As-Sa'diAl‑Baqarah · 2:108–123

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Al-Baqarah 2:108–123

2:108–110Page 17

أَمۡ تُرِيدُونَ أَن تَسۡـَٔلُواْ رَسُولَكُمۡ كَمَا سُئِلَ مُوسَىٰ مِن قَبۡلُۗ وَمَن يَتَبَدَّلِ ٱلۡكُفۡرَ بِٱلۡإِيمَٰنِ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ ١٠٨

Or do you intend to ask1 your Messenger as Moses was asked before? And whoever exchanges faith for disbelief has certainly strayed from the soundness of the way.

وَدَّ كَثِيرٞ مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ لَوۡ يَرُدُّونَكُم مِّنۢ بَعۡدِ إِيمَٰنِكُمۡ كُفَّارًا حَسَدٗا مِّنۡ عِندِ أَنفُسِهِم مِّنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ ٱلۡحَقُّۖ فَٱعۡفُواْ وَٱصۡفَحُواْ حَتَّىٰ يَأۡتِيَ ٱللَّهُ بِأَمۡرِهِۦٓۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ١٠٩

Many of the People of the Scripture wish they could turn you back to disbelief after you have believed, out of envy from themselves [even] after the truth has become clear to them. So pardon and overlook until Allāh delivers His command. Indeed, Allāh is over all things competent.

وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَۚ وَمَا تُقَدِّمُواْ لِأَنفُسِكُم مِّنۡ خَيۡرٖ تَجِدُوهُ عِندَ ٱللَّهِۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ ١١٠

And establish prayer and give zakāh, and whatever good you put forward for yourselves - you will find it with Allāh. Indeed Allāh, of what you do, is Seeing.

کیا چاہتے ہو تم (اے مسلمانو!) کہ سوال کرو تم اپنے رسول سے، جیسے سوال کیے گئے موسیٰ پہلے اس سے؟ اور جو کوئی تبادلہ کرتا ہے کفر کا ایمان کے عوض، تو تحقیق بھٹک گیا وہ سیدھی راہ سے(108) چاہتے ہیں بہت سے اہل کتاب میں سے، کاش کہ وہ پھیر دیں (بنا دیں) تمھیں بعد تمھارے ایمان کے، کافر حسد کرتے ہوئے اپنے دلوں سے، بعد اس کے کہ واضح ہو گیا ان کے لیے حق، پس معاف کرو اور درگزر کرو، یہاں تک کہ لے آئے اللہ حکم اپنا، بلاشبہ اللہ ہر چیزپر خوب قادر ہے(109) اور تم قائم کرو نماز اور دو زکاۃاور جو کچھ آگے بھیجو گے تم اپنے نفسوں کے لیے کوئی بھلائی تو پاؤ گے تم اس کو اللہ کے ہاں، بے شک اللہ جو تم عمل کرتے ہو، دیکھنے والا ہے(110)

[108] اللہ تعالیٰ اہل ایمان یا یہود کو منع کرتا ہے کہ وہ اپنے رسول سے اس طرح سوال کریں ﴿ كَمَا سُىِٕلَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ﴾ ’’جس طرح اس سے پہلے حضرت موسیٰuسے سوال کیا گیا۔‘‘ اس سے مراد وہ سوالات ہیں جو بال کی کھال اتارنے اور اعتراض کی خاطر کیے جاتے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يَسۡـَٔؔلُكَ اَهۡلُ الۡكِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَيۡهِمۡ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدۡ سَاَلُوۡا مُوۡسٰۤى اَكۡبَرَ مِنۡ ذٰلِكَ فَقَالُوۡۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً﴾(النساء : 4؍153) ’’اہل کتاب تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے کوئی لکھی ہوئی کتاب اتار لا۔ یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بات کا مطالبہ کر چکے ہیں، کہتے تھے کہ ہمیں اللہ ان ظاہری آنکھوں سے دکھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَسۡـَٔلُوۡا عَنۡ اَشۡيَآءَؔ اِنۡ تُبۡدَ لَكُمۡ تَسُؤۡكُمۡ﴾(المائدہ : 5؍101) ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کیا کرو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں بری لگیں گی۔‘‘ لہٰذا اس قسم کے (مذموم) سوالات سے منع کیا گیا ہے۔ رہا رشد و ہدایت اور تحصیل علم کے لیے سوال کرنا تو یہ محمود ہے، اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے سوالات کرنے کا حکم دیا ہے چنانچہ فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ اِنۡ كُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾(النحل : 16؍43) ’’اگر تم نہیں جانتے تو ان لوگوں سے پوچھ لو جو اہل کتاب ہیں۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے سوالات کو برقرار رکھا ہے۔ فرمایا: ﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡخَمۡرِ وَالۡمَيۡسِرِ﴾(البقرہ : 2؍219) ’’وہ تجھ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿وَيَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡيَتٰمٰى ﴾(البقرہ : 2؍220) ’’وہ تجھ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں‘‘ اور اس قسم کی دیگر آیات۔ چونکہ ممنوعہ سوالات مذموم ہوتے ہیں اس لیے بعض دفعہ سوال پوچھنے والے کو کفر کی حدود میں داخل کر دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَ مَنۡ يَّتَبَدَّلِ الۡكُفۡرَ بِالۡاِيۡمَانِ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيۡلِ﴾ ’’جس نے ایمان کے بدلے کفر لے لیا پس اس نے سیدھا راستہ گم کر دیا۔‘‘

[109] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب میں سے بہت سے لوگوں کے حسد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ ان کی یہ حالت ہو گئی ہے کہ وہ چاہتے ہیں ﴿ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًا﴾ ’’کہ کاش تمھیں تمھارے ایمان کے بعد کفر کی طرف لوٹا دیں۔‘‘ اس کے لیے انھوں نے پوری کوشش اور فریب کاری کے جال بچھائے، مگر ان کے مکر و فریب پلٹ کر انھی پر پڑ گئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَقَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡهَ النَّهَارِ وَاكۡفُرُوۡۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾(آل عمران 3؍72) ’’اہل کتاب کا ایک گروہ کہتا ہے وہ کتاب جو اہل ایمان پر نازل کی گئی ہے اس پر دن کے پہلے حصے میں ایمان لاؤ اور اس کے آخر میں انکار کر دو، تاکہ وہ اسلام سے باز آ جائیں۔‘‘ یہ ان کا حسد تھا جو ان کے اندر سے پھوٹ رہا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہود کی برائی اور بدخلقی کے مقابلے میں عفو اور درگزر سے کام لینے کا حکم دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ جہاد کا حکم دے دیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو شفا بخشی۔ چنانچہ اہل ایمان نے ان یہودیوں میں سے جو قتل کےمستحق تھے ان کو قتل کیا، جو قیدی بنائے جا سکے ان کو قیدی بنا لیا اور کچھ کو ملک بدر کر دیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

[110] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو فی الحال اقامت نماز، ادائے زکاۃ اور تقرب الٰہی کے کاموں میں مشغول رہنے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ نیکی کا جو بھی کام کریں گے اللہ تعالیٰ کے ہاں کبھی ضائع نہیں ہو گا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اسے بہت زیادہ پائیں گے اللہ تعالیٰ نے اس کو محفوظ کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’تم جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے دیکھتا ہے۔‘‘

2:111–112Page 17

وَقَالُواْ لَن يَدۡخُلَ ٱلۡجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوۡ نَصَٰرَىٰۗ تِلۡكَ أَمَانِيُّهُمۡۗ قُلۡ هَاتُواْ بُرۡهَٰنَكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ١١١

And they say, "None will enter Paradise except one who is a Jew or a Christian." That is [merely] their wishful thinking. Say, "Produce your proof, if you should be truthful."

بَلَىٰۚ مَنۡ أَسۡلَمَ وَجۡهَهُۥ لِلَّهِ وَهُوَ مُحۡسِنٞ فَلَهُۥٓ أَجۡرُهُۥ عِندَ رَبِّهِۦ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ١١٢

Yes, [on the contrary], whoever submits his face [i.e., self] in Islām to Allāh while being a doer of good will have his reward with his Lord. And no fear will there be concerning them, nor will they grieve.

اور کہا انھوں نے، ہرگز نہیں داخل ہوں گے جنت میں مگر وہ جو ہوں گے یہودی یا عیسائی۔ یہ (باطل) خواہشیں ہیں ان کی، کہہ دیجیے! لاؤ تم دلیل اپنی، اگر ہو تم سچے(111) کیوں نہیں، (ہاں) جس نے جھکا دیا اپنا چہرہ واسطے اللہ کے اور وہ نیکی کرنے والا ہے تو اس کے لیے ہے اجر اس کا نزدیک اس کے رب کےاور نہ کوئی خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہی ہوں گے(112)

[111] یعنی یہودیوں نے کہا کہ یہودیوں کے سوا کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا اور عیسائیوں نے کہا کہ صرف وہی لوگ جنت میں جائیں گے جو عیسائی ہوں گے۔ پس انھوں نے حکم لگا دیا کہ صرف وہی اکیلے جنت کے مستحق ہوں گے۔ یہ محض ان کی آرزوئیں ہیں جو دلیل و برہان کے بغیر قابل قبول نہیں۔ پس اگر تم (اپنے اس دعوے میں) سچے ہو تو دلیل مہیا کرو۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو کسی قسم کا دعویٰ کرتا ہے اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دعوے کی صحت پر دلیل مہیا کرے وگرنہ اس کا دعویٰ اس کی طرف پلٹا دیا جائے اور اگر کوئی دعویٰ کرنے والا اس کے برعکس بغیر دلیل کے دعویٰ کر دے، تو وہ بھی ایسا ہی ہو گا۔ ان دونوں دعوؤں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہو گا۔ پس دلیل ہی ایک ایسی چیز ہے جو دعوے کی تصدیق یا اس کی تکذیب کرتی ہے اور جب ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹے ہیں۔

[112] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسی روشن دلیل بیان فرمائی ہے جو ہر ایک کے لیے عام ہے فرمایا: ﴿ بَلٰى ﴾ یعنی تمھاری آرزوئیں اور تمھارے دعوے صحیح نہیں بلکہ ﴿ مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡهَهٗ لِلّٰهِ﴾ جس نے اپنے قلب کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتے ہوئے اپنے اعمال کو اس کے لیے خالص کر لیا۔ ﴿ وَهُوَ مُحۡسِنٌ﴾ اور وہ اپنے اخلاص کے ساتھ اپنے رب کی عبادت احسن طریقے سے کرتا ہے۔ یعنی وہ اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عبادت کرتا ہے صرف یہی لوگ جنت میں جائیں گے۔ ﴿ فَلَهٗۤ اَجۡرُهٗ عِنۡدَ رَبِّهٖ﴾ ’’بے شک اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے‘‘ یہ اجر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر مشتمل جنت ہے ﴿ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَؔ﴾ ’’اور ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے‘‘ پس انھیں ان کی مرغوب چیز حاصل ہو گی اور خوف سے نجات مل جائے گی۔ ان آیات کریمہ میں یہ مفہوم بھی پایا جاتا ہے کہ جو ان مذکورہ لوگوں کی مانند نہیں ہیں وہ ہلاک ہونے والے جہنمیوں میں شمار ہوں گے پس نجات صرف انھی لوگوں کا نصیب ہے جو محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نیکی کرتے اور رسول اللہﷺکی پیروی کرتے ہیں۔

2:113Page 18

وَقَالَتِ ٱلۡيَهُودُ لَيۡسَتِ ٱلنَّصَٰرَىٰ عَلَىٰ شَيۡءٖ وَقَالَتِ ٱلنَّصَٰرَىٰ لَيۡسَتِ ٱلۡيَهُودُ عَلَىٰ شَيۡءٖ وَهُمۡ يَتۡلُونَ ٱلۡكِتَٰبَۗ كَذَٰلِكَ قَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ مِثۡلَ قَوۡلِهِمۡۚ فَٱللَّهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ ١١٣

The Jews say, "The Christians have nothing [true] to stand on," and the Christians say, "The Jews have nothing to stand on," although they [both] recite the Scripture. Thus do those who know not [i.e., the polytheists] speak the same as their words. But Allāh will judge between them on the Day of Resurrection concerning that over which they used to differ.

اور کہا یہودیوں نے، نہیں ہیں عیسائی اُوپر کسی چیز کے اور کہا عیسائیوں نے، نہیں ہیں یہودی اُوپر کسی چیز کے، حالانکہ وہ (دونوں) پڑھتے ہیں کتاب، اسی طرح کہا ان لوگوں نے(بھی) جو نہیں علم رکھتے، مثل ان کے قول کے، پس اللہ فیصلہ فرمائے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس (چیز) میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے(113)

[113] اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب خواہش نفس اور حسد میں اس حد کو پہنچ گئے کہ انھوں نے ایک دوسرے کو گمراہ اور کافر قرار دیا، جیسے مشرکین عرب میں امیوں کا وتیرہ تھا۔ پس ہر فرقہ دوسرے فرقے کو گمراہ قرار دیتا تھا۔ ان اختلاف کرنے والوں کے مابین قیامت کے روز اللہ تعالیٰ عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ یہ وہ فیصلہ ہے جس کے بارے میں اس نے بندوں کو باخبر کر دیا ہے کہ فوز و فلاح اور نجات صرف انھی لوگوں کے لیے ہے جنھوں نے تمام انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی، اور اپنے رب کے احکام کی پیروی کی اور اس کی منہیات سے اجتناب کیا۔ ان کے علاوہ دیگر تمام لوگ ہلاکت کے گڑھے میں گریں گے۔

2:114Page 18

وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ أَن يُذۡكَرَ فِيهَا ٱسۡمُهُۥ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَآۚ أُوْلَٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمۡ أَن يَدۡخُلُوهَآ إِلَّا خَآئِفِينَۚ لَهُمۡ فِي ٱلدُّنۡيَا خِزۡيٞ وَلَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٞ ١١٤

And who are more unjust than those who prevent the name of Allāh from being mentioned [i.e., praised] in His mosques and strive toward their destruction. It is not for them to enter them except in fear. For them in this world is disgrace, and they will have in the Hereafter a great punishment.

اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے منع کیا اللہ کی مسجدوں سے، یہ کہ ذکر کیا جائے ان میں نام اللہ کااور کوشش کی اس نے ان کے اجاڑنے میں، یہ (روکنے والے) نہیں تھا لائق ان کے کہ داخل ہوں ان میں مگر ڈرتے ہوئے، ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں عذاب عظیم ہے(114)

[114] یعنی اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور مجرم کوئی اور نہیں جس نے اللہ کی مساجد میں لوگوں کو اللہ کا ذکر کرنے، نماز پڑھنے اور نیکی اور اطاعت کے دیگر کاموں سے روکا ﴿ وَسَعٰى ﴾ یعنی جس نے پوری جدوجہد اور بھرپور کوشش کی ﴿ فِيۡ خَرَابِهَا﴾ ’’ان کے ویران کرنے میں۔‘‘ اس سے مراد، حسی اور معنوی دونوں اعتبار سے ویران کرنا ہے۔ حسی ویرانی کا مطلب ہے منہدم کرنا، اجاڑنا اور اس میں گندگی وغیرہ پھینکنا۔ معنوی ویرانی کا مطلب ان مساجد میں اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روکنا ہے۔ اور یہ عام ہے، اس زمرے میں وہ تمام لوگ آتے ہیں جو ان صفات سے متصف ہیں۔ اس میں اصحاب فیل بھی شامل ہیں۔ قریش بھی شامل ہیں، جب انھوں نے حدیبیہ کے سال رسول اللہﷺکو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ اور اس گروہ میں وہ نصرانی اور اہل ظلم بھی شامل ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتے ہوئے پوری کوشش سے بیت المقدس کو ویران کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کے کرتوتوں کی یہ سزا دی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شرعاً اور تقدیری طور پر مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے منع کر دیا سوائے اس کے کہ وہ ڈرتے ہوئے ذلت و انکسار کے ساتھ داخل ہوں۔ پس جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کو خوف زدہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر خوف مسلط کر دیا۔مشرکین مکہ نے رسول اللہﷺکو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روک دیا مگر تھوڑا ہی عرصہ گزرا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺکو مکہ مکرمہ فتح کرنے کی اجازت مرحمت فرما دی اور مشرکین کو اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کے قریب جانے سے منع کر دیا۔ چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡمُشۡرِكُوۡنَ نَجَسٌ فَلَا يَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هٰؔذَا﴾(التوبہ : 9؍28) ’’اے ایمان والو! مشرکین تو ناپاک ہیں اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں۔‘‘ اصحاب فیل کا جو حشر ہوا اللہ تعالیٰ نے (قرآن مجید میں) اس کا ذکر فرمایا ہے۔ نصرانیوں پر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مسلط فرمایا اور انھوں نے ان کو جلاوطن کر دیا۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو ان جیسی صفات رکھتا ہے وہ اس سزا سے اپنا حصہ ضرور وصول کرے گا۔ یہ بہت بڑی نشانیاں ہیں جن کے واقع ہونے سے پہلے ہی باری تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا اور یہ اسی طرح واقع ہوئیں جس طرح اس نے خبر دی تھی۔ اس آیت کریمہ سے اہل علم نے یہ استدلال کیا ہے کہ کفار کو مساجد میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ فرمایا: ﴿ لَهُمۡ فِي الدُّنۡيَا خِزۡيٌ ﴾ یعنی ان کے لیے دنیا میں فضیحت ہے ﴿ وَّلَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’اور آخرت میں بڑا عذاب ہے۔‘‘ جب اللہ کی مساجد میں اللہ کے ذکر سے روکنا سب سے بڑا ظلم ہے تو اسی طرح مساجد کو حسی اور معنوی اعتبار سے آباد کرنے والے سے بڑا ایمان والا کوئی نہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اِنَّمَا يَعۡمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ﴾(التوبہ : 9؍18) ’’اللہ کی مساجد کو تو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس کے گھروں کو بلند کیا جائے اور ان کی تعظیم و تکریم کی جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فِيۡ بُيُوۡتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنۡ تُرۡفَعَ وَيُذۡكَرَ فِيۡهَا اسۡمُهٗ﴾(النور:24؍36) ’’ان گھروں میں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کو بلند کیا جائے اور وہاں اس کے نام کا ذکر کیا جائے۔‘‘ مساجد سے متعلق بہت سے احکام ہیں جن کا خلاصہ ان آیات کریمہ کے اندر مضمر ہے۔

2:115Page 18

وَلِلَّهِ ٱلۡمَشۡرِقُ وَٱلۡمَغۡرِبُۚ فَأَيۡنَمَا تُوَلُّواْ فَثَمَّ وَجۡهُ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ وَٰسِعٌ عَلِيمٞ ١١٥

And to Allāh belongs the east and the west. So wherever you [might] turn, there is the Face1 of Allāh. Indeed, Allāh is all-Encompassing and Knowing.

اور اللہ کے لیے ہیں مشرق و مغرب، پس جس طرف بھی تم منہ کرو گے تو وہاں ہی ہے چہرہ اللہ کا، بلاشبہ اللہ وسعت والا، خوب جاننے والا ہے(115)

[115]﴿ وَلِلّٰهِ الۡمَشۡرِقُ وَالۡمَغۡرِبُ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے ہے مشرق اور مغرب‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں مشرق و مغرب کا خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ یہ روشنی کے طلوع ہونے اور غروب ہونے کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی آیات عظیمہ کا محل و مقام ہیں اور جب وہ مشارق و مغارب کا مالک ہے، تو تمام جہات اسی کی ملکیت ہیں۔ ﴿ فَاَيۡنَمَا تُوَلُّوۡا﴾ پس ان جہات میں سے جس کسی جہت کی طرف بھی تم اپنا منہ پھیر لو گے، بشرطیکہ تمھارا اس کی طرف منہ پھیرنا اللہ کے حکم سے ہو۔ یا تو وہ تمھیں حکم دے کہ خانہ کعبہ کی طرف بھی تم منہ پھیر لو، جبکہ پہلے تم بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کے پابند تھے یا سفر میں تمھیں سواری کے اوپر نماز پڑھنے کا حکم دیا جائے، اس صورت میں اس کا قبلہ وہی ہو گا جس کی طرف وہ منہ کرے گا یا (انجان جگہ میں) قبلے کا رخ معلوم نہ ہو، پس اپنے اندازے سے نماز پڑھ لی، بعد میں معلوم ہوا کہ اندازہ غلط تھا یا کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے قبلہ رخ ہونا مشکل ہو۔ ان تمام صورتوں میں وہ یا تو مامور ہے (یعنی اللہ کے حکم پر قبلے کی طرف رخ کرنے والا ہے) یا معذور ہے۔ ہر حال میں بندہ جس جہت کی طرف بھی منہ کرتا ہے وہ جہت اللہ تعالیٰ کی ملکیت سے باہر نہیں۔ ﴿ فَثَمَّ وَجۡهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’جدھر بھی تم رخ کرو ادھر ہی اللہ کا چہرہ ہے بے شک اللہ وسعت والا علم والا ہے‘‘ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے چہرے کا اثبات ہوتا ہے مگر جیسے اس کی ذات اقدس کے لائق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہے مگر مخلوق کے چہروں کے مشابہ نہیں۔ (اللہ تعالیٰ اس مشابہت سے بلند و برتر ہے) وہ وسیع فضل اور عظیم صفات کا مالک ہے اور تمھارے سینوں کے بھید اور نیتوں کو جاننے والا ہے۔ اس نے وسعت فضل و علم کی بنا پر تمھارے لیے احکام میں وسعت بخشی ہے اور تم سے مامورات کو قبول فرمایا۔ ہر قسم کی حمد و ثنا اور شکر صرف اسی کی ذات کے لیے ہے۔

2:116–117Page 18

وَقَالُواْ ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ وَلَدٗاۗ سُبۡحَٰنَهُۥۖ بَل لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ كُلّٞ لَّهُۥ قَٰنِتُونَ ١١٦

They say, "Allāh has taken a son." Exalted is He!1 Rather, to Him belongs whatever is in the heavens and the earth. All are devoutly obedient to Him,

بَدِيعُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ وَإِذَا قَضَىٰٓ أَمۡرٗا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ١١٧

Originator of the heavens and the earth. When He decrees a matter, He only says to it, "Be," and it is.

اور کہا انھوں نے، بنا لی ہے اللہ نے اولاد، پاک ہے وہ (اس سے)بلکہ اسی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کے لیے عاجزی کرنے والے ہیں(116) وہ انوکھا موجد ہے آسمانوں اور زمین کا اور جب وہ فیصلہ کرتا ہے کسی کام کا، تو صرف یہی کہتا ہے اس کو ہو جا تو پس وہ ہو جاتاہے(117)

[116]﴿ وَقَالُوا﴾ یعنی یہود و نصاریٰ، مشرکین اور ان تمام لوگوں نے کہا جو کہتے ہیں ﴿ اتَّؔخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا﴾ ’’اللہ نے بیٹا بنا لیا۔‘‘ انھوں نے ایسی بات اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی جو اس کی جلالت شان کے لائق نہ تھی۔ انھوں نے بہت برا کیا اور اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس گستاخی پر صبر کرتا ہے، حلم سے کام لیتا ہے، انھیں معاف کر کے انھیں رزق عطا کرتا ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں نقص ثابت کرتے ہیں ﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ﴾یعنی وہ ان تمام صفات سے پاک اور منزہ ہے جن سے یہ اہل شرک اور اہل ظلم اسے متصف کرتے ہیں اور جو اس کے جلال کے لائق نہیں۔۔۔۔۔ پس پاک اور ہر عیب سے منزہ ہے وہ ذات جو ہر پہلو سے کمال مطلق کی مالک ہے جسے کسی بھی پہلو سے نقص لاحق نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے اپنے منزہ ہونے پر دلیل قائم کی ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ بَلۡ لَّهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی ملکیت اور اس کی غلام ہے۔ وہ ان میں اسی طرح تصرف کرتا ہے جس طرح مالک اپنے مملوک میں تصرف کرتا ہے۔ وہ اس کے اطاعت گزار اور اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں۔ جب تمام مخلوق اس کی غلام اور اس کی محتاج ہے اور وہ خود ان سے بے نیاز ہے تو ان میں کوئی کیسے اس کا بیٹا ہو سکتاہے۔ بیٹا لازمی طور پر اپنے باپ کی جنس سے ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کے جسم کا حصہ ہے۔ اور اللہ تبارک وتعالیٰ مالک اور غالب ہے۔ تم سب لوگ مملوک اور مغلوب ہو، اس کی ہستی بے نیاز اور تم محتاج محض، ایسا ہونے کے باوجود اس کا کوئی بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ سب سے بڑا باطل اور سب سے زیادہ قبیح بات ہے۔ ’’قُنُوت‘‘ (اطاعت کرنا) کی دو اقسام ہیں۔ (۱) قنوت عام: یعنی تمام مخلوق خالق کے دست تدبیر کے تحت اس کی اطاعت گزار ہے۔ (۲) قنوت خاص: اس سے مراد اطاعت عبودیت ہے۔ پس قنوت کی پہلی قسم وہ ہے جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں کیا گیا ہے۔ اور قنوت کی دوسری قسم وہ ہے جس کا ذکر ﴿وَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ قٰنِتِيۡنَ﴾(البقرہ : 2؍238) ’’اور اللہ کے سامنے ادب اور اطاعت گزاری کے ساتھ کھڑے رہیں۔‘‘ میں مذکور ہے۔

[117] پھر فرمایا: ﴿ بَدِيۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو بغیر کسی سابقہ مثال کے نہایت مضبوط اور بہترین طریقے سے تخلیق کیا ہے۔ ﴿وَاِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ﴾ ’’وہ جس کام کو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا بس وہ ہو جاتا ہے‘‘ یعنی کوئی چیز اس کی نافرمانی نہیں کر سکتی اور کسی چیز کو اس کے سامنے انکار کرنے کی مجال نہیں۔

2:118–119Page 18

وَقَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ لَوۡلَا يُكَلِّمُنَا ٱللَّهُ أَوۡ تَأۡتِينَآ ءَايَةٞۗ كَذَٰلِكَ قَالَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِم مِّثۡلَ قَوۡلِهِمۡۘ تَشَٰبَهَتۡ قُلُوبُهُمۡۗ قَدۡ بَيَّنَّا ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يُوقِنُونَ ١١٨

Those who do not know say, "Why does Allāh not speak to us or there come to us a sign?" Thus spoke those before them like their words. Their hearts resemble each other. We have shown clearly the signs to a people who are certain [in faith].

إِنَّآ أَرۡسَلۡنَٰكَ بِٱلۡحَقِّ بَشِيرٗا وَنَذِيرٗاۖ وَلَا تُسۡـَٔلُ عَنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلۡجَحِيمِ ١١٩

Indeed, We have sent you, [O Muḥammad], with the truth as a bringer of good tidings and a warner, and you will not be asked about the companions of Hellfire.

اور کہا ان لوگوں نے جو نہیں علم رکھتے کیوں نہیں کلام کرتا ہم سے اللہ یا (کیوں نہیں) آتی ہمارے پاس کوئی نشانی؟ اسی طرح کہا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، مثل ان کے قول کے، ایک جیسے ہو گئے دل ان کے، تحقیق بیان کر دیں ہم نے نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں(118) بلاشبہ بھیجا ہم نے آپ کو ساتھ حق کے، خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور نہیں سوال کیے جائیں گے آپ دوزخیوں کی بابت (119)

[118] یعنی اہل کتاب وغیرہ میں سے جہلاء نے کہا۔ ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ اس طرح کلام کیوں نہیں کرتا جس طرح وہ اپنے رسولوں سے کلام کرتا ہے۔ ﴿ اَوۡ تَاۡتِيۡنَاۤ اٰيَةٌ﴾ ’’یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی نشانی‘‘ اس سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو وہ اپنی فاسد عقلوں اور باطل آراء کے ذریعے سے طلب کرتے تھے۔ ان فاسد آراء کے بل بوتے پر انھوں نے خالق کے مقابلے میں جسارت کی اور اس کے رسولوں کے سامنے تکبر سے کام لیا۔ جیسے انھوں نے کہا: ﴿ لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(البقرہ : 2؍55) ’’ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہم اللہ کو ان ظاہری آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔‘‘ ﴿ يَسۡـَٔؔلُكَ اَهۡلُ الۡكِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَيۡهِمۡ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدۡ سَاَلُوۡا مُوۡسٰۤى اَكۡبَرَ مِنۡ ذٰلِكَ﴾(النساء : 4؍153) ’’اہل کتاب تجھ سے کہتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے ایک لکھی ہوئی کتاب اتار لا۔ پس یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑے بڑے سوال کیا کرتے تھے۔‘‘ ﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَلَكٌ فَيَكُوۡنَ مَعَهٗ نَذِيۡرًاۙ۰۰اَوۡ يُلۡقٰۤى اِلَيۡهِ كَنۡزٌ اَوۡ تَكُوۡنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاۡكُلُ مِنۡهَا﴾(الفرقان : 25؍7، 8) ’’اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہ نازل کیا گیا جو ڈرانے کے لیے اس کے ساتھ ساتھ رہتا یا اس کی طرف کوئی خزانہ اتارا جاتا۔ یا اس کے لیے کوئی باغ ہوتا جس سے وہ کھاتا‘‘ یا جیسے فرمایا: ﴿ وَقَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًا﴾(بنی اسرائیل : 17؍90) ’’اور انھوں نے کہا ہم تجھ پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تو ہمارے لیے زمین سے چشمہ جاری نہ کر دے۔‘‘ پس اپنے رسولوں کے ساتھ یہ ان کی عادت رہی ہے کہ یہ طلب رشد و ہدایت کے لیے آیات کا مطالبہ نہیں کیا کرتے تھے اور نہ تبیین حق ان کا مقصد تھا بلکہ وہ تو محض بال کی کھال اتارنے کے لیے مطالبات کرتے تھے۔ کیونکہ رسول تو آیات (اور معجزات) کے ساتھ آتے رہے ہیں اور ان جیسی آیات و معجزات پر انسان ایمان لاتا رہا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ قَدۡ بَيَّنَّا الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَؔ﴾ ’’بے شک ہم نے بیان کر دیں نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو یقین کرتے ہیں۔‘‘ پس ہر صاحب ایقان اللہ تعالیٰ کی روشن نشانیوں اور واضح دلائل و براہین کو پہچان لیتا ہے۔ ان سے اسے یقین حاصل ہوتا ہے اور شک و ریب اس سے دور ہوجاتے ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ نے نہایت اختصار و ایجاز سے بعض جامع آیات کا ذکر فرمایا ہے جو رسول اللہﷺکی صداقت، اور جو کچھ آپ پر نازل ہوا اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں۔

[119] فرمایا: ﴿ اِنَّـاۤاَرۡسَلۡنٰكَ بِالۡحَقِّ بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًا﴾ ’’ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے‘‘ یہ ان آیات پر مشتمل ہے جنھیں رسول اللہﷺلے کر مبعوث ہوئے اور یہ تین امور کی طرف راجع ہیں۔ (۱)رسول اللہﷺکی رسالت۔ (۲) آپ کی سیرت طیبہ، آپ کا طریقہ اور آپ کی راہ نمائی۔ (۳) قرآن و سنت کی معرفت۔ پہلا اور دوسرا نکتہ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِنَّـاۤاَرۡسَلۡنٰكَ ﴾ میں داخل ہے اور تیسرا نکتہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ بِالۡحَقِّ ﴾ میں داخل ہے۔ نکتہ اول۔۔۔ یعنی رسول اللہﷺکی بعثت اور رسالت کی توضیح یہ ہے کہ رسول اللہﷺکی بعثت سے قبل اہل زمین کی جو حالت تھی وہ معلوم ہے۔ اس زمین کے رہنے والے بتوں، آگ اور صلیب کی عبادت میں مبتلا تھے۔ ان کے لیے جو دین آیا انھوں نے اسے تبدیل کر کے رکھ دیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ کفر کی تاریکیوں میں ڈوب گئے اور کفر کی تاریکی ان پر چھا گئی تھی۔ البتہ اہل کتاب کی کچھ باقیات تھیں (جو دین اسلام پر قائم رہیں) اور وہ بھی رسول اللہﷺکی بعثت سے تھوڑا سا پہلے ناپید ہو گئیں۔ یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو عبث اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا اور نہ اس کو بے حساب و کتاب آزاد چھوڑا ہے، کیونکہ وہ حکیم و دانا، باخبر، صاحب قدرت اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ پس اس کی حکمت اور اپنے بندوں پر اس کی بے پایاں رحمت کا تقاضا ہوا کہ وہ ان کی طرف ایک نہایت عظمت والا رسول مبعوث کرے جو انھیں ایک اللہ کی عبادت کا حکم دے جس کا کوئی شریک نہیں۔ ایک عقلمند شخص محض آپ کی رسالت ہی کی بنا پر آپ کی صداقت کو پہچان لیتا ہے اور یہ اس بات کی بہت بڑی علامت ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ رہا دوسرا نکتہ... تو جس نے رسول اللہﷺکو اچھی طرح پہچان لیا اور اسے آپ کی بعثت سے قبل آپ کی سیرت اور آپ کے طریق زندگی اور آپ کی کامل ترین خصلتوں پر آپ کی نشوونما کی معرفت حاصل ہو گئی۔ پھر بعثت کے بعد آپ کے مکارم ، عظیم اور روشن اخلاق بڑھتے چلے گئے۔ پس جنھیں ان اخلاق کی معرفت حاصل ہو گئی اور انھوں نے آپ کے احوال کو اچھی طرح جانچ لیا تو اسے معلوم ہو گیا کہ ایسے اخلاق صرف انبیائے کاملین ہی کے ہو سکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اوصاف کو اصحاب اوصاف اور ان کے صدق و کذب کی معرفت کے لیے سب سے بڑی دلیل قرار دیا ہے۔ رہا تیسرا نکتہ۔۔۔ تو یہ اس عظیم شریعت اور قرآن کریم کی معرفت ہے جسے رسول اللہﷺپر نازل کیا گیا جو سچی خبروں، اچھے احکام، ہر برائی سے ممانعت اور روشن معجزات پر مشتمل ہے۔ پس تمام نشانیاں ان تین باتوں میں آ جاتی ہیں۔ ﴿ بَشِيۡرًا ﴾ یعنی آپ اس شخص کو دنیاوی اور اخروی سعادت کی خوشخبری سنانے والے ہیں جس نے آپ کی اطاعت کی ﴿ وَّنَذِيۡرًا﴾ اور اس شخص کو دنیاوی اور اخروی بدبختی اور ہلاکت سے ڈرانے والے ہیں جس نے آپ کی نافرمانی کی ﴿ وَّلَا تُسۡـَٔلُ عَنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡجَحِيۡمِ ﴾ یعنی آپ سے اہل دوزخ کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ آپ کا کام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔

2:120Page 19

وَلَن تَرۡضَىٰ عَنكَ ٱلۡيَهُودُ وَلَا ٱلنَّصَٰرَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمۡۗ قُلۡ إِنَّ هُدَى ٱللَّهِ هُوَ ٱلۡهُدَىٰۗ وَلَئِنِ ٱتَّبَعۡتَ أَهۡوَآءَهُم بَعۡدَ ٱلَّذِي جَآءَكَ مِنَ ٱلۡعِلۡمِ مَا لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٍ ١٢٠

And never will the Jews and the Christians approve of you until you follow their religion. Say, "Indeed, the guidance of Allāh is the [only] guidance." If you were to follow their desires after what has come to you of knowledge, you would have against Allāh no protector or helper.

اور ہرگزنہیں راضی ہوں گے آپ سے یہودی اور نہ عیسائی، حتی کہ پیروی کریں آپ ان کی ملت کی، کہہ دیجیے! بلاشبہ اللہ کی ہدایت وہی (حقیقی) ہدایت ہے اور اگر پیروی کی آپ نے ان کی خواہشات کی، بعد اس کے جو آگیا آپ کے پاس علم تو نہیں ہوگا آپ کے لیے اللہ سے (بچانے والا) کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار(120)

[120] اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہود و نصاریٰ آپ سے اس وقت تک خوش نہیں ہو سکتے جب تک آپ ان کے دین کی اتباع نہ کریں کیونکہ وہ اپنے اس دین کے داعی ہیں جس پر وہ عمل پیرا ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہی ہدایت ہے۔ لہٰذا آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ ﴾ ’’بے شک اللہ کی ہدایت‘‘ یعنی وہ ہدایت جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے ﴿ هُوَ الۡهُدٰؔى ﴾وہی درحقیقت ہدایت ہے۔ اور وہ مذہب جس پر تم گامزن ہو محض خواہشات نفس کی پیروی ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ وَلَىِٕنِ اتَّبَعۡتَ اَهۡوَآءَهُمۡ بَعۡدَ الَّذِيۡ جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍؔ ﴾ ’’اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی، اس علم کے بعد جو آپ کو پہنچا، تو آپ کو اللہ سے بچانے والا کوئی حمایتی اور مددگار نہیں ہو گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہود و نصاریٰ کی اتباع کرنے اور ان امور میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا گیا ہے جو ان کے دین سے مختص ہیں۔ یہاں خطاب اگرچہ رسول اللہﷺسے ہے مگر بالواسطہ آپ کی امت بھی اس میں داخل ہے۔ کیونکہ اصول یہ ہے کہ جس سے خاص طور پر خطاب ہو، اس کی بجائے عموم معنی کا اعتبار کیا جائے۔ جیسے کسی حکم کے نازل ہونے کا کوئی خاص سبب ہوتا ہے، لیکن وہاں اس سبب کی بجائے عموم لفظ کا اعتبار کیا جاتا ہے۔

2:121–123Page 19

ٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ يَتۡلُونَهُۥ حَقَّ تِلَاوَتِهِۦٓ أُوْلَٰٓئِكَ يُؤۡمِنُونَ بِهِۦۗ وَمَن يَكۡفُرۡ بِهِۦ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ ١٢١

Those to whom We have given the Book recite it with its true recital.1 They [are the ones who] believe in it. And whoever disbelieves in it - it is they who are the losers.

يَٰبَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَتِيَ ٱلَّتِيٓ أَنۡعَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ وَأَنِّي فَضَّلۡتُكُمۡ عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ ١٢٢

O Children of Israel, remember My favor which I have bestowed upon you and that I preferred you over the worlds.

وَٱتَّقُواْ يَوۡمٗا لَّا تَجۡزِي نَفۡسٌ عَن نَّفۡسٖ شَيۡـٔٗا وَلَا يُقۡبَلُ مِنۡهَا عَدۡلٞ وَلَا تَنفَعُهَا شَفَٰعَةٞ وَلَا هُمۡ يُنصَرُونَ ١٢٣

And fear a Day when no soul will suffice for another soul1 at all, and no compensation will be accepted from it, nor will any intercession benefit it, nor will they be aided.

وہ لوگ کہ دی ہم نے ان کو کتاب، پڑھتے ہیں وہ اسے جس طرح حق ہے اس کے پڑھنے کا، وہی لوگ ایمان لاتے ہیں ساتھ اس کے اور جو کوئی کفر کرتا ہے ساتھ اس کے تو وہی ہیں خسارہ پانے والے(121) اے بنواسرائیل! یاد کرو تم میری نعمت، وہ جو انعام کی میں نے تم پر اور یہ کہ فضیلت دی میں نے تمھیں اوپر تمام جہانوں کے(122) اور ڈرو اس دن سے کہ نہیں کام آئے گا کوئی نفس کسی نفس کے کچھ بھی اور نہ قبول کیا جائے گا اس سے کوئی بدلہ اور نہ نفع دے گی اس کو کوئی سفارش اور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے(123)

[121] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب عطا کی اور کتاب عطا کر کے ان پر احسان کیا ہے ﴿ يَتۡلُوۡنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ ﴾ ’’وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ تلاوت کرنے کا حق ہے۔‘‘ یعنی اس کی اتباع کرتے ہیں جیسا کہ اتباع کرنے کا حق ہے۔ یہاں (تلاوت) سے مراد اتباع ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے حلال ٹھہرائے ہوئے امور کو حلال اور اس کے حرام ٹھہرائے ہوئے امور کو حرام سمجھتے ہیں۔ اس کی محکمات پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور اس کی متشابہات پر ایمان لاتے ہیں۔ اہل کتاب میں سے یہی وہ لوگ ہیں جو خوش بخت ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو پہچانا اور اس کے شکر گزار ہوئے جو تمام رسولوں پر ایمان لائے اور انھوں نے ان رسولوں کے مابین تفریق نہ کی۔ یہی لوگ حقیقی مومن ہیں نہ کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں ﴿ نُؤۡمِنُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا وَيَكۡفُرُوۡنَ بِمَا وَرَآءَهٗ ﴾(البقرۃ : 2؍91) ’’جو کتاب ہم پر نازل کی گئی ہم تو اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے علاوہ دوسری کتابوں کا انکار کرتے ہیں۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’جو کوئی اس کا انکار کرے گا پس یہی لوگ گھاٹے میں پڑنے والے ہیں۔‘‘

[123-122] اس کے بعد آنے والی آیت کریمہ کی تفسیر گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском