As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Maryam 19:77–98
19:77–80Page 311
أَفَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي كَفَرَ بِـَٔايَٰتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالٗا وَوَلَدًا ٧٧
Then, have you seen he who disbelieved in Our verses and said, "I will surely be given wealth and children [in the next life]"?
أَطَّلَعَ ٱلۡغَيۡبَ أَمِ ٱتَّخَذَ عِندَ ٱلرَّحۡمَٰنِ عَهۡدٗا ٧٨
Has he looked into the unseen, or has he taken from the Most Merciful a promise?
كـَلَّاۚ سَنَكۡتُبُ مَا يَقُولُ وَنَمُدُّ لَهُۥ مِنَ ٱلۡعَذَابِ مَدّٗا ٧٩
No! We will record what he says and extend [i.e., increase] for him from the punishment extensively.
وَنَرِثُهُۥ مَا يَقُولُ وَيَأۡتِينَا فَرۡدٗا ٨٠
And We will inherit him [in] what he mentions,1 and he will come to Us alone.
کیا پس آپ نے دیکھا اس شخص کو جس نے کفر کیا ساتھ ہماری آیتوں کےاور اس نے کہا، ضرور دیا جاؤں گا میں مال اور اولاد (77) کیا مطلع ہوا ہے وہ غیب پر یا لیا ہے اس نے رحمٰن کے ہاں سے کوئی عہد؟ (78) ہرگز نہیں ، ضرور لکھیں گے ہم جو کچھ وہ کہتا ہےاور بڑھا دیں گے ہم اس کے لیے عذاب (بہت) بڑھانا (79) اور ہم وارث ہوں گے ان چیزوں کے جو وہ کہتا ہےاور وہ آئے گا ہمارے پاس (روز قیامت) اکیلا ہی (80)
[77] کیا اس کافر کی حالت پر تعجب نہیں ہوتا جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار کو اپنے بہت بڑے دعوے کے ساتھ یکجا کر دیا ہے کہ اس کو آخرت میں بھی مال و اولاد سے نوازا جائے گا، یعنی وہ اہل جنت میں سے ہو گا۔ اس کا یہ دعویٰ سب سے زیادہ تعجب انگیز امور میں سے ہے۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والا ہوتا اور پھر یہ دعوی کرتا تو معاملہ آسان تھا۔ یہ آیت کریمہ اگرچہ کسی معین کافر کے بارے میں نازل ہوئی ہے تاہم یہ ہر کافر کو شامل ہے جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے اور وہ اہل جنت میں سے ہے۔
[78] اللہ تعالیٰ ان کی توبیخ و تکذیب کے طور پر فرماتا ہے: ﴿ اَطَّلَعَ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’کیا وہ غیب پر مطلع ہو گیا ہے؟‘‘ یعنی کیا اس کے علم نے غیب کا احاطہ کر رکھا ہے حتیٰ کہ اسے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ کیا کچھ ہو گا جس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ قیامت کے روز اسے مال و اولاد سے نوازا جائے گا ﴿ اَمِ اتَّؔخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَهۡدًا﴾’’یا اس نے رحمٰن سے عہد لے رکھا ہے‘‘ کہ وہ ان چیزوں کو حاصل کرے گا جن کا اس نے دعویٰ کیا ہے… یعنی کچھ بھی ایسے نہیں ہو گا۔ تب معلوم ہوا کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے اور ایسی بات کہتا ہے جس کے بارے میں اسے خود بھی علم نہیں ۔ اس تقسیم اور تردید کی غرض و غایت، الزامی جواب اور مخالف پر حجت قائم کرنا ہے۔ کیونکہ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے آخرت میں اللہ تعالیٰ کے ہاں بھلائی حاصل ہو گی اسے مندرجہ ذیل امور میں سے ایک ضرور حاصل ہے۔(۱)یا تو اس کا یہ قول، امور مستقبل کے بارے میں علم غیب سے صادر ہوا مگر ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ وحدہ کو ہے۔ مستقبل میں پیش آنے والے امور غیب کو کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے رسولوں میں سے جسے اللہ تعالیٰ مطلع کر دے۔(۲) یا اس نے اللہ تعالیٰ کے ہاں ، اپنے ایمان باللہ اور اتباع رسل کے ذریعے سے عہد لے رکھا ہے، جن کے پیروکاروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ وہ آخرت میں نجات یافتہ اور کامیاب لوگ ہوں گے۔ جب ان دونوں امور کی نفی ہو گئی تو معلوم ہوا کہ دعویٰ باطل ہے۔
[79] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ كَلَّا١ؕ سَنَكۡتُبُ مَا يَقُوۡلُ ﴾ ’’ہرگز نہیں ، وہ جو کہتا ہے ہم لکھ رکھیں گے‘‘ یعنی اصل معاملہ یوں نہیں جس طرح وہ دعویٰ کرتا ہے کیونکہ اس کا قائل امور غیبیہ کی اطلاع نہیں رکھتا، اس لیے کہ وہ کافر ہے۔ اس کے پاس نبوت کا علم ہے نہ اس نے رحمٰن سے عہد لے رکھا ہے کیونکہ وہ کافر ہے اور ایمان سے محروم ہے۔ بلکہ اس کے اس جھوٹ کے برعکس وہ جہنم کا مستحق ہے۔ اس کا یہ قول لکھ لیا گیا ہے اور اللہ کے ہاں محفوظ ہے، اسے اس کی سزا ملے گی اور اس کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَنَمُدُّ لَهٗ مِنَ الۡعَذَابِ مَدًّا﴾ ’’اور ہم اس کے لیے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے۔‘‘ یعنی جس طرح یہ اپنی گمراہی میں بڑھتا گیا اسی طرح ہم اس کو دیے جانے والے مختلف اقسام کے عذاب میں اضافہ کریں گے۔
[80]﴿وَّنَرِثُهٗ مَا يَقُوۡلُ﴾ ’’اور ہم وارث ہوں گے اس کے جس کی بابت وہ کہہ رہا ہے۔‘‘ یعنی ہم اس کے مال اور اولاد کے وارث ہوں گے، چنانچہ وہ مال، اہل و عیال اور اعوان و انصار کے بغیر اس دنیا سے آخرت کے گھر کی طرف منتقل ہو گا ﴿ وَيَاۡتِيۡنَا فَرۡدًا﴾ ’’اور آئے گا وہ ہمارے پاس اکیلا ہی۔‘‘ پس وہ بدترین عذاب کا سامنا کرے گا جو اس جیسے ظالم لوگوں کی سزا ہے۔
19:81–84Page 311
وَٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ ءَالِهَةٗ لِّيَكُونُواْ لَهُمۡ عِزّٗا ٨١
And they have taken besides Allāh [false] deities that they would be for them [a source of] honor.
كـَلَّاۚ سَيَكۡفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمۡ وَيَكُونُونَ عَلَيۡهِمۡ ضِدًّا ٨٢
No! They [i.e., those "gods"] will deny their worship of them and will be against them opponents [on the Day of Judgement].
أَلَمۡ تَرَ أَنَّآ أَرۡسَلۡنَا ٱلشَّيَٰطِينَ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ تَؤُزُّهُمۡ أَزّٗا ٨٣
Do you not see that We have sent the devils upon the disbelievers, inciting them [to evil] with [constant] incitement?
فَلَا تَعۡجَلۡ عَلَيۡهِمۡۖ إِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمۡ عَدّٗا ٨٤
So be not impatient over them. We only count out [i.e., allow] to them a [limited] number.1
اور بنا لیے ہیں انھوں نے سوائے اللہ کے اور معبود تاکہ ہوں وہ ان کے لیے مدد گار (81) ہرگز نہیں ، عنقریب وہ خود ہی انکار کریں گے ان کی عبادت کااور وہ ہوں گے ان کے مخالف (82) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ بے شک ہم نے بھیجا شیطانوں کو اوپر کافروں کے کہ وہ ابھاریں انھیں (گناہوں پر) ابھارنا (83) پس نہ جلدی کریں آپ ان پر، ہم گن رہے ہیں ان کے لیے گننا (84)
[83] یہ کفار کی سزا ہے، اس لیے کہ جب انھوں نے اللہ کے حکموں کو نہیں مانا اور نہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا بلکہ اس کے برعکس انھوں نے شرک کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں یعنی شیاطین کے ساتھ موالات رکھی تو اللہ تعالیٰ نے شیاطین کو ان پر مسلط کر دیا اور شیاطین نے ان کو ورغلا کر گناہوں پر آمادہ کرنا شروع کر دیا۔ وہ انھیں کفر کی ترغیب دیتے ہیں ، انھیں وسوسوں میں مبتلا کرتے ہیں ، ان پر القا کرتے ہیں اور ان کے سامنے باطل کو مزین کر کے اور حق کو بدنما بنا کر پیش کرتے ہیں ۔ پس باطل کی محبت ان کے دلوں میں داخل ہو کر جاگزیں ہو جاتی ہے، وہ باطل کی خاطر اسی طرح کوشش کرتا ہے جس طرح حق پرست حق کے لیے جدوجہد کرتا ہے ،وہ اپنی کوشش اورسعی سے باطل کی مدد کرتا ہے اور باطل کے راستے میں حق کے خلاف جدوجہد کرتا ہے اور یہ سب کچھ اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے حقیقی دوست اور سرپرست سے منہ موڑ کر اپنے دشمن کو دوست بنا لیا اور اپنے آپ کو اس کے تسلط میں دے دیا۔ ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آتا اور اس پر بھروسہ کرتا تو شیطان اس پر کبھی تسلط قائم نہ کر سکتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّهٗ لَيۡسَ لَهٗ سُلۡطٰنٌ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ۰۰اِنَّمَا سُلۡطٰنُهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ يَتَوَلَّوۡنَهٗ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِهٖ مُشۡرِكُوۡن ﴾(النحل:16؍99-100) ’’اسے ان لوگوں پر کوئی اختیار حاصل نہیں جو ایمان لاتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اس کا بس تو صرف انھی لوگوں پر چلتا ہے جو اسے اپنا دوست بناتے ہیں اور ان پر جو اس (کے گمراہ کرنے) کی وجہ سے شرک کرتے ہیں ۔‘‘
[84]﴿فَلَا تَعۡجَلۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی آپ ان کفار کے بارے میں عجلت نہ کیجیے جو عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں ۔ ﴿ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمۡ عَدًّا﴾ ’’ہم تو خود ہی ان کے لیے (مدت) شمار کر رہے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے لیے دن مقرر کر دیے گئے ہیں جن میں کوئی تقدیم ہو گی نہ تاخیر۔ ہم انھیں کچھ مدت کے لیے مہلت دے کر برد باری سے کام لے رہے ہیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں ۔ جب اس مہلت کا کوئی فائدہ نہ ہوا تو ہم اسے ایک غالب اور مقتدر ہستی کی طرح اپنی گرفت میں لے لیں گے۔
19:85–87Page 311
يَوۡمَ نَحۡشُرُ ٱلۡمُتَّقِينَ إِلَى ٱلرَّحۡمَٰنِ وَفۡدٗا ٨٥
On the Day We will gather the righteous to the Most Merciful as a delegation
وَنَسُوقُ ٱلۡمُجۡرِمِينَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ وِرۡدٗا ٨٦
And will drive the criminals to Hell in thirst
لَّا يَمۡلِكُونَ ٱلشَّفَٰعَةَ إِلَّا مَنِ ٱتَّخَذَ عِندَ ٱلرَّحۡمَٰنِ عَهۡدٗا ٨٧
None will have [power of] intercession except he who had taken from the Most Merciful a covenant.1
جس دن ہم اکٹھا کریں گے متقیوں کو رحمٰن کی طرف مہمان (بنا کر)(85) اور ہم ہانکیں گے مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے (86) نہیں اختیار رکھیں گے وہ سفارش کرنے کا مگر جس نے لیا رحمٰن (اللہ) کے ہاں سے عہد (87)
[85] اللہ تبارک و تعالیٰ دونوں گروہوں ، یعنی متقین و مجرمین کے درمیان تفاوت بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ متقین کو، ان کے شرک و بدعات اور دیگر گناہوں سے بچنے کے سبب سے، قیامت کے روز، اکرام و تعظیم کے ساتھ اکٹھا کرے گا اور وہ وفود کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ ان کی منزل اور ان کا مطلوب و مقصود رحمٰن و منان ہو گا اور یہ ضروری ہے کہ آنے والے کا دل امید سے لبریز ہو اور جس کے پاس آیا ہے اس پر حسن ظن ہو۔ پس اہل تقویٰ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بے پایاں احسان کی امید رکھتے ہوئے اور اس کی رضا کے گھر میں اس کی نوازشوں سے فوزیاب ہوتے ہوئے، اس کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور اس کا سبب ان کے وہ نیک اعمال ہوں گے جو انھوں نے آگے بھیجے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضاکی اتباع کی اور بے شک اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے انبیاء و رسل کی زبان پر ان کے لیے اس ثواب کا عہد کر رکھا ہے۔ پس وہ نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کی طرف رواں دواں ہوں گے۔
[86] رہے مجرم تو ان کو پیاسا ہی جہنم کی طرف ہانکا جائے گا اور یہ ان کی بدترین حالت ہو گی کہ ان کو انتہائی ذلت و رسوائی کے ساتھ سب سے بڑے قید خانے اور بدترین عذاب میں ، یعنی جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ وہ تھکے ماندے سخت پیاسے ہوں گے، وہ مدد کے لیے پکاریں گے مگر ان کی مدد نہ کی جائے گی، وہ دعائیں کریں گے مگر ان کی دعائیں قبول نہ ہوں گی اور وہ سفارش تلاش کریں گے مگر ان کی سفارش نہ کی جائے گی۔
[87] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَا يَمۡلِكُوۡنَ الشَّفَاعَةَ ﴾ یعنی وہ سفارش کے مالک ہوں گے نہ انھیں سفارش کا کوئی اختیار ہو گا۔ تمام تر سفارش کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہو گا۔ ﴿ قُلۡ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيۡعًا ﴾(الزمر:39؍44) ’’کہہ دیجیے سفارش سب اللہ کے لیے ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا ہے کہ سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لا کر اس سے کوئی عہد نہیں لیا… ورنہ وہ شخص جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے عہد لیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی تو وہ ان لوگوں میں شامل ہے جن پر اللہ تعالیٰ راضی ہے اور اس کو سفارش حاصل ہو گی، جیسا کہ فرمایا:﴿ وَلَا يَشۡفَعُوۡنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارۡتَضٰى ﴾(الانبیاء:21؍28) ’’وہ اس کے پاس کسی کی سفارش نہیں کر سکتے مگر اس شخص کی جس سے وہ (اللہ تعالیٰ) راضی ہو۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایمان باللہ اور اپنے رسولوں کی اتباع کو عہد قرار دیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں میں اور اپنے انبیاء و رسل کی زبان پر عہد کیا ہے کہ وہ ان لوگوں کو جزائے جمیل عطا کرے گا جو انبیاء و رسل کی اتباع کریں گے۔
19:88–95Page 311
وَقَالُواْ ٱتَّخَذَ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَلَدٗا ٨٨
And they say, "The Most Merciful has taken [for Himself] a son."
لَّقَدۡ جِئۡتُمۡ شَيۡـًٔا إِدّٗا ٨٩
You have done an atrocious thing.
تَكَادُ ٱلسَّمَٰوَٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡهُ وَتَنشَقُّ ٱلۡأَرۡضُ وَتَخِرُّ ٱلۡجِبَالُ هَدًّا ٩٠
The heavens almost rupture therefrom and the earth splits open and the mountains collapse in devastation
أَن دَعَوۡاْ لِلرَّحۡمَٰنِ وَلَدٗا ٩١
That they attribute to the Most Merciful a son.
وَمَا يَنۢبَغِي لِلرَّحۡمَٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا ٩٢
And it is not appropriate for the Most Merciful that He should take a son.
إِن كُلُّ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ إِلَّآ ءَاتِي ٱلرَّحۡمَٰنِ عَبۡدٗا ٩٣
There is no one in the heavens and earth but that he comes to the Most Merciful as a servant.
لَّقَدۡ أَحۡصَىٰهُمۡ وَعَدَّهُمۡ عَدّٗا ٩٤
He has enumerated them and counted them a [full] counting.
وَكُلُّهُمۡ ءَاتِيهِ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فَرۡدًا ٩٥
And all of them are coming to Him on the Day of Resurrection alone.
اور کہا انھوں نے، بنائی ہے رحمٰن نے اولاد (88) البتہ تحقیق آئے ہو تم ایک بات بڑی بھاری کو (89) قریب ہیں آسمان کہ پھٹ پڑیں اس (بات) سے اورشق ہو جائے زمین اور گر پڑیں پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر (90)(اس بات سے) کہ دعوی کیا کہ انھوں نے رحمٰن کے لیے اولاد کا (91) اور نہیں لائق رحمٰن کے یہ کہ وہ بنائے اولاد (92) نہیں ہے کوئی بھی (مخلوق) آسمانوں اور زمین میں مگر آنے والی ہے وہ رحمٰن کے پاس غلام بن کر (93) البتہ تحقیق شمار کر رکھا ہے اس نے ان کواور گن رکھا ہے انھیں گننا (94) اور وہ سب آنے والے ہیں اللہ کے پاس دن قیامت کے تنہا تنہا(95)
[88] یہ ان لوگوں کے قول کی قباحت کا بیان ہے جو عناد اور انکار پر جمے ہوئے ہیں اور اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ رحمٰن نے اپنا بیٹا بنایا ہے۔ جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں ﴿ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾(التوبۃ:9؍30) ’’مسیح اللہ کا بیٹا ہے‘‘ یہودی کہتے ہیں ﴿ عُزَيۡرُ ِ۟ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾(التوبۃ:9؍30) ’’عزیر اللہ کا بیٹا ہے‘‘ اور مشرکین کہتے ہیں ’’فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے بہت بلند اور بڑا ہے۔
[91-89]﴿ لَقَدۡ جِئۡتُمۡ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی تم نے بدترین بات کہی ہے۔ یہ اتنی بڑی بات ہے کہ ﴿ تَكَادُ السَّمٰوٰتُ ﴾ قریب تھا کہ آسمان اپنی عظمت اور صلابت کے باوصف ﴿يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡهُ ﴾ اس قول سے پھٹ جاتے۔ ﴿وَتَنۡشَقُّ الۡاَرۡضُ ﴾ اور زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ ہو جاتی۔ ﴿ وَتَخِرُّ الۡجِبَالُ هَدًّا ﴾ اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر برابر ہو جاتے۔ ﴿ اَنۡ دَعَوۡا لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدًا﴾ ’’اس بنا پر کہ انھوں نے رحمٰن کی اولاد ٹھہرائی۔‘‘ یعنی اس بدترین دعویٰ کی بنا پر ان تمام مخلوقات کی حالت یہ ہوتی جو ان آیات میں ذکر کی گئی ہے۔
[92] جبکہ حال یہ ہے ﴿مَا يَنۢۡبَغِيۡ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾ رحمان کے یہ لائق نہیں ہے اور نہ یہ ہو ہی سکتا ہے ﴿ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذَ وَلَدًا﴾ ’’کہ وہ اولاد بنائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے لیے بیٹا بنانا اس میں نقص اور احتیاج پر دلالت کرتا ہے جبکہ وہ بے نیاز اور حمید ہے، نیز بیٹا اپنے باپ کی جنس سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کوئی شبیہ ہے نہ مثیل اور نہ اس کی نظیر ہے۔
[93]﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾ ’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں ، وہ سب رحمٰن کے غلام بن کر آنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی ذلیل اور مطیع ہو کر بغیر کسی نافرمانی کے رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے، فرشتے، جن و انس سب اللہ کے مملوک اور اس کے دست تصرف کے تحت ہیں ، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ تدبیر کائنات میں ان کا کوئی اختیار ہے… جب اس کی شان اور اس کے اقتدار کی عظمت یہ ہو، تب اس کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟
[94]﴿ لَقَدۡ اَحۡصٰىهُمۡ وَعَدَّهُمۡ عَدًّا﴾ اس کا علم زمین اور آسمانوں کی تمام خلائق کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے اعمال کو شمار کر رکھا ہے وہ گمراہ ہوتا ہے نہ بھولتا ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔
[95]﴿ وَؔكُلُّهُمۡ اٰتِيۡهِ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فَرۡدًا﴾ ’’ہر ایک اس کے پاس قیامت کے دن اکیلا ہی آئے گا۔‘‘ یعنی اولاد، مال و دولت اور اعوان و انصار اس کے ساتھ نہ ہوں گے۔ اس کے ساتھ اس کے عمل کے سوا کچھ نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اس کے اعمال کا بدلہ دے گا اور اس سے پورا پورا حساب لے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوں گے تو جزا بھی اچھی ہو گی اور اگر اعمال برے ہوں گے تو ان کی جزا بھی بری ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:﴿ وَلَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾(الانعام:6؍94) ’’تم اسی طرح ہمارے پاس تن تنہا آئے ہو جس طرح پہلی مرتبہ ہم نے تمھیں اکیلا پیدا کیا تھا۔‘‘
19:96Page 312
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ سَيَجۡعَلُ لَهُمُ ٱلرَّحۡمَٰنُ وُدّٗا ٩٦
Indeed, those who have believed and done righteous deeds - the Most Merciful will appoint for them affection.1
بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، عنقریب پیدا کر دے گا ان کے لیے رحمٰن محبت (96)
[96] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے ان بندوں پر انعام ہے جنھوں نے ایمان و عمل صالح کو جمع کیا… کہ وہ ان کے لیے اپنے اولیاء اور زمین و آسمان کے رہنے والوں کے دلوں میں محبت اور مودت ڈال دیتا ہے۔ جب ان کے بارے میں دلوں میں محبت ہوجاتی ہے تو ان کے اکثر معاملات ان کے لیے آسان ہوجاتے ہیں اور ان کو بھلائی، دعائیں ، راہنمائی اور امامت حاصل ہوجاتی ہے اس لیے ایک صحیح حدیث میں وارد ہے ’’جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریلu کو پکار کر کہتا ہے کہ میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر، پھر جبریل آسمان والوں کو پکار کر کہتا ہے کہ اللہ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے، اس لیے تم بھی اسے محبوب رکھو، آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر زمین والوں میں اسے قبولیت عطا کی جاتی ہے‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب المقۃ من اللہ تعالیٰ، ح:6040 و صحیح مسلم، البرو الصلۃ، باب اذا احب اللہ عبدا…، ح:2637) اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے زمین و آسمان کے رہنے والوں کے دلوں میں محبت اس لیے پیدا کی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء اور محبوب لوگوں کے نزدیک ان کو محبوب بنا دیا۔
19:97–98Page 312
فَإِنَّمَا يَسَّرۡنَٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ ٱلۡمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِۦ قَوۡمٗا لُّدّٗا ٩٧
So, [O Muḥammad], We have only made it [i.e., the Qur’ān] easy in your tongue [i.e., the Arabic language] that you may give good tidings thereby to the righteous and warn thereby a hostile people.
وَكَمۡ أَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُم مِّن قَرۡنٍ هَلۡ تُحِسُّ مِنۡهُم مِّنۡ أَحَدٍ أَوۡ تَسۡمَعُ لَهُمۡ رِكۡزَۢا ٩٨
And how many have We destroyed before them of generations? Do you perceive of them anyone or hear from them a sound?
پس یقینا آسان کر دیا ہے ہم نے اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں تاکہ آپ خوشخبری دیں اس کے ساتھ پرہیز گاروں کواور ڈرائیں اس کے ساتھ جھگڑالو قوم کو (97) اور کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے، پہلے ان سے قومیں ، کیا آپ محسوس کرتے ہیں ان میں سے کسی ایک کو (آنکھ یا ہاتھ سے)؟ یا آپ سنتے ہیں ان کی کوئی بھنک بھی؟ (98)
[97] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی نعمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے رسول اللہﷺ کی زبان اقدس پر اس قرآن کریم کو آسان کیا۔ اس کے الفاظ و معانی کو عام فہم بنایا تاکہ مقصد حاصل ہو اور اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ ﴿ لِتُبَشِّرَ بِهِ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ تاکہ آپ دنیاوی اور اخروی ثواب کی ترغیب کے ذریعے سے متقین کو بشارت دیں اور ان اسباب کا ذکر کریں جو بشارت کے موجب ہیں ۔ ﴿ وَتُنۡذِرَ بِهٖ قَوۡمًا لُّدًّا﴾ تاکہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جو اپنے باطل میں نہایت سخت اور اپنے کفر میں نہایت قوی ہیں ۔ اس طرح ان پر حجت قائم ہو گی اور ان کے سامنے صراط مستقیم واضح ہو جائے گی۔ تب جو کوئی ہلاک ہو گا تو دلیل کی بنیاد پر ہلاک ہو گا اور جو کوئی زندہ رہے گا تو دلیل کی طاقت سے زندہ رہے گا۔
[98] پھر ان کو پہلے لوگوں کی، جنھوں نے انبیاء و مرسلین کو جھٹلایا، ہلاکت کا ذکر کر کے ڈرایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَمۡ اَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ ﴾ ’’ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی امتوں کو ہلاک کر دیا۔‘‘ یعنی قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود وغیرہ جو انبیا کے ساتھ عناد رکھتے اور ان کی تکذیب کرتے تھے۔ جب وہ اپنی سرکشی میں جمے رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کا نام و نشان باقی نہ رہا۔ ﴿هَلۡ تُحِسُّ مِنۡهُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَوۡ تَسۡمَعُ لَهُمۡ رِكۡزًا ﴾ یہاں (رکز) سے مراد خفیہ آواز ہے یعنی ان لوگوں کے آثار تک باقی نہ رہے۔ بس ان کے قصے باقی رہ گئے جو عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت ہیں اور ان کی کہانیاں باقی رہ گئیں جو نصیحت کے متلاشی لوگوں کے لیے نصیحت ہیں ۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences