As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Al-A'raf 7:65–84
7:65–72Page 158
۞ وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمۡ هُودٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥٓۚ أَفَلَا تَتَّقُونَ ٦٥
And to the ʿAad [We sent] their brother Hūd. He said, "O my people, worship Allāh; you have no deity other than Him. Then will you not fear Him?"
قَالَ ٱلۡمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَوۡمِهِۦٓ إِنَّا لَنَرَىٰكَ فِي سَفَاهَةٖ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ ٱلۡكَٰذِبِينَ ٦٦
Said the eminent ones who disbelieved among his people, "Indeed, we see you in foolishness, and indeed, we think you are of the liars."
قَالَ يَٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِي سَفَاهَةٞ وَلَٰكِنِّي رَسُولٞ مِّن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٦٧
[Hūd] said, "O my people, there is not foolishness in me, but I am a messenger from the Lord of the worlds.
أُبَلِّغُكُمۡ رِسَٰلَٰتِ رَبِّي وَأَنَا۠ لَكُمۡ نَاصِحٌ أَمِينٌ ٦٨
I convey to you the messages of my Lord, and I am to you a trustworthy adviser.
أَوَعَجِبۡتُمۡ أَن جَآءَكُمۡ ذِكۡرٞ مِّن رَّبِّكُمۡ عَلَىٰ رَجُلٖ مِّنكُمۡ لِيُنذِرَكُمۡۚ وَٱذۡكُرُوٓاْ إِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوحٖ وَزَادَكُمۡ فِي ٱلۡخَلۡقِ بَصۜۡطَةٗۖ فَٱذۡكُرُوٓاْ ءَالَآءَ ٱللَّهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ٦٩
Then do you wonder that there has come to you a reminder from your Lord through a man from among you, that he may warn you? And remember when He made you successors after the people of Noah and increased you in stature extensively. So remember the favors of Allāh that you might succeed."
قَالُوٓاْ أَجِئۡتَنَا لِنَعۡبُدَ ٱللَّهَ وَحۡدَهُۥ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعۡبُدُ ءَابَآؤُنَا فَأۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ ٧٠
They said, "Have you come to us that we should worship Allāh alone and leave what our fathers have worshipped? Then bring us what you promise us,1 if you should be of the truthful."
قَالَ قَدۡ وَقَعَ عَلَيۡكُم مِّن رَّبِّكُمۡ رِجۡسٞ وَغَضَبٌۖ أَتُجَٰدِلُونَنِي فِيٓ أَسۡمَآءٖ سَمَّيۡتُمُوهَآ أَنتُمۡ وَءَابَآؤُكُم مَّا نَزَّلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلۡطَٰنٖۚ فَٱنتَظِرُوٓاْ إِنِّي مَعَكُم مِّنَ ٱلۡمُنتَظِرِينَ ٧١
[Hūd] said, "Already have defilement and anger fallen upon you from your Lord. Do you dispute with me concerning [mere] names you have named them,1 you and your fathers, for which Allāh has not sent down any authority? Then wait; indeed, I am with you among those who wait."
فَأَنجَيۡنَٰهُ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥ بِرَحۡمَةٖ مِّنَّا وَقَطَعۡنَا دَابِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَاۖ وَمَا كَانُواْ مُؤۡمِنِينَ ٧٢
So We saved him and those with him by mercy from Us. And We eliminated those who denied Our signs, and they were not [at all] believers.
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو، اس نے کہا،اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (65) کہا ان چودھریوں نے جنھوں نے کفر کیا تھا اس کی قوم میں سے، بلاشبہ ہم دیکھتے ہیں تجھے بے وقوفی میں،اور یقینا ہم گمان کرتے ہیں تجھے جھوٹوں میں سے (66) کہا (ہود نے) اے میری قوم!نہیں ہے میرے ساتھ بے وقوفی لیکن میں تو رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(67) پہنچاتا ہوں تمھیں پیغامات اپنے رب کے،اور میں تمھارے لیے خیر خواہ ہوں،امین ہوں(68) کیا تعجب کرتے ہو تم اس بات سے کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے،اوپر ایسے آدمی کے جو تم ہی میں سے ہے تاکہ ڈرائے وہ تمھیں اور یاد کروجبکہ اس نے بنایا تمھیں ایک دوسرے کا جانشین بعد قوم نوح کے اور زیادہ دیا تمھیں قدوقامت میں پھیلاؤ،پس یاد کرو تم نعمتیں اللہ کی تاکہ تم فلاح پاؤ(69) انھوں نے کہا! کہا آیا ہے تو ہمارے پاس ، اس لیے کہ عبادت کریں ہم اللہ اکیلے کی اور چھوڑ دیں انھیں جن کی تھے عبادت کرتے ہمارے باپ دادا؟پس لے آتوہم پر وہ(عذاب)جس سے ڈراتاہے تو ہمیں،اگر ہے تو سچوں میں سے(70) کہا (ہودنے)تحقیق ثابت ہوگیا تم پر تمھارے رب کی طرف سے عذاب اورغضب،کیا جھگڑتے ہو تم مجھ سے ان ناموں کے بارے میں کہ رکھ لیے ہیں وہ تم نے اور تمھارے آباؤاجداد نے؟نہیں نازل فرمائی اللہ نے ان کی کوئی دلیل،سو انتظار کروتم،بے شک میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں(71) پھر نجات دی ہم نے ہود کو اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے، ساتھ اپنی رحمت کے،اور کاٹ دی ہم نے جڑ ان کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اورنہ تھے وہ ایمان لانے والے(72)
[65]﴿وَاِلٰى عَادٍ اَخَاهُمۡ هُوۡدًا ﴾ ’’اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے عاد اولیٰ کی طرف، جو سرزمین یمن میں آباد تھے ان کے نسبی بھائی ہودu کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک اور زمین میں سرکشی سے روکتے تھے ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ، پس کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ اپنے اس رويے پر قائم رہتے ہوئے تمھیں اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر نہیں لگتا؟
[66] مگر انھوں نے حضرت ہودu کی بات مانی نہ ان کی اطاعت کی۔ ﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖۤ ﴾ ’’ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے، کہنے لگے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے اور ان کی رائے میں عیب چینی کرتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’ہم تجھے بیوقوف اور بے راہ رو سمجھتے ہیں اور ہمارا ظن یہ ہے کہ تو جھوٹا ہے۔‘‘ان کے سامنے حقیقت بدل گئی اور ان کا اندھا پن مستحکم ہوگیا کیونکہ انھوں نے اپنے نبی (u) کی مذمت کی اور ایسے وصف کو ان کی طرف منسوب کیا جس سے خود متصف تھے۔ حالانکہ ہودu لوگوں میں سب سے زیادہ اس وصف سے دور تھے۔ درحقیقت وہ خود بیوقوف اور جھوٹے تھے۔اس شخص سے بڑھ کر کون بیوقوف ہو سکتا ہے جو سب سے بڑے حق کو ٹھکراتا اور اس کا انکار کرتا ہے۔ جو تکبر سے راہ ہدایت دکھانے والوں اور خیر خواہوں کی اطاعت نہیں کرتا۔ جو اپنے دل و جاں سے ہر سرکش شیطان کی اطاعت کرتا ہے اور غیر مستحق ہستیوں کی عبادت کرتا ہے چنانچہ وہ پتھروں اور درختوں کی عبادت کرتا ہے جو اس کے کسی کام نہیں آسکتے۔ اور اس شخص سے بڑھ کر کون جھوٹا ہو سکتا ہے جو ان مذکورہ امور کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے؟
[67]﴿قَالَ يٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِيۡ سَفَاهَةٌ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم، میں بے عقل نہیں ‘‘ یعنی وہ کسی طرح بھی بیوقوف نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول، راہ ہدایت دکھانے والے اور ہدایت یافتہ ہیں ﴿ وَّلٰكِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میں جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں ۔‘‘
[68]﴿اُبَلِّغُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ وَاَنَا لَكُمۡ نَاصِحٌ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’میں پہنچاتا ہوں تم کو اپنے رب کے پیغام اور میں تمھارا خیرخواہ ہوں ، اعتماد کے لائق‘‘ پس تم پر فرض ہے کہ تم میری رسالت کو مانتے ہوئے اور بندوں کے رب کی اطاعت کرتے ہوئے اسے قبول کرو۔
[69]﴿اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡكُمۡ لِيُنۡذِرَؔكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمھیں ڈرائے۔‘‘ یعنی تم ایسے معاملے میں کیوں کر تعجب کرتے ہو جس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے اور وہ معاملہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم ہی میں سے ایک شخص کو جس کو تم خوب جانتے ہو، تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، وہ تمھیں ان باتوں کی یاد دہانی کراتا ہے جن میں تمھارے مصالح پنہاں ہیں اور تمھیں ان امور کی ترغیب دیتا ہے جن میں تمھارے لیے فائدہ ہے اور تم اس پر اس طرح تعجب کرتے ہو جیسے منکرین تعجب کرتے ہیں ۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ ﴾ ’’اور یاد کرو جبکہ تم کو جانشین بنایا قوم نوح کے بعد‘‘ یعنی تم اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو کیونکہ اس نے تمھیں زمین میں اقتدار عطا کیا اور اس نے تمھیں ہلاک ہونے والی قوموں کا جانشین بنایا جنھوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو اس پاداش میں ہلاک کر دیا اور تمھیں باقی رکھا تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ تم رسولوں کی تکذیب پر جمے رہنے سے بچو، جیسے وہ جمے رہے ورنہ تمھارے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو ان کے ساتھ ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد رکھو جو اس نے تمھارے لیے مختص کی اور وہ نعمت یہ ہے ﴿ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۜۡطَةً ﴾ ’’اس نے زیادہ کر دیا تمھارے بدن کا پھیلاؤ‘‘ یعنی اس نے تمھیں بہت زیادہ قوت، بڑے بڑے مضبوط جسم اور نہایت سخت پکڑ عطا کی۔ ﴿ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں اور اس کے مکرر احسانات کو یاد رکھو ﴿ لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تم‘‘ یعنی اگر تم ان نعمتوں کو شکر گزاری کے ساتھ اور ان کا حق ادا کرتے ہوئے یاد رکھو گے ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’کامیاب ہو جاؤ‘‘ یعنی اپنے مطلوب و مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے اور اس چیز سے نجات پا لو گے جس سے ڈرتے ہو۔
[70]جناب ہودu نے ان کو نصیحت کی، ان کو توحید کا حکم دیا اور ان کے سامنے خود اپنے اوصاف بیان کیے اور فرمایا کہ وہ ان کے لیے نہایت امانت دار خیر خواہ ہے۔ انھیں اس بات سے ڈرایا کہ کہیں اللہ تعالیٰ ان کا اسی طرح مواخذہ نہ کرے جس طرح اس نے ان سے پہلی قوموں کا مواخذہ کیا ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں اللہ تعالیٰ کا احسان یاد دلایا جو وافر رزق کی صورت میں ان پر کیا گیا۔ مگر انھوں نے جناب ہودu کی اطاعت کی نہ ان کی دعوت کو قبول کیا۔﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت پر تعجب کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ بہت محال ہے کہ وہ ان کی اطاعت کریں ، کہا ﴿ اَجِئۡتَنَا لِنَعۡبُدَ اللّٰهَ وَحۡدَهٗ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس واسطے آیا کہ ہم صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور ان کو چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے رہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے اس امر کے مقابلے میں ، جو سب سے زیادہ واجب اور سب سے زیادہ کامل ہے، اس مذہب کو پیش کیا جس پر انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو گامزن پایا۔ اپنے گمراہ آباء و اجداد کے شرک اور عبادت اصنام کو انبیا و مرسلین کی دعوت یعنی اللہ وحدہ لا شریک کی توحید پر ترجیح دی اور اپنے نبی کو جھٹلایا اور کہنے لگے ﴿ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’پس لے آ تو ہمارے پاس جس چیز سے تو ہم کو ڈراتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ یہ مطالبہ خود ان کی طرف سے تھا۔
[71]﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا ﴿ قَدۡ وَقَعَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ رِجۡسٌ وَّغَضَبٌ ﴾ ’’تم پر واقع ہو چکا ہے تمھارے رب کی طرف سے عذاب اور غصہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا واقع ہونا اٹل ہے کیونکہ اس کے اسباب وجود میں آگئے اور ان کی ہلاکت کا وقت قریب آ گیا۔ ﴿اَتُجَادِلُوۡنَنِيۡ فِيۡۤ اَسۡمَآءٍ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے خود رکھ لیے ہیں ۔‘‘ یعنی تم ایسے امور میں میرے ساتھ کیوں کر جھگڑتے ہو جن کی کوئی حقیقت نہیں اور ان بتوں کے بارے میں میرے ساتھ کیسے بحث کرتے ہو جن کو تم نے معبودوں کے نام سے موسوم کر رکھا ہے حالانکہ ان کے اندر الوہیت کی ذرہ بھر بھی صفت نہیں ﴿ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ﴾’’اللہ نے ان پر کوئی دلیل نہیں اتاری‘‘ کیونکہ اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی تائید میں ضرور کوئی دلیل نازل فرماتا۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل کا عدم نزول، ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ کوئی ایسا مطلوب و مقصود نہیں ۔۔۔خاص طور پر بڑے بڑے امور۔۔۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے دلائل و براہین کو بیان نہ فرما دیا ہو اور ایسی حجت نازل نہ فرما دی ہو جس کے ہوتے مطلوب و مقصود مخفی نہیں رہ سکتا۔﴿ فَانۡتَظِرُوۡۤا ﴾ ’’پس تم انتظار کرو۔‘‘ یعنی پس اس عذاب کا انتظار کرو جو تم پر ٹوٹ پڑنے والا ہے جس کا میں نے تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ اِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِيۡنَ﴾ ’’میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں ‘‘ اور انتظار کی دونوں اقسام میں فرق ہے ایک انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو عذاب کے واقع ہونے سے ڈرتا ہے دوسرا انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو اللہ تعالیٰ کی مدد اور ثواب کا امیدوار ہے۔
[72] بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دونوں فریقین کے درمیان فیصلہ فرما دیا۔ ﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ ﴾ پس ہم نے ہودu کو نجات دے دی ﴿ وَالَّذِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کو جو ایمان لائے تھے‘‘ ﴿ مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا ﴾ ’’اس کے ساتھ، اپنی رحمت سے‘‘ کیونکہ وہی ہے جس نے ان کی ایمان کی طرف راہ نمائی کی اور ان کے ایمان کو ایسا سبب بنایا جس کے ذریعے سے وہ اس کی رحمت حاصل کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کو نجات عطا کردی۔ ﴿ وَقَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی۔‘‘ یعنی ہم نے سخت عذاب کے ذریعے سے ان کی جڑ کاٹ دی اور اس عذاب نے ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر نامبارک سخت ہوا مسلط کر دی۔ وہ جس چیز پر بھی چلتی اسے ریزہ ریزہ کرتی چلی جاتی۔ پس وہ ہلاک کر دیے گئے اور وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کہیں کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ پس ان لوگوں کا انجام دیکھو جن کو اس انجام سے ڈرایا گیا تھا، ان پر حجت قائم کی گئی تھی مگر انھوں نے تسلیم نہ کیا، ان کو ایمان لانے کا حکم دیا گیا تھا مگر وہ ایمان نہ لائے۔ تب ان کا انجام ہلاکت، رسوائی اور فضیحت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ ﴿ وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ١ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ﴾(ھود: 11؍60) ’’اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کرتی رہی اور قیامت کے روز بھی یہ لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ دیکھو عاد نے اپنے رب کا انکار کیا اور دیکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے۔‘‘یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَقَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَمَا كَانُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور جڑ کاٹ دی ہم نے ان کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو اور نہیں مانتے تھے‘‘ یعنی وہ کسی طرح بھی ایمان نہ لائے تھے بلکہ تکذیب اور عناد ان کا وصف، تکبر اور فساد ان کی صفت تھی۔
7:73–79Page 159
وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمۡ صَٰلِحٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ قَدۡ جَآءَتۡكُم بَيِّنَةٞ مِّن رَّبِّكُمۡۖ هَٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمۡ ءَايَةٗۖ فَذَرُوهَا تَأۡكُلۡ فِيٓ أَرۡضِ ٱللَّهِۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٖ فَيَأۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ ٧٣
And to the Thamūd [We sent] their brother Ṣāliḥ. He said, "O my people, worship Allāh; you have no deity other than Him. There has come to you clear evidence from your Lord. This is the she-camel of Allāh [sent] to you as a sign. So leave her to eat within Allāh's land and do not touch her with harm, lest there seize you a painful punishment.
وَٱذۡكُرُوٓاْ إِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعۡدِ عَادٖ وَبَوَّأَكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ تَتَّخِذُونَ مِن سُهُولِهَا قُصُورٗا وَتَنۡحِتُونَ ٱلۡجِبَالَ بُيُوتٗاۖ فَٱذۡكُرُوٓاْ ءَالَآءَ ٱللَّهِ وَلَا تَعۡثَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُفۡسِدِينَ ٧٤
And remember when He made you successors after the ʿAad and settled you in the land, [and] you take for yourselves palaces from its plains and carve from the mountains, homes. Then remember the favors of Allāh and do not commit abuse on the earth, spreading corruption."
قَالَ ٱلۡمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ مِن قَوۡمِهِۦ لِلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ لِمَنۡ ءَامَنَ مِنۡهُمۡ أَتَعۡلَمُونَ أَنَّ صَٰلِحٗا مُّرۡسَلٞ مِّن رَّبِّهِۦۚ قَالُوٓاْ إِنَّا بِمَآ أُرۡسِلَ بِهِۦ مُؤۡمِنُونَ ٧٥
Said the eminent ones who were arrogant among his people to those who were oppressed - to those who believed among them, "Do you [actually] know that Ṣāliḥ is sent from his Lord?" They said, "Indeed we, in that with which he was sent, are believers."
قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُوٓاْ إِنَّا بِٱلَّذِيٓ ءَامَنتُم بِهِۦ كَٰفِرُونَ ٧٦
Said those who were arrogant, "Indeed we, in that which you have believed, are disbelievers."
فَعَقَرُواْ ٱلنَّاقَةَ وَعَتَوۡاْ عَنۡ أَمۡرِ رَبِّهِمۡ وَقَالُواْ يَٰصَٰلِحُ ٱئۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ٧٧
So they hamstrung the she-camel and were insolent toward the command of their Lord and said, "O Ṣāliḥ, bring us what you promise us, if you should be of the messengers."
فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلرَّجۡفَةُ فَأَصۡبَحُواْ فِي دَارِهِمۡ جَٰثِمِينَ ٧٨
So the earthquake seized them, and they became within their home [corpses] fallen prone.
فَتَوَلَّىٰ عَنۡهُمۡ وَقَالَ يَٰقَوۡمِ لَقَدۡ أَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ وَلَٰكِن لَّا تُحِبُّونَ ٱلنَّٰصِحِينَ ٧٩
And he [i.e., Ṣāliḥ] turned away from them and said, "O my people, I had certainly conveyed to you the message of my Lord and advised you, but you do not like advisors."
اور (بھیجاہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو(صالح نے) کہا: اے میری قوم!عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے تحقیق آگئی ہے تمھارے پاس واضح دلیل تمھارے رب کی طرف سے،یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے خاص نشانی،پس چھوڑدو تم اسے کہ چرتی پھرے اللہ کی زمین میں،اور مت ہاتھ لگانا اسے ساتھ برائی کے،ورنہ پکڑلے گا تمھیں عذاب دردناک(73) اور یاد کرو جبکہ اس نے بنالیا تمھیں ایک دوسرے کا جانشین بعد عاد کے اور ٹھکانا دیا تمھیں زمین میں،بناتے ہوتم اس کی نرم(مٹی) سے محلات اور(بناتے ہوتم) تراش کر پہاڑوں کو گھر،پس یاد کرو تم نعمتیں اللہ کی اور مت پھرو زمین میں فسادی بن کر(74) کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے تکبر کیا اس کی قوم میں سے واسطے ان لوگوں کے جو کمزور سمجھے جاتے تھے،جو ایمان لے آئے تھے ان میں سے،کیا تم جانتے ہو کہ صالح فرستادہ ہے اپنے رب کا؟ کہا انھوں نے یقینا ہم اس چیز پر کہ بھیجا گیا ہے وہ ساتھ اس کے،ایمان لاتے ہیں(75) کہا انھوں نے جنھوں نے تکبر کیا یقینا ہم ساتھ اس چیز کے کہ ایمان لائے ہوتم اس پر،کفر کرتے ہیں (76) پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اونٹنی کی اور سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے،اور کہا اے صالح!لے آہم پروہ عذاب کہ ڈراتا ہے تو ہمیں(اس سے) اگر ہے تو بھیجے ہوئے(رسولوں) میں سے(77) تو پکڑ لیا انھیں زلزلے نے پس ہوگئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے(78) پس پھرا وہ ان سے،اورکہا: اے میری قوم!بلاشبہ پہنچادیا تھا میں تمھیں پیغام اپنے رب کا اور خیر خواہی کی تھی میں نے تمھاری،اور لیکن نہیں پسند کرتے تم خیر خواہوں کو(79)
[73]﴿ وَاِلٰى ثَمُوۡدَ ﴾ ’’اور ثمود کی طرف‘‘ ثمود عرب بائدہ کا معروف قبیلہ ہے جو جزیرۃ العرب اور ارض حجاز میں حجر اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں آباد تھا ﴿اَخَاهُمۡ صٰؔلِحًا ﴾ اللہ تعالیٰ نے صالحu کو نبی بنا کر ان کی طرف مبعوث کیا جو انھیں توحید اور ایمان کی دعوت دیتے تھے اور انھیں شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر گھڑنے سے روکتے تھے۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’انھوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ صالحu کی دعوت بھی وہی تھی جو ان کے بھائی دیگر انبیا و مرسلین کی دعوت تھی یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا اور یہ واضح کر دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بندوں کا کوئی الٰہ نہیں ﴿ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک معجزہ آچکا ہے۔‘‘ یعنی ایک خارق عادت دلیل تمھارے پاس آگئی ہے جو آسمانی معجزہ ہے اور انسان اس قسم کی نشانی پیش کرنے پر قادر نہیں ، پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’یہی اللہ کی اونٹنی تمھارے لیے معجزہ ہے۔‘‘ یہ شرف و فضل کی حامل اونٹنی ہے کیونکہ اللہ کی طرف اس کی اضافت اس کے شرف کی باعث ہے اور اس میں تمھارے لیے ایک عظیم نشانی ہے۔ صالحu نے اس اونٹنی کے معجزہ ہونے کی وجہ بیان فرمائی ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾(الشعراء: 26؍155) ’’ایک دن اس کے پانی پینے کی باری ہے اور ایک مقررہ دن تمھارے پانی پینے کی باری ہے۔‘‘ان کے ہاں ایک بہت بڑا کنواں تھا جو ’’اونٹنی والا کنواں ‘‘ کے نام سے معروف تھا۔ اسی کنوئیں سے وہ اور اونٹنی اپنی اپنی باری کے مطابق پانی پیتے تھے۔ ایک دن اونٹنی کے پانی پینے کے لیے مقرر تھا وہ اس اونٹنی کے تھنوں سے دودھ پیتے تھے۔ ایک دن لوگوں کے لیے مقرر تھا، اس دن وہ کنوئیں پر پانی لینے کی غرض سے آتے تو اونٹنی وہاں سے چلی جاتی۔ ان کے نبی صالحu نے ان سے کہا ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اس کو چھوڑ دو کہ کھائے اللہ کی زمین میں ‘‘ تم پر اس اونٹنی کا کچھ بھی بوجھ اور ذمہ داری نہیں ﴿وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور نہ ہاتھ لگاؤ اس کو بری طرح‘‘ یعنی اس کی کونچیں وغیرہ کاٹنے کی نیت سے اسے مت چھونا۔ ﴿فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں ایک دردناک عذاب آ لے گا۔‘‘
[74]﴿وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ ﴾ ’’اور یاد کرو جب اس نے تمھیں جانشین بنایا۔‘‘ یعنی یاد کرو اس وقت کو، جب زمین میں تمھیں جانشین بنایا، تم اس زمین سے فائدہ اٹھاتے ہو اور اپنے مقاصد حاصل کرتے ہو:﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ عَادٍ ﴾ ’’عاد کے بعد‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا اور ان کے بعد تمھیں ان کاجانشین مقرر کیا۔ ﴿ وَّبَوَّاَ كُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور تمھیں زمین پر آباد کیا۔‘‘ یعنی اس نے زمین میں تمھیں ٹھکانہ عطا کیا اور اس نے تمھیں وہ اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے تم اپنے ارادوں اور مقاصد کو پورا کرتے ہو۔ ﴿ تَتَّؔخِذُوۡنَ مِنۡ سُهُوۡلِهَا قُصُوۡرًا ﴾ ’’اور بناتے ہو تم نرم زمین میں محل‘‘ یعنی نرم اور ہموار زمین پر، جہاں پہاڑ نہیں ہوتے ۔۔۔ تم قصر تعمیر کرتے ہو ﴿ وَّتَنۡحِتُوۡنَ الۡؔجِبَالَ بُيُوۡتًا ﴾’’اور پہاڑوں کو تراش تراش کربناتے ہو گھر‘‘ جیسا کہ پہاڑوں میں ان کے آثار اور مساکن وغیرہ دیکھ کر اب تک مشاہدہ ہوا ہے اور جب تک یہ پہاڑ باقی ہیں یہ آثار بھی باقی رہیں گے۔﴿ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو کہ اس نے تمھیں اپنے فضل و کرم، رزق اور قوت سے نوازا۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔‘‘ یعنی فساد اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کے ذریعے سے زمین کو مت اجاڑو کیونکہ گناہ آباد شہروں کو بیابان بنا دیتے ہیں ، چنانچہ ان کے شہر ان سے خالی ہوگئے اور ان کے مساکن بے آباد اجڑے ہوئے باقی رہ گئے۔
[75]﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ اس کی قوم کے وہ رؤسا اور اشراف، جنھوں نے تکبر سے حق کو ٹھکرایا۔ انھوں نے کہا ﴿ لِلَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا﴾ ’’ان لوگوں سے جو کمزور تھے‘‘ چونکہ تمام مستضعفین مومن نہ تھے ﴿ لِمَنۡ اٰمَنَ مِنۡهُمۡ اَتَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ صٰؔلِحًا مُّرۡسَلٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ ﴾ ’’کہ جو ان میں سے ایمان لا چکے تھے، کیا تم جانتے ہو کہ صالح کو اس کے رب نے بھیجا ہے؟‘‘ یعنی انھوں نے ان مستضعفین سے کہا جو صالح پر ایمان لے آئے تھے کہ آیا صالح (u) سچا ہے یا جھوٹا؟ مستضعفین نے جواب دیا ﴿اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلَ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’ہم کو تو جو وہ لے کر آیا، اس پر یقین ہے‘‘ یعنی توحید الٰہی، اس کے بارے میں خبر اور اللہ کے اوامر و نواہی۔ ان سب پر ہم ایمان رکھتے ہیں ۔
[76]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا اِنَّا بِالَّذِيۡۤ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ﴾ ’’ان لوگوں نے کہا جنھوں نے تکبر کیا، جس پر تم کو یقین ہے، ہم اس کو نہیں مانتے‘‘ تکبر نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ حق کی اطاعت نہ کریں جس کی اطاعت قوم صالح کے کمزور و ناتواں لوگ کر رہے ہیں ۔
[77]﴿فَعَقَرُوا النَّاقَةَ﴾ ’’پس انھوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کر دیا‘‘ جس کے بارے میں جناب صالحu نے ان کو دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے اس اونٹنی کو بری نیت سے ہاتھ لگایا تو ان پر دردناک عذاب نازل ہوگا ﴿ وَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهِمۡ ﴾’’اور سرکشی کی انھوں نے اپنے رب کے حکم سے‘‘ یعنی انھوں نے سخت دلی کا مظاہرہ کیا اور اس کے حکم کو تکبر سے ٹھکرا دیا کہ جس کے خلاف اگر کوئی سرکشی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب کا مزا چکھاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ عذاب نازل کیا جو دوسروں پر نازل نہیں کیا۔﴿ وَقَالُوۡا﴾ ان افعال کے ارتکاب کے ساتھ ساتھ انھوں نے جناب الٰہی میں جسارت کرتے ہوئے، اسے عاجز سمجھتے ہوئے اور اپنے کرتوتوں کی پروا نہ کرتے ہوئے بلکہ ان پر فخر کرتے ہوئے کہا ﴿ يٰصٰلِحُ ائۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ ﴾ ’’اے صالح! لے آ ہم پر جس سے تو ہم کو ڈراتا ہے‘‘ یعنی جس عذاب کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡن ﴾ اگر تو رسول ہے۔ ﴿ فَقَالَ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ ﴾(ھود: 11؍65) ’’صالح نے کہا اپنے گھروں میں تین دن اور فائدہ اٹھا لو یہ ایسا وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔‘‘
[78]﴿فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَ﴾ ’’پس آ پکڑا ان کو زلزلے نے، پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے‘‘ وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔ اللہ نے ان کو ہلاک کر دیا اور ان کی جڑ کاٹ دی۔
[79]﴿فَتَوَلّٰى عَنۡهُمۡ ﴾ ’’پس صالح ان سے منہ پھیر کر چل دیے‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل فرمایا تو صالحu ان کو چھوڑ کر چل دیے ﴿ وَقَالَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے ان کو ہلاک کر دینے کے بعد ان سے مخاطب ہو کر ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا ﴿ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسَالَةَ رَبِّيۡ وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ﴾ ’’اے میری قوم! میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمھاری خیر خواہی کی۔‘‘ یعنی میں ان تمام احکامات کو تم تک پہنچا چکا ہوں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمھاری طرف مبعوث کیا تھا۔ میں تمھاری ہدایت کا بہت متمنی تھا اور میں نے تمھیں صراط مستقیم اور دین قیم پر گامزن کرنے کی بہت کوشش کی۔ ﴿وَلٰكِنۡ لَّا تُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے‘‘ بلکہ تم نے خیر خواہوں کی بات کو ٹھکرا دیا اور ہر دھتکارے ہوئے شیطان کی اطاعت کی۔معلوم ہونا چاہیے کہ اس قصہ کے ضمن میں بہت سے مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ صالحu کی اونٹنی ایک نہایت سخت اور چکنی چٹان سے اس وقت برآمد ہوئی تھی جب کفار نے صالح uسے معجزے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پتھر نے اونٹنی کو اسی طرح جنم دیا تھا جس طرح کوئی حاملہ اپنے بچے کو جنم دیتی ہے۔ ان کے دیکھتے دیکھتے یہ اونٹنی پتھر میں سے برآمد ہوئی۔ جب انھوں نے اونٹنی کو ہلاک کیا تو اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا۔ یہ بچہ تین بار بلبلایا، اس کے سامنے پہاڑ پھٹ گیا اور اونٹنی کا یہ بچہ پہاڑ کے اس شگاف میں داخل ہوگیا۔ نیز ان مفسرین کے مطابق صالحu نے کفار سے فرمایا تھا کہ تم پر عذاب کے نازل ہونے کی نشانی یہ ہے کہ ان مذکورہ تین دنوں میں پہلے دن تمھارے چہرے زرد، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن سیاہ پڑ جائیں گے اور جیسے حضرت صالحu نے کہا تھا ویسا ہی ہوا۔ان مفسرین کا بیان کردہ یہ قصہ اسرائیلیات میں شمار ہوتا ہے جن کو اللہ کی کتاب کی تفسیر میں نقل کرنا مناسب نہیں ۔ قرآن مجید میں بھی کوئی ایسی چیز وارد نہیں ہوئی جو کسی بھی پہلو سے اس کی صداقت پر دلالت کرتی ہو بلکہ اس کے برعکس اگر یہ قصہ صحیح ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ضرور ذکر فرماتا کیونکہ یہ واقعہ بہت تعجب انگیز، عبرت انگیز اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہوتا اللہ تعالیٰ کبھی اس کو مہمل نہ چھوڑتا اور اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیے بغیر نہ رہتا اور یوں یہ قصہ ناقابل اعتماد ذرائع سے نقل نہ ہوتا۔ بلکہ قرآن کریم اس قصہ کے بعض مشمولات کی تکذیب کرتا ہے۔ صالحu نے اپنی قوم سے فرمایا تھا:﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ ﴾(ہود: ؍11۔65) ’’اپنے گھروں میں تین دن اور فائدہ حاصل کرلو۔‘‘ یعنی اس بہت ہی تھوڑے سے وقت میں نعمتوں اور لذتوں سے استفادہ کر لو کیونکہ اس کے بعد تمھارے حصے میں کوئی لذت نہ ہوگی اور ان لوگوں کے لیے کون سی لذت اور نعمتوں سے فائدہ اٹھانا ہو سکتا ہے، جن کو ان کے نبی نے عذاب کے وقوع کی وعید سنائی ہو اور اس عذاب کے مقدمات کا بھی ذکر کر دیا ہو اور یہ عذاب روز بروز بتدریج اسی طریقے سے واقع ہو رہا ہو، جو سب کو شامل ہو کیونکہ ان کے چہروں کا سرخ، زرد اور پھر سیاہ ہو جانا اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔ کیا یہ قصہ قرآن کے بیان کردہ واقعات کے خلاف اور متضاد نہیں؟جو کچھ قرآن بیان کرتا ہے وہی کافی ہے اور وہی راہ ہدایت ہے۔ ہاں ! جو چیز رسول اللہﷺ سے ثابت ہو جائے اور وہ کتاب اللہ کے خلاف نہ ہو تو سر آنکھوں پر اور یہی وہ چیز ہے جس کی اتباع کا قرآن نے حکم دیا ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡهُ١ۗ وَمَا نَهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ فَانۡتَهُوۡا ﴾(الحشر: 59؍7) ’’جو کچھ رسول تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے روک دے اس سے رک جاؤ۔‘‘گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ اسرائیلی روایات سے کتاب اللہ کی تفسیر کرنا جائز نہیں ، اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ایسے امور کو، جن کا جھوٹ ہونا قطعی نہ ہو، بنی اسرائیل سے روایت کرنا جائز ہے۔ تب بھی ان کے ذریعے سے کتاب اللہ کی تفسیر کرنا جائز نہیں ۔ کیونکہ کتاب اللہ کے معانی یقینی ہیں اور ان اسرائیلیات کی تصدیق کی جا سکتی ہے نہ تکذیب۔ پس دونوں میں اتفاق ناممکن ہے۔
7:80–84Page 160
وَلُوطًا إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦٓ أَتَأۡتُونَ ٱلۡفَٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنۡ أَحَدٖ مِّنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٨٠
And [We had sent] Lot when he said to his people, "Do you commit such immorality as no one has preceded you with from among the worlds [i.e., peoples]?
إِنَّكُمۡ لَتَأۡتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهۡوَةٗ مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِۚ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٞ مُّسۡرِفُونَ ٨١
Indeed, you approach men with desire, instead of women. Rather, you are a transgressing people."
وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓاْ أَخۡرِجُوهُم مِّن قَرۡيَتِكُمۡۖ إِنَّهُمۡ أُنَاسٞ يَتَطَهَّرُونَ ٨٢
But the answer of his people was only that they said, "Evict them from your city! Indeed, they are men who keep themselves pure."
فَأَنجَيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥٓ إِلَّا ٱمۡرَأَتَهُۥ كَانَتۡ مِنَ ٱلۡغَٰبِرِينَ ٨٣
So We saved him and his family, except for his wife; she was of those who remained [with the evildoers].
وَأَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِم مَّطَرٗاۖ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُجۡرِمِينَ ٨٤
And We rained upon them a rain [of stones]. Then see how was the end of the criminals.
اور (یاد کیجیے!) لوط کو، جب کہا اس نے اپنی قوم سے کیا کرتے ہو تم ایسی بے حیائی جو نہیں کی پہلے تم سے وہ(برائی) کسی نے بھی جہان والوں میں سے؟(80) بلاشبہ تم آتے ہو مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے چھوڑ کر عورتوں کو،بلکہ تم لوگ ہو حد سے بڑھ جانے والے(81) اور نہیں تھا جواب اس کی قوم کا مگر یہ کہ کہا انھوں نے! نکال دو انھیں اپنی بستی سے، بے شک یہ لوگ ہیں بڑے پاک صاف بنتے(82) تو نجات دی ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو سوائے اس کی بیوی کے کہ تھی وہ باقی ماندہ(ہلاک ہونے والوں) میں سے (83) اور برسائی ہم نے ان پر بارش(پتھروں کی) تو دیکھ لیجیے کیساہوا انجام مجرموں کا؟(84)
[80]﴿وَلُوۡطًا ﴾ یعنی ہمارے بندے لوط (u) کا ذکر کیجیے جب ہم نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا کہ وہ انھیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں اور انھیں اس برائی سے روکیں جو پورے جہان میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ لوطu نے کہا! ﴿ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَةَ ﴾ ’’کیا تم کرتے ہو ایسی بے حیائی‘‘ یعنی تم ایک ایسے گناہ کا ارتکاب کرتے ہو جس کی قباحت اتنی زیادہ ہے کہ فواحش کی تمام اقسام کو اس نے اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔ ﴿ مَا سَبَقَكُمۡ بِهَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کہ تم سے پہلے نہیں کیا اس کو کسی نے جہان میں ‘‘ اس کا فحش ہونا قبیح ترین چیز ہے اور یہ کہ اس قبیح فعل کو ان لوگوں نے شروع کر کے بعد میں آنے والوں کے لیے رواج دیا تھا، اس سے بھی قبیح تر ہے۔
[81] پھر لوطu نے واضح کرتے ہوئے فرمایا ﴿اِنَّـكُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَهۡوَةً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ ﴾ ’’خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کیسے عورتوں کو چھوڑ کر، جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے پیدا کیا ہے، جن سے تمتع کرنا فطرت اور جبلی شہوت کے مطابق ہے، مردوں کے ساتھ بدفعلی کرتے ہو، جو کہ قباحت اور خباثت کی انتہا ہے۔ یہ جسم کا وہ حصہ ہے جہاں سے گندگی اور بدبودار مادے خارج ہوتے ہیں اس حصے کو چھونا اور اس کے قریب جانا تو کجا اس کا نام لینے سے بھی شرم آتی ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌؔ مُّسۡرِفُوۡنَ﴾ ’’بلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود کو پھلانگتے ہو اور اس کے محرمات کے ارتکاب کی جسارت کرتے ہو۔
[82]﴿ وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ١ۚ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور نہیں تھا جواب اس قوم کا مگر یہ کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو، یہ لوگ بہت ہی پاک رہنا چاہتے ہیں ‘‘ یعنی اپنے آپ کو اس فحش کام سے دور رکھنا چاہتے ہیں ﴿ وَمَا نَقَمُوۡا مِنۡهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِ﴾(البروج:85؍8) ’’وہ ان پر صرف اسی بات پر ناراض ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے جو غالب اور قابل ستائش ہے۔‘‘
[83]﴿فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ١ۖٞ كَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی بیوی کہ رہ گئی وہ وہاں کے رہنے والوں میں ‘‘ یعنی وہ پیچھے رہ جانے اور عذاب میں گرفتار ہونے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوطu کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات وہاں سے نکل جائیں کیونکہ صبح سویرے ان کی قوم پر عذاب ٹوٹنے والا ہے۔ حضرت لوطu اپنی بیوی کے سوا تمام گھر والوں کو لے کر وہاں سے نکل گئے۔ اس عورت کو بھی اس عذاب نے آلیا جو ان بدکار لوگوں پر آیا تھا۔
[84]﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’اور ہم نے ان پر (پتھروں کا) مینہ برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے سخت گرم کھنگر کے پتھر ان پر برسائے اور اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو الٹ کر اوپر نیچے کر دیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا ہوا انجام گناہ گاروں کا۔‘‘ ہلاکت اور دائمی رسوائی۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences