As-Sa'diAl‑Qalam · 68:1–43

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

القلم

Al-Qalam

The Pen · Meccan · 52 ayahs

68:1–7Page 564

نٓۚ وَٱلۡقَلَمِ وَمَا يَسۡطُرُونَ ١

Nūn.1 By the pen and what they inscribe,

مَآ أَنتَ بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ بِمَجۡنُونٖ ٢

You are not, [O Muḥammad], by the favor of your Lord, a madman.

وَإِنَّ لَكَ لَأَجۡرًا غَيۡرَ مَمۡنُونٖ ٣

And indeed, for you is a reward uninterrupted.

وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٖ ٤

And indeed, you are of a great moral character.

فَسَتُبۡصِرُ وَيُبۡصِرُونَ ٥

So you will see and they will see

بِأَييِّكُمُ ٱلۡمَفۡتُونُ ٦

Which of you is the afflicted [by a devil].

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَ ٧

Indeed, your Lord is most knowing of who has gone astray from His way, and He is most knowing of the [rightly] guided.

نٓ، قسم ہے قلم کی اور اس کی جو وہ لکھتے ہیں(1) نہیں ہیں آپ اپنے رب کے فضل سے دیوانے(2) اور بلاشبہ آپ کے لیے البتہ اجر ہےنہ ختم کیا جانے والا (3) اور بے شک آپ خُلقِ عظیم پر (فائز) ہیں (4) پس عنقریب آپ بھی دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے(5) کہ کون تم میں سے دیوانہ ہے؟(6) بلاشبہ آپ کا رب، وہی خوب جانتا ہے اس کو جو گمراہ ہوا اس کی راہ سے، اور وہی خوب جانتا ہے راہ پانے والوں کو(7)

تفسیر سورۂ قلم

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[2,1] اللہ تبارک و تعالیٰ ’’قلم‘‘ کی قسم کھاتا ہے۔ یہ اسم جنس ہے جو ان تمام اقلام کو شامل ہے جن کے ذریعے سے مختلف علوم کو لکھا جاتا ہے اور جن کے ذریعے سے منثور اور منظوم کلام کواحاطہء تحریر میں لایا جاتا ہے۔ اور یہ اس حقیقت پر قسم ہے کہ قلم اور جو اس کے ذریعے سے مختلف انواع کا کلام لکھا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ جو اس امر کی مستحق ہے کہ محمد ﷺ کی ان عیوب کے بارے میں براء ت پر اس کی قسم کھائی جائے جو آپ کے دشمن آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں ، یعنی جنون وغیرہ۔ پس آپ کے رب کی نعمت اور احسان سے ان عیوب کی آپ سے نفی کی گئی ہے ۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو عقل کامل، عمدہ رائے اور فصاحت و بلاغت سے لبریز کلام فیصل سے سرفراز فرمایا ہے جو بہترین کلام ہے جسے قلم لکھتے ہیں اور مخلوقات اسے قلم بند کرتی ہیں اور دنیا کے اندر یہی سعادت ہے۔

[3] پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کی اخروی سعادت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ لَكَ لَاَجۡرًا﴾ ’’آپ کے لیے بہت بڑا اجر ہے‘‘ جیسا کہ نکرہ سے مستفاد ہوتا ہے﴿ غَيۡرَ مَمۡنُوۡنٍ﴾ یعنی ایسا اجر جو کبھی منقطع نہیں ہوگا بلکہ دائمی اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس کا سبب وہ اعمال صالحہ، اخلاق کاملہ اور ہر بھلائی کی طرف وہ راہ نمائی وغیرہ ہے جو نبی ٔاکرمﷺ سے صادر ہوئی ہے۔

[4]﴿ وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اور بے شک آپ بڑے (عمدہ) اخلاق پر ہیں۔‘‘ یعنی آپ اس اخلاق کی بنا پر بلند مرتبہ ہیں اور اپنے اس خلق عظیم کی بنا پر فوقیت رکھتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا ہے۔ آپ کے خلق عظیم کا حاصل وہ ہے جس کی تفسیر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ r نے اس شخص کے سامنے بیان فرمائی تھی جس نے آپ کے اخلاق کے بارے میں ان سے پوچھا تھا، حضرت عائشہ نے فرمایا:’کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنَ‘ (صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب جامع صلاۃ اللیل....، حدیث: 746، و مسند أحمد: 91/6) ’’آپ کا خلق ہی قرآن ہے۔‘‘ یہ آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات کی طرح ہے، فرمایا:﴿ خُذِ الۡعَفۡوَ وَاۡمُرۡ بِالۡعُرۡفِ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍199) ’’عفو کا رویہ اختیار کیجیے، نیکی کا حکم دیجیے اور جاہلوں سے کنارہ کیجیے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ﴾(آل عمران:3؍159) ’’اللہ کی مہربانی سے، آپ ان کے لیے نرم خو واقع ہوئے ہیں۔‘‘ اور فرمایا:﴿ لَقَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ عَزِيۡزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيۡصٌ عَلَيۡكُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ﴾(التوبہ:9؍128) ’’تمھارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آیا ہے، تمھاری تکلیف اس پر بہت گراں گزرتی ہے، تمھاری بھلائی کا وہ بہت خواہش مند ہے، اہل ایمان پر بہت شفقت کرنے والا اور ان پر نہایت مہربان ہے۔‘‘ کتنا صحیح مصداق ہیں یہ آیات کریمہ جو آپ کے مکارم اخلاق سے متصف ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور وہ آیات کریمہ جو ہر قسم کے خلق جمیل کی ترغیب دیتی ہیں۔ وہ ان اوصاف میں کامل ترین اور جلیل ترین مقام پر فائز تھے اور ان خصائل میں سے ہر خصلت کی بلند چوٹی پر تھے۔ آپ بہت ہی نرم برتاؤ کرنے والے اور نرم خو تھے، لوگوں کے بہت قریب تھے، جو کوئی آپ کو دعوت دیتا آپ اس کی دعوت قبول کرتے تھے، جو کوئی آپ سے کسی حاجت کا طلب گار ہوتا آپ اس کی حاجت پوری کرتے تھے بلکہ آپ اس کی دل جوئی کرتے تھے۔ اگر آپ کے اصحاب کو آپ سے کام ہوتا، آپ اس کام پر ان کی موافقت کرتے اور اس بارے میں ان کی بات مانتے بشرطیکہ اس میں کوئی ایسی چیز نہ ہو جس سے بچنے کے لیے کہا گیا ہو۔ اگر کسی امر کا عزم فرماتے تو ان کو نظر انداز کر کے ان پر اپنی رائے نہیں تھوپتے تھے، بلکہ ان کے ساتھ مشاورت کر کے ان کی رائے لیتے تھے، ان کے اچھے کام کو قبول کر لیتے اور برائی کرنے والے سے درگزر کرتے تھے، کسی ہم نشین کے ساتھ معاشرت کرتے تو کامل ترین اور بہترین طریقے سے معاشرت کرتے، آپ کبھی اپنی پیشانی پر بل ڈالتے نہ آپ کبھی کوئی سخت بات کہتے، نہ آپ کسی سے منہ موڑتے، نہ آپ اس کی زبان کی لغزش پر گرفت کرتے اور نہ اس کی طرف سے کسی سخت رویے پر مواخذہ فرماتے، بلکہ اس کے ساتھ انتہائی حسن سلوک سے پیش آتے اور اسے انتہائی حد تک برداشت کرتے۔

[6,5] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ کو بلند ترین مقام پر فائز فرمایا اور آپ کے دشمن آپ کی طرف منسوب کرتے تھے کہ آپ مجنون اور دیوانے ہیں تو فرمایا: ﴿ فَسَتُبۡصِرُ وَيُبۡصِرُوۡنَۙ ۰۰ بِاَىيِّكُمُ الۡمَفۡتُوۡنُ﴾ ’’پس عنقریب آپ دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے۔‘‘ اور یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ ہدایت یافتہ، اپنے لیے اور دوسروں کے لیے سب سے زیادہ کامل ہیں، نیز یہ بھی واضح ہو گیا کہ آپ کے دشمن، لوگوں میں سب سے زیادہ گمراہ اور سب سے زیادہ شر پسند ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کے بندوں کو فتنے میں ڈالا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے بھٹکا دیا، اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا علم کافی ہے، وہی محاسبہ کرنے والا اور جزا دینے والا ہے۔

[7] اور ﴿ هُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ١۪ وَهُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُهۡتَدِيۡنَ﴾ ’’وہ اس کو خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹک گیا اور ان کو بھی خوب جانتا ہے جو سیدھے راستے پر چل رہے ہیں۔‘‘ اس میں گمراہ لوگوں کے لیے تہدید اور ہدایت یافتہ لوگوں کے لیے وعدہ ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت کا بیان ہے کہ وہ اس شخص کو ہدایت سے نوازتا ہے جو ہدایت کے لائق ہوتا ہے۔

68:8–16Page 564

فَلَا تُطِعِ ٱلۡمُكَذِّبِينَ ٨

Then do not obey the deniers.

وَدُّواْ لَوۡ تُدۡهِنُ فَيُدۡهِنُونَ ٩

They wish that you would soften [in your position], so they would soften [toward you].

وَلَا تُطِعۡ كُلَّ حَلَّافٖ مَّهِينٍ ١٠

And do not obey every worthless habitual swearer

هَمَّازٖ مَّشَّآءِۭ بِنَمِيمٖ ١١

[And] scorner, going about with malicious gossip -

مَّنَّاعٖ لِّلۡخَيۡرِ مُعۡتَدٍ أَثِيمٍ ١٢

A preventer of good, transgressing and sinful,

عُتُلِّۭ بَعۡدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ ١٣

Cruel, moreover, and an illegitimate pretender.1

أَن كَانَ ذَا مَالٖ وَبَنِينَ ١٤

Because he is a possessor of wealth and children,

إِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِ ءَايَٰتُنَا قَالَ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ ١٥

When Our verses are recited to him, he says, "Legends of the former peoples."

سَنَسِمُهُۥ عَلَى ٱلۡخُرۡطُومِ ١٦

We will brand him upon the snout.1

پس نہ اطاعت کریں آپ تکذیب کرنے والوں کی(8) وہ چاہتے ہیں کہ آپ نرمی اختیار کریں تو وہ بھی نرم پڑ جائیں(9) اور نہ اطاعت کریں آپ ہر قسمیں کھانے والے نہایت حقیر کی (10) جو بڑا ہی عیب جو، چلتا پھرتا چغل خور ہے (11) بہت روکنے والا بھلائی سے، حد سے گزرنے والا سخت گناہ گار ہے (12) اُجَڈ علاوہ اس کے حرام زادہ ہے (13) یہ اس لیے کہ (وہ) مال اور بیٹوں والا ہے (14) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیات تو کہتا ہے، (یہ)افسانے ہیں پہلوں کے (15) عنقریب ہم داغ لگائیں گے اسے (اس کی) سونڈ (ناک) پر (16)

[8] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ فَلَا تُطِعِ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠﴾ جنھوں نے آپ کو جھٹلایا اور حق کے ساتھ عناد رکھا یہ لوگ اس قابل نہیں ہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے کیونکہ یہ صرف اسی بات کا حکم دیتے ہیں جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہوتی ہے اور یہ باطل کے سوا کچھ نہیں چاہتے، پس ان کی اطاعت کرنے والا اس چیز کی طرف بڑھتا ہے جو اس کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ آیت کریمہ ہر جھٹلانے والے اور ہر اس اطاعت کے لیے عام ہے جو تکذیب سے جنم لیتی ہے اگرچہ اس کا سیاق ایک خاص معاملے میں ہے، اور وہ یہ ہے کہ کفار نے آپ سے مطالبہ کیا تھا کہ آپ ان کے معبودوں اور ان کے دین کے بارے میں خاموش ہو جائیں، وہ بھی آپ کے بارے میں خاموش رہیں گے۔

[9] لہٰذا فرمایا: ﴿ وَدُّوۡا﴾ یعنی مشرکین چاہتے ہیں ﴿ لَوۡ تُدۡهِنُ﴾ کہ آپ ان کے موقف سے موافقت کریں قول کے ذریعے سے یا فعل کے ذریعے سے، یا جہاں کلام کرنا ضرور ٹھہرتا ہو وہاں خاموش رہیں ﴿ فَيُدۡهِنُوۡنَ﴾ ’’تو وہ بھی نرم ہوجائیں۔‘‘ مگر آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حق کو کھلم کھلا بیان کیا اور دین اسلام کا اظہار کیا کیونکہ اس کا کامل اظہار، اس کی ضد کے نقض اور اس کے متناقض نظریات کے عیب کا اظہار ہے۔

[10]﴿ وَلَا تُطِعۡ كُلَّ حَلَّافٍ ﴾ ’’اور کسی ایسے شخص کی بات نہ ماننا جو بہت قسمیں کھانے والا ہو۔‘‘ کیونکہ اتنی زیادہ قسمیں کھانے والا جھوٹا ہی ہو سکتا ہے، اور آدمی جھوٹا نہیں ہو سکتا جب تک وہ ﴿ مَّهِيۡنٍ﴾ خسیس النفس اور دانائی سے تہی دست نہ ہو اور اسے بھلائی میں کوئی رغبت نہ ہو بلکہ اس کا ارادہ اس کے خسیس نفس کی شہوات پر مرتکز ہو۔

[11]﴿ هَمَّازٍ﴾ یعنی جو لوگوں کی بہت زیادہ عیب چینی کرتا ہے اور غیبت و استہزا کے ذریعے سے طعنہ زنی کرتا ہے ﴿ مَّشَّآءٍۭؔ بِنَمِيۡمٍ﴾ یعنی لوگوں کے درمیان چغل خوری کرتا پھرتا ہے۔چغل خوری یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان فساد ڈالنے اور عداوت اور بغض پیدا کرنے کی غرض سے ایک کی بات دوسرے تک پہنچائی جائے۔

[12]﴿ مَّنَّاعٍ لِّلۡخَيۡرِ﴾ بھلائی ، یعنی نفقات واجبہ، کفارہ، زکاۃ وغیرہ سے منع کرنے والا ہے۔ ﴿ مُعۡتَدٍ﴾ مخلوق پر زیادتی کرنے والا، لوگوں کی جان و مال اور ان کی ناموس میں ظلم کرنے والا ﴿ اَثِيۡمٍ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے حقوق سے متعلق بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ہے۔

[13]﴿عُتُلٍّۭؔ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ یعنی درشت خو، بدخلق اور سخت طبیعت رکھنے والا جو حق کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتا ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ﴿زَنِيۡمٍ﴾ ’’بدذات ہے‘‘ یعنی مجہول النسب جس کی کوئی اصل ہونہ ایسا مادہ کہ جس سے کوئی بھلائی منتج ہوتی ہے بلکہ اس کے اخلاق بدترین اخلاق ہیں۔ اس سے فلاح کی امید نہیں اور اس میں شر کی علامت ہے جس سے وہ پہچانا جاتا ہے۔

[14] ان تمام آیات کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص کی اطاعت سے روکا ہے جو نہایت کثرت سے قسمیں کھانے والا، سخت جھوٹا، خسیس النفس، نہایت بداخلاق، خاص طور پر وہ ایسے برے اخلاق کا مالک ہے جو خود پسند، مخلوق اور حق کے مقابلے میں تکبر و استکبار، غیبت چغلی اور طعنہ زنی کے ذریعے سے لوگوں سے حقارت کا رویہ رکھنے اور گناہوں کی کثرت کے متضمن ہیں۔

[15] یہ آیات کریمہ....بعض مشرکین کے بارے میں نازل ہوئیں، مثلاً: ولید بن مغیرہ وغیرہ کیونکہ اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ اَنۡ كَانَ ذَا مَالٍ وَّبَنِيۡنَؕ۰۰ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا قَالَ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ کیونکہ اپنے مال اور اولاد کی وجہ سے اس نے سرکشی اختیار کی، حق کے مقابلے میں تکبر و استکبار کا مظاہرہ کیا، جب حق اس کے پاس آیا تو اس کو ٹھکرا دیا اور اسے پہلوں کے قصے کہانیاں قرار دیاجن میں سچ اور جھوٹ دونوں ممکن ہیں ...لیکن یہ آیات کریمہ ہر اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو اس وصف سے متصف ہو کیونکہ قرآن کریم تمام مخلوق کی ہدایت کے لیے نازل ہوا اور اس میں امت کے اولین و آخرین سب داخل ہیں۔بسا اوقات بعض آیات کسی شخص کے سبب سے نازل ہوتی ہیں تاکہ ان سے عام قاعدہ واضح ہو جائے اور عام قضیوں میں داخل جزئیات کی مثالوں کی معرفت حاصل ہو جائے۔

[16] پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو وعید سنائی ہے جس سے یہ سب کچھ واقع ہوا جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ عذاب میں اس کی ناک پر داغ لگائے گا اور اسے ظاہری عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اس کے چہرے پر داغ اور علامت لگی ہوگی جہاں داغ کا لگایا جانا سب سے زیادہ شاق گزرتا ہے۔

68:17–33Page 565

إِنَّا بَلَوۡنَٰهُمۡ كَمَا بَلَوۡنَآ أَصۡحَٰبَ ٱلۡجَنَّةِ إِذۡ أَقۡسَمُواْ لَيَصۡرِمُنَّهَا مُصۡبِحِينَ ١٧

Indeed, We have tried them as We tried the companions of the garden, when they swore to cut its fruit in the [early] morning

وَلَا يَسۡتَثۡنُونَ ١٨

Without making exception.1

فَطَافَ عَلَيۡهَا طَآئِفٞ مِّن رَّبِّكَ وَهُمۡ نَآئِمُونَ ١٩

So there came upon it [i.e., the garden] an affliction from your Lord while they were asleep.

فَأَصۡبَحَتۡ كَٱلصَّرِيمِ ٢٠

And it became as though reaped.

فَتَنَادَوۡاْ مُصۡبِحِينَ ٢١

And they called one another at morning,

أَنِ ٱغۡدُواْ عَلَىٰ حَرۡثِكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰرِمِينَ ٢٢

[Saying], "Go early to your crop if you would cut the fruit."

فَٱنطَلَقُواْ وَهُمۡ يَتَخَٰفَتُونَ ٢٣

So they set out, while lowering their voices,

أَن لَّا يَدۡخُلَنَّهَا ٱلۡيَوۡمَ عَلَيۡكُم مِّسۡكِينٞ ٢٤

[Saying], "There will surely not enter it today upon you [any] poor person."

وَغَدَوۡاْ عَلَىٰ حَرۡدٖ قَٰدِرِينَ ٢٥

And they went early in determination, [assuming themselves] able.1

فَلَمَّا رَأَوۡهَا قَالُوٓاْ إِنَّا لَضَآلُّونَ ٢٦

But when they saw it, they said, "Indeed, we are lost;

بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُومُونَ ٢٧

Rather, we have been deprived."

قَالَ أَوۡسَطُهُمۡ أَلَمۡ أَقُل لَّكُمۡ لَوۡلَا تُسَبِّحُونَ ٢٨

The most moderate of them said, "Did I not say to you, 'Why do you not exalt [Allāh]?'"1

قَالُواْ سُبۡحَٰنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَ ٢٩

They said, "Exalted is our Lord! Indeed, we were wrongdoers."

فَأَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ يَتَلَٰوَمُونَ ٣٠

Then they approached one another, blaming each other.

قَالُواْ يَٰوَيۡلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَٰغِينَ ٣١

They said, "O woe to us; indeed we were transgressors.

عَسَىٰ رَبُّنَآ أَن يُبۡدِلَنَا خَيۡرٗا مِّنۡهَآ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا رَٰغِبُونَ ٣٢

Perhaps our Lord will substitute for us [one] better than it. Indeed, we are toward our Lord desirous."1

كَذَٰلِكَ ٱلۡعَذَابُۖ وَلَعَذَابُ ٱلۡأٓخِرَةِ أَكۡبَرُۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ ٣٣

Such is the punishment [of this world]. And the punishment of the Hereafter is greater, if they only knew.

بلاشبہ ہم نے آزمایا ہے ان کو جیسے آزمایا تھا ہم نے باغ والوں کو جب انھوں نے قسمیں کھائیں کہ وہ ضرور کاٹ (توڑ) لیں گے (پھل) اس کا صبح ہوتے ہی (17) اور نہیں کہتے تھے وہ ان شاء اللہ (18) پس پھر گیا اس باغ پر ایک (عذاب) پھرنے والا آپ کے رب کی طرف سے جب کہ وہ سو رہے تھے(19) تو ہو گیا وہ باغ مانند کٹی ہوئی کھیتی کے (20) پس ایک دوسرے کو پکارا انھوں نے صبح ہوتے ہی (21) یہ کہ سویرے (سویرے) چلو تم اپنی کھیتی پر اگر ہو تم (پھل) توڑنے والے (22) چنانچہ وہ چل پڑے اور وہ چپکے چپکے آپس میں کہہ رہے تھے (23) کہ (قطعًا) نہ داخل ہونے پائے باغ میں آج تم پر کوئی مسکین (24) اور وہ صبح سویرے نکلے (مسکین کو) روکنے پر قادر (سمجھتے ہوئے)(25) پس جب انھوں نے دیکھا اس کو تو کہا، یقیناً ہم البتہ (راہ) بھول گئے ہیں (26)(نہیں)بلکہ ہم تو محروم ہو گئے (27)کہا ان میں سے بہتر نے، کیا نہیں کہا تھا میں نے تمھیں کیوں نہیں تم تسبیح کرتے؟ (28) انھوں نے کہا: پاک ہے ہمارا رب،بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم(29) پس متوجہ ہوا ایک ان کا، دوسرے پر آپس میں ملامت کرتے ہوئے (30) انھوں نے کہا: ہائے افسوس ہم پر! بلاشبہ ہم ہی تھے سرکش (31) امید ہے ہمارا رب، یہ کہ بدلے میں دے وہ ہمارے لیے بہتر اس سے، بے شک ہم اپنے رب کی طرف رغبت کرنےوالے ہیں (32) اسی طرح ہوتا ہے عذاب اور البتہ عذاب آخرت (اس سے) بہت بڑا ہے، کاش کہ ہوتے وہ جانتے (33)

[18,17] اللہ تعالیٰ فرماتا ہےہم نے ان جھٹلانے والوں کو بھلائی کے ساتھ آزمایا ، ہم نے انھیں مہلت دی اور ہم نے ان کی خواہشات نفس کے موافق مال و دولت اور لمبی عمر وغیرہ سے جس سے چاہا، انھیں نوازا۔ اس کا سبب یہ نہ تھا کہ ہمارے نزدیک ان کی کرامت تھی بلکہ بسا اوقات یہ سب کچھ انھیں استدراج کے طور پر عطا کیا جاتا ہےجس کا انھیں علم تک نہیں ہوتا۔ پس ان کا ان نعمتوں کی وجہ سے دھوکے میں مبتلا ہونا، اس باغ والوں کی فریب خوردگی کی مانند ہے جو باغ کی ملکیت میں شریک تھے جب درختوں کے پھل لگ گئے اور پھلوں نے رنگ پکڑ لیا اور ان کی برداشت کا وقت آن پہنچا، انھیں یقین تھا کہ باغ کی فصل ان کے ہاتھ میں ہے اور کوئی ایسا مانع نہیں جو باغ کی فصل برداشت کرنے سے روکے، اس لیے ان تمام شرکاء نے قسم کھائی اور کسی استثنا (ان شاء اللہ کہنے) کے بغیر حلف اٹھایا کہ وہ فصل کاٹیں گے ، یعنی صبح کے وقت ان کا پھل چنیں گے۔ انھیں اس بات کا ہرگز علم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی گھات میں ہے اور عذاب ان کو پیچھے چھوڑ دے گا اور ان سے آگے بڑھ کر باغ کو جا لے گا۔

[20,19]﴿ فَطَافَ عَلَيۡهَا طَآىِٕفٌ مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’پس تمھارے رب کی طرف سے اس پر ایک آفت پڑ گئی۔‘‘ یعنی ایک عذاب جو رات کے وقت اس باغ پر نازل ہوا ﴿ وَهُمۡ نَآىِٕمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ محو خواب تھے‘‘ پس اس عذاب نے اسے تباہ و برباد کر دیا ﴿ فَاَصۡبَحَتۡ كَالصَّرِيۡمِ﴾ ’’پس وہ ایسے ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی۔‘‘ یعنی اندھیری رات کی مانند، تمام درخت اور پھل ملیامیٹ ہو گئے۔

[22,21] مگر انھیں نازل ہونے والی اس مصیبت کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا، اس لیے جب صبح ہوئی تو انھوں نے ایک دوسرے کو یہ کہتے ہوئے آواز دی:﴿ اَنِ اغۡدُوۡا عَلٰى حَرۡثِكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰرِمِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی جا پہنچو۔‘‘

[24,23]﴿فَانۡطَلَقُوۡا﴾ ’’پس وہ چل پڑے ۔‘‘ باغ کا قصد کر کے ﴿ وَهُمۡ يَتَخَافَتُوۡنَ﴾ اور ان کی حالت یہ تھی کہ وہ آپس میں چپکے چپکے اللہ تعالیٰ کے حق سے ایک دوسرے کو روکتے جا رہے تھے اور کہہ رہے تھے: ﴿ اَنۡ لَّا يَدۡخُلَنَّهَا الۡيَوۡمَ عَلَيۡكُمۡ مِّسۡكِيۡنٌ﴾ ’’آج تمھارے پاس کوئی فقیر نہ آنے پائے۔‘‘ یعنی لوگوں کے پھیلنے سے پہلے، صبح صبح گھروں سے نکل پڑو اور اس کے ساتھ ساتھ وہ فقراء اور مساکین کو محروم کرنے کے لیے باہم تلقین کرتے جا رہے تھے۔

[25]﴿ وَّغَدَوۡا ﴾ انتہائی بری، قساوت اور بے رحمی کی حالت میں انھوں نے صبح کی ﴿ عَلٰى حَرۡدٍ قٰدِرِيۡنَ ﴾ یعنی گویا کہ وہ یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حق کو روکنے پر قادر ہیں اور انھیں پختہ یقین ہے کہ وہ اس باغ پر قدرت رکھتے ہیں۔

[27,26]﴿ فَلَمَّا رَاَوۡهَا ﴾ جب انھوں نے باغ کو اس وصف پر دیکھا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ وہ کٹی ہوئی کھیتی کی مانند تھا۔ ﴿ قَالُوۡۤا ﴾ تو انھوں نے حیرت اور بے قراری سے کہا: ﴿ اِنَّا لَضَآلُّوۡنَ﴾ ہم باغ سے بھٹک گئے ہیں، شاید یہ کوئی اور باغ ہو۔ پس جب متحقق ہو گیا کہ یہ وہی باغ ہے اور ان کے عقل و حواس لوٹے تو کہنے لگے:﴿ بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُوۡمُوۡنَ ﴾ ہم اس باغ سے محروم ہیں۔ اس وقت وہ پہچان گئے کہ یہ سزا ہے۔

[28]﴿ قَالَ اَوۡسَطُهُمۡ ﴾ یعنی ان میں سے سب سے زیادہ انصاف پسند اور سب سے اچھا طریقہ رکھنے والے نے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّـكُمۡ لَوۡلَا تُسَبِّحُوۡنَ﴾ کیا میں نے تمھیں نہیں کہا تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کو ان اوصاف سے منزہ کیوں قرار نہیں دیتے جو اس کے لائق نہیں؟ ان میں سے ایک یہ کہ تمھارا گمان ہے کہ تمھاری قدرت ایک مستقل حیثیت رکھتی ہے، تم نے ’’ان شاء اللّٰہ‘‘ کہہ کر استثنا کیا ہوتا اور اپنی مشیت کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع کیا ہوتا، تو تمھارے ساتھ وہ کچھ نہ ہوتا جو ہوا ہے۔

[29]﴿ قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ کہنے لگے کہ ہمارا رب پاک ہے، بے شک ہم ہی قصوروار تھے۔‘‘ اس کے بعد انھوں نے اپنی کوتاہی کا تدارک کیا مگر اس وقت جب ان کے باغ پر عذاب نازل ہو چکا تھا جو اٹھایا نہیں جا سکتا تھا۔ ہو سکتا ہے ان کی یہ تسبیح، اپنی جانوں پر ظلم کرنے کا اقرار، تخفیف گناہ میں کوئی فائدہ دے اور توبہ بن جائے۔

[32-30] اس لیے وہ سخت نادم ہوئے۔ ﴿ فَاَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ يَّتَلَاوَمُوۡنَ۠ ﴾ جو کچھ ان سے صادر ہوا اور جو کچھ انھوں نے کیا اس بارے میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ ﴿ قَالُوۡا يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِيۡنَ ﴾’’کہنے لگے، ہائے شامت، ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے۔‘‘ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کے حق اور اس کے بندوں کے حق کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے والے تھے۔﴿ عَسٰؔى رَبُّنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَنَا خَيۡرًا مِّؔنۡهَاۤ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰؔغِبُوۡنَ ﴾ پس انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ انھیں اس سے بہتر عطا کرے گا اور انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف راغب ہوں گے اور اس دنیا میں اس کے سامنے اصرار کے ساتھ التجائیں کرتے رہیں گے پس اگر وہ ایسے ہی ہیں جیسے وہ کہتے ہیں تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان کے حال کو بدل دیا ہوگا کیونکہ جو کوئی صدق دل سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے، اس کی طرف راغب ہوتا ہے اور اس کے ساتھ امید وابستہ کرتا ہے تو وہ جو کچھ اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے وہ اسے عطا کرتا ہے۔

[33] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو کچھ وقوع پذیر ہوا، اسے بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ الۡعَذَابُ ﴾ یعنی اس شخص کے لیے اسی طرح دنیاوی عذاب ہے جو عذاب کے اسباب کو اختیار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے وہ چیز سلب کر لے جس کی بنیاد پر اس نے سرکشی اور بغاوت کا رویہ اپنایا اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی،نیز یہ کہ وہ اس سے وہ چیز زائل کر دے جس کا وہ سب سے زیادہ ضرورت مند ہے ﴿ وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَكۡبَرُ ﴾ دنیا کے عذاب سے آخرت کا عذاب زیادہ بڑا ہے ﴿ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’کاش انھیں سمجھ ہوتی۔‘‘ کیونکہ جو کوئی اس حقیقت کو جانتا ہے تو یہ علم اسے ہر اس سبب سے باز رکھتا ہے جو عذاب کا موجب اور ثواب سے محروم رکھنے والا ہے۔

68:34–41Page 565

إِنَّ لِلۡمُتَّقِينَ عِندَ رَبِّهِمۡ جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ ٣٤

Indeed, for the righteous with their Lord are the Gardens of Pleasure.

أَفَنَجۡعَلُ ٱلۡمُسۡلِمِينَ كَٱلۡمُجۡرِمِينَ ٣٥

Then will We treat the Muslims like the criminals?

مَا لَكُمۡ كَيۡفَ تَحۡكُمُونَ ٣٦

What is [the matter] with you? How do you judge?

أَمۡ لَكُمۡ كِتَٰبٞ فِيهِ تَدۡرُسُونَ ٣٧

Or do you have a scripture in which you learn

إِنَّ لَكُمۡ فِيهِ لَمَا تَخَيَّرُونَ ٣٨

That indeed for you is whatever you choose?

أَمۡ لَكُمۡ أَيۡمَٰنٌ عَلَيۡنَا بَٰلِغَةٌ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ إِنَّ لَكُمۡ لَمَا تَحۡكُمُونَ ٣٩

Or do you have oaths [binding] upon Us, extending until the Day of Resurrection, that indeed for you is whatever you judge?

سَلۡهُمۡ أَيُّهُم بِذَٰلِكَ زَعِيمٌ ٤٠

Ask them which of them, for that [claim], is responsible.

أَمۡ لَهُمۡ شُرَكَآءُ فَلۡيَأۡتُواْ بِشُرَكَآئِهِمۡ إِن كَانُواْ صَٰدِقِينَ ٤١

Or do they have partners?1 Then let them bring their partners, if they should be truthful.

بلاشبہ متقی لوگوں کے لیے ان کے رب کے ہاں باغات ہیں نعمت کے (34) کیا پس ہم کر دیں گے مسلمانوں کو مجرموں کی طرح؟ (35) کیا ہے تمھیں کیسے فیصلے کرتے ہو تم؟ (36) کیا تمھارے پاس کوئی کتاب ہے کہ اس میں تم پڑھتے ہو؟ (37) کہ بلاشبہ تمھارے لیے اس میں البتہ وہ چیز ہے جو تم پسند کرتے ہو (38) کیا تمھارے لیے قسمیں ہیں ہمارے ذمے انتہائی پختہ یوم قیامت تک، کہ یقیناً تمھارے لیے البتہ وہ ہو گا جو تم فیصلہ کرو گے؟(39) پوچھیے ان سے کون ان میں سے اس (بات) کا ضامن ہے؟ (40) کیا ان کے لیے (ہمارے) شریک ہیں؟ تو چاہیے کہ لے آئیں وہ اپنے شریکوں کو اگر ہیں وہ سچے (41)

[41-34] اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو اس نے کفر اور معاصی سے بچنے والوں کے لیے تیار کر رکھی ہیں، یعنی مختلف انواع کی نعمتیں اور اکرم الاکر مین کے جوار میں ہر قسم کے تکدر سے پاک زندگی ،نیز وہ آگاہ فرماتا ہے کہ اس کی حکمت تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اہل تقویٰ، اپنے رب کے فرمان بردار بندوں، اس کے احکام کی تعمیل کرنے والوں اور اس کی مرضی کی اتباع کرنے والوں کو مجرموں کے برابر قرار دے جنھوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، اس کی آیات اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر اور اس کے اولیاء کے ساتھ محاربت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کو ثواب میں برابر قرار دے گا تو اس نے نہایت برا فیصلہ کیا ہے اس کا فیصلہ باطل اور اس کی رائے فاسد ہے۔اور مجرم جب یہ دعویٰ کرتے ہیں تو ان کے پاس کوئی سند ہے نہ کوئی ایسی کتاب ہے جسے یہ پڑھتے اور اس کی تلاوت کرتے ہوں کہ وہ جنتی ہیں اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گی جو وہ منتخب کریں گے اور طلب کریں گے ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت تک ان کے لیے اس بات کا عہد ہے نہ حلف کہ ان کے لیے وہ سب کچھ ہو جس کا وہ فیصلہ کریں، جو کچھ وہ طلب کرتے ہیں، اس کے حصول میں ان کے کوئی شریک اور معاون بھی نہیں ہیں۔ اگر ان کے شرکاء اور معاون و مددگار ہیں تو ان کو لائیں اگر وہ سچے ہیں۔ یہ بات معلوم ہے کہ یہ سب کچھ بہت بعید ہے، ان کے پاس کوئی کتاب ہے نہ نجات کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے کوئی عہد ہے اور نہ ان کے شریک ہیں جو ان کی مدد کریں، پس معلوم ہوا کہ ان کا دعویٰ باطل اور فاسد ہے۔ ﴿ سَلۡهُمۡ اَيُّهُمۡ بِذٰلِكَ زَعِيۡمٌ ﴾ یعنی ان سے پوچھو کہ اس دعویٰ کی کون ذمہ داری اٹھاتا ہے جس کا بطلان واضح ہے۔ کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اسے لے کر آگے بڑھے اور نہ وہ اس میں ضامن ہی بن سکتا ہے۔

68:42–43Page 565

يَوۡمَ يُكۡشَفُ عَن سَاقٖ وَيُدۡعَوۡنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ ٤٢

The Day the shin will be uncovered1 and they are invited to prostration but they [i.e., the disbelievers] will not be able,

خَٰشِعَةً أَبۡصَٰرُهُمۡ تَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٞۖ وَقَدۡ كَانُواْ يُدۡعَوۡنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ وَهُمۡ سَٰلِمُونَ ٤٣

Their eyes humbled, humiliation will cover them. And they used to be invited to prostration while they were sound.1

جس دن کھولا جائے گا پنڈلی سے اور بلائے جائیں گے وہ سجدے کی طرف تو نہیں استطاعت رکھیں گے وہ (42) جھکی ہوں گی ان کی نگاہیں ، ڈھانپتی ہو گی انھیں ذلت، اور تحقیق تھے وہ بلائے جاتے طرف سجدے (عبادت) کی جبکہ وہ صحیح سالم تھے (43)

[43,42] یعنی جب قیامت کا دن ہو گا اور ایسے ایسے زلزلے اور ہولناکیاں ظاہر ہوں گی جو وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتیں، باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کرنے اور ان کو جزا و سزا دینے کے لیے تشریف لائے گا۔ پس وہ اپنی مکرم پنڈلی کو ظاہر کرے گا جس سے کوئی چیز مشابہت نہیں رکھتی، لوگ اللہ تعالیٰ کا جلال اور عظمت دیکھیں گے جس کی تعبیر ممکن نہیں۔ یہی وہ وقت ہو گا جب ان کو سجدے کے لیے کہا جائے گا۔ مومن اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں گے جو (دنیا میں) اپنی مرضی اور اختیار سے سجدہ کیا کرتے تھے۔منافق اور فاجر سجدہ کرنے کی کوشش کریں گے مگر وہ سجدہ کرنے پر قادر نہیں ہوں گے، ان کی کمریں ایسی ہو جائیں گی جیسے گائے کے سینگ جو جھک نہ سکیں گی۔ یہ جزا ان کے عمل کی جنس میں سے ہے کیونکہ دنیا کے اندر انھیں سجدے کرنے، توحید اور عبادت کے لیے بلایا جاتا، درآں حالیکہ وہ صحیح سلامت ہوتے تھے اور ان میں کوئی بیماری نہ ہوتی تھی تو وہ تکبر و استکبار سے سجدے سے انکار کر دیتے تھے۔ اس دن ان کے حال اور برے انجام کے بارے میں مت پوچھ کیونکہ اس دن اللہ تعالیٰ ان پر سخت ناراض ہو گا، کلمۂ عذاب ان پر حق ثابت ہو گا، ان کے تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے اور قیامت کے روز ندامت اور اعتذار کوئی فائدہ نہ دیں گے … پس اس آیت میں ایسی چیزوں کا بیان ہے جو قلوب کو گناہوں پر قائم رہنے سے ڈراتی ہیں اور مدت امکان کے اندر تدارک کی موجب ہیں۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском