As-Sa'diAl‑A'raf · 7:1–23

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

الأعراف

Al-A'raf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

7:1–7Page 151

الٓمٓصٓ ١

Alif, Lām, Meem, Ṣād.1

كِتَٰبٌ أُنزِلَ إِلَيۡكَ فَلَا يَكُن فِي صَدۡرِكَ حَرَجٞ مِّنۡهُ لِتُنذِرَ بِهِۦ وَذِكۡرَىٰ لِلۡمُؤۡمِنِينَ ٢

[This is] a Book revealed to you, [O Muḥammad] - so let there not be in your breast distress therefrom - that you may warn thereby and as a reminder to the believers.

ٱتَّبِعُواْ مَآ أُنزِلَ إِلَيۡكُم مِّن رَّبِّكُمۡ وَلَا تَتَّبِعُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَۗ قَلِيلٗا مَّا تَذَكَّرُونَ ٣

Follow, [O mankind], what has been revealed to you from your Lord and do not follow other than Him any allies. Little do you remember.

وَكَم مِّن قَرۡيَةٍ أَهۡلَكۡنَٰهَا فَجَآءَهَا بَأۡسُنَا بَيَٰتًا أَوۡ هُمۡ قَآئِلُونَ ٤

And how many cities have We destroyed, and Our punishment came to them at night or while they were sleeping at noon.

فَمَا كَانَ دَعۡوَىٰهُمۡ إِذۡ جَآءَهُم بَأۡسُنَآ إِلَّآ أَن قَالُوٓاْ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَ ٥

And their declaration when Our punishment came to them was only that they said, "Indeed, we were wrongdoers!"

فَلَنَسۡـَٔلَنَّ ٱلَّذِينَ أُرۡسِلَ إِلَيۡهِمۡ وَلَنَسۡـَٔلَنَّ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ٦

Then We will surely question those to whom [a message] was sent, and We will surely question the messengers.

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيۡهِم بِعِلۡمٖۖ وَمَا كُنَّا غَآئِبِينَ ٧

Then We will surely relate [their deeds] to them with knowledge, and We were not [at all] absent.

الٓـمٓصٓ(1)(یہ) کتاب،اتاری گئی ہے آپ کی طرف،پس نہ ہو آپ کے سینے میں تنگی اس سے،تاکہ ڈرائیں آپ اس کے ذریعے اور نصیحت ہے مومنوں کے لیے(2)تم پیروی کرو اس چیز کی جو اتاری گئی ہے تمھاری طرف،تمھارے رب کی طرف سے اور نہ پیروی کرو تم اس کے سوا(اور) دوستوں کی بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہوتم(3)اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہلاک کردیا ہم نے ان کو،پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب رات کو یا جبکہ وہ دوپہر کو آرام کررہے تھے(4) پھر نہ تھی ان کی پکار جب آگیا ان کے پاس ہمارا عذاب،مگر یہ کہ کہا انھوں نے!بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم(5)پس ہم پوچھیں گے ان لوگوں سے کہ بھیجے گئے ان کی طرف(رسول) اور ضرورپوچھیں گے ہم بھیجے گئے(رسولوں)سے (6) پھر ہم بیان کریں گے(سب کچھ) ان پر ساتھ علم کےاور نہ تھے ہم غائب(7)

[2,1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ سے قرآن کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ كِتٰبٌ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ کتاب اتاری گئی ہے آپ پر‘‘ یعنی یہ نہایت جلیل القدر کتاب جو ان امور پر مشتمل ہے جن کے بندے محتاج ہیں اور اس میں تمام مطالب الہیہ اور مقاصد شرعیہ محکم اور مفصل طور پر موجود ہیں ﴿فَلَا يَؔكُنۡ فِيۡ صَدۡرِكَ حَرَجٌ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’پس آپ کا سینہ اس (کے پہنچانے) سے تنگ نہ ہو‘‘ یعنی آپ کے دل میں کوئی تنگی اور شک و شبہ نہ ہو۔ بلکہ تاکہ آپ جان لیں کہ یہ حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور سب سے سچا کلام ہے۔ ﴿ لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ ﴾(حم السجدہ: 41؍42) ’’باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے‘‘ اس لیے آپ کے سینے کو کشادہ اور آپ کے دل کو مطمئن ہونا چاہیے۔ پس آپ اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہی کو کھول کر بیان کیجیے اور کسی کی ملامت اور مخالفت سے نہ ڈریے۔ ﴿ لِتُنۡذِرَ بِهٖ ﴾ ’’تاکہ آپ اس کے ذریعے سے (لوگوں کو) ڈرائیں ۔‘‘ اس کتاب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو ڈرائیے اور ان کو وعظ و نصیحت کیجیے۔ پس اس طرح معاندین حق پر حجت قائم ہو جائے گی۔ ﴿ وَذِكۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور اہل ایمان کے لیے یاد دہانی ہوگی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَّذَكِّرۡ فَاِنَّ الذِّكۡرٰى تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الذاریات: 51؍55) ’’نصیحت کیجیے کیونکہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔‘‘اہل ایمان کو اس کے ذریعے سے صراط مستقیم، ظاہری اور باطنی اعمال کی یاددہانی ہوگی اور ان امور کے بارے میں بھی یاد دہانی ہوگی جو بندے اور اس کے سلوک کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں ۔

[3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندوں کو اپنی کتاب کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ ﴾ ’’پیروی کرو اس چیز کی جو اتاری گئی تمھاری طرف‘‘ یعنی اس کتاب کی جو میں تمھاری خاطر نازل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ﴿ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾’’تمھارے رب کی طرف سے‘‘ جو تمھاری تربیت کی تکمیل چاہتا ہے اس مقصد کے لیے اس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، اگر تم اس کتاب کی پیروی کرو گے تو تمھاری تربیت مکمل ہو جائے گی، تم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت پوری ہو جائے گی اور تمھیں بہترین اور بلند ترین اعمال کی طرف راہنمائی نصیب ہوگی۔﴿ وَلَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَؔ﴾ ’’اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو دوست نہ بناؤ، جن کی خواہشات کی تم پیروی کرو اور ان کی خاطر تم حق کو چھوڑ دو ﴿ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو‘‘ اگر تم نصیحت حاصل کر لیتے اور مصلحت کو پہچان لیتے تو تم ضرر رساں چیز کو نفع بخش چیز پر اور دشمن کو دوست پر کبھی ترجیح نہ دیتے۔

[4] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سزاؤں سے ڈرایا ہے جو اس نے ان قوموں کو دیں جنھوں نے اپنے رسولوں اور ان کی دعوت کو جھٹلایا۔ پس وہ ان کی مشابہت اختیار نہ کریں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَمۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَكۡنٰهَا فَجَآءَهَا بَاۡسُنَا ﴾ ’’اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کر دیں ، پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب‘‘ یعنی ہمارا سخت عذاب ان پر نازل ہوا ﴿ بَيَاتًا اَوۡ هُمۡ قَآىِٕلُوۡنَ﴾ ’’راتوں رات یا دوپہر کو سوتے ہوئے‘‘ یعنی ہمارا عذاب ان کی غفلت کی حالت میں نازل ہوا۔ جبکہ وہ خواب غفلت کے مزے لے رہے تھے اور ہلاکت کا ان کے دل میں کبھی خیال بھی نہ آیا ہوگا۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اپنے آپ کو عذاب سے نہ بچا سکے اور ان کے وہ معبود بھی ان کے کوئی کام نہ آسکے جن سے انھیں بڑی امیدیں تھیں اور وہ جن گناہوں اور ظلم کا ارتکاب کیا کرتے تھے، انھوں نے ان پر نکیر بھی نہیں کی۔

[5]﴿ فَمَا كَانَ دَعۡوٰىهُمۡ اِذۡ جَآءَهُمۡ بَاۡسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’جب ان کو ہمارے عذاب نے آلیا تو ان کی پکار اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ بے شک ہم ظالم تھے۔‘‘جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَؔكَمۡ قَصَمۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ كَانَتۡ ظَالِمَةً وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ۰۰ فَلَمَّاۤ اَحَسُّوۡا بَاۡسَنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَرۡؔكُضُوۡنَؕ۰۰ لَا تَرۡؔكُضُوۡا وَارۡجِعُوۡۤا اِلٰى مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِيۡهِ وَمَسٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ۰۰ قَالُوۡا يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ۰۰ فَمَا زَالَتۡ تِّؔلۡكَ دَعۡوٰىهُمۡ حَتّٰى جَعَلۡنٰهُمۡ حَصِيۡدًا خٰمِدِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍11-15) ’’کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کر ڈالا جو ظالم تھیں اور ان کے بعد دوسرے لوگوں کو پیدا کیا۔ پس جب انھوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے۔ اب نہ بھاگو۔ ان نعمتوں کی طرف لوٹو جن کے تم مزے لوٹا کرتے تھے اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے پوچھا جائے، کہنے لگے ہائے ہماری ہلاکت! بے شک ہم ہی ظالم تھے۔ وہ اس طرح پکارتے رہے اور ہم نے انھیں کھیتی کی طرح کاٹ کر ڈھیر کر دیا‘‘۔

[6]﴿فَلَنَسۡئَلَنَّ۠ الَّذِيۡنَ اُرۡسِلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہم ان قوموں سے ضرور پوچھیں گے جن کی طرف ہم نے انبیا و مرسلین کو مبعوث کیا تھا‘‘ کہ انھوں نے اپنے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔ ﴿وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَقُوۡلُ مَاذَاۤ اَجَبۡتُمُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾(القصص: 28؍65) ’’اور جس روز وہ (اللہ) انھیں پکار کر کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟‘‘ ﴿ وَ لَنَسۡئَلَنَّ۠ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم رسولوں سے بھی پوچھیں گے۔‘‘ یعنی ہم رسولوں سے ان کے رب کے پیغام کو پہنچانے کے بارے میں ضرور پوچھیں گے اور یہ بھی ضرور پوچھیں گے کہ ان کی امتوں نے کیا جواب دیا۔

[7]﴿فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر ہم ان کے حالات بیان کریں گے۔‘‘ یعنی ہم تمام مخلوق کو بتائیں گے کہ وہ کیا عمل کرتے رہے تھے ﴿ بِعِلۡمٍ ﴾ ’’اپنے علم سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم سے ان کو ان کے اعمال کے بارے میں بتائے گا ﴿ وَّمَا كُنَّا غَآىِٕبِيۡنَ ﴾ ’’ہم کسی بھی وقت غیر موجود نہ تھے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اَحۡصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوۡهُ ﴾(المجادلۃ: 58؍6) ’’اللہ نے ان کے تمام اعمال کو محفوظ رکھا ہے اور وہ بھول گئے ہیں ۔‘‘اور فرمایا : ﴿وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعَ طَرَآىِٕقَ١ۖۗ وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَلۡقِ غٰفِلِيۡنَ﴾(المومنون: 23؍17) ’’ہم نے تمھارے اوپر سات آسمان پیدا کیے اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں۔‘‘

پھر اعمال کی جزا بیان فرمائی، چنانچہ فرمایا:

7:8–9Page 151

وَٱلۡوَزۡنُ يَوۡمَئِذٍ ٱلۡحَقُّۚ فَمَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ٨

And the weighing [of deeds] that Day will be the truth. So those whose scales are heavy - it is they who will be the successful.

وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُم بِمَا كَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يَظۡلِمُونَ ٩

And those whose scales are light - they are the ones who will lose themselves for what injustice they were doing toward Our verses.

اور(اعمال کا) وزن اس دن حق ہے، پھر جو شخص کہ بھاری ہوگئی میزان اس( کے نیک اعمال) کی تو وہی لوگ ہیں کامیاب(8) اور جو شخص کہ ہلکی ہوگئی میزان اس کی،تو یہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو بوجہ اس کے تھے وہ ہماری آیتوں کے ساتھ بے انصافی کرتے(9)

[8] یعنی قیامت کے روز اعمال کا وزن عدل و انصاف کے ساتھ کیا جائے گا۔ کسی بھی لحاظ سے کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا ﴿فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ ’’تو جن لوگوں کے وزن بھاری ہوں گے۔‘‘ یعنی جن کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تو وہی نجات پانے والے ہوں گے۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو ناپسندیدہ امور سے نجات حاصل کریں گے اور اپنے محبوب امور کو پا لیں گے جن کو بہت بڑا نفع اور دائمی سعادت حاصل ہوگی۔

[9]﴿وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ ’’اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے۔‘‘ یعنی جن کی برائیوں کا پلڑا بھاری ہوا، ان کا معاملہ اس کے مطابق ہوگا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنا نقصان کیا‘‘ کیونکہ وہ ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے محروم ہو کر دردناک عذاب میں مبتلا ہوں گے ﴿ بِمَا كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يَظۡلِمُوۡنَ﴾ ’’اس واسطے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بے انصافی کرتے تھے‘‘ یعنی ان آیات کریمہ کی اطاعت جس طرح کرنا ان پر واجب تھی انھوں نے نہیں کی۔

7:10Page 151

وَلَقَدۡ مَكَّنَّٰكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيهَا مَعَٰيِشَۗ قَلِيلٗا مَّا تَشۡكُرُونَ ١٠

And We have certainly established you upon the earth and made for you therein ways of livelihood. Little are you grateful.

اور ، البتہ تحقیق قدرت دی ہم نے تمھیں زمین میں اور بنادیے ہم نے تمھارے لیے اس میں اسباب گزران،بہت ہی کم تم شکر کرتے ہو(10)

[10] اللہ تبارک و تعالیٰ معاش و مسکن کا ذکر کرتے ہوئے اپنے بندوں پر احسان جتلاتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ مَكَّـنّٰكُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’ہم نے تمھیں زمین میں ٹھکانا مہیا کیا‘‘ جس سے تم زمین میں گھر بناتے ہو، کھیتی باڑی کرتے ہو اور بعض دیگر وجوہ سے اس سے استفادہ کرتے ہو ﴿ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيۡهَا مَعَايِشَ ﴾ ’’اور مقرر کر دیں ہم نے اس میں تمھارے لیے روزیاں ‘‘ تمام معاش کا دارومدار ان چیزوں پر ہے جو درختوں ، نباتات، معدنیات، مختلف قسم کی صنعتوں اور تجارت سے ہوتی ہیں ۔ وہی ہے جس نے تمھیں یہ تمام چیزیں مہیا کیں اور مختلف اسباب کو تمھارے لیے مسخر کیا ﴿ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ﴾ ’’مگر تم کم ہی شکر کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کا بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو، جس نے انواع و اقسام کی نعمتوں سے تمھیں نوازا اور مختلف مصائب کو تم سے دور کیا۔

7:11–15Page 151

وَلَقَدۡ خَلَقۡنَٰكُمۡ ثُمَّ صَوَّرۡنَٰكُمۡ ثُمَّ قُلۡنَا لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ لَمۡ يَكُن مِّنَ ٱلسَّٰجِدِينَ ١١

And We have certainly created you, [O mankind], and given you [human] form. Then We said to the angels, "Prostrate to Adam"; so they prostrated, except for Iblees.1 He was not of those who prostrated.

قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسۡجُدَ إِذۡ أَمَرۡتُكَۖ قَالَ أَنَا۠ خَيۡرٞ مِّنۡهُ خَلَقۡتَنِي مِن نَّارٖ وَخَلَقۡتَهُۥ مِن طِينٖ ١٢

[Allāh] said, "What prevented you from prostrating when I commanded you?" [Satan] said, "I am better than him. You created me from fire and created him from clay [i.e., earth]."

قَالَ فَٱهۡبِطۡ مِنۡهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَٱخۡرُجۡ إِنَّكَ مِنَ ٱلصَّٰغِرِينَ ١٣

[Allāh] said, "Descend from it [i.e., Paradise], for it is not for you to be arrogant therein. So get out; indeed, you are of the debased."

قَالَ أَنظِرۡنِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ ١٤

[Satan] said, "Reprieve me until the Day they are resurrected."

قَالَ إِنَّكَ مِنَ ٱلۡمُنظَرِينَ ١٥

[Allāh] said, "Indeed, you are of those reprieved."

اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے تمھیں، پھر صورتیں بنائیں ہم نے تمھاری، پھر کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو تم آدم کو،پس سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے،نہ ہوا وہ سجدہ کرنے والوں میں سے(11)کہا(اللہ)!کس چیز نے منع کیا تجھے اس سے کہ تو سجدہ کرے،جبکہ میں نے حکم دیا تھاتجھ کو؟اس نے کہا،میں بہتر ہوں اس سے،پیدا کیا تونے مجھے آگ سے اور پیداکیا تو نے اس کو مٹی سے(12)فرمایاپس اتر تو اس(آسمان)سے،پس نہیں لائق تھا واسطے تیرے یہ کہ تکبر کرے تو اس میں،سو نکل جاتو،بلاشبہ تو ذلیلوں میں سے ہے(13)اس نے کہا!مہلت دے تومجھے اس دن تک کہ وہ اٹھائے جائیں گے(14) کہا اللہ نے!تو مہلت دیے گئے(لوگوں) میں سے ہے(15)

[11] اللہ تبارک و تعالیٰ بنی آدم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنٰكُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے تمھیں پیدا کیا‘‘ یعنی تمھارے جد امجد آدم کی اصل اور اس کے مادے کی تخلیق کی، جس سے تم سب نکلے ہو ﴿ ثُمَّ صَوَّرۡنٰكُمۡ ﴾ ’’پھر تمھاری صورت شکل بنائی۔‘‘ پھر ہم نے تمھیں بہترین صورت اور بہترین قامت عطا کی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھائے جس سے اس کی باطنی صورت کی تکمیل ہوئی، پھر باعزت فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کے اکرام و احترام اور اس کی فضیلت کے اعتراف کے طور پر اسے سجدہ کریں ، چنانچہ انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی ﴿فَسَجَدُوۡۤا ﴾ ’’پس انھوں نے سجدہ کیا۔‘‘ یعنی تمام فرشتوں نے سجدہ کیا ﴿ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ﴾ مگر ابلیس نے تکبر اور خود پسندی کی بنا پر سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔

[12] اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسۡجُدَ ﴾ ’’تجھ کو کیا مانع تھا کہ تو نے سجدہ نہ کیا‘‘ جس کو میں نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا، میں نے اسے وہ شرف اور فضیلت عطا کی جو کسی اور کو عطا نہیں کی تو نے میرے حکم کی نافرمانی کر کے میری اہانت اور تحقیر کا ارتکاب کیا ﴿ قَالَ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ﴿ اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں ‘‘ پھر اس نے اپنے اس باطل دعوے کی دلیل دیتے ہوئے کہا: ﴿ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾’’تو نے مجھے آگ سے اور اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے‘‘ اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ وہ مخلوق جو آگ سے پیدا کی گئی ہے اس مخلوق سے افضل ہو، جس کی تخلیق مٹی سے ہے۔ کیونکہ آگ مٹی پر غالب ہے اور اوپر اٹھ سکتی ہے۔شیطان کا یہ قیاس فاسد ترین قیاس ہے کیونکہ یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے۔(۱)یہ قیاس اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مقابلے میں ہے کہ آدم کو سجدہ کیا جائے اور جب قیاس نص سے معارض ہو تو وہ باطل ہے۔ کیونکہ قیاس کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ جس معاملے میں نص موجود نہ ہو اس کا حکم منصوص علیہ امور کے احکام کے بالکل قریب اور ان کے تابع ہو۔ رہا وہ قیاس جو منصوص علیہ احکام کے معارض ہو اور اس کو معتبر قرار دینے سے نصوص کا لغو ہونا لازم آتا ہو تو یہ قیاس بدترین قیاس ہے۔(۲) ابلیس کا مجرد یہ کہنا ﴿ اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ﴾’’میں اس (آدم)سے بہتر ہوں ‘‘ ابلیس خبیث کے نقص کے لیے کافی ہے۔ اس نے اپنے نقص پر اپنی خود پسندی، تکبر اور بلا علم اللہ تعالیٰ کی طرف قول منسوب کرنے کو دلیل بنایا اس سے بڑا اور کون سا نقص ہو سکتا ہے؟(۳) ابلیس نے آگ کو مٹی اور گارے کے مادہ پر فوقیت دے کر جھوٹ کا ارتکاب کیا ہے۔ کیونکہ مٹی کے مادے میں خشوع، سکون اور سنجیدگی ہے۔ اس مٹی ہی سے زمین کی برکتیں ظاہر ہوتی ہیں ، مثلاً: مختلف انواع و اجناس کے درخت اور نباتات وغیرہ۔ اس کے برعکس آگ میں خفت، طیش اور جلانے کی خاصیت ہے۔

[13] اسی لیے شیطان نے اس قسم کے افعال کا ارتکاب کیا اور اسی لیے وہ بلند ترین درجات سے گر کر اسفل السافلین کی سطح پر جا پہنچا۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاهۡبِطۡ مِنۡهَا ﴾ ’’تو اس سے اترجا۔‘‘ یعنی جنت سے اتر جا ﴿ فَمَا يَكُوۡنُ لَكَ اَنۡ تَتَكَبَّرَ فِيۡهَا ﴾ ’’تیرے یہ شایاں نہیں کہ تو یہاں (جنت میں ) رہ کر تکبر کرے‘‘ کیونکہ یہ طیب اور طاہر لوگوں کا گھر ہے، پس یہ جنت اللہ تعالیٰ کی بدترین اور خبیث ترین مخلوق کے لائق نہیں ۔ ﴿فَاخۡرُجۡ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِيۡنَ﴾ ’’پس نکل جا تو ذلیل ہے۔‘‘ یعنی تو حقیر ترین اور ذلیل ترین مخلوق ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے تکبر اور خود پسندی پر اہانت اور ذلت کی سزا دی۔

[15,14] جب اللہ کے دشمن نے اللہ تعالیٰ کے سامنے، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ عداوت کا اعلان کیا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لیے مہلت مانگی تاکہ وہ مقدور بھر اولاد آدم کو گمراہ کر سکے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائش اور امتحان میں مبتلا کرے تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز ہو جائے۔ نیز یہ بھی معلوم ہو جائے کہ کون اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اور کون اس کے دشمن کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو مہلت دے دی اور فرمایا:﴿ اِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی گئی‘‘

7:16–17Page 152

قَالَ فَبِمَآ أَغۡوَيۡتَنِي لَأَقۡعُدَنَّ لَهُمۡ صِرَٰطَكَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ ١٦

[Satan] said, "Because You have put me in error, I will surely sit in wait for them [i.e., mankind] on Your straight path.

ثُمَّ لَأٓتِيَنَّهُم مِّنۢ بَيۡنِ أَيۡدِيهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ وَعَنۡ أَيۡمَٰنِهِمۡ وَعَن شَمَآئِلِهِمۡۖ وَلَا تَجِدُ أَكۡثَرَهُمۡ شَٰكِرِينَ ١٧

Then I will come to them from before them and from behind them and on their right and on their left, and You will not find most of them grateful [to You]."

اس نے کہا!پس بوجہ اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھے،ضرور بیٹھوں گا میں ان(کو گمراہ کرنے) کے لیے تیرے سیدھے راستے پر(16) پھر ضرورآؤں گامیں ان کے پاس ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے اور نہیں پائے گا تو ان کی اکثريت کو شکرگزار(17)

[16] جب ابلیس اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوگیا تو کہنے لگا ﴿ فَبِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاَقۡعُدَنَّ لَهُمۡ ﴾ ’’جیسا تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ضرور بیٹھوں گا ان کے لیے‘‘ یعنی مخلوق کے لیے ﴿صِرَاطَكَ الۡمُسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’تیرے سیدھے راستے پر۔‘‘اور لوگوں کو اس راستے سے روکنے اور اس پر چلنے سے منع کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔

[17]﴿ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمۡ مِّنۢۡ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ وَعَنۡ اَيۡمَانِهِمۡ وَعَنۡ شَمَآىِٕلِهِمۡ ﴾ ’’پھر میں ان پر آؤں گا ان کے آگے سے اور پیچھے سے اور دائیں سے اور بائیں سے‘‘ یعنی میں تمام جہات اور تمام اطراف سے ان پر حملہ آور ہوں گا اور ہر طریقے سے جہاں کہیں سے بھی مجھے ان سے اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوگی۔ جب شیطان خبیث کو معلوم ہوگیا کہ اولاد آدم بہت کمزور ہے، ان میں سے بہت سے لوگوں پر بسااوقات غفلت غالب آجاتی ہے تو اس نے ان کو گمراہ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا اور اس کا گمان سچ نکلا، اس لیے کہنے لگا ﴿وَلَا تَجِدُ اَكۡثَرَهُمۡ شٰكِرِيۡنَ﴾ ’’اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا‘‘ کیونکہ شکر گزاری بھی صراط مستقیم پر چلنے ہی کا حصہ ہے اور شیطان ان کو اس راستے پر گامزن ہونے سے روکتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر: 35؍6) ’’وہ تو اپنے گروہ کو اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں ۔‘‘شیطان نے جو کچھ کہا اور اپنے فعل کے عزم کا اظہار کیا، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پر محض اس لیے متنبہ فرمایا ہے تاکہ ہم اپنے دشمن سے بچتے رہیں اور اس کے مقابلے کے لیے پوری طرح تیار رہیں اور ان راستوں اور داخل ہونے کے ان مقامات کی معرفت حاصل کر کے، جہاں سے وہ حملہ آور ہوتا ہے، اپنی حفاظت کر سکیں ۔ پس یہ خبر دے کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی نعمت کامل سے نوازا ہے۔

7:18Page 152

قَالَ ٱخۡرُجۡ مِنۡهَا مَذۡءُومٗا مَّدۡحُورٗاۖ لَّمَن تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ لَأَمۡلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكُمۡ أَجۡمَعِينَ ١٨

[Allāh] said, "Depart from it [i.e., Paradise], reproached and expelled. Whoever follows you among them - I will surely fill Hell with you, all together."

کہا اللہ نے!نکل جا اس سے حقیر اور دھتکاراہوا، البتہ جو پیروی کرے گا تیری ان میں سےتو ضرور بھروں گا میں جہنم کو تم سب سے(18)

[18] یعنی ابلیس نے جو کچھ کہا اس کے جواب میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ ’’نکل یہاں سے‘‘ یعنی ذلت و خواری کے ساتھ نکلنا۔ اس سے عزت و اکرام کے ساتھ نکلنا مراد نہیں ﴿ مَذۡءُوۡمًؔا ﴾ بلکہ مذمت کے ساتھ نکلنا مراد ہے ﴿ مَّدۡحُوۡرًؔا﴾ ’’مردود ہو کر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کی رحمت اور ہر بھلائی سے دور ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’میں تم سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘ یعنی میں جہنم کو تجھ سے اور تیرے پیروکاروں سے بھر دوں گا ﴿ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’تم سب سے‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قسم ہے کہ جہنم نافرمانوں کا ٹھکانا ہے، وہ لازمی طور پر جہنم کو ابلیس اور اس کے جن اور انسان پیروکاروں سے بھر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ نے آدم کو ابلیس کے شر اور فتنے سے ڈراتے ہوئے فرمایا

7:19–23Page 152

وَيَٰٓـَٔادَمُ ٱسۡكُنۡ أَنتَ وَزَوۡجُكَ ٱلۡجَنَّةَ فَكُلَا مِنۡ حَيۡثُ شِئۡتُمَا وَلَا تَقۡرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ ١٩

And "O Adam, dwell, you and your wife, in Paradise and eat from wherever you will but do not approach this tree, lest you be among the wrongdoers."

فَوَسۡوَسَ لَهُمَا ٱلشَّيۡطَٰنُ لِيُبۡدِيَ لَهُمَا مَا وُۥرِيَ عَنۡهُمَا مِن سَوۡءَٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَىٰكُمَا رَبُّكُمَا عَنۡ هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةِ إِلَّآ أَن تَكُونَا مَلَكَيۡنِ أَوۡ تَكُونَا مِنَ ٱلۡخَٰلِدِينَ ٢٠

But Satan whispered to them to make apparent to them that which was concealed from them of their private parts. He said, "Your Lord did not forbid you this tree except that you become angels or become of the immortal."

وَقَاسَمَهُمَآ إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ ٱلنَّٰصِحِينَ ٢١

And he swore [by Allāh] to them, "Indeed, I am to you from among the sincere advisors."

فَدَلَّىٰهُمَا بِغُرُورٖۚ فَلَمَّا ذَاقَا ٱلشَّجَرَةَ بَدَتۡ لَهُمَا سَوۡءَٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخۡصِفَانِ عَلَيۡهِمَا مِن وَرَقِ ٱلۡجَنَّةِۖ وَنَادَىٰهُمَا رَبُّهُمَآ أَلَمۡ أَنۡهَكُمَا عَن تِلۡكُمَا ٱلشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَآ إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ لَكُمَا عَدُوّٞ مُّبِينٞ ٢٢

So he made them fall, through deception. And when they tasted of the tree, their private parts became apparent to them, and they began to fasten together over themselves from the leaves of Paradise. And their Lord called to them, "Did I not forbid you from that tree and tell you that Satan is to you a clear enemy?"

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمۡنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٢٣

They said, "Our Lord, we have wronged ourselves, and if You do not forgive us and have mercy upon us, we will surely be among the losers."

اور اے آدم!رہ تو اور تیری بیوی جنت میں اور کھاؤ جہاں سے چاہو تم دونوں اور مت قریب جانا تم دونوں اس درخت کے کہ ہو جاؤ گے تم ظالموں میں سے(19) پس وسوسہ ڈالا ان دونوں(کو بہکانے) کے لیے شیطان نے،تاکہ ظاہر کردے وہ ان کے لیے جو کہ چھپائی گئی تھیں ان سے،شرم گاہیں ان کی،اور کہا(شیطان نے) نہیں روکا تم دونوں کو،تمھارے رب نے اس درخت سے مگر (اس لیے) کہ کہیں ہوجاؤ تم فرشتے،یاہوجاؤ تم ہمیشہ رہنے والوں میں سے(20) اور قسم کھائی اس نے ان کے سامنے کہ میں تم دونوں کے لیے خیر خواہوں میں سے ہوں(21) پس پھسلا دیا (شیطان نے)ان کو دھوکے سے، پھر جب چکھاانھوں نے اس درخت سے توظاہر ہوگئیں ان کے لیے شرم گاہیں ان کی اور لگے وہ چپکانے اوپر اپنے پتے جنت کے(ستر ڈھانکنے كے لیے) اور آواز دی ان کو ان کے رب نے کیا نہیں روکا تھا میں نے تمھیں اس درخت سے؟اور (نہیں) کہا تھا میں نے تمھیں کہ شیطان تم دونوں کا دشمن ہے کھلا؟(22) کہا انھوں نے اے ہمارے رب!ظلم کیا ہم نے اپنے آپ پر،اور اگر نہ بخشا تو نے ہمیں اور (نہ) رحم کیا تو نے ہم پرتو ہو جائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(23)

[19] یعنی اللہ تعالیٰ نے جناب آدمu اور ان کی بیوی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو سکون کے لیے عطا فرمائی تھی، حکم دیا کہ وہ جنت میں جہاں سے جو جی میں آئے کھائیں اور جنت سے متمتع ہوں البتہ اللہ تعالیٰ نے ایک معین درخت کا پھل کھانے سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کس چیز کا درخت تھا؟ اس درخت کے تعین میں ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں ۔ اس درخت کا پھل کھانے کی تحریم پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول دلیل ہے ﴿ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں گناہ گاروں میں سے ہو جاؤ گے‘‘

[20] آدمu اور ان کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پابندی کی، یہاں تک کہ ان کا دشمن ابلیس اپنے مکر و فریب سے ان کے پاس گھس آیا اور اس نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا، ان کو فریب میں مبتلا کر دیا اور ان کے سامنے بناوٹ سے کام لیتے ہوئے کہنے لگا:﴿ مَا نَهٰؔىكُمَا رَبُّكُمَا عَنۡ هٰؔذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَا مَلَكَيۡنِ ﴾ ’’تم کو نہیں روکا تمھارے رب نے اس درخت سے مگر اس لیے کہ کہیں تم ہو جاؤ فرشتے‘‘ یعنی فرشتوں کی جنس میں سے ﴿اَوۡ تَكُوۡنَا مِنَ الۡخٰؔلِدِيۡنَ ﴾ ’’یا ہو جاؤ ہمیشہ رہنے والوں میں سے‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت میں فرمایا: ﴿ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى ﴾(طٰہ: 20؍120) ’’کیا میں تجھے ایسا درخت بتاؤں جس کا پھل ہمیشہ کی زندگی عطا کرے اور ایسا اقتدار جو کبھی زائل نہ ہو۔‘‘

[21] یہ سب کچھ کہنے کے ساتھ ساتھ اس نے اللہ کی قسم کھاتے ہوئے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں تو تمھارا خیر خواہ ہوں ۔‘‘ یعنی میں نے جو کچھ کہا ہے اس میں تمھاری خیر خواہی کرنے والا ہوں ۔

[22] پس آدمu شیطان کے دھوکے میں آگئے اور اس حال میں عقل پر شہوت نفس غالب آگئی۔ ﴿فَدَلّٰىهُمَا ﴾ ’’پس نیچے لے آیا ان دونوں کو‘‘ یعنی شیطان نے آدم و حواء کو ان کے بلند مرتبے سے، جو کہ گناہوں سے دوری پر مبنی تھا، اتار کر نافرمانی کی گندگی میں لتھیڑ دیا اور انھوں نے آگے بڑھ کر اس شجر ممنوعہ کے پھل کو کھا لیا ﴿ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتۡ لَهُمَا سَوۡاٰتُهُمَا ﴾ ’’پس جب چکھا ان دونوں نے درخت کو تو ان پر ان کی شرم گاہیں کھل گئیں ‘‘ یعنی دونوں کا ستر ظاہر ہوگیا اس سے پہلے ان کا ستر چھپا ہوا تھا۔ پس اس حالت میں تقویٰ سے باطنی عریانی نے ظاہری لباس میں اپنا اثر دکھایا۔ حتی کہ وہ لباس اتر گیا اور ان کا ستر ظاہر ہوگیا اور جب ان پر ان کا ستر ظاہر ہوا تو وہ بہت شرمسار ہوئے اور جنت کے درختوں کے پتوں سے اپنے ستر کو چھپانے لگے۔ ﴿وَنَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے آواز دی ﴿ اَلَمۡ اَنۡهَكُمَا عَنۡ تِلۡكُمَا الشَّجَرَةِ وَاَقُلۡ لَّـكُمَاۤ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’کیا میں نے تمھیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور تمھیں کہا نہیں تھا کہ شیطان تمھارا کھلا دشمن ہے‘‘ پھر تم نے اپنے دشمن کی اطاعت کر کے ممنوعہ کام کا ارتکاب کیوں کیا؟

[23] پس اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر کے ان پر احسان کیا اور انھوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کر کے اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا١ٚ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی ہم سے وہ گناہ سرزد ہوگیا جس سے تو نے ہمیں روکا تھا۔ ہم نے گناہ کا ارتکاب کر کے اپنے آپ کو سخت نقصان پہنچایا اور اگر تو نے گناہ اور اس کی عقوبت کے آثار کو نہ مٹایا اور اس قسم کی خطاؤں سے توبہ قبول کر کے معافی کے ذریعے سے ہم پر رحم نہ کیا تو ہم نے سخت خسارے کا کام کیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی ﴿ وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۰۰ ثُمَّ اجۡتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰؔى ﴾(طٰہ: 20؍121، 122) ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ سے بھٹک گیا، پھر اس کے رب نے اس پر نوازش کی اور اس پر توجہ فرمائی اور راہ نمائی کی۔‘‘یہ رویہ آدمu کا تھا۔ مگر اس کے برعکس ابلیس اپنی سرکشی پر جما رہا اور نافرمانی سے باز نہ آیا۔ پس جو کوئی آدم کی طرح اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے ندامت کے ساتھ مغفرت کا سوال کرتا ہے اور گناہ سے باز آجاتا ہے تو اس کا رب اسے چن لیتا ہے اور سیدھی راہ پر ڈال دیتا ہے اور جو کوئی ابلیس کی طرح اپنے گناہ اور نافرمانی پر جم جاتا ہے اور اس کی نافرمانیاں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ سے دوری کے سوا اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском