As-Sa'di'Abasa · 80:1–42

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

عبس

'Abasa

He Frowned · Meccan · 42 ayahs

80:1–10Page 585

عَبَسَ وَتَوَلَّىٰٓ ١

He [i.e., the Prophet (ﷺ) ] frowned and turned away

أَن جَآءَهُ ٱلۡأَعۡمَىٰ ٢

Because there came to him the blind man,1 [interrupting].

وَمَا يُدۡرِيكَ لَعَلَّهُۥ يَزَّكَّىٰٓ ٣

But what would make you perceive, [O Muḥammad], that perhaps he might be purified1

أَوۡ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكۡرَىٰٓ ٤

Or be reminded and the remembrance would benefit him?

أَمَّا مَنِ ٱسۡتَغۡنَىٰ ٥

As for he who thinks himself without need,1

فَأَنتَ لَهُۥ تَصَدَّىٰ ٦

To him you give attention.

وَمَا عَلَيۡكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ ٧

And not upon you [is any blame] if he will not be purified.1

وَأَمَّا مَن جَآءَكَ يَسۡعَىٰ ٨

But as for he who came to you striving [for knowledge]

وَهُوَ يَخۡشَىٰ ٩

While he fears [Allāh],

فَأَنتَ عَنۡهُ تَلَهَّىٰ ١٠

From him you are distracted.

ماتھے پہ شکن ڈالے اور منہ پھیر لیا(1) اس لیے کہ آیا ان کے پاس ایک نابینا(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو شاید کہ وہ پاک ہو جاتا(3) یا وہ نصیحت حاصل کرتا (سنتا) پس نفع دیتی اس کو نصیحت(4) لیکن جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے(5) تو آپ اس کےدرپے ہوتے ہیں(6) حالانکہ نہیں ہے آپ پر (کوئی الزام) یہ کہ نہ پاک ہو وہ(7) اور لیکن جو شخص آیا آپ کے پاس دوڑتا ہوا(8) اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے(9) تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں (10)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمﷺ کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا:

[10-1]﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا :﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ يَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوۡ يَذَّكَّـرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔

80:11–32Page 585

كـَلَّآ إِنَّهَا تَذۡكِرَةٞ ١١

No! Indeed, they [i.e., these verses] are a reminder;

فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ ١٢

So whoever wills may remember it.1

فِي صُحُفٖ مُّكَرَّمَةٖ ١٣

[It is recorded] in honored sheets,

مَّرۡفُوعَةٖ مُّطَهَّرَةِۭ ١٤

Exalted and purified,

بِأَيۡدِي سَفَرَةٖ ١٥

[Carried] by the hands of messenger-angels,

كِرَامِۭ بَرَرَةٖ ١٦

Noble and dutiful.

قُتِلَ ٱلۡإِنسَٰنُ مَآ أَكۡفَرَهُۥ ١٧

Destroyed [i.e., cursed] is man;1 how disbelieving is he.

مِنۡ أَيِّ شَيۡءٍ خَلَقَهُۥ ١٨

From what thing [i.e., substance] did He create him?

مِن نُّطۡفَةٍ خَلَقَهُۥ فَقَدَّرَهُۥ ١٩

From a sperm-drop He created him and destined for him;1

ثُمَّ ٱلسَّبِيلَ يَسَّرَهُۥ ٢٠

Then He eased the way for him;1

ثُمَّ أَمَاتَهُۥ فَأَقۡبَرَهُۥ ٢١

Then He causes his death and provides a grave for him.1

ثُمَّ إِذَا شَآءَ أَنشَرَهُۥ ٢٢

Then when He wills, He will resurrect him.

كـَلَّا لَمَّا يَقۡضِ مَآ أَمَرَهُۥ ٢٣

No! He [i.e., man] has not yet accomplished what He commanded him.

فَلۡيَنظُرِ ٱلۡإِنسَٰنُ إِلَىٰ طَعَامِهِۦٓ ٢٤

Then let mankind look at his food -

أَنَّا صَبَبۡنَا ٱلۡمَآءَ صَبّٗا ٢٥

How We poured down water in torrents,

ثُمَّ شَقَقۡنَا ٱلۡأَرۡضَ شَقّٗا ٢٦

Then We broke open the earth, splitting [it with sprouts],

فَأَنۢبَتۡنَا فِيهَا حَبّٗا ٢٧

And caused to grow within it grain

وَعِنَبٗا وَقَضۡبٗا ٢٨

And grapes and herbage

وَزَيۡتُونٗا وَنَخۡلٗا ٢٩

And olive and palm trees

وَحَدَآئِقَ غُلۡبٗا ٣٠

And gardens of dense shrubbery

وَفَٰكِهَةٗ وَأَبّٗا ٣١

And fruit and grass -

مَّتَٰعٗا لَّكُمۡ وَلِأَنۡعَٰمِكُمۡ ٣٢

[As] enjoyment [i.e., provision] for you and your grazing livestock.

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32)

[16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔

[23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔

[32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔

80:33–42Page 585

فَإِذَا جَآءَتِ ٱلصَّآخَّةُ ٣٣

But when there comes the Deafening Blast1

يَوۡمَ يَفِرُّ ٱلۡمَرۡءُ مِنۡ أَخِيهِ ٣٤

On the Day a man will flee from his brother

وَأُمِّهِۦ وَأَبِيهِ ٣٥

And his mother and his father

وَصَٰحِبَتِهِۦ وَبَنِيهِ ٣٦

And his wife and his children,

لِكُلِّ ٱمۡرِيٕٖ مِّنۡهُمۡ يَوۡمَئِذٖ شَأۡنٞ يُغۡنِيهِ ٣٧

For every man, that Day, will be a matter adequate for him.1

وُجُوهٞ يَوۡمَئِذٖ مُّسۡفِرَةٞ ٣٨

[Some] faces, that Day, will be bright -

ضَاحِكَةٞ مُّسۡتَبۡشِرَةٞ ٣٩

Laughing, rejoicing at good news.

وَوُجُوهٞ يَوۡمَئِذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٞ ٤٠

And [other] faces, that Day, will have upon them dust.

تَرۡهَقُهَا قَتَرَةٌ ٤١

Blackness will cover them.

أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡكَفَرَةُ ٱلۡفَجَرَةُ ٤٢

Those are the disbelievers, the wicked ones.

پس جب آئے گی کان بہرے کر دینے والی سخت آواز(33)اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے(34)اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (36) ہر مرد کے لیے ان میں سے اس دن ایک حال ہو گا کہ وہ بے پروا کر دے گا اس کو (دوسروں سے)(37) کئی چہرے اس دن چمکنے والے (روشن) ہوں گے (38) ہشاش بشاش(39) اور کئی چہرے اس دن ان پر غبار ہو گا (40) ڈھانپتی ہو گی ان کو سیاہی (41) یہی لوگ ہیں کافر فاجر (42)

[42-33] یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی، جس کے ہول سے کان بہرے ہو جائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انھیں اعمال کی سخت ضرورت ہو گی تو دل دہل جائیں گے۔ ﴿ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ ﴾ انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے ﴿مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ ﴾ ’’اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اوراپنی بیوی سے‘‘ ﴿ وَبَنِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بیٹوں سے‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾ اسے خود اپنی پڑی ہو گی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکر مند ہو گا، اور وہ کسی دوسری طرف التفات نہیں کر سکے گا۔ اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی، خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ، رہے خوش بخت لوگ تو ان کے چہرے اس روز ﴿مُّسۡفِرَةٌ﴾ ’’روشن ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تر و تازگی نمایاں ہو گی، کیونکہ انھیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا ہو گا ﴿ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ۰۰ وَوُجُوۡهٌ ﴾ ’’وہ چہرے خنداں و شاداں ہوں گے اور کئی چہرے۔‘‘ یعنی بدبختوں کے چہرے ﴿ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا ﴾ اس روز غبار آلود ہوں گے اور انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا ﴿ قَتَرَةٌ ﴾ ’’سیاہی نے۔‘‘ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انھیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہو گیا ہو گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے، یہی وہ لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں، وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском