As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Al-Kahf 18:60–88, continued
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:83–88Page 302
وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَن ذِي ٱلۡقَرۡنَيۡنِۖ قُلۡ سَأَتۡلُواْ عَلَيۡكُم مِّنۡهُ ذِكۡرًا ٨٣
And they ask you, [O Muḥammad], about Dhul-Qarnayn. Say, "I will recite to you about him a report."
إِنَّا مَكَّنَّا لَهُۥ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَءَاتَيۡنَٰهُ مِن كُلِّ شَيۡءٖ سَبَبٗا ٨٤
Indeed, We established him upon the earth, and We gave him from everything a way [i.e., means].
فَأَتۡبَعَ سَبَبًا ٨٥
So he followed a way
حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ مَغۡرِبَ ٱلشَّمۡسِ وَجَدَهَا تَغۡرُبُ فِي عَيۡنٍ حَمِئَةٖ وَوَجَدَ عِندَهَا قَوۡمٗاۖ قُلۡنَا يَٰذَا ٱلۡقَرۡنَيۡنِ إِمَّآ أَن تُعَذِّبَ وَإِمَّآ أَن تَتَّخِذَ فِيهِمۡ حُسۡنٗا ٨٦
Until, when he reached the setting of the sun [i.e., the west], he found it [as if] setting in a body of dark water,1 and he found near it a people. We [i.e., Allāh] said, "O Dhul-Qarnayn, either you punish [them] or else adopt among them [a way of] goodness."
قَالَ أَمَّا مَن ظَلَمَ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُهُۥ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَىٰ رَبِّهِۦ فَيُعَذِّبُهُۥ عَذَابٗا نُّكۡرٗا ٨٧
He said, "As for one who wrongs,1 we will punish him. Then he will be returned to his Lord, and He will punish him with a terrible punishment [i.e., Hellfire].
وَأَمَّا مَنۡ ءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَلَهُۥ جَزَآءً ٱلۡحُسۡنَىٰۖ وَسَنَقُولُ لَهُۥ مِنۡ أَمۡرِنَا يُسۡرٗا ٨٨
But as for one who believes and does righteousness, he will have a reward of the best [i.e., Paradise], and we [i.e., Dhul-Qarnayn] will speak to him from our command with ease."
اور وہ (یہودی) پوچھتے ہیں آپ سے ذوالقرنین کی بابت، کہہ دیجیے! عنقریب پڑھوں گا میں تم پر اس کا کچھ ذکر (83) بلاشبہ ہم نے قدرت دی تھی اسے زمین میں اوردیا تھاہم نے اسے ہر چیز (قسم) سے سازوسامان (84) پس پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (85) یہاں تک کہ جب پہنچا وہ جائے غروب پر سورج کی تواس نے پایا اس کو کہ وہ غروب ہو رہا ہے ایک چشمے میں سیاہ کیچڑ کے اور پائی اس نے نزدیک اس (چشمے) کے ایک قوم، کہا ہم نے، اے ذوالقرنین! یا تو یہ کہ تو سزا دے اور یا یہ کہ اختیار کرے تو ان کی بابت اچھائی (86) اس نے کہا لیکن جو شخص ظالم ہے تو عنقریب ہم سزا دیں گے اس، پھر وہ لوٹا دیا جائے گا اپنے رب کی طرف، پس و ہ عذاب دے گا اسے عذاب سخت (87) اور لیکن وہ شخص جو ایمان لایا اور عمل کیے نیک تو اس کے لیے ہے بدلہ اچھااور عنقریب ہم کہیں گے (حکم دیں گے) اسے اپنے کام سے آسانی والا (88)
[83] اہل کتاب تھے یا مشرکین انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں : ﴿ سَاَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ مِّؔنۡهُ ذِكۡرًا﴾ ’’میں پڑھتا ہوں تم پر اس کا کچھ حال‘‘ جس میں نہایت مفید مگر تعجب خیز خبر ہے، یعنی میں تمھیں ذوالقرنین کے صرف وہی احوال سناؤں گا جن میں نصیحت اور عبرت ہے۔ ان کے علاوہ دیگر احوال تو وہ ان کو نہیں سنائے گئے۔
[85,84]﴿ اِنَّا مَكَّـنَّا لَهٗ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’ہم نے اس کو قوت عطا کی تھی زمین میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے بادشاہی سے نوازا اور زمین کے گوشوں پر اس کے حکم کو نافذ کیا اور لوگوں کو اس کا مطیع بنایا۔ ﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ سَبَبًاۙ فَاَتۡبَعَ سَبَبًا﴾ ’’اور دیا ہم نے اس کو ہر چیز کا سامان پھر پیچھے پڑا وہ ایک سامان کے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے وہ تمام اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے وہ ہر اس جگہ پہنچا جہاں وہ پہنچنا چاہتا تھا، جن کے ذریعے سے اس نے شہروں پر غلبہ حاصل کیا اور نہایت سہولت کے ساتھ دور دراز علاقوں تک پہنچ گیا۔ اس نے وہ تمام اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے بہتر طریقے سے استعمال کیے۔ پس ہر شخص کو اسباب مہیا نہیں ہوتے اور نہ ہر شخص اسباب مہیا کرنے کی قدرت ہی رکھتا ہے۔ پس جب سبب حقیقی اور اس کو عمل میں لانے کی قدرت یکجا ہو جائے تو مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور اگر دونوں یا کوئی ایک معدوم ہو تو مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اور وہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ فرمایا نہ اس کے رسولﷺ نے اور نہ اس بارے میں کوئی ایسی اخبار منقول ہیں جو افادہ علم کی موجب ہوں ، اس لیے اس بارے میں سکوت اور ان اسرائیلیات کی طرف عدم التفات کے سوا کوئی چارہ نہیں جن کو ناقلین روایت کرتے ہیں ۔ مگر ہم اجمالی طور پر یہ ضرور جانتے ہیں کہ داخلی اور خارجی طور پر یہ اسباب نہایت قوی تھے جن کی بنا پر اس کے پاس ایک عظیم فوج تیار ہو گئی تھی جو اپنی عددی قوت، سامان حرب اور نظم کے اعتبار سے ایک بہت بڑی فوج تھی۔ اس فوج کی مدد سے اس نے اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل کیا اور زمین کے مشرق و مغرب اور اس کے دور دراز گوشوں تک پہنچنے کی سہولت حاصل ہوئی۔
[86] پس اللہ تعالیٰ نے اسے وہ اسباب عطا کیے جن کے ذریعے سے وہ غروب آفتاب کی حد تک پہنچ گیا جہاں اس نے چشمے میں سورج کا عکس دیکھا گویا کہ وہ گدلے یعنی سیاہ پانی میں ڈوب رہا تھا۔ یہ منظر اس شخص کے لیے عام ہے، جس کے اور مغربی افق کے درمیان پانی ہو۔ اسے ایسے نظر آئے گا گویا سورج پانی کے اندر غروب ہو رہا ہے۔ اگرچہ وہ بہت بلندی پر ہو۔ اور مغرب کی سمت میں ذوالقرنین کو ایک قوم ملی۔ ﴿ قُلۡنَا يٰذَا الۡقَرۡنَيۡنِ اِمَّاۤ اَنۡ تُعَذِّبَ وَاِمَّاۤ اَنۡ تَتَّؔخِذَ فِيۡهِمۡ حُسۡنًا ﴾ ’’ہم نے کہا: اے ذوالقرنین! یا تو لوگوں کو تکلیف دے یا ان میں (اپنی بابت) خوبی رکھ‘‘ یعنی خواہ تو ان کو قتل و ضرب یا قیدی بنا کر عذاب میں مبتلا کر یا ان پر احسان کر۔ ذوالقرنین کو ان دو امور میں سے ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا تھا کیونکہ ظاہر ہے کہ وہ کفار یا فساق کی قوم تھی یا ان میں کچھ کفر اور فسق موجود تھا کیونکہ اگر وہ غیر فاسق مومن ہوتے تو ان کو عذاب دینے کی اجازت نہ دی جاتی۔
[87] پس ذوالقرنین کو سیاست شرعیہ کا کچھ حصہ ملا تھا، جس کے ذریعے سے اس نے اللہ کی توفیق سے ایسے کام کیے جن پر وہ مدح وستائش کا مستحق ٹھہرا، چنانچہ اس نے کہا: ان کو دو قسموں میں تقسیم کر دوں گا۔ ﴿ اَمَّا مَنۡ ظَلَمَ ﴾ ’’جس نے ظلم کیا‘‘ یعنی کفر کیا۔ ﴿ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ يُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَيُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكۡرًا ﴾ ’’سو ہم اس کو سزا دیں گے، پھر لوٹ جائے گا وہ رب کے پاس، پس وہ عذاب دے گا اس کو برا عذاب‘‘ یعنی اسے دو سزائیں ملیں گی، ایک سزا اس دنیا میں اور ایک سزا آخرت میں ۔
[88]﴿ وَاَمَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَؔ اِ۟ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور جو کوئی ایمان لایا اور کیا اس نے بھلا کام، سو اس کا بدلہ بھلائی ہے۔‘‘ یعنی اس کو جزا کے طور پر قیامت کے دن جنت عطا ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھے احوال سے نوازا جائے گا۔ ﴿ وَسَنَقُوۡلُ لَهٗ مِنۡ اَمۡرِنَا يُسۡرًا﴾ ’’اور ہم حکم دیں گے اس کو اپنے کام میں آسانی کا‘‘ یعنی ہم اس سے اچھا سلوک کریں گے، ہم اس سے نرم بات اور آسان معاملہ کریں گے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ذوالقرنین نیک بادشاہوں ، اولیائے صالحین اور عدل کرنے والوں میں سے تھا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی موافقت کرتے ہوئے ہر شخص کے ساتھ وہی معاملہ کیا جس کے وہ لائق تھا۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences