As-Sa'diAt‑Tawbah · 9:1–18

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

التوبة

At-Tawbah

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

9:1–2Page 187

بَرَآءَةٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّم مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ١

[This is a declaration of] disassociation, from Allāh and His Messenger, to those with whom you had made a treaty among the polytheists.1

فَسِيحُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَرۡبَعَةَ أَشۡهُرٖ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِي ٱللَّهِ وَأَنَّ ٱللَّهَ مُخۡزِي ٱلۡكَٰفِرِينَ ٢

So travel freely, [O disbelievers], throughout the land [during] four months but know that you cannot cause failure to Allāh and that Allāh will disgrace the disbelievers.

(یہ) دست برداری ہے اللہ اوراس کے رسول کی جانب سے، ان لوگوں سے کہ عہد کر رکھا تھا تم نے (ان) مشرکین سے(1) پس چلو پھرو تم زمین میں چار مہینے اورجان لوکہ بے شک تم نہیں عاجز کرنے والے اللہ کو اور یہ کہ بلاشبہ اللہ رسوا کرنے والا ہے کافروں کو(2)

[2,1] یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی طرف سے تمام مشرکین و معاندین سے اظہار براء ت ہے، انھیں چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے مامون ہیں اس مدت میں وہ اپنے اختیار سے زمین میں چل پھر لیں ۔ چار ماہ کے بعد ان کے ساتھ کوئی معاہدہ و میثاق نہیں ۔یہ معاملہ ان کفار کے ساتھ ہے جن کے ساتھ لامحدود مدت کے لیے معاہدہ ہے یا معاہدہ کی مدت چار ماہ یا اس سے کم ہے۔ رہا وہ معاہدہ جو چار ماہ سے زیادہ مدت کے لیے کیا گیا ہو، اگر معاہد سے خیانت کا خدشہ نہ ہو اور اس سے نقض عہد کی بھی ابتدا نہ ہوئی ہو تو مدت معینہ تک اس کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو پورا کیاجائے گا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے معاہدین کو ان کی مدت عہد کے بارے میں ڈرایا ہے کہ اگرچہ وہ اس دوران میں مامون و محفوظ ہیں مگر وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز کر سکیں گے نہ اس سے بچ سکیں گے اور ان میں سے جو کوئی اپنے شرک پر قائم رہے گا اللہ تعالیٰ ضرور اسے رسوا کرے گا... اور یہ چیز ان کے اسلام میں داخل ہونے کا باعث بن گئی۔ سوائے ان لوگوں کے جنھوں نے معاندانہ رویہ اختیار کیا اور اپنے کفر پر اصرار کیا اور اللہ تعالیٰ کی وعید کی کوئی پروا نہیں کی۔

9:3Page 187

وَأَذَٰنٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلنَّاسِ يَوۡمَ ٱلۡحَجِّ ٱلۡأَكۡبَرِ أَنَّ ٱللَّهَ بَرِيٓءٞ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ وَرَسُولُهُۥۚ فَإِن تُبۡتُمۡ فَهُوَ خَيۡرٞ لَّكُمۡۖ وَإِن تَوَلَّيۡتُمۡ فَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِي ٱللَّهِۗ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ٣

And [it is] an announcement from Allāh and His Messenger to the people on the day of the greater pilgrimage1 that Allāh is disassociated from the disbelievers, and [so is] His Messenger. So if you repent, that is best for you; but if you turn away - then know that you will not cause failure to Allāh.2 And give tidings to those who disbelieve of a painful punishment.

اور اعلان ہے اللہ اوراس کے رسول کی جانب سے لوگوں کی طرف، دن حج اکبر کے، کہ بے شک اللہ دست بردار ہے مشرکین سے اوراس کا رسول (بھی)، پس اگر تم توبہ کرلو تو یہ بہتر ہے تمھارے لیے اوراگر تم نے منہ پھیر ے رکھا تو جان لو کہ بے شک تم نہیں عاجز کرنے والے اللہ کواور خوشخبری دے دیجیے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، عذاب درد ناک کی(3)

[3] یہ اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کے ساتھ وعدہ ہے کہ وہ اپنے دین کو فتح مند اور اپنے کلمہ کو بلند کرے گا اور ان کے مشرک دشمنوں سے علیحدہ ہو جائے گا جنھوں نے رسول اللہﷺ اور آپ کے صحابہy کو مکہ مکرمہ اور اللہ تعالیٰ کے محترم گھر سے نکال کر حجاز کے اس خطہ ارضی سے جلا وطن کیا جس پر ان کا تسلط تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ اور مومنین کو فتح و نصرت سے نوازا حتیٰ کہ مکہ فتح ہوگیا۔ مشرکین مغلوب ہوئے اور ان علاقوں کا اقتدار اور غلبہ مسلمانوں کے ہاتھ آ گیا تو نبی اکرمﷺ نے اپنے اعلان کرنے والے کو حکم دیا کہ وہ حج اکبر کے دن جو کہ قربانی اور جزیرۃ العرب کے مسلمانوں اور کفار کے اکٹھے ہونے کا دن ہے.... اعلان کر دے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بریء الذمہ ہے۔ رسول اللہﷺ کے ہاں اب ان کے لیے کوئی عہد اور میثاق نہیں ۔ وہ جہاں کہیں بھی ملیں گے ان کو قتل کیا جائے گا اور ان سے یہ بھی کہہ دیا گیا کہ وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں اور یہ سن ۹ ہجری تھا۔حضرت ابوبکرt نے لوگوں کے ساتھ حج کیا اور قربانی کے روز رسول اللہﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت علی بن ابی طالبt نے براء ت کا اعلان کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو توبہ کی ترغیب دی اور ان کو شرک پر جمے رہنے سے ڈرایا۔ ﴿فَاِنۡ تُبۡتُمۡ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ١ۚ وَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّـكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِي اللّٰهِ﴾ ’’پس اگر تم توبہ کر لو تو تمھارے لیے بہتر ہے اور اگر نہ مانو تو جان لو کہ تم اللہ کو ہرگز نہ تھکا سکو گے‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے بھاگ نہیں سکتے بلکہ تم اس کے قبضۂ قدرت میں ہو اور وہ اس بات پر قادر ہے کہ تم پر اپنے مومن بندوں کو مسلط کر دے۔ ﴿وَبَشِّرِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’اور کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خوش خبری سنادو۔‘‘ جو دنیا میں قتل، اسیری اور جلا وطنی کی صورت میں انھیں دیا جائے گا اور آخرت میں جہنم کی آگ کا۔ جو بہت برا ٹھکانا ہے۔

9:4Page 187

إِلَّا ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّم مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ثُمَّ لَمۡ يَنقُصُوكُمۡ شَيۡـٔٗا وَلَمۡ يُظَٰهِرُواْ عَلَيۡكُمۡ أَحَدٗا فَأَتِمُّوٓاْ إِلَيۡهِمۡ عَهۡدَهُمۡ إِلَىٰ مُدَّتِهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَّقِينَ ٤

Excepted are those with whom you made a treaty among the polytheists and then they have not been deficient toward you in anything or supported anyone against you; so complete for them their treaty until their term [has ended]. Indeed, Allāh loves the righteous [who fear Him].

مگر وہ لوگ جن سے تم نے عہد کر رکھا ہے، مشرکین میں سے، پھر نہیں کمی کی انھوں نے تمھارے ساتھ ذرا بھی اورنہ مدد کی تمھارے خلاف کسی کی، سو پورا کرو ان کے ساتھ ان کا عہد ان کی مدت(مقررہ) تک۔ بے شک اللہ پسند کرتا ہے متقیوں کو(4)

[4] یعنی یہ تمام مشرکین سے کامل اور براء ت مطلق کا اظہار ہے۔ ﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ عٰهَدۡتُّمۡ مِّنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ﴾ ’’سوائے ان مشرکین کے جن سے تم نے معاہدہ کر رکھا ہے‘‘ اور وہ اپنے عہد پر قائم ہیں اور ان سے کسی ایسے فعل کا ارتکاب نہیں ہوا جو نقض عہد کا موجب ہو۔ انھوں نے معاہدے میں کوئی کوتاہی کی ہے نہ تمھارے خلاف کسی کی مدد کی ہے۔ پس ان لوگوں کے ساتھ کیے ہوئے معاہدے کو، اس کی مدت مقررہ تک پورا کرو خواہ یہ مدت تھوڑی ہو یا زیادہ.... کیونکہ اسلام خیانت کا حکم نہیں دیتا وہ تو معاہدوں کو پورا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ پسند کرتا ہے تقویٰ اختیار کرنے والوں کو‘‘ وہ لوگ جنھوں نے ان ذمہ داریوں کو ادا کیا جن کا انھیں حکم دیا گیا اور شرک، خیانت اور دیگر گناہوں سے بچے۔

9:5Page 187

فَإِذَا ٱنسَلَخَ ٱلۡأَشۡهُرُ ٱلۡحُرُمُ فَٱقۡتُلُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ حَيۡثُ وَجَدتُّمُوهُمۡ وَخُذُوهُمۡ وَٱحۡصُرُوهُمۡ وَٱقۡعُدُواْ لَهُمۡ كُلَّ مَرۡصَدٖۚ فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ فَخَلُّواْ سَبِيلَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٥

And when the inviolable months1 have passed, then kill the polytheists wherever you find them and capture them and besiege them and sit in wait for them at every place of ambush. But if they should repent, establish prayer, and give zakāh, let them [go] on their way. Indeed, Allāh is Forgiving and Merciful.

پس جب گزر جائیں مہینے حرمت والے تو قتل کرو مشرکین کو جہاں کہیں پاؤ تم انھیں اور پکڑو انھیں اور گھیرے میں لیے رکھو ان کو اور بیٹھو ان کی تاک میں ہر گھات پر ، پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور قائم کریں نماز اور دیں زکاۃ تو چھوڑ دو ان کا راستہ۔ بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(5)

[5] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ فَاِذَا انۡسَلَخَ الۡاَشۡهُرُ الۡحُرُمُ ﴾ ’’پس جب گزر جائیں مہینے پناہ کے‘‘ یعنی وہ مہینے جن میں معاہد مشرکین کے خلاف جنگ کو حرام ٹھہرایا گیا ہے اور یہ آسانی کے چار ماہ ہیں اور جن کے ساتھ چار ماہ سے زیادہ مدت کا معاہدہ کیا گیا ہے، اس مدت کو پورا کیا جائے.... اس کے بعد ان کے ساتھ معاہدہ کی ذمہ داری ختم ہو جائے گی۔ ﴿ فَاقۡتُلُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَيۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡهُمۡ ﴾ ’’پس مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کردو۔‘‘ یعنی وہ کسی زمانے میں جہاں کہیں بھی ہوں ۔ ﴿ وَخُذُوۡهُمۡ ﴾ ’’ان کو قیدی بناؤ‘‘ ﴿ وَاحۡصُرُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور ان کو گھیر لو۔‘‘ یعنی ان پر زمین تنگ کر دو، اللہ کی اس زمین میں انھیں اس طرح نہ چھوڑ دو کہ وہ کھلے دندناتے پھرتے رہیں ، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے عبادت گاہ بنایا ہے۔ یہ لوگ اس زمین پر رہنے کے قابل نہیں بلکہ وہ اس زمین سے بالشت بھر جگہ کے بھی مستحق نہیں ۔ کیونکہ زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور کفار اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ، ان کے خلاف جنگ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ زمین اللہ تعالیٰ کے دین سے خالی ہو جائے۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ کفار کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔ ﴿ وَاقۡعُدُوۡا لَهُمۡ كُلَّ مَرۡصَدٍ ﴾ ’’اور ہر گھات کی جگہ پر ان کی تاک میں بیٹھو۔‘‘ یعنی ہر گھاٹی اور ہر راستے میں گھات لگا کر بیٹھو جہاں سے وہ گزرتے ہیں ۔ ان کے خلاف جہاد کے لیے پوری طرح تیار رہو اور جہاد میں اپنی پوری کوشش صرف کر دو اور ان کے خلاف اس وقت تک جہاد کرتے رہو جب تک کہ وہ اپنے شرک سے توبہ نہ کر لیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿فَاِنۡ تَابُوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ توبہ کرلیں ۔‘‘ یعنی اپنے شرک سے۔ ﴿ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ﴾ ’’اور نماز پڑھنے لگیں ۔‘‘ یعنی اسے اس کے حقوق کے ساتھ ادا کریں ۔ ﴿ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور زکاۃ دینے لگیں ۔‘‘ مستحقین کو زکاۃ دیں ۔ ﴿ فَخَلُّوۡا سَبِيۡلَهُمۡ ﴾ ’’تو ان کی راہ چھوڑ دو۔‘‘ یعنی ان کو چھوڑ دو اب وہ تمھارے برابر ہیں ان کے وہی حقوق ہیں جو تمھارے ہیں اور ان کے ذمے وہی فرائض ہیں جو تمھارے ذمے ہیں ۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کا شرک اور ان کے دیگر کم تر گناہ بخش دیتا ہے۔ انھیں توبہ کی توفیق بخش کر اور پھر اس توبہ کو قبول کر کے انھیں اپنی رحمت کے سائے میں لے لیتا ہے۔یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی نماز قائم کرنے یا زکاۃ ادا کرنے سے رکے گا، اس کے خلاف اس وقت تک جنگ کی جائے گی جب تک کہ وہ نماز قائم نہیں کرتا اور زکاۃ ادا نہیں کرتا۔ جیسا کہ جناب ابوبکر صدیقt نے اس آیت کریمہ سے استدلال کیا تھا۔

9:6Page 187

وَإِنۡ أَحَدٞ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ٱسۡتَجَارَكَ فَأَجِرۡهُ حَتَّىٰ يَسۡمَعَ كَلَٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ أَبۡلِغۡهُ مَأۡمَنَهُۥۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَوۡمٞ لَّا يَعۡلَمُونَ ٦

And if any one of the polytheists seeks your protection, then grant him protection so that he may hear the words of Allāh [i.e., the Qur’ān]. Then deliver him to his place of safety. That is because they are a people who do not know.

اور اگر کوئی مشرکین میں سے پناہ مانگے آپ سے تو پناہ دے دیں اس کوتاکہ سنے وہ کلام اللہ کا، پھر پہنچا دیں اس کو اس کے امن کی جگہ پر۔ یہ اس سبب سے کہ وہ لوگ ایسے ہیں کہ نہیں علم رکھتے(6)

[6] اللہ تبارک و تعالیٰ کا گزشتہ ارشاد ﴿ فَاِذَا انۡسَلَخَ الۡاَشۡهُرُ الۡحُرُمُ فَاقۡتُلُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَيۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡهُمۡ وَخُذُوۡهُمۡ وَاحۡصُرُوۡهُمۡ وَاقۡعُدُوۡا لَهُمۡ كُلَّ مَرۡصَدٍ ﴾ تمام اشخاص کے لیے اور تمام احوال میں ایک عام حکم ہے اگر مصلحت ان میں سے کسی کو قریب کرنے کا تقاضا کرتی ہو تو یہ جائز بلکہ واجب ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِنۡ اَحَدٌ مِّنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ اسۡتَجَارَكَ ﴾ ’’اگر مشرکین میں سے کوئی آپ سے پناہ طلب کرے‘‘ یعنی وہ یہ چاہے کہ آپ اس کو ضرر سے بچا لیں تو اس مقصد کے لیے اس کو پناہ دے دیں تاکہ وہ اللہ کا کلام سن لے اور اسلام میں اچھی طرح غور و فکر کر لے۔ ﴿ فَاَجِرۡهُ حَتّٰى يَسۡمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ﴾ ’’تو اس کو پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے۔‘‘ یعنی پھر اگر وہ اسلام قبول کر لے تو بہتر ورنہ اسے امن کی جگہ پہنچا دیں یعنی وہ جگہ جہاں وہ مامون ہو اور اس کا سبب یہ ہے کہ کفار بے علم لوگ ہیں ۔ بسااوقات ان کا کفر پر قائم رہنا جہالت کی وجہ سے ہوتا ہے، جب یہ سبب زائل ہو جاتا ہے تو وہ اسلام قبول کر لیتے ہیں۔اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ اور آپ کی امت کو احکام میں اس کے نمونے کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور وہ یہ کہ کفار میں سے جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کو سننے کی خواہش کرے تو اس کو امان دے دیں ۔اس آیت کریمہ میں اہل سنت والجماعت کے مذہب پر صریح دلیل ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام اور غیر مخلوق ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ہے اور اس نے اس کی اضافت اپنی طرف کی ہے جیسے صفت کی اضافت موصوف کی طرف ہوتی ہے.... نیز اس سے معتزلہ اور ان کے ہم نواؤں کے مذہب کا بطلان ثابت ہوتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن مخلوق ہے.... کتنے ہی دلائل ہیں جو ان کے اس قول کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں ۔ لیکن یہ ان کی تفصیل کا مقام نہیں ۔

9:7Page 188

كَيۡفَ يَكُونُ لِلۡمُشۡرِكِينَ عَهۡدٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعِندَ رَسُولِهِۦٓ إِلَّا ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّمۡ عِندَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِۖ فَمَا ٱسۡتَقَٰمُواْ لَكُمۡ فَٱسۡتَقِيمُواْ لَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَّقِينَ ٧

How can there be for the polytheists a treaty in the sight of Allāh and with His Messenger, except for those with whom you made a treaty at al-Masjid al-Ḥarām? So as long as they are upright toward you,1 be upright toward them. Indeed, Allāh loves the righteous [who fear Him].

کیوں کر ہو سکتا ہے واسطے مشرکوں کے عہد، نزدیک اللہ کے اور نزدیک اس کے رسول کے سوائے ان لوگوں کے جن سے عہد کیا تم نے نزدیک مسجد حرام کے، پس جب تک سیدھے رہیں وہ تمھارے لیے تو سیدھے رہو تم بھی ان کے لیے ، بے شک اللہ پسند کرتا ہے متقیوں کو(7)

[7] یہ اس حکمت الٰہی کا بیان ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری ہوں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ كَيۡفَ يَكُوۡنُ لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ۠ عَهۡدٌ عِنۡدَ اللّٰهِ وَعِنۡدَ رَسُوۡلِهٖۤ ﴾ ’’کیوں کر ہو مشرکین کے لیے کوئی عہد اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک‘‘ کیا انھوں نے واجبات ایمان کو قائم کیا ہے؟ یا انھوں نے رسول اللہﷺ اور اہل ایمان کو اذیت دینی چھوڑ دی ہے؟.... (بلکہ) انھوں نے حق کے خلاف جنگ کی اور باطل کی مدد کی.... کیا انھوں نے زمین میں فساد پھیلانے کی بھرپور کوشش کر کے اپنے آپ کو اس بات کا مستحق نہیں ٹھہرا لیا کہ اللہ تعالیٰ ان سے بری الذمہ ہو۔ اللہ اور اس کے رسول کے ہاں ان کے لیے کوئی عہد اور ذمہ نہ ہو؟ ﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ عٰهَدۡتُّمۡ ﴾ ’’سوائے ان کے جن سے تم نے عہد کیا‘‘ یعنی مشرکین میں سے جن کے ساتھ تم نے معاہدہ کیا ﴿ عِنۡدَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ﴾ ’’مسجد حرام کے پاس‘‘ پس اس عہد میں .... خاص طور پر فضیلت والی اس جگہ پر... ان کے لیے حرمت ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ ان کی رعایت رکھی جائے۔ ﴿ فَمَا اسۡتَقَامُوۡا لَكُمۡ فَاسۡتَقِيۡمُوۡا۠ لَهُمۡ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’پس جب تک وہ اپنے عہد پر قائم رہیں تو تم بھی اپنے عہد پر قائم رہو بے شک اللہ اہل تقویٰ کو پسند کرتا ہے۔‘‘

بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:

9:8–11Page 188

كَيۡفَ وَإِن يَظۡهَرُواْ عَلَيۡكُمۡ لَا يَرۡقُبُواْ فِيكُمۡ إِلّٗا وَلَا ذِمَّةٗۚ يُرۡضُونَكُم بِأَفۡوَٰهِهِمۡ وَتَأۡبَىٰ قُلُوبُهُمۡ وَأَكۡثَرُهُمۡ فَٰسِقُونَ ٨

How [can there be a treaty] while, if they gain dominance over you, they do not observe concerning you any pact of kinship or covenant of protection? They satisfy you with their mouths, but their hearts refuse [compliance], and most of them are defiantly disobedient.

ٱشۡتَرَوۡاْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنٗا قَلِيلٗا فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِهِۦٓۚ إِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٩

They have exchanged the signs of Allāh for a small price and averted [people] from His way. Indeed, it was evil that they were doing.

لَا يَرۡقُبُونَ فِي مُؤۡمِنٍ إِلّٗا وَلَا ذِمَّةٗۚ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُعۡتَدُونَ ١٠

They do not observe toward a believer any pact of kinship or covenant of protection. And it is they who are the transgressors.

فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ فَإِخۡوَٰنُكُمۡ فِي ٱلدِّينِۗ وَنُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ ١١

But if they repent, establish prayer, and give zakāh, then they are your brothers in religion; and We detail the verses for a people who know.

کیوں کر (رہ سکتا ہے عہد) درآں حالیکہ اگر غالب آجائیں وہ تم پر تو نہیں خیال کریں گے وہ تمھارے بارے میں رشتے داری کا اورنہ کسی عہد کا، وہ خوش کرتے ہیں تمھیں ساتھ اپنے مونہوں کے اور انکار کرتے ہیں دل ان کے اوراکثر ان کے نافرمان ہیں(8) بیچا انھوں نے اللہ کی آیتوں کو مول تھوڑے پر اور روکا (لوگوں کو) اس کے راستے سے، پس بے شک برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(9) نہیں خیال کرتے وہ کسی مومن کے بارے میں رشتے داری کا اور نہ کسی عہد کا اور یہ لوگ، وہی ہیں حد سے نکل جانے والے(10) پس اگر وہ توبہ کرلیں اور قائم کریں نماز اور دیں زکاۃ تو وہ تمھارے بھائی ہیں دین میں اور ہم مفصل بیان کرتے ہیں اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں(11)

[8]﴿ كَيۡفَ﴾ ’’کیسے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں مشرکین کے لیے کیسے عہد و میثاق ہو سکتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّظۡهَرُوۡا عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کہ اگر وہ تم پر غلبہ پالیں ۔‘‘ ان کا حال تو یہ ہے کہ اگر ان کو تم پر قدرت اور غلبہ حاصل ہو تو تم پر کوئی رحم نہیں کریں گے۔ ﴿ لَا يَرۡقُبُوۡا فِيۡكُمۡ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّۃً﴾ ’’تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہدکا۔‘‘ یعنی وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں رکھیں گے، وہ تمھارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈریں گے بلکہ وہ تمھیں بدترین عذاب دیں گے۔ پس اگر وہ غالب آجائیں تو ان کے ساتھ تمھارا یہ حال ہوگا۔ اگر وہ تم سے ڈر کر تمھارے ساتھ کوئی معاملہ کرتے ہیں تو تمھیں ان کے بارے میں دھوکے میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ ﴿يُرۡضُوۡنَؔكُمۡ بِاَفۡوَاهِهِمۡ وَتَاۡبٰى قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے منہ سے تمھیں خوش کر دیتے ہیں اور ان کے دل تمھاری طرف میلان اور محبت سے انکار کرتے ہیں ‘‘ بلکہ وہ تمھارے حقیقی دشمن ہیں اور تمھارے ساتھ دلی بغض رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاَكۡثَرُهُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے اکثر بدعہد ہیں ‘‘ ان میں کوئی دیانت اور مروت نہیں۔

[9]﴿ اِشۡتَرَوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ﴾ ’’یہ اللہ کی آیات کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل کرنے کی بجائے اس دنیا میں جلدی حاصل ہونے والے خسیس عوض کو اختیار کر لیا۔ ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِهٖ﴾ انھوں نے خود اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ سَآءَؔ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ بہت ہی برے کام ہیں جو یہ کرتے ہیں ۔‘‘

[10]﴿ لَا يَرۡقُبُوۡنَ فِيۡ مُؤۡمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً﴾ ’’وہ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔‘‘ یعنی ایمان اور اہل ایمان سے عداوت کی بنا پر وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں کرتے۔ وہ وصف جس کی بنا پر وہ تم سے عداوت اور بغض رکھتے ہیں ... وہ ایمان ہے۔

[11] اس لیے اپنے دین کا دفاع کرو اور اس کی مدد کرو اور جو کوئی تمھارے دین سے عداوت رکھتا ہے اسے اپنا دشمن سمجھو اور جو تمھارے دین کی مدد کرتا ہے اسے اپنا دوست سمجھو۔ دوستی کے وجود اور عدم وجود کے اعتبار سے دین کو حکم کا مدار بناؤ۔ طبیعت کو دوستی اور دشمنی کا معیار نہ بناؤ کہ جدھر خواہش کا میلان ہو تم بھی ادھر جھک جاؤ اور اس بارے میں اس نفس کی پیروی کرو جو برائی کا حکم دیتا ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ تَابُوۡا ﴾ ’’اگر وہ توبہ کرلیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ اپنے شرک سے توبہ کر کے ایمان کی طرف لوٹ آئیں ﴿ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخۡوَانُكُمۡ فِي الدِّيۡنِ ﴾ ’’اور نماز قائم کریں ، زکاۃ دیں تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں ‘‘ اور اس عداوت کو فراموش کر دو جب وہ مشرک تھے تاکہ تم سب اللہ کے مخلص بندے بن جاؤ اور اس طرح بندہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ بن جاتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم احکام کو بیان فرمایا ان میں سے کچھ احکام کی توضیح فرمائی، کچھ حکمتوں اور فیصلوں کو بیان کیا تو فرمایا:﴿ وَنُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم آیات کو واضح اور ممیز کرتے ہیں ‘‘ ﴿ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’جاننے والے لوگوں کے واسطے‘‘ پس سیاق کلام انھی کی طرف ہے، انھی کے ذریعے سے آیات و احکام کا علم حاصل ہوتا ہے اور انھی کے ذریعے سے دین اسلام اور شریعت کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔اے اللہ! اے رب العالمین! اپنی رحمت، اپنے جود و کرم اور اپنے احسان سے، ہمیں ایسے لوگوں میں شامل کر جو علم رکھتے ہیں اور ان باتوں پر عمل کرتے ہیں جن کا ان کو علم ہے۔

9:12–15Page 188

وَإِن نَّكَثُوٓاْ أَيۡمَٰنَهُم مِّنۢ بَعۡدِ عَهۡدِهِمۡ وَطَعَنُواْ فِي دِينِكُمۡ فَقَٰتِلُوٓاْ أَئِمَّةَ ٱلۡكُفۡرِ إِنَّهُمۡ لَآ أَيۡمَٰنَ لَهُمۡ لَعَلَّهُمۡ يَنتَهُونَ ١٢

And if they break their oaths after their treaty and defame your religion, then combat the leaders of disbelief, for indeed, there are no oaths [sacred] to them; [fight them that] they might cease.

أَلَا تُقَٰتِلُونَ قَوۡمٗا نَّكَثُوٓاْ أَيۡمَٰنَهُمۡ وَهَمُّواْ بِإِخۡرَاجِ ٱلرَّسُولِ وَهُم بَدَءُوكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةٍۚ أَتَخۡشَوۡنَهُمۡۚ فَٱللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخۡشَوۡهُ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ١٣

Would you not fight against a people who broke their oaths and determined to expel the Messenger, and they had begun [the attack upon] you the first time? Do you fear them? But Allāh has more right that you should fear Him, if you are [truly] believers.

قَٰتِلُوهُمۡ يُعَذِّبۡهُمُ ٱللَّهُ بِأَيۡدِيكُمۡ وَيُخۡزِهِمۡ وَيَنصُرۡكُمۡ عَلَيۡهِمۡ وَيَشۡفِ صُدُورَ قَوۡمٖ مُّؤۡمِنِينَ ١٤

Fight them; Allāh will punish them by your hands and will disgrace them and give you victory over them and satisfy the breasts [i.e., desires] of a believing people

وَيُذۡهِبۡ غَيۡظَ قُلُوبِهِمۡۗ وَيَتُوبُ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ١٥

And remove the fury in their [i.e., the believers'] hearts. And Allāh turns in forgiveness to whom He wills; and Allāh is Knowing and Wise.

اور اگر توڑ دیں وہ قسمیں اپنی، بعد اپنے عہد کر لینے کے اور طعن کریں تمھارے دین میں،تو لڑو تم (ان) پیشوایان کفر سے، بے شک نہیں(معتبر) قسمیں ان کی تاکہ وہ باز آجائیں(12) کیا نہیں لڑو گے تم ان لوگوں سے کہ توڑ دیں انھوں نے قسمیں اپنی اور ارادہ کیا تھا انھوں نے نکالنے کا رسول کو اورانھوں ہی نے (لڑائی) شروع کی تم سے پہلے پہل کیا ڈرتے ہوتم ان سے؟ پس اللہ زیادہ حق دار ہے کہ ڈرو تم اس سے، اگر ہو تم مومن(13) لڑو تم ان سے کہ عذاب دے ان کو اللہ تمھارے ہاتھوں سے اور رسوا کرے ان کو اور مدد کرے تمھاری ان کے مقابلے پر اور شفا بخشے سینوں کومومن قوم کے(14)اور دور کردے وہ غصہ ان کے دلوں کا اور توجہ فرماتا ہے اللہ جس پر چاہتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے(15)

[12] اس بات کا ذکر کرنے کے بعد کہ اگر مشرک معاہدین اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں تو تم بھی اپنے عہد پر قائم رہتے ہوئے ان سے اپنے عہد کو پورا کرو... اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ نَّـكَثُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ عَهۡدِهِمۡ ﴾ ’’اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنے حلف کو توڑ دیا اور جنگ میں تمھارے خلاف دشمن کی مدد کی یا تمھیں نقصان پہنچایا ﴿ وَطَعَنُوۡا فِيۡ دِيۡنِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دین میں طعن کرنے لگیں ۔‘‘ یعنی تمھارے دین میں عیب چینی کی یا اس کا تمسخر اڑایا۔ یہ دین اور قرآن میں ہر قسم کے طعن و تشنیع کو شامل ہے۔ ﴿ فَقَاتِلُوۡۤا اَىِٕمَّةَ الۡكُفۡرِ ﴾’’ تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔‘‘ یعنی قائدین کفر اور ان سرداروں سے لڑو جو اللہ رحمن کے دین میں طعن و تشنیع کرتے ہیں اور شیطان کے دین کی مدد کرتے ہیں ۔ ان قائدین کفر کا خاص طور پر ذکر اس لیے کیا ہے کیونکہ ان کا جرم بہت بڑا تھا اور دیگر لوگ تو محض ان کے پیروکار تھے اور تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ جو کوئی دین میں طعن و تشنیع کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کو ٹھکرانے کے درپے ہوتا ہے تو اس کا شمار ائمہ کفر میں ہوتا ہے۔﴿ اِنَّهُمۡ لَاۤ اَيۡمَانَ لَهُمۡ ﴾ یعنی ان کا کوئی عہد و میثاق نہیں کہ وہ اس کے ایفا کا التزام کریں بلکہ وہ تو ہمیشہ خیانت کرتے رہتے ہیں اور عہد کو توڑتے رہتے ہیں ۔ ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ ﴾ ’’شاید کہ وہ‘‘ یعنی ان کے ساتھ تمھارے لڑائی کرنے میں ﴿ يَنۡتَهُوۡنَ ﴾ ’’باز آجائیں ۔‘‘ یعنی تمھارے دین میں طعن کرنے سے باز آجائیں اور بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ دین میں داخل ہوجائیں ۔

[13] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے خلاف جہاد کی ترغیب دی ہے اور دشمنوں سے جو اوصاف صادر ہوتے ہیں ان کو بیان کر کے اہل ایمان کو ان کے خلاف جہاد پر ابھارا ہے کیونکہ جن اوصاف سے یہ کفار متصف ہیں وہ ان کے خلاف جہاد کا تقاضا کرتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَا تُقَاتِلُوۡنَ قَوۡمًا نَّـكَثُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ وَهَمُّوۡا بِـاِخۡرَاجِ الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’تم ان لوگوں سے کیوں نہیں لڑتے جنھوں نے اپنے عہدوں کو توڑ دیا اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا‘‘ جس کا احترام اور تعظیم و توقیر فرض ہے۔ نیز انھوں نے ارادہ کیا کہ وہ رسول اللہﷺ کو جلا وطن کر دیں اور اس مقصد کے لیے انھوں نے امکان بھر کوشش کی۔ ﴿ وَهُمۡ بَدَءُوۡؔكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾’’اور انھوں نے پہلے چھیڑ کی تم سے‘‘ جبکہ انھوں نے نقض عہد کا ارتکاب کیا اور تمھارے خلاف دشمن کی اعانت کی اور یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب قریش نے.... درآں حالیکہ انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کر رکھا تھا.... بنو خزاعہ کے خلاف اپنے حلیفوں یعنی بنو بکر کی مدد کی۔ بنو خزاعہ رسول اللہﷺ کے حلیف تھے اور قریش نے بنو خزاعہ کے خلاف لڑائی کی، جیسا کہ اس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے۔﴿ اَتَخۡشَوۡنَهُمۡ۠﴾ ’’کیا تم ان سے ڈرتے ہو۔‘‘ یعنی کیا تم ان سے قتال کرنے سے ڈرتے ہو؟ ﴿ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشَوۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کی تمھیں سخت تاکید کی ہے۔ اگر تم مومن ہو تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرو اور کفار سے ڈر کر اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک نہ کرو۔

[14] پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا اور ان فوائد کا ذکر کیا جو کفار کے خلاف جہاد پر مترتب ہوتے ہیں یہ سب اہل ایمان کے لیے کفار کے خلاف جہاد کی ترغیب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قَاتِلُوۡهُمۡ يُعَذِّبۡهُمُ اللّٰهُ بِاَيۡدِيۡكُمۡ ﴾ ’’ان سے لڑائی کرو، اللہ ان کو سزا دے گا تمھارے ہاتھوں سے‘‘ یعنی قتل کے ذریعے سے ﴿ وَيُخۡزِهِمۡ ﴾ ’’اور رسوا کرے گا ان کو‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ کفار کے خلاف تمھاری مدد کرتا ہے۔ یہ وہ دشمن ہیں جن کی رسوائی مطلوب ہے اور اس کی خواہش کی جاتی ہے ﴿ وَيَنۡصُرۡؔكُمۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور تم کو ان پر غالب کر دے گا‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے وعدہ اور بشارت تھی اور اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔﴿ وَيَشۡفِ صُدُوۡرَ قَوۡمٍ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾’’ اور ٹھنڈے کرے گا دل مسلمان لوگوں کے ‘‘

[15]﴿وَيُذۡهِبۡ غَيۡظَ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’ اور نکالے گا ان کے دلوں کی جلن‘‘ کیونکہ کفار کے خلاف ان کے دل غیظ و غضب سے لبریز ہیں ۔ ان کے خلاف قتال کرنے اور ان کو قتل کرنے سے اہل ایمان کو ان کے دلوں میں موجود غیظ و غضب اور غم و ہموم سے شفا ملتی ہے۔ کیونکہ وہ ان دشمنوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف برسر پیکار ہیں اور اللہ کے نور کو بجھانے میں کوشاں ہیں، چنانچہ انھیں قتل و رسوا کرکے مومنوں کے دلوں میں موجود غیظ و غضب زائل ہوتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے محبت کرتا ہے اور ان کے احوال کو درخور اعتناء سمجھتا ہے۔ حتی کہ اس نے اہل ایمان کے دلوں کو شفا دینا اور ان کے غیظ و غضب کو زائل کرنا، مقاصد شرعیہ میں شمار کیا ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَتُوۡبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اور جس پر چاہے گا اللہ رحمت کرے گا۔‘‘ یعنی ان برسرپیکار کفار میں سے جسے چاہے اسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطا کر کے اس کی توبہ قبول کر لے، اسلام کو ان کے دلوں میں آراستہ کر دے اور کفر، فسق اور نافرمانی کو ان کے لیے ناپسندیدہ کر دے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ تمام اشیا کو ان کے مقام پر رکھتا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کون ایمان لانے کی صلاحیت رکھتا ہے، چنانچہ وہ اس کی راہ نمائی کرتا ہے اور کون اس صلاحیت سے محروم ہے؟ وہ اس کو اس کی گمراہی اور سرکشی میں غلطاں چھوڑ دیتا ہے۔

9:16Page 189

أَمۡ حَسِبۡتُمۡ أَن تُتۡرَكُواْ وَلَمَّا يَعۡلَمِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ جَٰهَدُواْ مِنكُمۡ وَلَمۡ يَتَّخِذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَا رَسُولِهِۦ وَلَا ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَلِيجَةٗۚ وَٱللَّهُ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ ١٦

Do you think that you will be left [as you are] while Allāh has not yet made evident those among you who strive [for His cause] and do not take other than Allāh, His Messenger and the believers as intimates? And Allāh is [fully] Aware of what you do.

کیا تم نے گمان کرلیا ہے کہ تم (یوں ہی) چھوڑ دیے جاؤ گے، جبکہ ابھی نہیں جانا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے جہاد کیا تم میں سے اورنہیں بنایا انھوں نے سوائے اللہ کے اورنہ سوائے اس کے رسول کے اورنہ مومنین کے کوئی دلی دوست اور اللہ خوب خبردار ہے ان سے جو تم عمل کرتے ہو(16)

[16] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو جہاد کا حکم دینے کے بعد ان سے فرماتا ہے ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تُتۡرَؔكُوۡا ﴾ ’’کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم چھوٹ جاؤ گے‘‘ یعنی تمھیں کسی آزمائش اور امتحان میں مبتلا کیے بغیر اور تمھیں کوئی ایسا حکم دیے بغیر چھوڑ دیا جائے گا جس سے سچے اور جھوٹے کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ ﴿ وَلَمَّا يَعۡلَمِ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ جٰؔهَدُوۡا مِنۡكُمۡ ﴾ ’’حالانکہ ابھی معلوم نہیں کیا اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جنھوں نے جہاد کیا ہے‘‘ یعنی ایسا علم جو اس چیز کو خارج میں ظاہر کر دے جو قوت میں موجود ہے تاکہ اس پر ثواب و عقاب مرتب ہو۔ پس ان لوگوں کو جان لے جو اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے اس کے راستے میں جہاد کرتے ہیں ۔ ﴿ وَلَمۡ يَتَّؔخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوۡلِهٖ وَلَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَلِيۡجَةً﴾ ’’اور نہیں بنایا انھوں نے اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے سوا، کوئی دوست‘‘ یعنی انھوں نے کفار کو اپنا دوست نہیں بنایا۔ بلکہ وہ اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا دوست بناتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاد اس لیے مشروع فرمایا تاکہ اس سے یہ عظیم مقصد حاصل ہو سکے اور وہ عظیم مقصد یہ ہے کہ سچے لوگ جنھوں نے اپنے آپ کو صرف دین کے لیے وقف کر رکھا ہے، ان جھوٹے لوگوں سے ممیز ہو جائیں جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اور حال ان کا یہ ہے کہ وہ اللہ، اس کے رسول اور مومنین کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا دلی دوست اور مددگار بناتے ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ تمھارے سب کاموں سے باخبر ہے۔‘‘ یعنی تم سے جو کچھ صادر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح آگاہ ہے پس وہ تمھاری اس طرح آزمائش کرتا ہے جس سے تمھاری پوری حقیقت ظاہر ہوجائے۔ اور وہ تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔

9:17–18Page 189

مَا كَانَ لِلۡمُشۡرِكِينَ أَن يَعۡمُرُواْ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ شَٰهِدِينَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِم بِٱلۡكُفۡرِۚ أُوْلَٰٓئِكَ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ وَفِي ٱلنَّارِ هُمۡ خَٰلِدُونَ ١٧

It is not for the polytheists to maintain the mosques of Allāh [while] witnessing against themselves with disbelief. [For] those, their deeds have become worthless, and in the Fire they will abide eternally.

إِنَّمَا يَعۡمُرُ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ مَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَأَقَامَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَى ٱلزَّكَوٰةَ وَلَمۡ يَخۡشَ إِلَّا ٱللَّهَۖ فَعَسَىٰٓ أُوْلَٰٓئِكَ أَن يَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُهۡتَدِينَ ١٨

The mosques of Allāh are only to be maintained by those who believe in Allāh and the Last Day and establish prayer and give zakāh and do not fear except Allāh, for it is expected that those will be of the [rightly] guided.

نہیں ہے لائق واسطے مشرکین کے یہ کہ آباد کریں وہ مسجدیں اللہ کی جبکہ وہ شہادت دینے والے ہیں اپنے نفسوں پر کفر کی، یہی لوگ ہیں کہ برباد ہوگئے عمل ان کے اورآگ ہی میں وہ ہمیشہ رہیں گے(17)یقینا صرف وہی آباد کرتا ہے مسجدیں اللہ کی جو ایمان لایا اللہ پر اور یوم آخرت پر اور قائم کی اس نے نماز اور ادا کی زکاۃ اور نہیں ڈرا وہ مگر اللہ ہی سے، سوامید ہے کہ وہی ہوں گے ہدایت یافتہ لوگوں میں سے(18)

[17] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ مَا كَانَ لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ۠ ﴾ ’’مشرکوں کو زیبا نہیں ۔‘‘ یعنی مشرکین کے لائق اور ان کے لیے مناسب نہیں ۔ ﴿ اَنۡ يَّعۡمُرُوۡا مَسٰجِدَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہ آباد کریں وہ اللہ کی مسجدوں کو‘‘ یعنی عبادات، نماز اور مختلف انواع کی نیکیوں کے ذریعے سے اللہ کی مساجد کو آباد کریں اور حال ان کا یہ ہے کہ وہ اپنی فطرت اور شہادت حال کے ذریعے سے اپنے کفر کا اقرار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر لوگوں کی بابت علم ہے کہ وہ کفر اور باطل پر ہیں ۔ ﴿شٰهِدِيۡنَ عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ بِالۡكُفۡرِ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے آپ پر کفر (اور عدم ایمان) کی گواہی دیتے ہیں ۔‘‘ ایمان اعمال کی قبولیت کی شرط ہے تب وہ کیوں کر یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کرتے ہیں ۔ حالانکہ ان کے اعمال کی بنیاد ہی مفقود ہے اور ان کے اعمال باطل ہیں ۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ١ۖۚ وَفِي النَّارِ هُمۡ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں ، ان کے اعمال برباد ہو گئے اور وہ آگ میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

[18] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا کہ وہ کون لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کرتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّمَا يَعۡمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اللہ کی مسجدوں کو تو وہی آباد کرتا ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور قائم کیا نماز کو‘‘ یعنی وہ فرض اور مستحب نمازوں کو ظاہری اور باطنی طور پر قائم کرتا ہے ﴿ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ ﴾ اور مستحق لوگوں کو زکاۃ ادا کرتا ہے ﴿ وَلَمۡ يَخۡشَ اِلَّا اللّٰهَ ﴾ ’’اور نہیں ڈرا سوائے اللہ کے‘‘ یعنی اس نے اپنی خشیت کو صرف اللہ تعالیٰ پر مرکوز کر رکھا ہے، ان امور کو اپنے آپ سے دور رکھتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حقوق واجبہ کی ادائیگی میں کبھی کوتاہی نہیں کرتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مومنوں کو ایمان نافع اور اعمال صالحہ کے بجا لانے سے متصف کیا ہے۔ ان اعمال صالحہ کی اساس نماز اور زکاۃ ہے نیز ان کو خشیت الٰہی سے موصوف کیا ہے جو ہر بھلائی کی بنیاد ہے.... درحقیقت یہی وہ لوگ ہیں جو مساجد کو آباد کرتے ہیں اور یہی ان کے اہل ہیں ۔ ﴿ فَعَسٰۤى اُولٰٓىِٕكَ اَنۡ يَّكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُهۡتَدِيۡنَ ﴾ ’’پس امید ہے کہ یہ لوگ ہوں ہدایت والوں میں ‘‘ لفظ (عَسٰی) اللہ تعالیٰ کی طرف سے وجوب کے معنی میں آتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ، نہ اللہ سے ڈرتے ہیں تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کرنے والے نہیں اور نہ ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ان کے اہل ہیں ۔ اگرچہ وہ اس کا دعویٰ کرتے ہیں ۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском