأَمۡنِۖ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ٨١
And how should I fear what you associate while you do not fear that you have associated with Allāh that for which He has not sent down to you any authority? So which of the two parties has more right to security, if you should know?"
ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمۡ يَلۡبِسُوٓاْ إِيمَٰنَهُم بِظُلۡمٍ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلۡأَمۡنُ وَهُم مُّهۡتَدُونَ ٨٢
They who believe and do not mix their belief with injustice1 - those will have security, and they are [rightly] guided.
وَتِلۡكَ حُجَّتُنَآ ءَاتَيۡنَٰهَآ إِبۡرَٰهِيمَ عَلَىٰ قَوۡمِهِۦۚ نَرۡفَعُ دَرَجَٰتٖ مَّن نَّشَآءُۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٞ ٨٣
And that was Our [conclusive] argument which We gave Abraham against his people. We raise by degrees whom We will. Indeed, your Lord is Wise and Knowing.
اور جب کہا ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے! کیا ٹھہراتے ہو تم بتوں کو معبود؟ بلاشبہ میں دیکھتا ہوں تم کو اور تمھاری قوم کو گمراہی ظاہر میں (74) اور اسی طرح دکھاتے تھے ہم ابراہیم کو بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور تاکہ ہو جائے وہ یقین کرنے والوں سے(75) پس جب چھا گئی اس پر رات تو دیکھا اس نے ایک تارا، ابراہیم نے کہا، یہ میرا رب ہے، پس جب غروب ہوگیا وہ تو کہا ، نہیں محبت کرتا میں غروب ہونے والوں سے (76) پس جب دیکھا اس نے چاند چمکتا ہوا تو کہا،یہی میرارب ہے، پھر جب غروب ہو گیاوہ تو کہا، اگر نہ ہدایت دی مجھے میرے رب نے تو ہو جاؤں گا میں گمراہ قوم سے(77) پھر جب (ابراہیم نے) دیکھا سورج جگمگاتاہوا تو کہا، یہ میرا رب ہے، یہ سب سے بڑا ہے، پھر جب وہ غروب ہو گیا تو کہا اس نے، اے میری قوم! یقینا میں بیزار ہوں ان سے، جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو(78)تحقیق میں نے متوجہ کیا اپنا چہرہ اس کے لیے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو، اللہ ہی کاپرستار ہو کر اور نہیں ہوں میں مشرکین سے(79)اور جھگڑا کیااس سے اس کی قوم نے تو کہا ابراہیم نے، کیا جھگڑتے ہو تم مجھ سے اللہ کے بارے میں حالانکہ اسی نے ہدایت دی مجھے؟ اور نہیں ڈرتا میں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو اس کا مگر یہ کہ چاہے میرا رب کچھ، گھیر لیا ہے میرے رب نے ہر چیز کو( اپنے) علم سے، کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟(80) اور کیونکر ڈروں میں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو جبکہ تم نہیں ڈرتے اس بات سے کہ تم شریک ٹھہراتے ہو اللہ کا ان کو، جن کی نہیں نازل کی اس نے تم پر کوئی دلیل؟ پس کونسا دونوں فریقوں میں سے زیادہ حق دار ہے امن کا (بتاؤ) اگر ہو تم جانتے؟(81)جولوگ ایمان لائےاور نہیں خلط ملط کیا انھوں نے اپنے ایمان کو ساتھ ظلم(شرک)کے، یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے ہی امن ہےاور وہی ہدایت یافتہ ہیں (82)اور یہ ہے ہماری دلیل کہ دی تھی ہم نے یہ ابراہیم کو، مقابلے میں اس کی قوم کے، بلند کرتے ہیں ہم درجے جس کے چاہتے ہیں ، یقینا آپ کا رب ہے حکمت والاجاننے والے (83)
[74] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیمu کے قصے کو یاد کیجیے، ان کی دعوت توحید اور شرک سے ممانعت کے احوال میں ان کی تعریف و ثنا اور تعظیم کیجیے ﴿وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهِيۡمُ لِاَبِيۡهِ اٰزَرَ اَتَتَّؔخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِهَةً ﴾ ’’جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا، کیا تو بتوں کو معبود مانتا ہے؟‘‘ جو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، جو کسی اختیار کے مالک نہیں ﴿اِنِّيۡۤ اَرٰىكَ وَقَوۡمَكَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’میں تجھ کو اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں ‘‘ کیونکہ تم ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو عبادت کی مستحق نہیں اور اپنے خالق، رازق اور تدبیر کرنے والے کی عبادت کو چھوڑ دیتے ہو۔
[75]﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ ’’اور اسی طرح‘‘ جب ہم نے ابراہیمu کو توحید اور اس کی طرف دعوت کی توفیق عطا کی ﴿ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’ہم دکھانے لگے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات‘‘ تاکہ وہ چشم بصیرت سے ان قطعی دلائل اور روشن براہین کو ملاحظہ کرلے جن پر زمین اور آسمان کی بادشاہی مشتمل ہے ﴿ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾ ’’اور تاکہ وہ صاحب ایقان ہو‘‘ کیونکہ تمام مطالب میں دلائل کے قیام کے مطابق ایقان اور علم کامل حاصل ہوتا ہے۔
[76]﴿ فَلَمَّا جَنَّ عَلَيۡهِ الَّيۡلُ ﴾ ’’جب رات نے ان کو ڈھانپ لیا۔‘‘ یعنی جب رات تاریک ہو گئی ﴿ رَاٰ كَوۡؔكَبًا ﴾ ’’اس نے ایک ستارہ دیکھا‘‘ شاید یہ ستارہ زیادہ روشن ستارہ ہو گا کیونکہ اس کے تذکرے کی تخصیص دلالت کرتی ہے کہ اس کی روشنی دوسروں سے زیادہ تھی۔ بنابریں بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس سے مراد زہرہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ ﴿قَالَ هٰؔذَا رَبِّيۡ ﴾ ’’کہنے لگے یہ میرا رب ہے۔‘‘ یعنی انھوں نے دلیل کی خاطر مدمقابل کے مقام پر اترتے ہوئے کہا کہ ’’یہ میرا رب ہے‘‘ آؤ ہم دیکھیں کہ کیا یہ ربوبیت کا مستحق ہے؟ کیا ہمارے سامنے کوئی ایسی دلیل قائم ہوتی ہے جو اس کے رب ہونے کو ثابت کرتی ہو؟ کیونکہ کسی عقل مند کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ بغیر کسی حجت و برہان کے اپنی خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا لے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَلَ ﴾ یعنی جب یہ ستارہ غائب ہو گیا ﴿ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الۡاٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’تو کہا، میں غائب ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ یعنی جو غائب ہو کر عبادت کرنے والے سے اوجھل ہو جائے۔ کیونکہ معبود کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اس شخص کے مصالح کا انتظام اور اس کے تمام معاملات کی تدبیر کرے جو اس کی عبادت کرتا ہے۔ رہی وہ ہستی جو اکثر اوقات غیر موجود اور غائب ہوتی ہے تو عبادت کی کیوں کر مستحق ہو سکتی ہے؟ کیا ایسی ہستی کو معبود بنانا سب سے بڑی بے وقوفی اور سب سے بڑا باطل نہیں ؟
[77]﴿ فَلَمَّا رَاَ الۡقَمَرَ بَازِغًا ﴾ ’’پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے چاند کو طلوع ہوتے دیکھا اور یہ مشاہدہ بھی کیا کہ اس کی روشنی ستاروں کی روشنی سے زیادہ ہے اور یہ ان کے مخالف بھی ہے ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَبِّيۡ ﴾ ’’کہا، یہ میرا رب ہے‘‘ یعنی دلیل کی خاطر مخالفین کے مقام پر اتر کر کہا ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَىِٕنۡ لَّمۡ يَهۡدِنِيۡ رَبِّيۡ لَاَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡقَوۡمِ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’جب وہ غائب ہو گیا، بولے، اگر نہ ہدایت کرے گا مجھ کو میرا رب تو بے شک رہوں گا میں گمراہ لوگوں میں ‘‘ ابراہیمu اپنے رب کی راہنمائی کے بے حد محتاج تھے اور انھیں علم تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کو راہ راست نہ دکھائے تو کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے۔ اگر اپنی اطاعت پر وہ ان کی اعانت نہ کرے تو کوئی مدد کرنے والا نہیں ہے۔
[78]﴿ فَلَمَّا رَاَ الشَّمۡسَ بَازِغَةً قَالَ هٰؔذَا رَبِّيۡ هٰؔذَاۤ اَكۡبَرُ ﴾ ’’پس جب سورج کو چمکتے ہوئے دیکھا تو کہا، یہ ہے میرا رب، یہ سب سے بڑا ہے‘‘ یہ تمام (ستاروں اور چاند سے) بڑا ہے‘‘ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَلَتۡ ﴾ ’’جب وہ غروب ہوگیا۔‘‘ یعنی جب سورج بھی غروب ہو گیا تو ہدایت متحقق ہو گئی اور ہلاکت مضمحل ہو گئی ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’(تو) کہا، اے میری قوم! بے شک میں بیزار ہوں ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو‘‘ کیونکہ اس کے بطلان پر سچی اور واضح دلیل قائم ہو چکی ہے۔
[79]﴿ اِنِّيۡ وَجَّهۡتُ وَجۡهِيَ لِلَّذِيۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ حَنِيۡفًا ﴾ ’’میں نے متوجہ کر لیا اپنے چہرے کو اسی کی طرف جس نے بنائے آسمان اور زمین سب سے یکسو ہو کر‘‘ یعنی صرف الٰہ واحد کی طرف یکسوئی کے ساتھ متوجہ ہو کر اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر ﴿ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ﴾ ’’اور میں نہیں ہوں شرک کرنے والا‘‘ پس یوں ابراہیمu نے شرک سے براء ت کا اظہار کیا اور توحید کے سامنے سرتسلیم خم کیا اور توحید پر دلیل قائم کی۔۔۔ یہ ہے ان آیات کریمہ کی تفسیر جو ہم نے بیان کی ہے۔ اور یہی صواب ہے۔ نیز یہ کہ یہ مقام جناب ابراہیم کی طرف سے اپنی قوم کے ساتھ مناظرے کا مقام تھا اور مقصد ان اجرام فلکی وغیرہ کی الوہیت کا بطلان تھا۔ رہا ان لوگوں کا موقف کہ یہ جناب ابراہیم کے ایام طفولیت میں غور و فکر کا مقام تھا تو اس پر کوئی دلیل نہیں ۔
[80]﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ ﴾ ’’اور اس سے جھگڑا کیا اس کی قوم نے، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے ایک ہونے میں جھگڑتے ہو اور وہ مجھ کو سمجھا چکا‘‘ یعنی اس شخص کے ساتھ جھگڑنے کا کون سا فائدہ ہے جس کے سامنے ہدایت واضح نہیں ہوئی رہا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نواز دیا ہے اور وہ یقین کے بلند ترین مقام پر فائز ہے تو وہ خود لوگوں کو اس راستے کی طرف بلاتا ہے جس پر وہ خود گامزن ہے۔ ﴿وَلَاۤ اَخَافُ مَا تُشۡرِكُوۡنَ بِهٖۤ ﴾ ’’اور میں نہیں ڈرتا ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو اس کے ساتھ‘‘ کیونکہ یہ جھوٹے خدا مجھے کوئی نقصان نہیں دے سکتے، نہ مجھے کسی نفع سے محروم کر سکتے ہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَؔ رَبِّيۡ شَيۡـًٔـا١ؕ وَسِعَ رَبِّيۡ كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’مگر یہ کہ چاہے اللہ، میرا رب۔ احاطہ کر لیا ہے میرے رب کے علم نے سب چیزوں کا، کیا تم نہیں نصیحت پکڑتے؟‘‘ پس تم جان لیتے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے جو کہ عبودیت کا مستحق ہے۔
[81]﴿ وَؔكَيۡفَ اَخَافُ مَاۤ اَشۡرَؔكۡتُمۡ ﴾ ’’اور میں کیوں کر ڈروں ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو‘‘ درانحالیکہ یہ معبودان باطل عاجز محض اور کسی قسم کا فائدہ پہنچانے سے محروم ہیں ﴿ وَلَا تَخَافُوۡنَ اَنَّـكُمۡ اَشۡرَؔكۡتُمۡ بِاللّٰهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهٖ عَلَيۡكُمۡ سُلۡؔطٰنًا ﴾ ’’اور تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم اللہ کا ایسی چیزوں کو شریک ٹھہراتے ہو جس پر اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری‘‘ یعنی سوائے خواہش نفس کی پیروی کے اس پر کوئی دلیل نہیں ﴿فَاَيُّ الۡفَرِيۡقَيۡنِ اَحَقُّ بِالۡاَمۡنِ١ۚ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’پس کون سا گروہ امن کا زیادہ مستحق ہے اگر تم جانتے ہو؟‘‘
[82] اللہ تبارک و تعالیٰ فریقین کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ يَلۡبِسُوۡۤا اِيۡمَانَهُمۡ بِظُلۡمٍ ﴾ ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور نہیں ملایا انھوں نے اپنے ایمان میں ظلم‘‘ یعنی ایمان کو شرک کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الۡاَمۡنُ وَهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جن کے لیے امن ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں ‘‘ وہ ہر قسم کے خوف سے مامون ہوں گے، عذاب اور شقاوت وغیرہ میں سے کسی قسم کا خوف نہ ہو گا اور سیدھے راستے کی طرف راہنمائی سے نوازے جائیں گے۔ اگر انھوں نے اپنے ایمان کو کسی قسم کے ظلم سے ملوث نہ کیا ہو گا یعنی انھوں نے شرک کیا ہو گا نہ گناہ۔ تو انھیں امن کامل اور ہدایت تام نصیب ہو گی اور اگر انھوں نے اپنے ایمان کو شرک سے تو پاک رکھا مگر وہ برے اعمال کا ارتکاب کرتے رہے تو انھیں اگرچہ کامل امن اور کامل ہدایت تو حاصل نہ ہو گی تاہم انھیں اصل ہدایت اور امن حاصل ہوں گے۔ آیت کریمہ کا مخالف مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ جنھیں یہ دو امور حاصل نہیں وہ ہدایت اور امن سے محروم رہیں گے بلکہ ان کے نصیب میں بدبختی اور گمراہی کے سوا کچھ نہ ہو گا۔
[83] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے قطعی دلائل و براہین بیان کر کے جناب ابراہیم کے حق میں فیصلہ کر دیا تو فرمایا ﴿ وَتِلۡكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَيۡنٰهَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ عَلٰى قَوۡمِهٖ﴾ ’’اور یہ ہے ہماری دلیل، کہ دی تھی ہم نے ابراہیمu کو، اس کی قوم کے مقابلے میں ‘‘ یعنی ان دلائل و براہین کی مدد سے ابراہیمu نے ان کو نیچا دکھایا اور ان پر غالب آئے۔ ﴿ نَرۡفَعُ دَرَجٰؔتٍ مَّنۡ نَّؔشَآءُ ﴾ ’’ہم جس کے چاہتے ہیں ، درجے بلند کرتے ہیں ‘‘ جس طرح ہم نے حضرت ابراہیم کے دنیا و آخرت میں درجات بلند فرمائے کیونکہ اللہ تعالیٰ علم کے ذریعے سے صاحب علم کو دوسرے بندوں پر فوقیت عطا کرتا ہے.... خاص طور پر وہ عالم جو صاحب عمل بھی ہے اور معلم بھی۔ پس اللہ تعالیٰ اس کے حسب حال اسے لوگوں کا امام بنا دیتا ہے۔ اس کے افعال کو دیکھا جاتا ہے، اس کے آثار کی پیروی کی جاتی ہے، اس کے نور سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور اس کے علم کی مدد سے تیرہ و تار تاریکیوں میں رواں دواں رہا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ يَرۡفَعِ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ١ۙ وَالَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ دَرَجٰؔتٍ﴾(المجادلۃ: 58؍11) ’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جن کو علم عطا کیا گیا، اللہ ان کے درجات بلند کرتا ہے۔‘‘﴿اِنَّ رَبَّكَ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تمھارا رب دانا، علم والا ہے۔‘‘ اس لیے وہ علم و حکمت کو ان کے شایان شان مقام پر رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس مقام کو اور جو کچھ اس کے لیے مناسب ہے خوب جانتا ہے۔
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندے اور خلیل ابراہیمu کا اور اپنے اس احسان کا ذکر کیا کہ اللہ نے ان کو علم، دعوت اور صبر سے نوازا تو اب ذکر فرما رہا ہے کہ صالح اور پاک نسل کے ذریعے سے بھی اللہ نے ان کو بڑی تکریم بخشی۔ اللہ نے مخلوق میں سے منتخب اور چنے ہوئے لوگ حضرت ابراہیمu کی نسل میں سے بنائے اور یہ اتنی بڑی منقبت اور اتنی زیادہ عزت افزائی ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences