As-Sa'diAt‑Tawbah · 9:97–106

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

At-Tawbah 9:97–106

9:97–99Page 202

ٱلۡأَعۡرَابُ أَشَدُّ كُفۡرٗا وَنِفَاقٗا وَأَجۡدَرُ أَلَّا يَعۡلَمُواْ حُدُودَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ ٩٧

The bedouins are stronger in disbelief and hypocrisy and more likely not to know the limits of what [laws] Allāh has revealed to His Messenger. And Allāh is Knowing and Wise.

وَمِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ مَغۡرَمٗا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ ٱلدَّوَآئِرَۚ عَلَيۡهِمۡ دَآئِرَةُ ٱلسَّوۡءِۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٞ ٩٨

And among the bedouins are some who consider what they spend as a loss1 and await for you turns of misfortune. Upon them will be a misfortune of evil. And Allāh is Hearing and Knowing.

وَمِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مَن يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ قُرُبَٰتٍ عِندَ ٱللَّهِ وَصَلَوَٰتِ ٱلرَّسُولِۚ أَلَآ إِنَّهَا قُرۡبَةٞ لَّهُمۡۚ سَيُدۡخِلُهُمُ ٱللَّهُ فِي رَحۡمَتِهِۦٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٩٩

But among the bedouins are some who believe in Allāh and the Last Day and consider what they spend as means of nearness to Allāh and of [obtaining] invocations of the Messenger. Unquestionably, it is a means of nearness for them. Allāh will admit them to His mercy. Indeed, Allāh is Forgiving and Merciful.

بدوی(دیہاتی) زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں اور زیادہ لائق ہیں اس بات کے کہ نہ جانیں وہ ان احکام کو جو نازل کیے اللہ نے اپنے رسول پراور اللہ خوب جاننے والا ، خوب حکمت والاہے(97) اور کچھ بدوی وہ ہیں جو خیال کرتے ہیں اس کو ، جو وہ خرچ کرتے ہیں (اللہ کی راہ میں ) تاوان اور انتظار کرتے ہیں تم پر زمانے کی گردشوں کا، انھیں پر ہے گردش بری اور اللہ خوب سنتا جانتا ہے(98) اور کچھ بدوی وہ ہیں جو ایمان لاتے ہیں ساتھ اللہ اور یوم آخرت کےاورخیال کرتے ہیں اس کو جو خرچ کرتے ہیں ( دین کے لیے) قربت کاذریعہ اللہ کے ہاں اور( ذریعہ) دعائیں لینے کا رسول کی، آگاہ رہو! یقینا یہ (خرچ کرنا) قربت کاذریعہ ہے ان کے لیے ، عنقریب داخل کرے گا ان کو اللہ اپنی رحمت میں ، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے(99)

[97] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَلۡاَعۡرَابُ ﴾ ’’بدوی‘‘ اس سے مراد صحرا اور دیہات میں رہنے والے لوگ ہیں ﴿ اَشَدُّ كُفۡرًا وَّنِفَاقًا ﴾’’زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں ۔‘‘ یعنی صحرا میں رہنے والوں میں شہر کے ان لوگوں کی نسبت زیادہ کفر اور نفاق ہے جن میں نفاق کا مرض پایا جاتا ہے۔ اس کے بہت سے اسباب ہیں ۔(۱) بدوی لوگ شریعت، اعمال اور احکام سے بہت دور ہوتے ہیں ۔ پس وہ اسی قابل ہوتے ہیں ﴿ وَّاَجۡدَرُ اَلَّا يَعۡلَمُوۡا حُدُوۡدَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ﴾ ’’اور اس قابل ہیں کہ جو احکام اللہ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ، ان سے واقف نہ ہوں ۔‘‘ یعنی جو احکام شریعت اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ، مثلاً: اصول ایمان اور اوامر و نواہی وغیرہ... ان سے واقف نہ ہوں ۔ اس کے برعکس شہر میں رہنے والے لوگ اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان حدود سے واقف ہوں جو اس نے اپنے رسولﷺ پر نازل فرمائی ہیں اور اس علم کے سبب سے ان میں خوبصورت تصورات اور نیکی کے ارادے جنم لیتے ہیں جن کے بارے میں یہ شہری لوگ جانتے ہیں ، بدوی ان کا علم نہیں رکھتے۔ (۲)شہریوں میں لطافت طبع پائی جاتی ہے اور ان میں داعی حق کی اطاعت کا جذبہ موجود ہوتا ہے جو بدویوں میں نہیں ہوتا۔(۳) شہری بدویوں کی نسبت اہل ایمان کے ساتھ زیادہ اٹھتے بیٹھتے اور ان کے ساتھ زیادہ اختلاط رکھتے ہیں ۔ بنا بریں وہ بدویوں کی نسبت بھلائی کے زیادہ اہل ہوتے ہیں ۔ ہر چند کہ کفار اور منافقین شہر اور دیہات دونوں جگہ پائے جاتے ہیں مگر دیہات میں شہر کی نسبت کفر و نفاق زیادہ شدید ہوتا ہے۔

[98](۴) بدوی مال و متاع کے زیادہ حریص ہوتے ہیں اور مال کے بارے میں ان میں زیادہ بخل پایا جاتا ہے۔بدویوں ہی میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں ﴿ مَنۡ يَّؔتَّؔخِذُ مَا يُنۡفِقُ ﴾ ’’جو سمجھتے ہیں اس کو جسے وہ خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی زکاۃ اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کو ﴿ مَغۡرَمًا ﴾ ’’تاوان‘‘ یعنی خسارہ اور نقصان اور وہ اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اخروی ثواب نہیں چاہتے اور بہت ناگواری سے زکاۃ و صدقات ادا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَّيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآىِٕرَ﴾ ’’اور انتظار کرتے ہیں وہ تم پر زمانے کی گردشوں کا‘‘ یعنی اہل ایمان کے ساتھ اپنے بغض اور عداوت کی بنا پر وہ تمھارے بارے میں گردش ایام اور مصائب زمانہ کے منتظر ہیں مگر یہ گردش ایام الٹا انھی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی ﴿ عَلَيۡهِمۡ دَآىِٕرَةُ السَّوۡءِ ﴾ ’’یہ بری مصیبت انھی پر واقع ہوگی۔‘‘ رہے اہل ایمان تو ان کے لیے ان کے دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی اور ان کا انجام اچھا ہے ﴿ وَ اللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ علم رکھنے والا، حکمت والا ہے۔‘‘ وہ بندوں کی نیتوں کو خوب جانتا ہے اور بندوں سے جو اعمال اخلاص کے ساتھ اور اخلاص کے بغیر صادر ہوتے ہیں وہ ان سے بھی آگاہ ہے۔

[99] تمام اعراب قابل مذمت نہیں ہیں بلکہ ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں ﴿مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں ‘‘ بنا بریں وہ کفر و نفاق سے بچے ہوئے ہیں اور ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ وَيَتَّؔخِذُ مَا يُنۡفِقُ قُرُبٰتٍ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو وہ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے نزدیک ہونے میں شمار کرتے ہیں ‘‘ یعنی وہ اپنے صدقے پر ثواب کی امید رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور اس کے قرب کے قصد سے صدقہ دیتے ہیں ۔ ﴿ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوۡلِ﴾ ’’اور رسول کی دعائیں لینے میں ‘‘ اور وہ اس صدقہ کو اپنے لیے رسولﷺ کی دعاؤں اور برکت کا وسیلہ بناتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ کی دعاؤں کے فائدہ مند ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرۡبَةٌ لَّهُمۡ﴾ ’’سنو وہ بے شک ان کے لیے (موجب) قربت ہے۔‘‘ یعنی یہ صدقات اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں ۔ صدقات سے ان کا مال بڑھتا ہے اور اس میں برکت نازل ہوتی ہے ﴿ سَيُدۡخِلُهُمُ اللّٰهُ فِيۡ رَحۡمَتِهٖ﴾ ’’اللہ ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔‘‘ وہ ان کو اپنے جملہ نیک بندوں میں شامل کرے گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾’’بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ جو کوئی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنی رحمت کو اپنے تمام بندوں پر عام کرتا ہے، اس کی بے پایاں رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ وہ اپنے مومن بندوں کو ایسی رحمت کے لیے مخصوص کرتا ہے جس کے تحت وہ ان کو نیکیوں کی توفیق عطا کرتا ہے اور انھیں اپنے احکام کی خلاف ورزی سے محفوظ رکھتا ہے اور انھیں مختلف انواع کے ثواب عطا کرتا ہے۔(۱)اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ بدوی لوگ بھی شہروں میں رہنے والے لوگوں کی مانند ہیں ان میں قابل ستائش لوگ بھی ہیں اور قابل مذمت بھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بدویوں کی محض اس بنا پر مذمت نہیں فرمائی کہ وہ صحراؤں میں رہنے والے ہیں بلکہ ان کی مذمت اس سبب کی بنا پر کی ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اوامر کو ترک کر دیا اور اوامر و منہیات کی عدم تعمیل کی ان سے زیادہ توقع ہوتی ہے۔(۲)کفر اور نفاق کم یا زیادہ اور حسب احوال سخت یا نرم ہوتا رہتا ہے۔(۳)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ علم کو فضیلت حاصل ہے۔ علم سے محروم شخص، اس شخص کی نسبت شر کے زیادہ قریب ہے جو علم رکھتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اعراب کی مذمت کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ وہ کفر اور نفاق میں بہت سخت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر بھی کیا ہے جو اس درشتی کا موجب ہے۔ ان سے زیادہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ان حدود سے ناواقف ہوں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ پر نازل کی ہیں ۔(۴) علم نافع، جو سب سے زیادہ نفع مند علم ہے، دین کے اصول و فروع کی حدود کی معرفت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمائی ہیں ، مثلاً:حدود ایمان، حدود اسلام، حدود احسان، تقویٰ، فلاح، اطاعت، نیکی، صلہ رحمی، بھلائی، کفر، نفاق، فسق و فجور، نافرمانی، زنا، شراب نوشی اور سود خوری وغیرہ کی حدود۔ ان حدود کی معرفت کے بعد ہی عارف ان حدود پر عمل پیرا ہو سکتا ہے جن پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے یا حرام ہونے کی صورت میں ترک کرنے پر قادر ہو سکتا ہے۔(۵) بندۂ مومن کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ شرح صدر اور اطمینان قلب کے ساتھ ان حقوق کو ادا کرے جو اس کے ذمے عائد کیے گئے ہیں اور ہمیشہ فائدہ حاصل کرنے میں کوشاں رہے اور نقصان سے بچتا رہے۔

9:100Page 203

وَٱلسَّٰبِقُونَ ٱلۡأَوَّلُونَ مِنَ ٱلۡمُهَٰجِرِينَ وَٱلۡأَنصَارِ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحۡسَٰنٖ رَّضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُ وَأَعَدَّ لَهُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي تَحۡتَهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ ١٠٠

And the first forerunners [in the faith] among the Muhājireen1 and the Anṣār2 and those who followed them with good conduct - Allāh is pleased with them and they are pleased with Him, and He has prepared for them gardens beneath which rivers flow, wherein they will abide forever. That is the great attainment.

اور سبقت کرنے والے( قبول اسلام میں ) سب سے پہلے مہاجرین اور انصار میں سے اور وہ لوگ جنھوں نے اتباع کیا ان کا ساتھ احسان کے، راضی ہو گیا اللہ ان سے اور وہ راضی ہو گئے اللہ سے اور تیار کیے ہیں اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات کہ بہتی ہیں نیچے ان کے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک ، یہی ہے کامیابی بہت بڑی(100)

[100]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ ﴾ ’’جو لوگ قدیم ہیں سب سے پہلے‘‘ اس سے مراد اس امت کے وہ لوگ ہیں جنھوں نے ایمان، ہجرت، جہاد اور اقامت دین میں سبقت کی۔ ﴿ مِنَ الۡمُهٰؔجِرِيۡنَ ﴾ ’’ہجرت کرنے والوں میں سے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو ان کے گھروں اور مال و متاع سے بے دخل کر کے نکال دیا گیا، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رضا کی تلاش میں رہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں ۔ یہی درحقیقت سچے لوگ ہیں ۔ ﴿ وَالۡاَنۡصَارِ ﴾ ’’اور انصار میں سے۔‘‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے مہاجرین سے پہلے، ہجرت کے گھر (یعنی مدینہ منورہ)اور ایمان میں جگہ پکڑی، جو کوئی ہجرت کر کے ان کے پاس جاتا ہے یہ اس سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو عطا کیا گیا ہے وہ اس کے متعلق دل میں کوئی خلش نہیں پاتے اور مہاجرین کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی کیوں نہ ہو۔﴿ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِـاِحۡسَانٍ ﴾ ’’اور جنھوں نے ان کی پیروی کی نیکی کے ساتھ‘‘ جنھوں نے عقائد، اقوال اور اعمال میں ان مہاجرین و انصار کی پیروی کی، یہی وہ لوگ ہیں جو مذمت سے بچے ہوئے ہیں ، جنھیں مدح کا بلند ترین درجہ اور اللہ کی طرف سے کرامت کا افضل ترین مقام حاصل ہے۔ ﴿ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اللہ ان سے راضی ہو گیا‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی رضا جنت کی نعمتوں سے بھی بڑی ہے۔ ﴿ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے اور اس نے ان کے لیے ایسے باغ تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔‘‘ بہنے والی وہ نہریں جو جنت، جنت کی خوبصورت پھلواریوں اور جنت کے عمدہ باغات کو سیراب کرتی ہیں ۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا﴾’’ہمیشہ اس میں رہیں گے ابد تک۔‘‘ یعنی وہ اس جنت سے کسی اور جگہ منتقل ہونا چاہیں گے نہ اس کو بدلنا کیونکہ وہ جب بھی کسی چیز کی تمنا کریں گے اس کو حاصل کر لیں گے اور جب بھی کسی چیز کا ارادہ کریں گے اس کو موجود پائیں گے۔﴿ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’یہی ہے بڑی کامیابی۔‘‘ جہاں انھیں ان کے نفس کی ہر محبوب چیز، روح کی لذت، دلوں کی نعمت اور بدن کی شہوت حاصل ہوگی اور بچنے کے قابل ہر چیز کو ان سے دور رکھا جائے گا۔

9:101Page 203

وَمِمَّنۡ حَوۡلَكُم مِّنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مُنَٰفِقُونَۖ وَمِنۡ أَهۡلِ ٱلۡمَدِينَةِ مَرَدُواْ عَلَى ٱلنِّفَاقِ لَا تَعۡلَمُهُمۡۖ نَحۡنُ نَعۡلَمُهُمۡۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيۡنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٖ ١٠١

And among those around you of the bedouins are hypocrites, and [also] from the people of Madīnah. They have persisted in hypocrisy. You, [O Muḥammad], do not know them, [but] We know them. We will punish them twice [in this world]; then they will be returned to a great punishment.

اور بعض ان لوگوں میں سے جو تمھارے آس پاس ہیں دیہاتیوں میں سے، منافق ہیں اوربعض اہل مدینہ میں سے بھی، اڑے ہوئے ہیں وہ نفاق پر، نہیں جانتے آپ انھیں ، ہم جانتے ہیں انھیں ، عنقریب ہم عذاب دیں گے ان کو دو مرتبہ ، پھر لوٹائے جائیں گے وہ طرف عذاب عظیم کی(101)

[101]﴿ وَمِمَّنۡ حَوۡلَكُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ مُنٰفِقُوۡنَ١ۛؕ وَمِنۡ اَهۡلِ الۡمَدِيۡنَةِ﴾ ’’اور تمھارے گرد رہنے والے گنواروں میں سے بعض منافق ہیں اور بعض مدینے والوں میں سے‘‘ یعنی مدینہ میں بھی منافقین موجود ہیں ﴿ مَرَدُوۡا عَلَى النِّفَاقِ﴾ ’’اڑے ہوئے ہیں وہ نفاق پر‘‘ یعنی نفاق کے عادی ہیں اور نفاق میں ان کی سرکشی بڑھتی جا رہی ہے ﴿ لَا تَعۡلَمُهُمۡ﴾ ’’آپ ان کو نہیں جانتے۔‘‘ یعنی آپ ان کے اعیان کو نہیں جانتے کہ آپ ان کو سزا دے سکیں یا ان کے نفاق کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ کر سکیں ۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی حکمت پنہاں ہے۔ ﴿ نَحۡنُ نَعۡلَمُهُمۡ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمۡ مَّرَّتَيۡنِ ﴾ ’’ہم ان کو جانتے ہیں ، ہم ان کو دو مرتبہ عذاب دیں گے۔‘‘ اس میں اس بات کا احتمال ہے کہ ’’تثنیہ‘‘ کا لفظ اپنے حقیقی باب میں استعمال ہوا ہو، تب اس سے مراد دنیا کا عذاب اور آخرت کا عذاب ہے۔ پس دنیا میں اہل ایمان کی فتح و نصرت سے ان کو جو غم و ہموم اور سخت ناگواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ دنیا کا عذاب ہے اور آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے اور یہ احتمال بھی موجود ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ہم ان کو نہایت سخت عذاب دیں گے، ان کو دگنا عذاب دیں گے اور بار بار عذاب دیں گے۔

9:102–103Page 203

وَءَاخَرُونَ ٱعۡتَرَفُواْ بِذُنُوبِهِمۡ خَلَطُواْ عَمَلٗا صَٰلِحٗا وَءَاخَرَ سَيِّئًا عَسَى ٱللَّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيۡهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ ١٠٢

And [there are] others who have acknowledged their sins. They had mixed [i.e., polluted] a righteous deed with another that was bad.1 Perhaps Allāh will turn to them in forgiveness. Indeed, Allāh is Forgiving and Merciful.

خُذۡ مِنۡ أَمۡوَٰلِهِمۡ صَدَقَةٗ تُطَهِّرُهُمۡ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيۡهِمۡۖ إِنَّ صَلَوٰتَكَ سَكَنٞ لَّهُمۡۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ١٠٣

Take, [O Muḥammad], from their wealth a charity by which you purify them and cause them increase, and invoke [Allāh's blessings] upon them. Indeed, your invocations are reassurance for them. And Allāh is Hearing and Knowing.

وہ (کچھ) دوسرے وہ ہیں جنھوں نے اعتراف کیا اپنے گناہوں کا، ملایا انھوں نے ایک عمل اچھا اوردوسرا (عمل) برا، امید ہے کہ اللہ توجہ فرمائے گا ان پر، یقینا اللہ بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے(102) آپ لیجیے! ان کے مالوں میں سے صدقہ(تاکہ) پاک کریں آپ انھیں اور تزکیہ کریں ان کا اس کے ذریعے سے اور دعا فرمائیں ان کے حق میں ، بلاشبہ آپ کی دعا (ذریعۂ) تسکین ہے ان کے لیےاور اللہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے(103)

[102]﴿وَاٰخَرُوۡنَ ﴾ ’’اور دوسرے لوگ ہیں ‘‘ مدینہ اور اس کے اردگرد رہنے والے دیگر لوگ بلکہ تمام بلاد اسلامیہ کے لوگ ﴿اعۡتَرَفُوۡا بِذُنُوۡبِهِمۡ﴾ ’’انھوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا۔‘‘ ان پر نادم ہوئے، پھر وہ گناہوں سے توبہ کرنے اور ان کی گندگی سے پاک و صاف ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ ﴿خَلَطُوۡا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَيِّئًا﴾ ’’ملایا انھوں نے ایک نیک کام اور دوسرا برا کام۔‘‘ عمل اس وقت تک صالح نہیں ہو سکتا جب تک کہ بندے کے پاس توحید کی اساس اور ایمان موجود نہ ہو جو اسے کفر اور شرک کے دائرے سے باہر نکالتا ہے اور جو ہر عمل صالح کے لیے شرط ہے۔ پس ان لوگوں نے بعض محرمات کے ارتکاب کی جسارت اور بعض واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہوئے نیک اعمال کو بد اعمال کے ساتھ خلط ملط کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کے گناہوں کو بخش دے گا۔ تو پس یہی وہ لوگ ہیں ﴿عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ﴾’’ممکن ہے اللہ ان کی توبہ قبول کر لے۔‘‘اللہ تعالیٰ دو طرح سے اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا ہے۔۱۔ اپنے بندے کو توبہ کی توفیق عطا کرتا ہے۔۲۔ پھر بندے کے توبہ کرنے کے بعد اس توبہ کو قبول کرتا ہے۔﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌؔ ﴾ ’’بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی مغفرت اور رحمت اس کا وصف ہے، کوئی مخلوق اس کی مغفرت اور رحمت سے باہر نہیں بلکہ اس کی مغفرت اور رحمت کے بغیر تمام عالم علوی اور عالم سفلی باقی نہیں رہ سکتے۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم کی پاداش میں پکڑ لے تو روئے زمین پر کوئی جاندار نہیں بچے گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُمۡسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ اَنۡ تَزُوۡلَا١ۚ۬ وَلَىِٕنۡ زَالَتَاۤ اِنۡ اَمۡسَكَهُمَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًا﴾(فاطر:35؍41) ’’اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں ، اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو اس کو تھام سکے بے شک وہ بہت حلم والا، بخشنے والا ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مغفرت ہی ہے کہ اپنی جانوں پر زیادتی کرنے والے، جن کی عمریں برے اعمال میں صرف ہوتی ہیں ، جب وہ اپنی موت سے تھوڑا سا پہلے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر کے اس کے حضور توبہ کر لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر کے ان کی برائیوں سے درگزر کر دیتا ہے۔ پس یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جس بندے کی نیکیاں اور گناہ ملے جلے ہوں ، وہ اپنے گناہوں کا معترف اور ان پر نادم ہو اور اس نے خالص توبہ کی ہو وہ خوف و رجاء کے مابین ہوتا ہے۔ وہ سلامتی کے زیادہ قریب ہوتا ہے اور وہ بندہ جس کی نیکیاں اور گناہ خلط ملط ہوں مگر وہ اپنے گناہوں کا معترف ہو نہ ان پر نادم ہو بلکہ وہ ان گناہوں کے ارتکاب پر مصر ہو تو اس کے بارے میں سخت خوف ہے۔

[103] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ اور آپ کے قائم مقام کو ان امور کا حکم دیتا ہے جو اہل ایمان کی تطہیر اور ان کے ایمان کی تکمیل کرتے ہیں ، چنانچہ فرماتا ہے:﴿ خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ صَدَقَةً ﴾ ’’لیں ان کے مالوں سے صدقہ‘‘ اس سے مراد فرض زکاۃ ہے ﴿ تُطَهِّرُهُمۡ ﴾ ’’آپ ان کو پاک کریں ۔‘‘ یعنی آپ ان کو گناہوں اور اخلاق رذیلہ سے پاک کریں ﴿ وَتُزَؔكِّيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان کا تزکیہ کریں ۔‘‘ یعنی آپ ان کی نشوونما کریں ، ان کے اخلاق حسنہ، اعمال صالحہ اور ان کے دنیاوی اور دینی ثواب میں اضافہ کریں اور ان کے مالوں کو بڑھائیں ۔ ﴿ وَصَلِّ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے حق میں دعا کیجیے‘‘ تمام مومنین کے لیے عام طور پر اور خاص طور پر اس وقت جب وہ اپنے مال کی زکاۃ آپ کی خدمت میں پیش کریں ﴿ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمۡ﴾ ’’آپ کی دعا ان کے لیے موجب تسکین ہے۔‘‘ یعنی آپ کی دعا ان کے لیے اطمینان قلب اور خوشی کا باعث ہے ﴿وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا‘‘ یعنی اللہ آپ کی دعا کو قبول کرنے کے لیے سنتا ہے ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ وہ اپنے بندوں کے تمام احوال اور ان کی نیتوں کو خوب جانتا ہے، وہ ہر شخص کو اس کے عمل اور اس کی نیت کے مطابق جزا دے گا۔نبی اکرمﷺ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل فرمایا کرتے تھے۔ آپ ان کو صدقات کا حکم دیتے تھے اور صدقات کی وصولی کے لیے اپنے عمال بھیجا کرتے تھے، جب کوئی صدقہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ اسے قبول فرما لیتے اور اس کے لیے برکت کی دعا فرماتے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ تمام اموال میں زکاۃ واجب ہے، جب یہ اموال تجارت کی غرض سے ہوں تو اس کا وجوب صاف ظاہر ہے کیونکہ مال تجارت نمو کا حامل ہوتا ہے اور اس کے ذریعے سے مزید مال کمایا جاتا ہے، لہٰذا عدل کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو زکاۃ فرض کی ہے اسے ادا کر کے فقرا سے ہمدردی کی جائے۔ مال تجارت کے علاوہ دیگر مال، اگر نمو اور اضافے کا حامل ہو، جیسے غلہ جات، پھل، مویشی، مویشیوں کا دودھ اور ان کی نسل وغیرہ تو اس میں زکاۃ واجب ہے۔ اگر مال نمو کے قابل نہ ہو تو اس میں زکاۃ واجب نہیں کیونکہ جب یہ مال خالص خوراک اور گزارے کے لیے ہے تو یہ ایسا مال نہیں ہے جسے انسان عادۃً متمول ہونے کے لیے رکھتا ہے جس سے مالی مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں بلکہ اس سے مالی فوائد کی بجائے صرف گزارہ کیا جاتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ انسان اپنے مال کی زکاۃ ادا کیے بغیر ظاہری اور باطنی طور پر پاک نہیں ہو سکتا۔ زکاۃ کی ادائیگی کے سوا کوئی چیز اس کا کفارہ نہیں بن سکتی کیونکہ زکاۃ تطہیر اور پاکیزگی ہے جو زکاۃ کی ادائیگی پر موقوف ہے۔اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ امام یا اس کے نائب کا زکاۃ ادا کرنے والے کے لیے برکت کی دعا کرنا مستحب ہے اور مناسب یہ ہے کہ امام بآواز بلند دعا کرے تاکہ اس سے زکاۃ ادا کرنے والے کو سکون قلب حاصل ہو۔اس آیت کریمہ سے یہ معنی بھی نکلتا ہے کہ مومن کے ساتھ نرم گفتگو اور اس کے لیے دعا وغیرہ اور ایسی باتوں کے ذریعے سے اس کو خوش رکھا جائے جن میں اس کے لیے طمانیت اور سکون قلب ہو۔

9:104Page 203

أَلَمۡ يَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ هُوَ يَقۡبَلُ ٱلتَّوۡبَةَ عَنۡ عِبَادِهِۦ وَيَأۡخُذُ ٱلصَّدَقَٰتِ وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ ١٠٤

Do they not know that it is Allāh who accepts repentance from His servants and receives charities and that it is Allāh who is the Accepting of Repentance,1 the Merciful?

کیا نہیں جانا انھوں نے اس بات کو کہ یقینا اللہ ہی قبول فرماتا ہے توبہ اپنے بندوں کی اور لیتا ہے صدقات اور یہ کہ بلاشبہ اللہ ہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا؟(104)

[104] کیا وہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور اس کے فضل و کرم کے فیضان عام کو نہیں جانتے؟ ﴿ يَقۡبَلُ التَّوۡبَةَ عَنۡ عِبَادِهٖ ﴾ ’’اللہ ہی اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے۔‘‘ توبہ کرنے والے بندوں کی، خواہ یہ توبہ کسی بھی گناہ سے کیوں نہ ہو بلکہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر بہت زیادہ خوش ہوتا ہے۔ ﴿وَيَاۡخُذُ الصَّدَقٰتِ ﴾’’اور صدقات لیتا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے بندوں کے صدقات قبول کرتا ہے اور ان کو دائیں ہاتھ سے لیتا ہے اور ان کے صدقات کو اس طرح بڑھاتا رہتا ہے جس طرح کوئی شخص اپنے بچھیرے کی پرورش کرتا ہے حتیٰ کہ صدقہ میں دیا گیا کھجور کا ایک دانہ بڑے پہاڑ کی مانند ہو جاتا ہے اور اس صدقہ کا کیا حال ہوگا جو کھجور کے دانے سے بہت بڑا اور تعداد میں بہت زیادہ ہو۔﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ ﴾ ’’اور بے شک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ توبہ کرنے والوں کی بہت کثرت سے توبہ قبول کرتا ہے۔ جو کوئی بھی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کر لیتا ہے خواہ وہ بار بار گناہ کا ارتکاب کیوں نہ کرتا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرنے سے اس وقت تک تنگ نہیں آتا جب تک کہ بندے توبہ کرنے سے تنگ نہ آجائیں اور اس کے دروازے سے بھاگ کر اس کے دشمن کو دوست نہ بنا لیں ۔ ﴿الرَّحِيۡمُ﴾ ’’بہت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ جس کی بے پایاں رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں کے لیے لکھ دیا ہے جو زکاۃ دیتے ہیں ، اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے رسول کی اتباع کرتے ہیں ۔

9:105Page 203

وَقُلِ ٱعۡمَلُواْ فَسَيَرَى ٱللَّهُ عَمَلَكُمۡ وَرَسُولُهُۥ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَۖ وَسَتُرَدُّونَ إِلَىٰ عَٰلِمِ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ١٠٥

And say, "Do [as you will], for Allāh will see your deeds, and [so will] His Messenger and the believers. And you will be returned to the Knower of the unseen and the witnessed, and He will inform you of what you used to do."

اور کہہ دیجیے!عمل کرو تم، پس عنقریب دیکھے گا اللہ تمھارے عمل کواور اس کا رسول اور مومن بھی اور عنقریب لوٹائے جاؤ گے تم اس کی طرف جو جاننے والا چھپی اورکھلی باتوں کو ، پھر خبر دے گا وہ تمھیں ساتھ ان کے جو تھے تم عمل کرتے(105)

[105] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَقُلِ ﴾ ’’اور کہہ دیجیے‘‘ یعنی ان منافقین سے کہہ دیجیے! ﴿ اعۡمَلُوۡا﴾ ’’عمل کیے جاؤ۔‘‘ یعنی تم جو اعمال بجا لانا چاہتے ہو بجا لاؤ، اپنے باطل پر جمے رہو اور یہ نہ سمجھو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ سے چھپا رہے گا۔ ﴿ فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمۡ وَرَسُوۡلُهٗ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھ لے گا اللہ تمھارے کام کو اور اس کا رسول اور مومن‘‘ یعنی تمھارا عمل ضرور ظاہر ہو کر رہے گا ﴿ وَسَتُرَدُّوۡنَ اِلٰى عٰؔلِمِ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جلد تم لوٹائے جاؤ گے اس کے پاس جو تمام چھپی اور کھلی چیزوں کو جانتا ہے، پس وہ تم کو ان عملوں کی خبر دے گا جو تم کرتے تھے۔‘‘ وہ اچھے ہوں گے یا برے۔ اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت وعید اور تہدید ہے جو اپنے باطل، سرکشی، گمراہی اور نافرمانی پر مصر ہے۔ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ تم جب بھی کوئی اچھا یا برا عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، وہ اس عمل کے بارے میں اپنے رسول اور اپنے مومن بندوں کو مطلع کر دے گا، خواہ وہ چھپے ہوئے ہی کیوں نہ ہوں ۔

9:106Page 203

وَءَاخَرُونَ مُرۡجَوۡنَ لِأَمۡرِ ٱللَّهِ إِمَّا يُعَذِّبُهُمۡ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيۡهِمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ ١٠٦

And [there are] others deferred until the command of Allāh - whether He will punish them or whether He will forgive them. And Allāh is Knowing and Wise.

اور کچھ دوسرے لوگ بھی ہیں جو چھوڑ دیے گئے اللہ کے حکم کے( انتظار) میں یا تو وہ سزا دے گا انھیں یا متوجہ ہو گا ان پراور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے(106)

[106]﴿وَاٰخَرُوۡنَ﴾ ’’اور کچھ دوسرے لوگ‘‘ یعنی جہاد سے پیچھے رہ جانے والے کچھ دوسرے لوگ ﴿مُرۡجَوۡنَ لِاَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’جن کاکام اللہ کے حکم پر موقوف ہے۔‘‘ یعنی جن کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر موخر ہے ﴿ اِمَّا يُعَذِّبُهُمۡ وَاِمَّا يَتُوۡبُ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’چاہے ان کو عذاب دے، چاہے ان کی توبہ قبول کر لے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کے لیے سخت تخویف ہے اور ان کو توبہ کرنے اور اپنے اس عمل پر نادم ہونے کی ترغیب دی گئی ہے ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ تمام اشیاء کو ان کے لائق مقام پر رکھتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دے اور ان کو توبہ کی توفیق نہ دے تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском