As-Sa'diAl‑Mu'minun · 23:84–100

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Al-Mu'minun 23:84–100

23:84–89Page 347

قُل لِّمَنِ ٱلۡأَرۡضُ وَمَن فِيهَآ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ٨٤

Say, [O Muḥammad], "To whom belongs the earth and whoever is in it, if you should know?"

سَيَقُولُونَ لِلَّهِۚ قُلۡ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ٨٥

They will say, "To Allāh." Say, "Then will you not remember?"

قُلۡ مَن رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ ٱلسَّبۡعِ وَرَبُّ ٱلۡعَرۡشِ ٱلۡعَظِيمِ ٨٦

Say, "Who is Lord of the seven heavens and Lord of the Great Throne?"

سَيَقُولُونَ لِلَّهِۚ قُلۡ أَفَلَا تَتَّقُونَ ٨٧

They will say, "[They belong] to Allāh." Say, "Then will you not fear Him?"

قُلۡ مَنۢ بِيَدِهِۦ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيۡءٖ وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيۡهِ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ٨٨

Say, "In whose hand is the realm of all things - and He protects while none can protect against Him - if you should know?"

سَيَقُولُونَ لِلَّهِۚ قُلۡ فَأَنَّىٰ تُسۡحَرُونَ ٨٩

They will say, "[All belongs] to Allāh." Say, "Then how are you deluded?"

آپ کہہ دیجیے! کس کے لیے ہے زمین اور جو (مخلوق) اس میں ہے اگر ہو تم جانتے ؟ (84) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے۔ کہہ دیجیے! کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (85) کہہ دیجیے! کون ہے رب ساتوں آسمانوں کا اور رب عرش عظیم کا؟ (86) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے، کہہ دیجیے! کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (87)کہہ دیجیے! کون ہے جس کے ہاتھ میں ہے بادشاہی ہر چیز کی اور وہی پناہ دیتا ہے اور نہیں پناہ دی جاسکتی اس کے مقابلے میں اگر ہو تم جانتے؟ (88) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے، کہہ دیجیے! پس کہاں سے جادو کیے جاتے ہو تم؟ (89)

[85,84] یعنی زندگی بعد الموت اور آخرت کی تکذیب کرنے والوں سے، جو اللہ تعالیٰ کے ہم سر اور شریک ٹھہراتے ہیں توحید ربوبیت کو جس کا وہ اقرار اور اثبات کرتے ہیں توحید الوہیت اور توحید عبادت پر دلیل بناتے ہوئے، اسی طرح بڑی بڑی مخلوقات کی تخلیق کے اثبات کو، مرنے کے بعد زندگی کے اعادہ پر، جوکہ اس سے آسان تر ہے، برہان ٹھہراتے ہوئے، کہیے! ﴿ لِّمَنِ الۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهَاۤ ﴾ یعنی زمین اور زمین کی تمام مخلوقات، حیوانات، نباتات، جمادات، سمندروں ، دریاؤں اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا، ان کا مالک کون ہے اور کون ان کی تدبیر کرتا ہے؟ اگر آپ ان سے اس بارے میں سوال کریں تو وہ یہی جواب دیں گے ’’صرف اللہ‘‘! جب وہ اس حقیقت کا اقرار کرلیں تو آپ ان سے کہیے! ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اس چیز کی طرف رجوع نہیں کرتے جس کی یاددہانی تمھیں اللہ تعالیٰ نے کروائی ہے جس کا تمھیں علم ہے جو تمھاری فطرت میں راسخ ہے البتہ اعراض بسااوقات اسے ذہن سے غائب کر دیتا ہے … حقیقت یہ ہے کہ اگر تم مجرد تھوڑے سے غور و فکر کے ذریعے سے، اپنی اس یاددہانی کی طرف رجوع کرو تو تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ اس تمام کائنات کا مالک ہی اکیلا معبود ہے اور وہ ہستی جو مملوک ہے، اس کی الوہیت سب سے بڑا باطل ہے۔

[87,86] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بھی بڑی دلیل کی طرف منتقل ہوتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۡ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبۡعِ ﴾ ’’کہہ دیجیے سات آسمانوں کا رب کون ہے؟‘‘ اور ان کے اندر ستاروں ، سیاروں ، کواکب اور ثوابت کا رب کون ہے؟ ﴿ وَرَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور عرش عظیم کا رب کون ہے‘‘ جو تمام مخلوقات سے زیادہ بلند، سب سے وسیع اور سب سے بڑا ہے؟ وہ کون ہے جس نے اس پورے نظام کی تخلیق کی پھر اس کی تدبیر کی اور وہ مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان میں تصرف کرتا ہے؟ ﴿ سَيَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰهِ﴾ یعنی وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ ان سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے جب وہ اس کا اقرار کرلیں تو ان سے کہیے! ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا پس تم (عاجز اور بے بس مخلوق کی عبادت سے ) بچتے کیوں نہیں ؟‘‘ اس کے برعکس تم رب عظیم کی عبادت سے، جو کامل قدرت اور عظیم قوت کا مالک ہے، دور بھاگتے ہو۔ اس آیت کریمہ میں خطاب کا ایسا اسلوب ہے جو لطف و کرم پر مبنی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ میں نظر آتا ہے، نیز اس میں وعظ و نصیحت کا ایسا پیرایہ ہے جو انتہائی دلکش ہے۔

[89,88] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس امر کے اقرار کی طرف منتقل ہوتا ہے جو ان سب سے زیادہ عمومیت کا حامل ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۢۡ بِيَدِهٖ مَلَكُوۡتُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ یعنی عالم علوی اور عالم سفلی میں جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے اور جو کچھ ہمیں نظر نہیں آتا ان سب کی بادشاہی کس کے ہاتھ میں ہے؟ (الملکوت)اقتدار اور بادشاہی کے لیے مبالغے کا صیغہ ہے۔ ﴿ وَّهُوَ يُجِيۡرُ ﴾ ’’وہ شر سے پناہ دیتا ہے‘‘ اپنے بندوں کو ، ان کی تکلیفوں کو دور کرتا ہے اور ان چیزوں سے ان کو محفوظ کرتا ہے جو انھیں ضرر پہنچاتی ہیں ﴿وَلَا يُجَارُ عَلَيۡهِ ﴾ کسی کی قدرت میں نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کو پناہ دے سکے اور نہ کوئی اس شر اور تکلیف کو دور کر سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہو بلکہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے کسی کو سفارش کرنے کی بھی مجال نہیں ۔ ﴿ سَيَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰهِ ﴾ یعنی وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک ہے، وہی پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ ﴿قُلۡ﴾ جب وہ اس حقیقت کا اقرار کریں تو الزامی طور پر ان سے کہہ دیجیے! ﴿ فَاَنّٰى تُسۡحَرُوۡنَ﴾ ’’پھر تم کہاں سے جادو کر دیے جاتے ہو؟‘‘ یعنی پھر تمھاری عقل کہاں ماری جاتی ہے کہ تم ان ہستیوں کی عبادت کرنے لگے جن کے بارے میں تم خود جانتے ہو کہ وہ کسی چیز کی مالک نہیں ، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہیں اور تم نے مالک عظیم، قادر مطلق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والے کے لیے اخلاص کو ترک کر دیا۔ اس لیے وہ عقل جس نے اس غیر معقول کام کی طرف تمھاری راہ نمائی کی ہے، سحر زدہ ہونے کے سوا کچھ نہیں ۔ بلاشبہ شیطان نے ان کی عقل پر جادو کر دیا ہے اس نے ان کے سامنے شرک کو مزین کرکے خوبصورت بنا کر دکھایا، حقائق کو بدل ڈالا اور یوں ان کی عقلوں پر جادو کر دیا جس طرح جادوگر لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیتے ہیں ۔

23:90–92Page 348

بَلۡ أَتَيۡنَٰهُم بِٱلۡحَقِّ وَإِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ ٩٠

Rather, We have brought them the truth, and indeed they are liars.

مَا ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ مِن وَلَدٖ وَمَا كَانَ مَعَهُۥ مِنۡ إِلَٰهٍۚ إِذٗا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَٰهِۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۚ سُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ ٩١

Allāh has not taken any son, nor has there ever been with Him any deity. [If there had been], then each deity would have taken what it created, and some of them would have [sought to] overcome others. Exalted is Allāh above what they describe [concerning Him].

عَٰلِمِ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ فَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ ٩٢

[He is] Knower of the unseen and the witnessed, so high is He above what they associate [with Him].

بلکہ لائے ہیں ہم ان کے پاس حق اور بلاشبہ وہ البتہ جھوٹے ہیں (90) نہیں بنائی اللہ نے کوئی اولاد اور نہ ہے اس کے ساتھ کوئی (اور) معبود ہی (اگر ہوتا تو) اس وقت البتہ لے جاتا ہر معبود اس چیز کو جو اس نے پیدا کی اور البتہ چڑھائی کرتا بعض ان کا اوپر بعض کے، پاک ہے اللہ ان (باتوں ) سے جو وہ بیان کرتے ہیں (91) جاننے والا ہے غیب اور حاضر کا، پس وہ برتر ہے اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں (92)

[92-90] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے بلکہ ہم ان جھٹلانے والوں کے پاس حق لے کر آئے ہیں جو خبر میں صدق اور امرونہی میں عدل کو متضمن ہے۔ ان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ حق کا اعتراف نہیں کرتے حالانکہ حق اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے؟ ان کے پاس جھوٹ اور ظلم کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں جو حق کا بدل بن سکے، اس لیے فرمایا:﴿ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾’’اور وہ سخت جھوٹے ہیں ۔‘‘﴿ مَا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنۡ اِلٰهٍ﴾ ’’اللہ کی کوئی اولاد ہے نہ اس کے ساتھ کوئی معبود ہے۔‘‘ یعنی یہ سب جھوٹ ہے جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے آگاہ فرمایا ہے اور جسے عقل صحیح خوب پہچانتی ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے دو خداؤں کے ممتنع ہونے پر عقلی دلیل کی طرف توجہ دلائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذًا ﴾ ’’اس وقت۔‘‘ یعنی اگر ان کے زعم باطل کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوں ﴿ لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ ﴾ یعنی دونوں خدا ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ایک دوسرے پر غالب آنے کے لیے اپنی اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہو جاتے۔ ﴿ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’اور ایک، دوسرے پر چڑھ دوڑتا۔‘‘ پس جو غالب ہوتا وہی معبود ہوتا ۔ اس قسم کی کھینچا تانی میں وجود کائنات کا باقی رہنا ممکن نہیں تھا اور نہ اس صورت حال میں کائنات کے اس عظیم انتظام کا تصور کیا جا سکتا ہے جسے دیکھ کر عقل حیرت میں گم ہو جاتی ہے۔اس کا اندازہ سورج، چاند، منجمد ستاروں اور سیاروں کے درمیان باہمی نظم کودیکھ کر کرو! جب سے ان کو پیدا کیا گیا ہے یہ ایک خاص ترتیب اور ایک خاص نظام کے مطابق چل رہے ہیں ، اس بے کراں کائنات کے تمام سیارے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے مسخر ہیں ، اس کی حکمت تمام مخلوق کی ضروریات و مصالح کے مطابق ان کی تدبیر کرتی ہے، ان میں کوئی ایک دوسرے پر منحصر نہیں ۔ آپ اس نظام کائنات میں ، اس کے کسی ادنیٰ سے تصرف میں بھی کوئی خلل دیکھیں گے نہ تناقض اور تعارض۔ کیا دو معبودوں کے انتظام کے تحت اس قسم کے نظام کا تصور کیا جا سکتا ہے ؟ … ﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ ’’اللہ پاک ہے ان چیزوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یہ تمام کائنات اپنی زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے اور اپنی مختلف اشکال کے ذریعے سے سمجھا رہی ہے کہ اس کی تدبیر کرنے والا، الٰہ ایک ہے جو کامل اسماء و صفات کا مالک ہے تمام مخلوقات، اس کی ربوبیت و الوہیت میں اس کی محتاج ہے۔ جس طرح اس کی ربوبیت کے بغیر مخلوقات کا کوئی وجود ہے نہ اس کو کوئی دوام، اسی طرح صرف اسی کی عبادت اور صرف اسی کی اطاعت کے بغیر مخلوقات کے لیے کوئی صلاح ہے نہ اس کا کوئی قوام۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک نمونے کے ذریعے سے اپنی صفات مقدسہ کی عظمت کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے اور وہ ہے اس کا علم محیط، چنانچہ فرمایا:﴿عٰلِمِ الۡغَيۡبِ ﴾ یعنی وہ تمام واجبات، مستحیلات اور ممکنات کوجاننے والا ہے جو ہماری نظروں اور ہمارے علم سے اوجھل ہیں ﴿ وَالشَّهَادَةِ ﴾ اور وہ ان امور کو بھی جانتا ہے جن کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں ۔ ﴿فَتَعٰلٰى ﴾ وہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے ﴿ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’ان ہستیوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ کہ جن کے پاس کوئی علم نہیں سوائے اس علم کے جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے۔

23:93–95Page 348

قُل رَّبِّ إِمَّا تُرِيَنِّي مَا يُوعَدُونَ ٩٣

Say, [O Muḥammad], "My Lord, if You should show me that which they are promised,

رَبِّ فَلَا تَجۡعَلۡنِي فِي ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ٩٤

My Lord, then do not place me among the wrongdoing people."

وَإِنَّا عَلَىٰٓ أَن نُّرِيَكَ مَا نَعِدُهُمۡ لَقَٰدِرُونَ ٩٥

And indeed, We are Able to show you what We have promised them.

آپ کہہ دیجیے! اے میرے رب! اگر تو دکھلادے مجھے وہ جو وعدہ دیے جاتے ہیں وہ (93) اے میرے رب! پس نہ کرنا مجھے ظالم لوگوں میں (94) اور بلاشبہ ہم اس (بات) پر، کہ ہم دکھلائیں آپ کو وہ (عذاب) جس کا وعدہ کر رہے ہیں ہم ان سے، البتہ قادر ہیں (95)

[95-93] چونکہ اللہ تعالیٰ نے حق کی تکذیب کرنے والوں پر اپنے عظیم دلائل و براہین قائم کر دیے مگر انھوں نے ان دلائل کی طرف التفات کیا نہ ان کے سامنے سر تسلیم خم کیا اس لیے ان پر عذاب واجب ہوگیا اور ان پر عذاب نازل ہونے کی دھمکی دے دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا کہ وہ یوں کہیں : ﴿ قُلۡ رَّبِّ اِمَّا تُرِيَنِّيۡ مَا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی اے رب! تو جس وقت بھی ان پر ٹوٹنے والا عذاب مجھے دکھائے اور میری موجودگی میں تو یہ عذاب لائے ﴿ رَبِّ فَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ فِي الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اے میرے رب! تو مجھے ظالموں میں سے نہ کرنا۔‘‘ یعنی اے میرے رب! مجھ پر رحم فرما مجھے ان گناہوں سے بچا لے جو تیری ناراضی کے موجب ہیں اور جن کے ذریعے سے تو نے ان کفار کو آزمائش میں مبتلا کیا ہے۔ اے میرے رب ! مجھے اس عذاب سے بھی بچا لے جو ان پر نازل ہوگا کیونکہ عذاب عام جب نازل ہوتا ہے تو نیک اور بد سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ عذاب کے قریب ہونے کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿ وَاِنَّا عَلٰۤى اَنۡ نُّرِيَكَ مَا نَعِدُهُمۡ لَقٰدِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس بات پر کہ ہم آپ کو وہ (عذاب) دکھا دیں جس کا وعدہ ہم ان سے کرتے ہیں ، یقینا قادر ہیں ۔‘‘ لیکن اگر ہم اس عذاب کو موخر کرتے ہیں تو کسی حکمت کی بنا پر، ورنہ ہم اس عذاب کو واقع کرنے کی پوری پوری قدرت رکھتے ہیں ۔

23:96–98Page 348

ٱدۡفَعۡ بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ ٱلسَّيِّئَةَۚ نَحۡنُ أَعۡلَمُ بِمَا يَصِفُونَ ٩٦

Repel, by [means of] what is best, [their] evil. We are most knowing of what they describe.

وَقُل رَّبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنۡ هَمَزَٰتِ ٱلشَّيَٰطِينِ ٩٧

And say, "My Lord, I seek refuge in You from the incitements of the devils,

وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَن يَحۡضُرُونِ ٩٨

And I seek refuge in You, my Lord, lest they be present with me."

ٹالیے ساتھ اس (طریقے) کے کہ وہ اچھا ہے، برائی کو۔ ہم خوب جانتے ہیں اس کو جو وہ بیان کرتے ہیں (96)اور کہیں ، اے میرے رب! میں تیری پناہ میں آتا ہوں وسوسوں سے شیطانوں کے (97) اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اے میرے رب! اس سے کہ وہ حاضر ہوں میرے پاس (98)

[96] یہ ان مکارم اخلاق میں سے ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ) کو حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِدۡفَعۡ بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ السَّيِّئَةَ ﴾ ’’دور کریں برائی کو اس طریقے سے جو احسن ہو۔‘‘ یعنی جب آپﷺ کے دشمن قول و فعل کے ذریعے سے آپ کے ساتھ برائی سے پیش آئیں تو آپ ان کے ساتھ برائی سے پیش نہ آئیں ، ہرچند کہ برائی کا بدلہ اسی قسم کی برائی سے دینا جائز ہے مگر آپ ان کے برے سلوک کے بدلے میں ، ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آئیں یہ آپﷺ کی طرف سے برا سلوک کرنے والے پر احسان ہے۔ اس میں فائدہ یہ ہے کہ حال اور مستقبل میں آپﷺ کی طرف سے برائی میں تخفیف ہوگی۔ آپ کا یہ حسن سلوک آپ کے ساتھ برائی سے پیش آنے والے کو حق کی طرف لانے میں زیادہ ممد ثابت ہوگا۔ آپ کا حسن سلوک برائی سے پیش آنے والے کو ندامت، تاسف اور توبہ کے ذریعے سے بدسلوکی سے رجوع کرنے کے زیادہ قریب لے آئے گا۔ معاف کرنے والے کو احسان کی صفت سے متصف ہونا چاہیے ، اس سے وہ اپنے دشمن شیطان پر غلبہ حاصل کرتا ہے اور رب کریم کی طرف سے ثواب کا مستحق قرار پاتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾(الشوریٰ:42؍40) ’’جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِدۡفَعۡ بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِيۡ بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيۡمٌ۰۰وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا١ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾(حم السجدۃ:41؍34،35) ’’آپ برائی کو ایسی نیکی کے ذریعے سے روكيے جو بہترین ہو تب آپ دیکھیں گے کہ وہ شخص، جس کی آپ کے ساتھ عداوت ہے، آپ کا جگری دوست بن جائے گا اور یہ صفت نصیب نہیں ہوتی (یعنی خلق جمیل کی توفیق)مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور اس صفت سے بہرہ مند نہیں ہوتے مگر وہ لوگ جو بہت بڑے نصیب کے مالک ہیں ۔‘‘﴿نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا يَصِفُوۡنَ ﴾ ’’ہم خوب جانتے ہیں جو وہ بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان باتوں کو جو کفر اور تکذیب حق کو متضمن ہیں ہمارے علم نے ان کی باتوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ہم نے ان کے بارے میں حلم سے کام لیا، ہم نے ان کو مہلت دی اور ہم نے ان کے بارے میں صبر کیا ہے۔ حق ہمارے لیے ہے اور ان کی تکذیب بھی ہماری طرف لوٹتی ہے۔ اے محمد! (ﷺ) آپ کے لیے مناسب یہ ہے کہ آپ ان کی اذیت ناک باتوں پر صبر کریں اور ان سے حسن سلوک سے پیش آئیں انسانوں کی طرف سے برے سلوک کے مقابلے میں بندۂ مومن کا یہی وظیفہ ہے۔

[98,97] رہی شیاطین کی بدسلوکی تو ان کے ساتھ حسن سلوک کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ شیاطین تو اپنے گروہ کے لوگوں کو دعوت دیتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ جہنم میں جھونکے جانے والوں میں شامل ہو جائیں ۔پس شیطان کی بدسلوکی کے مقابلے میں بندۂ مومن کا وظیفہ وہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی راہ نمائی فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَقُلۡ رَّبِّ اَعُوۡذُ بِكَ ﴾ یعنی میں اپنی قدرت و قوت سے براء ت کا اظہار کرکے تیری قدرت و قوت کی پناہ پکڑتا ہوں ۔ ﴿ مِنۡ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيۡنِۙ۰۰ وَاَعُوۡذُ بِكَ رَبِّ اَنۡ يَّحۡضُرُوۡنِ ﴾ یعنی میں اس شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو ان شیاطین سے ملنے جلنے کی وجہ سے مجھے لاحق ہو سکتا ہے، نیز میں ان کی وسوسہ اندازی اور ایذارسانی سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں اور میں اس شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو ان کی موجودگی اور ان کی وسوسہ اندازی کے باعث مجھے لاحق ہو سکتا ہے۔ یہ استعاذہ ہر قسم کے شر اور اس کی اصل سے پناہ طلبی ہے اس میں شیطان کی دراندازی، اس کا وسوسہ اور اس کی ایذارسانی وغیرہ سب داخل ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی دعا قبول کرکے اسے شیطان کے شر سے پناہ دے دیتا ہے تو بندہ ہر شر سے محفوظ و مصئون ہو جاتا ہے اور اسے ہر بھلائی کی توفیق عطا ہو جاتی ہے۔

23:99–100Page 348

حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَهُمُ ٱلۡمَوۡتُ قَالَ رَبِّ ٱرۡجِعُونِ ٩٩

[For such is the state of the disbelievers] until, when death comes to one of them, he says, "My Lord, send me back

لَعَلِّيٓ أَعۡمَلُ صَٰلِحٗا فِيمَا تَرَكۡتُۚ كـَلَّآۚ إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَاۖ وَمِن وَرَآئِهِم بَرۡزَخٌ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ ١٠٠

That I might do righteousness in that which I left behind."1 No! It is only a word he is saying; and behind them is a barrier until the Day they are resurrected.

حتی کہ جب آئے گی ایک کو ان میں سے موت تو کہے گا، اے میرے رب! واپس لوٹادے مجھے (99) تاکہ میں عمل کروں صالح دنیا میں جسے میں چھوڑ آیا، ہرگز نہیں ، بے شک یہ ایک بات ہے، وہ کہنے والا ہے اسے اور ان کے آگے ایک پردہ ہے اس دن تک کہ وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے (100)

[100,99] اللہ تبارک و تعالیٰ بدکردار اور ظالم لوگوں کے ان لمحات کا حال بیان فرماتا ہے جب موت ان کے سامنے آتی ہے۔ جب وہ اپنے انجام کو دیکھتے ہیں اور اپنے اعمالِ بد کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اس حال میں وہ سخت نادم ہوتے ہیں تو وہ دنیا میں واپس لوٹنے کی خواہش کرتے ہیں ، اس کی لذات سے متمتع اور اس کی شہوات سے مستفید ہونے کی خاطر نہیں بلکہ وہ صرف یہ کہتے ہیں :﴿لَعَلِّيۡۤ اَعۡمَلُ صَالِحًا فِيۡمَا تَرَؔكۡتُ ﴾ ’’شاید کہ میں نیک عمل کروں اپنی چھوڑی ہوئی دنیا میں ۔‘‘ یعنی میں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی اور نیک اعمال کو ترک کیا شاید ان نیک اعمال کو سرانجام دے سکوں ۔ ﴿كَلَّا﴾ ’’ہرگز نہیں ‘‘ یعنی اب وہ دنیا میں واپس لوٹ سکیں گے نہ ان کو مہلت عطا ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ صادر کر دیا ہے کہ وہ دنیا میں واپس نہیں جائیں گے۔ ﴿اِنَّهَا ﴾ یعنی ان کی وہ بات جس میں وہ دنیا میں واپس جانے کی تمنا کرتے ہیں ﴿ كَلِمَةٌ هُوَ قَآىِٕلُهَا﴾ مجرد زبان سے نکلی ہوئی بات ہے جو اپنے قائل کو حسرت و ندامت کے سوا کچھ فائدہ نہ دے گی… علاوہ بریں وہ اس میں بھی سچا نہیں ہے کیونکہ اگر اسے دنیا میں واپس بھیج بھی دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کرے گا جن سے اس کو روکا گیا تھا۔ ﴿ وَمِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ بَرۡزَخٌ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے سامنے برزخ ہے ان کے دوبارہ اٹھائے جانے تک۔‘‘ (برزخ) دو چیزوں کے درمیان رکاوٹ کو کہا جاتا ہے۔ یہاں وہ حجاب مراد ہے جو دنیا اور آخرت کے درمیان حائل ہے۔ اس برزخ میں اللہ تعالیٰ کے مطیع بندے نعمتوں سے سرفراز ہوں گے اور نافرمانوں کو عذاب دیا جائے گا موت کی ابتدا یعنی ان کو قبروں میں رکھے جانے سے لے کر قیامت کے روز دوبارہ اٹھائے جانے کے وقت تک۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کے لیے تیاری اور اس کا سامان کریں ۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском