As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Al-An'am 6:84–94
6:84–90Page 138
وَوَهَبۡنَا لَهُۥٓ إِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَۚ كُلًّا هَدَيۡنَاۚ وَنُوحًا هَدَيۡنَا مِن قَبۡلُۖ وَمِن ذُرِّيَّتِهِۦ دَاوُۥدَ وَسُلَيۡمَٰنَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَٰرُونَۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٨٤
And We gave to him [i.e., Abraham] Isaac and Jacob - all [of them] We guided. And Noah, We guided before; and among his descendants, David and Solomon and Job and Joseph and Moses and Aaron. Thus do We reward the doers of good.
وَزَكَرِيَّا وَيَحۡيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلۡيَاسَۖ كُلّٞ مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ٨٥
And Zechariah and John and Jesus and Elias - and all were of the righteous.
وَإِسۡمَٰعِيلَ وَٱلۡيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطٗاۚ وَكُلّٗا فَضَّلۡنَا عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ ٨٦
And Ishmael and Elisha and Jonah and Lot - and all [of them] We preferred over the worlds.
وَمِنۡ ءَابَآئِهِمۡ وَذُرِّيَّٰتِهِمۡ وَإِخۡوَٰنِهِمۡۖ وَٱجۡتَبَيۡنَٰهُمۡ وَهَدَيۡنَٰهُمۡ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ ٨٧
And [some] among their fathers and their descendants and their brothers - and We chose them and We guided them to a straight path.
ذَٰلِكَ هُدَى ٱللَّهِ يَهۡدِي بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۚ وَلَوۡ أَشۡرَكُواْ لَحَبِطَ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٨٨
That is the guidance of Allāh by which He guides whomever He wills of His servants. But if they had associated others with Allāh, then worthless for them would be whatever they were doing.
أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحُكۡمَ وَٱلنُّبُوَّةَۚ فَإِن يَكۡفُرۡ بِهَا هَٰٓؤُلَآءِ فَقَدۡ وَكَّلۡنَا بِهَا قَوۡمٗا لَّيۡسُواْ بِهَا بِكَٰفِرِينَ ٨٩
Those are the ones to whom We gave the Scripture and authority and prophethood. But if they [i.e., the disbelievers] deny it, then We have entrusted it to a people who are not therein disbelievers.
أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُۖ فَبِهُدَىٰهُمُ ٱقۡتَدِهۡۗ قُل لَّآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ أَجۡرًاۖ إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرَىٰ لِلۡعَٰلَمِينَ ٩٠
Those are the ones whom Allāh has guided, so from their guidance take an example. Say, "I ask of you for it [i.e., this message] no payment. It is not but a reminder for the worlds."
اور عطا کیے ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب، سب کو ہدایت دی ہم نےاور نوح کو ہدایت دی ہم نے پہلے اس سے،اور اس کی اولاد میں سے داود اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کواور اسی طرح جزاء دیتے ہیں ہم احسان کرنے والوں کو(84)اور (ہدایت دی) زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو، سب صالحین میں سے تھے (85)اور اسماعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو (بھی)اور (ان) سب کو فضیلت دی ہم نے اوپر جہانوں کے(86)اور کچھ کو ان کے آباؤ اجداد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے او ر چن لیا ہم نے انھیں اور ہدایت دی ہم نے انھیں طرف صراط مستقیم کی(87) یہ ہے ہدایت اللہ کی، ہدایت دیتا ہے اس کی جسے چاہتا ہے وہ اپنے بندوں میں سے،اور اگر شرک کرتے وہ لوگ توبرباد ہوجاتے ان سے جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(88) یہ وہ لوگ ہیں کہ دی ہم نے انھیں کتاب اور حکم اور نبوت، پس اگر کفر کریں ساتھ ان(باتوں ) کے یہ لوگ تو تحقیق مقرر کر دی ہم نے ان باتوں کے لیے ایسی قوم کہ نہیں ہے وہ ان کا انکار کرنے والی(89)یہ لوگ ہیں جنھیں ہدایت دی اللہ نے، سو ان کے طریقے کی اقتداء کریں آپ کہہ دیجیے! نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے یہ مگر نصیحت جہانوں کے لیے(90)
[84]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے اسحاق اور یعقوب‘‘ یعقوب یعنی اسحاقu کے فرزند جن کو اسرائیل کہا جاتا ہے۔ ایک بڑے گروہ کے باپ جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی۔ ﴿ كُلًّا ﴾ ’’سب کو‘‘ یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک کو ﴿ هَدَيۡنَا ﴾ ’’ہم نے ہدایت دی۔‘‘ یعنی علم و عمل میں راہ راست دکھائی ﴿وَنُوۡحًا هَدَيۡنَا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اس سے قبل ہم نے نوح کو ہدایت سے نوازا‘‘ یہ ہدایت اعلیٰ ترین انواع میں سے تھی جو دنیا کے صرف معدودے چند افراد کو حاصل ہوئی ہے اور وہ اولو العزم رسول تھے۔ نوحu ان میں سے ایک تھے۔ ﴿ وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهٖ﴾ ’’اور ان کی نسل میں سے‘‘ اس میں احتمال ہے کہ ضمیر نوح (u) کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ یہ قریب ترین مرجع ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ساتھ ہی حضرت لوط کا ذکر کیا جو کہ نوح کی ذریت سے ہیں ، حضرت ابراہیم کی ذریت سے نہیں کیونکہ حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے بھتیجے تھے۔۔۔ نیز اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ضمیر حضرت ابراہیمu کی طرف لوٹتی ہو کیونکہ سیاق کلام ابراہیمu کی مدح و ثنا میں ہے اور لوطu اگرچہ حضرت ابراہیمu کی ذریت میں سے نہیں ہیں تاہم یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو جناب خلیلu کے ہاتھ پر ایمان لائے تھے۔ حضرت لوط کا حضرت ابراہیم پر ایمان لانا مجرد ان کا بیٹا ہونے سے زیادہ ان کے لیے منقبت اور فضیلت کا حامل ہے۔ ﴿ دَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’داود اور سلیمان‘‘ یعنی سلیمان بن داؤدi ﴿ وَاَيُّوۡبَ وَيُوۡسُفَ ﴾ ’’ایوب اور یوسف‘‘ یعنی ایوب اور یوسف بن یعقوب علیہ السلام ﴿وَمُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’موسیٰ اور ہارون‘‘ یعنی عمران کے بیٹے ﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ ’’اور اسی طرح‘‘ یعنی جس طرح ہم نے ابراہیم خلیل اللہu کی ذریت کو صالح بنایا کیونکہ ابراہیمu نے اپنے رب کی بندگی کو بہترین طریقے سے ادا کیا اور اللہ کی مخلوق کو بہترین طریقے سے فائدہ پہنچایا ﴿ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم بدلہ دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو‘‘ نیکوکار لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ہم انھیں ان کی نیکیوں کے مطابق سچی مدح و ثنا اور صالح اولاد سے نوازتے ہیں ۔
[85]﴿ وَزَكَرِيَّا وَيَحۡيٰى ﴾ ’’زکریا اور یحییٰ‘‘ یعنی یحییٰ حضرت زکریا کے فرزند ﴿ وَعِيۡسٰؔى ﴾ یعنی عیسیٰ بن مریمi ﴿ وَاِلۡيَاسَ١ؕ كُلٌّ ﴾ ’’اور الیاس کو بھی یہ سب‘‘ یعنی یہ تمام لوگ ﴿ مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیکوکار تھے۔‘‘ یعنی اپنے اخلاق، اعمال اور علوم میں صالح لوگ تھے بلکہ صلحا کے سردار، قائد اور ان کے امام تھے۔
[86]﴿ وَاِسۡمٰعِيۡلَ ﴾ یعنی حضرت ابراہیمu کے بیٹے جو نسل انسانی کے ایک بڑے گروہ کے جد امجد تھے، یعنی گروہ عرب کے باپ اور اولاد آدم کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ کے جد امجد۔ ﴿و َيُوۡنُسَ ﴾ یعنی یونس بن متیu ﴿ وَلُوۡطًا ﴾ یعنی ابراہیمu کے بھائی ہاران کے بیٹے ﴿وَؔكُلًّا ﴾ یعنی ان تمام انبیا و مرسلین کو ﴿ فَضَّلۡنَا عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے جہانوں پر فضیلت دی‘‘ کیونکہ فضیلت کے چار درجے ہیں جن کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں کیا ہے ﴿ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّؔيۡقِيۡنَ۠ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾(النساء: 4؍69) ’’جو اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کرتے ہیں وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا یعنی انبیا، صدیق، شہداء اور صلحا‘‘ اور یہ مذکور انبیائے کرام علیہم السلام بہت بلند درجے پر فائز ہیں بلکہ علی الاطلاق تمام رسولوں سے افضل ہیں ۔ پس وہ تمام انبیا و مرسلین جن کا قصہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔ بلاشبہ ان نبیوں میں سے افضل ہیں جن کا ذکر نہیں فرمایا۔
[87]﴿ وَمِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ ﴾ یعنی ان انبیائے مذکورین کے آبا ؤاجداد میں سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ وَاِخۡوَانِهِمۡ ﴾ ’’ان کی اولاد اور بھائیوں میں سے‘‘ یعنی ہم نے ان کے آبا ؤ اجداد ، ان کی ذریت اور ان کے بھائی بند لوگوں کو ہدایت سے نوازا ﴿ وَاجۡتَبَيۡنٰهُم ﴾ ’’ہم نے ان کو چن لیا‘‘ ﴿ ۡ وَهَدَيۡنٰهُمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’اور ان کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کی۔‘‘ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی یہ ہدایت مذکورہ ﴿ هُدَى اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی ہدایت ہے‘‘ جس کی ہدایت کے سوا کوئی ہدایت نہیں ﴿يَهۡدِيۡ بِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾ ’’وہ ہدایت دیتا ہے اس کی جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے‘‘ پس اسی سے ہدایت طلب کرو، اگر وہ راہنمائی نہ کرے تو اس کے سوا تمھیں راہ دکھانے والا کوئی نہیں اور جن کی ہدایت اللہ تعالیٰ کی مشیت میں ہے، ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔
[89,88]﴿وَلَوۡ اَشۡرَؔكُوۡا ﴾ ’’اگر یہ لوگ شرک کرتے‘‘ یعنی بفرض محال ﴿ لَحَبِطَ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو ان کے عمل برباد ہو جاتے‘‘ کیونکہ شرک تمام اعمال کو ساقط اور اکارت کر دیتا ہے اور جہنم میں خلود اور دوام کا موجب بنتا ہے۔ اگر یہ چنے ہوئے بہترین لوگ بھی شرک کرتے حالانکہ وہ اس سے پاک ہیں تو ان کے اعمال بھی اکارت ہو جاتے۔ دیگر لوگ تو اس جزا کے زیادہ مستحق ہیں ۔
[90] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی یہ مذکورہ بالا لوگ ﴿ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقۡتَدِهۡ ﴾ ’’وہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی، پس آپ ان کی ہدایت کی پیروی کریں ‘‘ یعنی اے رسول کریم (ﷺ) ان انبیائے اخیار کی پیروی اور ان کی ملت کی اتباع کیجیے۔ اور واقعی رسول اللہﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پہلے انبیا و مرسلین کی پیروی کی اور ان کے ہر کمال کو اپنے اندر جمع کر لیا۔ آپﷺ کے اندر ایسے فضائل اور خصائص جمع تھے جن کی بنا پر آپ کو تمام جہانوں پر فوقیت حاصل تھی آپ تمام انبیا و مرسلین کے سردار اور متقین کے امام تھے۔ صلوات اللٰہ وسلامہ علیہ وعلیھم اجمعین۔ یہ ہے (آپﷺ کی سیرت کا) وہ پہلو جس سے بعض صحابہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہﷺ تمام انبیا و مرسلین سے افضل ہیں ۔ ﴿ قُلۡ﴾ یعنی ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے آپﷺ کی دعوت سے اعراض کیا ﴿ لَّاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا ﴾ ’’میں تم سے اس کا صلہ نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی میں تم سے اپنی تبلیغ اور تمھیں اسلام کی دعوت دینے کے عوض کسی مال اور تاوان کا مطالبہ نہیں کرتا جو تمھارے اسلام نہ لانے کا سبب بنے، میرا اجر صرف اللہ کے ذمے ہے ﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’یہ تو محض نصیحت ہے جہان کے لوگوں کے لیے‘‘ وہ جو ان کے لیے مفید ہے، اس سے نصیحت پکڑتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں اور جو چیز ان کے لیے ضرر رساں ہے، اسے چھوڑ دیتے ہیں ۔ وہ اس کے ذریعے سے اپنے رب اور اس کے اسماء و صفات کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سے اخلاق حمیدہ، ان کے حصول کے مناہج اور اخلاق رذیلہ اور ان میں مبتلا کرنے والے امور کا علم حاصل کرتے ہیں ۔ چونکہ یہ تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے اس لیے یہ سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے اور ان پر واجب ہے کہ وہ اس نعمت کو قبول کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ۔
6:91Page 139
وَمَا قَدَرُواْ ٱللَّهَ حَقَّ قَدۡرِهِۦٓ إِذۡ قَالُواْ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ بَشَرٖ مِّن شَيۡءٖۗ قُلۡ مَنۡ أَنزَلَ ٱلۡكِتَٰبَ ٱلَّذِي جَآءَ بِهِۦ مُوسَىٰ نُورٗا وَهُدٗى لِّلنَّاسِۖ تَجۡعَلُونَهُۥ قَرَاطِيسَ تُبۡدُونَهَا وَتُخۡفُونَ كَثِيرٗاۖ وَعُلِّمۡتُم مَّا لَمۡ تَعۡلَمُوٓاْ أَنتُمۡ وَلَآ ءَابَآؤُكُمۡۖ قُلِ ٱللَّهُۖ ثُمَّ ذَرۡهُمۡ فِي خَوۡضِهِمۡ يَلۡعَبُونَ ٩١
And they did not appraise Allāh with true appraisal1 when they said, "Allāh did not reveal to a human being anything." Say, "Who revealed the Scripture that Moses brought as light and guidance to the people? You [Jews] make it into pages, disclosing [some of] it and concealing much. And you2 were taught that which you knew not - neither you nor your fathers." Say, "Allāh [revealed it]." Then leave them in their [empty] discourse, amusing themselves.
اور نہیں قدر کی انھوں نے اللہ کی جس طرح حق ہے اس کی قدر کرنے کا، جس وقت کہا انھوں نے ، نہیں نازل کی اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز، کہہ دیجیے! کس نے نازل کی کتاب، وہ جو لائے اسے موسیٰ؟ وہ نور اور ہدایت (تھی ) لوگوں کے لیے(نقل)کرتے ہو تم اس (کتاب) کو اوراق میں ظاہر کرتے ہو اس سے (کچھ) اور چھپاتے ہو بہت اور تم سکھلائے گئے ہو وہ کچھ کہ نہیں جانتے تھے تم اور نہ باپ دادا تمھارے، کہہ دیجیے! (نازل کی) اللہ نے پھر چھوڑیے انھیں ، وہ اپنی مشغولیت میں کھیلتے رہیں (91)
[91] اللہ تعالیٰ نے یہود و مشرکین کے نفی رسالت کے قول کو سخت قبیح قرار دیا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر کوئی چیز نازل نہیں فرمائی۔ جو اس بات کا قائل ہے اس نے اللہ تعالیٰ کی وہ قدر اور تعظیم نہیں کی جو کرنی چاہیے تھی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت میں عیب جوئی ہے، وہ یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مہمل چھوڑ دے گا ان کو کوئی حکم دے گا نہ ان کو کسی چیز سے روکے گا اور اس نے درحقیقت اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت کی نفی کی ہے جس سے اس نے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔ اور وہ یہ رسالت ہے۔ اس رسالت کے سوا بندوں کے لیے سعادت، کرامت اور فلاح حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں ، تب اس نفئ رسالت سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی ذات میں اور کون سی طعن و تشنیع ہے؟ ﴿ قُلۡ ﴾ ان کے فساد قول کو متحقق کرتے ہوئے اور جس چیز کا وہ خود اقرار کرتے ہیں اس کو منواتے ہوئے ان سے کہہ دیجیے ﴿مَنۡ اَنۡزَلَ الۡكِتٰبَ الَّذِيۡ جَآءَؔ بِهٖ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’کون ہے جس نے وہ کتاب اتاری جسے موسیٰ لے کر آئے‘‘ اور وہ ہے تورات عظیم ﴿ نُوۡرًؔا﴾ جو جہالت کی تاریکیوں میں روشنی ہے ﴿وَّهُدًى﴾ اور گمراہی میں ہدایت ہے اور علم و عمل میں راہ راست کی طرف راہنمائی کرتی ہے، یہ وہ کتاب ہے جو شائع ہو کر پھیل چکی ہے اور جس کے تذکروں نے کانوں اور دلوں کو لبریز کر دیا ہے حتیٰ کہ انھوں نے اسے کتابوں میں لکھنا شروع کیا اور پھر جیسے جی چاہا اس میں تصرف کیا۔ جو ان کی خواہشات کے موافق تھا اسے ظاہر کیا اور جو ان کے خلاف تھا اسے چھپا کر کتمان حق کے مرتکب ہوئے اور ایسا حصہ بہت زیادہ ہے۔ ﴿ وَعُلِّمۡتُمۡ ﴾ ’’اور تمھیں وہ علوم سکھائے گئے‘‘ جو اس کتاب جلیل کے سبب سے تھے ﴿ مَّا لَمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اَنۡتُمۡ وَلَاۤ اٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمھارے باپ دادا‘‘ جب آپ نے اس ہستی کے بارے میں ان سے پوچھ لیا جس نے یہ کتاب نازل کی جو ان صفات سے موصوف ہے تو انھیں اس کا جواب دیجیے ﴿ قُلِ اللّٰهُ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ۔‘‘ یعنی انھیں بتلا دیں کہ کتاب نازل کرنے والا اللہ ہے۔ ﴿ ثُمَّ ذَرۡهُمۡ فِيۡ خَوۡضِهِمۡ يَلۡعَبُوۡنَ ﴾ ’’پھر ان کو چھوڑ دو کہ اپنی بے ہودہ باتوں میں کھیلتے رہیں ۔‘‘ یعنی پھر ان کو ان کے اپنے حال پر باطل میں مشغول چھوڑ دیجیے تاکہ یہ ان چیزوں کے ساتھ کھیلتے رہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں ، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے جاملیں جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا جاتا ہے۔
6:92Page 139
وَهَٰذَا كِتَٰبٌ أَنزَلۡنَٰهُ مُبَارَكٞ مُّصَدِّقُ ٱلَّذِي بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ ٱلۡقُرَىٰ وَمَنۡ حَوۡلَهَاۚ وَٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ يُؤۡمِنُونَ بِهِۦۖ وَهُمۡ عَلَىٰ صَلَاتِهِمۡ يُحَافِظُونَ ٩٢
And this is a Book which We have sent down, blessed and confirming what was before it, that you may warn the Mother of Cities [i.e., Makkah] and those around it.1 Those who believe in the Hereafter believe in it, and they are maintaining their prayers.
اور یہ کتاب، ہم نے اتارااسے، مبارک ہے، تصدیق کرنے والی ہے اس (کتاب)کی جو اس سے پہلے ہے اور تا کہ آپ ڈرائیں مکہ اور اس کے پاس والوں کو‘ اور وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں آخرت پر وہ ایمان لاتے ہیں اس (قرآن) پراور وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں (92)
[92]﴿ وَهٰؔذَا ﴾ ’’اور یہ‘‘ یعنی قرآن مجید ﴿ كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ مُبٰرَكٌ ﴾ ’’کتاب ہے، اس کو اتارا ہم نے آپ کی طرف، برکت والا‘‘ یعنی برکت اس کا وصف ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ یہ بھلائیوں اور نیکیوں پر مشتمل ہے ﴿ مُّصَدِّقُ الَّذِيۡ بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ ’’جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔‘‘ یعنی یہ کتاب، گزشتہ کتابوں کی موافقت کرتی ہے اور ان کی صداقت پر گواہ ہے۔ ﴿ وَلِتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰى وَمَنۡ حَوۡلَهَا ﴾ نیز ہم نے یہ کتاب اس لیے نازل کی ہے تاکہ آپ بستیوں کی ماں ، یعنی مکہ مکرمہ کے لوگوں اور اس کے ارد گرد دیار عرب بلکہ تمام شہروں کے لوگوں کو ڈرائیں تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی پکڑ سے بچیں اور ان امور سے بچیں جو اس کے عذاب کے موجب ہیں ۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ ﴾ ’’اور جن کو یقین ہے آخرت کا، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ‘‘ کیونکہ جب خوف دل میں جاگزیں ہوتا ہے تو اس کے تمام ارکان آباد ہو جاتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی پیروی کرنے لگ جاتا ہے ﴿ وَهُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں ‘‘ یعنی وہ نمازوں پر دوام کرتے ہیں ، اس کے ارکان و حدود، اس کے آداب و شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر تمام امور کی حفاظت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان میں شامل کرے۔
6:93–94Page 139
وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوۡ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمۡ يُوحَ إِلَيۡهِ شَيۡءٞ وَمَن قَالَ سَأُنزِلُ مِثۡلَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُۗ وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلظَّٰلِمُونَ فِي غَمَرَٰتِ ٱلۡمَوۡتِ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ بَاسِطُوٓاْ أَيۡدِيهِمۡ أَخۡرِجُوٓاْ أَنفُسَكُمُۖ ٱلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ ٱلۡهُونِ بِمَا كُنتُمۡ تَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ غَيۡرَ ٱلۡحَقِّ وَكُنتُمۡ عَنۡ ءَايَٰتِهِۦ تَسۡتَكۡبِرُونَ ٩٣
And who is more unjust than one who invents a lie about Allāh or says, "It has been inspired to me," while nothing has been inspired to him, and one who says, "I will reveal [something] like what Allāh revealed." And if you could but see when the wrongdoers are in the overwhelming pangs of death while the angels extend their hands,1 [saying], "Discharge your souls! Today you will be awarded the punishment of [extreme] humiliation for what you used to say against Allāh other than the truth and [that] you were, toward His verses, being arrogant."
وَلَقَدۡ جِئۡتُمُونَا فُرَٰدَىٰ كَمَا خَلَقۡنَٰكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةٖ وَتَرَكۡتُم مَّا خَوَّلۡنَٰكُمۡ وَرَآءَ ظُهُورِكُمۡۖ وَمَا نَرَىٰ مَعَكُمۡ شُفَعَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ زَعَمۡتُمۡ أَنَّهُمۡ فِيكُمۡ شُرَكَٰٓؤُاْۚ لَقَد تَّقَطَّعَ بَيۡنَكُمۡ وَضَلَّ عَنكُم مَّا كُنتُمۡ تَزۡعُمُونَ ٩٤
[It will be said to them], "And you have certainly come to Us alone [i.e., individually] as We created you the first time, and you have left whatever We bestowed upon you behind you. And We do not see with you your 'intercessors' which you claimed that they were among you associates [of Allāh]. It has [all] been severed between you,1 and lost from you is what you used to claim."
اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو باندھے اوپر اللہ کے جھوٹ؟ یا کہے وحی کی گئی ہے میری طرف جبکہ نہیں وحی کی گئی اس کی طرف کوئی چیز اور جس نے کہا، ابھی اتاروں گا میں بھی مثل اس کے جو اتارا اللہ نےاور کاش کہ آپ دیکھیں جبکہ ظالم لوگ موت کی سختیوں میں ہوتے ہیں اور فرشتے پھیلاتے ہیں اپنے ہاتھ(یہ کہتے ہوئے کہ) نکالو اپنی جانیں ، آج بدلہ دیے جاؤگے تم عذاب ذلت کا بوجہ اس کے کہ تھے تم کہتے اللہ پر ناحق (باتیں ) اور تھے تم اس کی آیات سے تکبر کرتے(93) اور یقیناً تم آئے ہو ہماے پاس اکیلے، جس طرح کہ پیدا کیا تھا ہم نے تمھیں پہلی مرتبہ اور چھوڑ آئے تم جو کچھ دیا تھا ہم نے تمھیں ، اپنی پیٹھوں کے پیچھےاور نہیں دیکھتے ہم تمھارے ساتھ تمھارے وہ سفارشی جن کی بابت دعویٰ کرتے تھے تم کہ بے شک وہ تمھارے(معاملات) میں شریک ہیں ۔ تحقیق ٹوٹ گیا(تعلق) تمھارے درمیان اور گم ہوگئے تم سے وہ (معبود) کہ تھے تم (جن کو) گمان کرتے (94)
[93] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس شخص سے بڑا ظالم اور مجرم کوئی اور نہیں جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی بات یا حکم منسوب کرتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ بری ہے۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کو سب سے بڑا ظلم اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ یہ بہتان پر مبنی ہے، اس میں ادیان، ان کے اصول و فروع میں تغیر و تبدل کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جو سب سے بڑی برائی ہے، نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنا اور یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی بھیجی ہے، اسی افترا میں شامل ہے۔ اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور اس کی عظمت و غلبہ کے سامنے جسارت کا ارتکاب کرنے کے ساتھ، اس بات کو بھی واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اس (جھوٹے نبی) کی پیروی کریں اور اس بات پر لوگوں سے لڑائی کریں اور اپنے مخالفین کے جان و مال کو وہ حلال قرار دیتا ہے۔ اس آیت کریمہ کی وعید میں ہر وہ شخص داخل ہے جس نے نبوت کا دعویٰ کیا جیسے مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، مختار ثقفی اور دیگر مدعیان نبوت جو اس وصف سے متصف ہیں ۔ ﴿ وَّمَنۡ قَالَ سَاُنۡزِلُ مِثۡلَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جو کہے کہ میں بھی اتارتا ہوں مثل اس کے جو اتارا اللہ نے‘‘ یعنی اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو یہ زعم رکھتا ہے کہ وہ اس چیز پر قادر ہے جس پر اللہ تعالیٰ قادر ہے، وہ احکام میں اللہ تعالیٰ کا مقابلہ کر سکتا ہے، وہ بھی اسی طرح شریعت بنا سکتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے۔ اس وعید میں وہ شخص بھی شامل ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ قرآن کا مقابلہ کر سکتا ہے اور قرآن جیسی کتاب وہ بھی بنا سکتا ہے۔ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے کہ ایک بالذات محتاج اور عاجز بندہ جو ہر لحاظ سے ناقص ہے، یہ دعویٰ کرے کہ وہ ایک طاقتور اور بے نیاز ہستی کے ساتھ خدائی میں شریک ہے جو ہر پہلو سے اپنی ذات، اسما اور صفات میں کمال مطلق کی مالک ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان ظالموں کی مذمت کی تو ساتھ ہی اس عذاب کا بھی ذکر فرما دیا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہے اور حالت نزع میں ان کو دیا جائے گا۔ ﴿ وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’اور اگر آپ دیکھیں جس وقت کہ ظالم ہوں موت کی سختیوں میں ‘‘ یعنی جب یہ ظالم موت کی شدت، اس کے ہول اور اس کے کرب میں مبتلا ہوں تو آپ ایک نہایت ہولناک حالت اور معاملہ دیکھیں گے کہ کوئی اس کا وصف بیان نہیں کر سکتا ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہیں ‘‘ جب نزع کی حالت میں فرشتے ان ظالموں کو ماریں گے اور عذاب کے ساتھ ان کی طرف ہاتھ بڑھائیں گے۔ ان کی روحوں کو قبض کرتے اور حرکت دیتے وقت، جبکہ روحیں جسموں سے نکلنے سے انکار کریں گی، کہیں گے ﴿ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ ﴾ ’’کہ نکالو تم اپنی جانیں ، آج تمھیں رسوائی کا عذاب دیا جائے گا‘‘ یعنی ایسا سخت عذاب جو تمھیں ذلیل و رسوا کر دے گا اور جزا ہمیشہ عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ یہ عذاب اس پاداش میں ہے کہ ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اس لیے کہ تم اللہ کے ذمے ناحق باتیں لگاتے تھے۔‘‘ تم جھوٹ بولتے تھے اور حق کو ٹھکراتے تھے جو انبیاء لے کر تمھارے پاس آئے تھے ﴿وَؔكُنۡتُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهٖ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے۔‘‘ اور تم اللہ تعالیٰ کی آیات کی اطاعت اور ان کے احکام کو ماننے سے اپنے آپ کو بالاتر سمجھتے تھے۔ یہ آیت کریمہ برزخ کے عذاب اور برزخ کی نعمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس خطاب اور عذاب کا رخ ان کی طرف عین نزع کے وقت اور موت سے تھوڑا سا پہلے اور پھر موت کے بعد ہے۔ نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ روح جسم رکھتی ہے جو داخل ہوتی ہے اور خارج ہوتی ہے جس کو مخاطب کیا جاتا ہے۔ وہ جسد کے ساتھ مل کر رہتی ہے اور اس سے علیحدہ ہو جاتی ہے۔
[94] یہ ان کا برزخی حال ہے۔قیامت کے روز جب یہ وارد ہوں گے تو نہایت افلاس کی حالت میں اکیلے اکیلے آئیں گے۔ ان کے ساتھ گھر والے ہوں گے نہ مال ہو گا نہ اولاد ہو گی، ان کے ساتھ لشکر ہوں گے نہ اعوان و انصار، وہ قیامت کے روز اسی طرح ہر چیز سے عاری اور عریاں حالت میں آئیں گے جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا کیونکہ اشیا تو اس کے بعد ان اسباب کے ذریعے سے حاصل کی جاتی ہیں جو ان کے لیے مقرر ہیں ۔ اس روز وہ تمام امور منقطع ہو جائیں گے جو دنیا میں بندے کے ساتھ تھے۔ سوائے نیک اعمال یا بداعمال کے اور یہ اعمال ہی آخرت کا مادہ ہیں جن سے آخرت ظہور پذیر ہو گی ۔آخرت کا حسن و قبح، اس کا سرور و غم اور اس کا عذاب و نعمت اعمال کے مطابق حاصل ہوگا۔ یہ اعمال ہی ہیں جو نفع دیں گے یا نقصان دیں گے جو اچھے لگیں گے یا برے لگیں گے۔ اور ان اعمال کے علاوہ اہل و اولاد، مال و متاع اور اعوان و انصار تو یہ سب دنیا میں رہ جانے والے اسباب، زائل ہو جانے والے اوصاف اور بدل جانے والے احوال ہیں ۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَؔكۡتُمۡ مَّا خَوَّلۡنٰكُمۡ ﴾ ’’البتہ تم ہمارے پاس آ گئے ایک ایک ہو کر جیسے ہم نے پیدا کیا تھا تم کو پہلی مرتبہ اور چھوڑ آئے تم جو کچھ اسباب ہم نے دیے تھے تمھیں ‘‘ یعنی جو کچھ ہم نے تمھیں عطا کیا اور جن نعمتوں سے ہم نے تمھیں نوازا تھا ﴿ وَرَآءَؔ ظُهُوۡرِكُمۡ ﴾ ’’اپنے پیچھے‘‘ انھیں پیچھے چھوڑ آئے ہو اور وہ تمھارے کسی کام نہ آئیں گی ﴿وَمَا نَرٰى مَعَكُمۡ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ اَنَّهُمۡ فِيۡكُمۡ شُرَؔكٰٓؤُا ﴾ ’’اور ہم نہیں دیکھتے تمھارے ساتھ سفارشیوں کو جن کو تم گمان کرتے تھے کہ ان کا تم میں ساجھا ہے‘‘ مشرکین اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا کرتے تھے، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملائکہ، انبیا اور صالحین وغیرہم کی عبادت بھی کیا کرتے تھے، حالانکہ یہ سب اللہ کی ملکیت ہیں مگر وہ لوگ ان مخلوق ہستیوں کے لیے ایک حصہ ٹھہراتے تھے اور اپنی عبادت میں ان کو شریک کرتے تھے اور یہ ان کا زعم باطل اور ظلم ہے کیونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کا مالک اور ان کی عبادت کا مستحق ہے۔ لہذا ان کے شرک فی العبادۃ، بعض بندوں کو عبادت کا مستحق ٹھہرانے اور ان کو خالق و مالک کا مقام دینے کی بنا پر قیامت کے روز ان کو زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے مذکورہ بات کہی جائے گی ﴿لَقَدۡ تَّقَطَّعَ بَيۡنَكُمۡ ﴾ ’’تمھارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے۔‘‘ یعنی آج تمھارے اور تمھارے شرکاء کے مابین سفارش وغیرہ کے تمام روابط اور تعلقات منقطع ہو گئے اور ان تعلقات نے کوئی فائدہ نہ دیا۔ ﴿ وَضَلَّ عَنۡكُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴾ ’’اور جاتے رہے وہ دعوے جو تم کیا کرتے تھے‘‘ وہ نفع، امن، سعادت اور نجات جن کے وہ بڑے بڑے دعوے کیا کرتے تھے، گم ہو گئے جن کو شیطان تمھارے سامنے مزین کیا کرتا تھا، تمھارے دلوں میں انھیں خوبصورت بنایا کرتا تھا اور تمھاری زبانوں پر ان کا ذکر رہا کرتا تھا۔ اور تم اپنے اس زعم باطل کے فریب میں مبتلا رہے جس کی کوئی حقیقت نہیں یہاں تک کہ ان تمام دعووں کا بطلان واضح ہو گیا اور ظاہر ہو گیا کہ تم خود اپنی ذات، اپنے اہل و عیال اور اپنے مال و متاع کے بارے میں خسارے میں پڑے رہے۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences