As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Al-Furqan 25:32–55
25:32–33Page 362
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ ٱلۡقُرۡءَانُ جُمۡلَةٗ وَٰحِدَةٗۚ كَذَٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِۦ فُؤَادَكَۖ وَرَتَّلۡنَٰهُ تَرۡتِيلٗا ٣٢
And those who disbelieve say, "Why was the Qur’ān not revealed to him all at once?" Thus [it is] that We may strengthen thereby your heart. And We have spaced it distinctly.1
وَلَا يَأۡتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئۡنَٰكَ بِٱلۡحَقِّ وَأَحۡسَنَ تَفۡسِيرًا ٣٣
And they do not come to you with an example [i.e., argument] except that We bring you the truth and the best explanation.
اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، کیوں نہیں اتارا گیا اس (رسول) پر (یہ) قرآن اکٹھا ایک بار ہی؟ اسی طرح (اتارا ہم نے) تاکہ ہم مضبوط کر دیں اس کے ذریعے سے آپ کا دل اور ہم نے اتارا اس کو تھوڑا تھوڑا کر کے اتارنا(32) اور نہیں لاتے وہ آپ کے پاس کوئی مثال مگر لاتے ہیں ہم آپ کے پاس حق اور بہترین توجیہ (33)
[32] یہ کفار کے جملہ اعتراضات میں سے ایک اعتراض ہے جو ان کو ان کے نفس نے سجھایا ہے، چنانچہ ان کا قول ہے:﴿ لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً﴾ یعنی وہ کونسی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے تمام قرآن ایک ہی دفعہ نازل نہیں ہوا، جیسا کہ اس سے پہلے کتابیں نازل ہوئیں ؟ بلکہ اس کا ایک ہی دفعہ نازل ہونا تو زیادہ اچھا ہے۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ﴾ یعنی اسی طرح ہم نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا ہے ﴿لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ﴾ ’’تاکہ ہم اس کے ذریعے سے آپ کے دل کو مضبوط کریں ۔‘‘ کیونکہ جب بھی آپ پر قرآن کا کوئی حصہ نازل ہوتا تھا آپ کے اطمینان اور ثابت قدمی میں اضافہ ہو جاتا تھا، خاص طور پر اس وقت جب اسباب قلق وارد ہوتے تو آپ کا اطمینان بڑھ جاتا تھا کیونکہ کسی قلق کے پیش آنے پر قرآن کا نازل ہونا بر محل ہے اور بہت زیادہ ثبات کا باعث ہے اور اس سے زیادہ فائدہ مند ہے کہ اس واقعہ سے پہلے نازل ہوا ہو اور اس سبب کے وقوع پر یاد آئے۔ ﴿ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا﴾ ’’ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر ہی پڑھ سنایا ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اسے آہستہ آہستہ بتدریج نازل کیا۔ یہ تمام آیات کریمہ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے اعتناء پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو رسول ﷺ کے احوال اور آپ کے دینی مصالح کے مطابق نازل فرمایا۔
[33] اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ ﴾ ’’اور یہ لوگ کوئی بھی ایسی مثال آپ کے سامنے پیش نہیں کریں گے۔‘‘ جس سے وہ حق کے ساتھ معارضہ (مقابلہ) کریں اور آپ کی رسالت کا انکار کریں ۔ ﴿ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا ﴾ ’’مگر ہم اس کا سچا جواب اور عمدہ توجیہ آپ کو بتا دیں گے۔‘‘ یعنی ہم نے آپ پر قرآن نازل کیا جو اپنے معانی میں جامع، اپنے الفاظ میں واضح اور بیان کامل کا حامل ہے۔ اس کے تمام معانی حق اور صداقت پر مبنی ہیں جس میں کسی بھی پہلو سے باطل کا کوئی شائبہ نہیں ، تمام اشیاء کے بارے میں اس کے الفاظ اور حدود انتہائی واضح، مفصل اور معانی کو کامل طور پر بیان کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ علم میں بحث کرنے والے محدث، معلم یا واعظ کے لیے مناسب ہے کہ وہ اپنے رب کی تدبیر کی پیروی کرے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے احوال کے مطابق تدبیر فرمائی اسی طرح اس عالم کو چاہیے کو وہ مخلوق کے معاملے کی اسی طرح تدبیر کرے جب بھی کوئی ایسا موجب اور موقع پیش آئے تو موقع کی مناسبت سے لوگوں میں آیات قرآنی، احادیث نبوی اور مواعظ بیان کرے۔نیز ان آیات کریمہ میں جہمیہ کا رد ہے جو قرآن کریم کی تفسیر میں تکلف سے کام لیتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی بہت سے نصوص کو ان کے ظاہری معنوں پر محمول نہیں کیا جائے گا، ان کے اصل معانی ان معانی سے مختلف ہیں جو ظاہر میں سمجھ میں آئے ہیں تب اگر ان کی اس بات کو تسلیم کر لیا جائے تو قرآن کی یہ تفسیر ’’احسن تفسیر‘‘ نہیں ہو گی ان کے زعم باطل کے مطابق، احسن تفسیر تو وہ ہے، جس کے لیے وہ معانی میں تحریف کرتے ہیں ۔
25:34Page 363
ٱلَّذِينَ يُحۡشَرُونَ عَلَىٰ وُجُوهِهِمۡ إِلَىٰ جَهَنَّمَ أُوْلَٰٓئِكَ شَرّٞ مَّكَانٗا وَأَضَلُّ سَبِيلٗا ٣٤
The ones who are gathered on their faces to Hell - those are the worst in position and farthest astray in [their] way.
وہ لوگ کہ اکٹھے کیے جائیں گے وہ اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف، یہ لوگ بدترین ہیں باعتبار مکان کےاور سب سے زیادہ بہکے ہوئے ہیں باعتبار راہ کے (34)
[34] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے احوال اور ان کے انجام کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿يُحۡشَرُوۡنَ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ ﴾ ’’وہ منہ کے بل جمع کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو جمع كيے جانے کا منظر بدترین منظر ہو گا۔ عذاب کے فرشتے انھیں (چہروں کے بل) گھسیٹ رہے ہوں گے ﴿ اِلٰى جَهَنَّمَ﴾ ’’جہنم کی طرف۔‘‘ جس میں ہر قسم کا بدترین عذاب اور عقاب جمع ہے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی جن کا حال یہ ہے ﴿ شَرٌّ مَّكَانًا ﴾ ان کی جگہ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے والوں کی جگہ کی نسبت سے بدترین جگہ ہے۔ ﴿ وَّاَضَلُّ سَبِيۡلًا ﴾ ’’اور بہت زیادہ گمراہ راستے والے ہیں ۔‘‘ یہ اسلوب بیان اسم تفضیل کے اس باب میں سے ہے جس کے بالمقابل دوسرا پہلو موجود نہیں ہوتا۔ پس اہل ایمان کی جگہ بہترین ٹھکانا ہو گی۔ اس دنیا میں ان کو راہ راست کی طرف راہنمائی عطا کی جاتی ہے اور آخرت میں انھیں نعمت والے باغوں میں داخل کیا جائے گا۔
25:35–40Page 363
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ وَجَعَلۡنَا مَعَهُۥٓ أَخَاهُ هَٰرُونَ وَزِيرٗا ٣٥
And We had certainly given Moses the Scripture and appointed with him his brother Aaron as an assistant.
فَقُلۡنَا ٱذۡهَبَآ إِلَى ٱلۡقَوۡمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا فَدَمَّرۡنَٰهُمۡ تَدۡمِيرٗا ٣٦
And We said, "Go both of you to the people who have denied Our signs." Then We destroyed them with [complete] destruction.
وَقَوۡمَ نُوحٖ لَّمَّا كَذَّبُواْ ٱلرُّسُلَ أَغۡرَقۡنَٰهُمۡ وَجَعَلۡنَٰهُمۡ لِلنَّاسِ ءَايَةٗۖ وَأَعۡتَدۡنَا لِلظَّٰلِمِينَ عَذَابًا أَلِيمٗا ٣٧
And the people of Noah - when they denied the messengers,1 We drowned them, and We made them for mankind a sign. And We have prepared for the wrongdoers a painful punishment.
وَعَادٗا وَثَمُودَاْ وَأَصۡحَٰبَ ٱلرَّسِّ وَقُرُونَۢا بَيۡنَ ذَٰلِكَ كَثِيرٗا ٣٨
And [We destroyed] ʿAad and Thamūd and the companions of the well1 and many generations between them.
وَكُلّٗا ضَرَبۡنَا لَهُ ٱلۡأَمۡثَٰلَۖ وَكُلّٗا تَبَّرۡنَا تَتۡبِيرٗا ٣٩
And for each We presented examples [as warnings], and each We destroyed with [total] destruction.
وَلَقَدۡ أَتَوۡاْ عَلَى ٱلۡقَرۡيَةِ ٱلَّتِيٓ أُمۡطِرَتۡ مَطَرَ ٱلسَّوۡءِۚ أَفَلَمۡ يَكُونُواْ يَرَوۡنَهَاۚ بَلۡ كَانُواْ لَا يَرۡجُونَ نُشُورٗا ٤٠
And they have already come upon the town which was showered with a rain of evil [i.e., stones]. So have they not seen it? But they are not expecting resurrection.1
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا تھا ہم نے اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو مدد گار (35) پس کہا ہم نے ، جاؤ تم دونوں اس قوم کی طرف، جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، پس ہلاک کر دیا ہم نے انھیں (بالکل ہی) ہلاک کرنا (36)اور قوم نوح کو (بھی) جب جھٹلایا انھوں نے رسولوں کو، غرق کر دیا ہم نے ان کواور بنا دیا ہم نے انھیں لوگوں کے لیے (عبرت کا) نشان اور تیار کیا ہے ہم نے ظالموں کے لیے عذاب بہت درد ناک(37) اور (ہلاک کر دیا ہم نے) قوم عاد اورثموداور کنویں والوں کو اور (دیگر) قوموں کو درمیان ان کے بہت سی (38) اور ہر ایک، بیان کیں ہم نے اس کے لیے مثالیں اور سب کو ملیامیٹ کر دیا ہم نے تباہ و برباد کر کے (39)اور البتہ تحقیق وہ آئے (گزرے) ہیں اوپر اس بستی کے کہ جس پر برسائی گئی بارش بری کیا پس نہیں تھے وہ، کہ دیکھتے وہ اس (بستی) کو؟بلکہ تھے وہ نہیں امید رکھتے دوبارہ (جی) اٹھنے کی (40)
[40-35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ان واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے جن کو دیگر آیات میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے تاکہ مخاطبین کو انبیاء و رسل کی تکذیب پر جمے رہنے سے ڈرائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان سے پہلی قوموں پر نازل ہوا تھا، جو ان کے قریب ہی آباد تھیں وہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں اور ان کے واقعات بہت مشہور ہیں ۔ بعض قوموں کے آثار کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں ، مثلاً: حجر کے علاقے میں صالح u کی قوم اور وہ بستی جس پر کھنگر کے پتھروں کی بدترین بارش برسائی گئی تھی۔ ان کا اپنے سفروں کے دوران میں دن رات ان بستیوں پر گزر ہوتا ہے۔ وہ قومیں ان سے کوئی زیادہ بری نہیں تھیں اور نہ ان کے رسول ان لوگوں کے رسول (ﷺ)سے بہتر تھے۔ ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾(القمر:54؍43) ’’کیا تمھارے کفار ان لوگوں سے بہتر ہیں یا تمھارے لیے پہلی کتابوں میں براء ت نامہ تحریر کر دیا گیا ہے۔‘‘ جس چیز نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے، حالانکہ وہ نشانیوں کا مشاہدہ کر چکے ہیں ، وہ یہ ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی امید نہیں رکھتے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کی امید رکھتے ہیں نہ اس کی سزا سے ڈرتے ہیں ۔ اسی لیے وہ اپنے عناد پر جمے ہوئے ہیں ورنہ ان کے پاس ایسی ایسی نشانیاں آئی ہیں جنھوں نے کوئی شک و شبہ اور کوئی اشکال وریب باقی نہیں رہنے دیا۔
25:41–44Page 363
وَإِذَا رَأَوۡكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَٰذَا ٱلَّذِي بَعَثَ ٱللَّهُ رَسُولًا ٤١
And when they see you, [O Muḥammad], they take you not except in ridicule, [saying], "Is this the one whom Allāh has sent as a messenger?
إِن كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنۡ ءَالِهَتِنَا لَوۡلَآ أَن صَبَرۡنَا عَلَيۡهَاۚ وَسَوۡفَ يَعۡلَمُونَ حِينَ يَرَوۡنَ ٱلۡعَذَابَ مَنۡ أَضَلُّ سَبِيلًا ٤٢
He almost would have misled us from our gods had we not been steadfast in [worship of] them." But they are going to know, when they see the punishment, who is farthest astray in [his] way.
أَرَءَيۡتَ مَنِ ٱتَّخَذَ إِلَٰهَهُۥ هَوَىٰهُ أَفَأَنتَ تَكُونُ عَلَيۡهِ وَكِيلًا ٤٣
Have you seen the one who takes as his god his own desire? Then would you be responsible for him?
أَمۡ تَحۡسَبُ أَنَّ أَكۡثَرَهُمۡ يَسۡمَعُونَ أَوۡ يَعۡقِلُونَۚ إِنۡ هُمۡ إِلَّا كَٱلۡأَنۡعَٰمِ بَلۡ هُمۡ أَضَلُّ سَبِيلًا ٤٤
Or do you think that most of them hear or reason? They are not except like livestock.1 Rather, they are [even] more astray in [their] way.
اور جب وہ دیکھتے ہیں آپ کو تو نہیں پکڑتے وہ آپ کو مگر ٹھٹھا مذاق (کہتے ہیں ) کیا یہی ہے وہ جسے بھیجا ہے اللہ نے رسول (بنا کر)؟ (41) تحقیق قریب تھا وہ کہ گمراہ کر دیتا ہمیں ہمارے معبودوں سے، اگر نہ ہوتی یہ بات کہ جمے رہے ہم ان پر اور عنقریب جان لیں گے وہ، جب وہ دیکھیں گے عذاب، کہ کون زیادہ گمراہ تھا راستے سے؟ (42) کیا آپ نے دیکھا اس شخص کو کہ بنا لیا اس نے اپنا معبود اپنی خواہش کو؟ کیا پس آپ ہیں اس کے ذمے دار؟ (43) یا گمان کرتے ہیں آپ کہ بے شک اکثر ان کے سنتے یاسمجھتے ہیں ؟ نہیں ہیں وہ مگر چوپایوں ہی کی طرح بلکہ وہ زیادہ گمراہ ہیں باعتبار راستے کے (44)
[41] اے محمد! (ﷺ) آپ کی تکذیب کرنے والے، اللہ تعالیٰ کی آیات سے عناد رکھنے والے اور زمین پر تکبر سے چلنے والے جب آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ سے استہزاء کرتے ہیں اور آپ کی تحقیر کرتے ہیں ، آپ کو معمولی سمجھتے ہوئے حقارت آمیز لہجے میں کہتے ہیں :﴿ اَهٰؔذَا الَّذِيۡ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوۡلًا ﴾ ’’کیا یہی وہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟‘‘ یعنی یہ مناسب اور لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسول بناتا۔ یہ سب کچھ ان کے شدت ظلم، ان کے عناد اور حقائق بدلنے کے سبب تھا کیونکہ ان کے اس کلام سے یہ ذہن میں آتا ہے کہ (معاذ اللہ) رسول (ﷺ)انتہائی خسیس اور حقیر شخص تھے اور اگر رسالت کا منصب کسی اور شخص کو عطا کیا گیا ہوتا تو زیادہ مناسب تھا۔ ﴿ وَقَالُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡيَتَيۡنِ عَظِيۡمٍ ﴾(الزخرف:43؍31) ’’وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن دونوں شہروں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اتارا گیا۔‘‘ پس یہ کلام کسی جاہل ترین اور گمراہ ترین شخص ہی سے صادر ہو سکتا ہے یا کسی ایسے شخص سے صادر ہو سکتا ہے جو بڑا عناد پسند اور جانتے بوجھتے جاہل ہو۔ اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اپنے نظریات کو رائج کرے اور حق اور حق پیش کرنے والے میں جرح و قدح کرے، ورنہ اگر کوئی شخص، رسول مصطفیٰ محمد بن عبداللہ ﷺ کے احوال پر غور کرے تو وہ آپ کو عقل، علم، ذہانت، وقار، مکارم اخلاق، محاسن عادات، عفت، شجاعت اور تمام اخلاق فاضلہ میں دنیا کا سب سے بڑا شخص، ان کا سردار اور ان کا قائد پائے گا۔ آپ کو حقیر جاننے اور آپ کے ساتھ دشمنی رکھنے والے شخص میں حماقت، جہالت، گمراہی، تناقض، ظلم اور تعدی جمع ہیں جو کسی اور شخص میں جمع نہیں ۔ اس کی جہالت اور گمراہی کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس عظیم رسول اور بہترین قائد میں جرح و قدح کرتا ہے۔ اس جرح و قدح سے اس کا مقصد آپ کا تمسخر اڑانا، اپنے باطل نظریات پر ڈٹے رہنا اور ضعیف العقل لوگوں کو فریب دینا ہے۔
[42] اس لیے انھوں نے کہا: ﴿ اِنۡ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنۡ اٰلِهَتِنَا ﴾ ’’یقینا یہ تو ہمیں ہمارے معبودوں سے بہکا چلا تھا۔‘‘ کیونکہ یہ سب معبودوں کو ختم کر کے ایک ہی معبود قرار دیتا ہے۔ ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ صَبَرۡنَا عَلَيۡهَا ﴾ ’’اگر ہم ان معبودوں کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے‘‘ تو اس نے ہمیں گمراہ کر دیا ہوتا۔ وہ سمجھتے تھے… اللہ ان کا برا کرے… کہ توحید گمراہی ہے اوران کے شرکیہ عقائد ہی سراسر ہدایت ہیں ، لہٰذا وہ اپنے ان عقائد پر ثابت قدم رہنے کی ایک دوسرے کو تلقین کرتے تھے۔ ﴿ وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ﴾(صٓ:38؍6) ’’اور سرداران قوم یہ کہتے ہوئے چل پڑے کہ چلو اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہو۔‘‘ یہاں ان مشرکین نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ صَبَرۡنَا عَلَيۡهَا ﴾ اور صبر سوائے اس مقام کے ہر مقام پر قابل تعریف ہے کیونکہ یہ اسباب غضب اور جہنم کا ایندھن بننے پر صبر کرنا ہے۔ رہے اہل ایمان تو ان کے رویے کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَتَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ١ۙ۬ وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ﴾(العصر:103؍3) ’’وہ ایک دوسرے کو حق کی تلقین اور ایک دوسرے کو صبر کی تاکید کرتے ہیں ۔‘‘ چونکہ ان کا فیصلہ تھا کہ وہ راہ راست پر گامزن ہیں اور رسول گمراہ ہے حالانکہ یہ بات متحقق ہے کہ ان کے پاس تصرف کی قدرت اور کوئی اختیار نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے آگاہ فرمایا: ﴿حِيۡنَ يَرَوۡنَ الۡعَذَابَ﴾ ’’کہ جب وہ عذاب کو دیکھیں گے‘‘ تب انھیں اس حقیقت کا علم ہو گا کہ ﴿ مَنۡ اَضَلُّ سَبِيۡلًا﴾ ’’راہ راست سے کون زیادہ بھٹکا ہوا ہے؟‘‘ ﴿ وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27) ’’اور اس روز ظالم اپنا ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا۔‘‘
[43] کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی گمراہی ہے کہ انسان اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لے اور جو جی چاہے کرتا رہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ اَرَءَيۡتَ مَنِ اتَّؔخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ﴾ ’’کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیا۔‘‘ کیا آپ کو اس کے حال پر تعجب نہیں ، کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ وہ کس گمراہی میں مبتلا ہے اور حال یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بلند منازل کا مستحق سمجھتا ہے؟ ﴿ اَفَاَنۡتَ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’کیا آپ اس پر وکیل ہوں گے؟‘‘ یعنی آپ کو اس پر نگران مقرر نہیں کیا آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں ۔ آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔
[44] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حد کو پہنچی ہوئی گمراہی پر یہ فیصلہ کیا کہ ان کی عقل اور سماعت کو سلب کر لیا اور گمراہی میں ان کو مویشیوں سے تشبیہ دی جو آواز اور پکار کے سوا کچھ نہیں سنتے وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں اس لیے ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا، بلکہ یہ تو چوپایوں سے بھی زیادہ گمراہ ہیں ۔ کیونکہ مویشیوں کو جب ان کا چرواہا راہ دکھاتا ہے تو وہ اس راہ پر چل پڑتے ہیں وہ ہلاکت کی راہوں کو پہچانتے ہیں اس لیے ان سے بچتے ہیں ۔ ان چوپایوں کی عاقبت ان گمراہوں کی نسبت زیادہ محفوظ ہے۔پس اس سے واضح ہو گیا کہ رسول (ﷺ)پر گمراہی کا الزام لگانے والا خود اس وصف کا زیادہ مستحق ہے اور جانور بھی اس سے زیادہ راہ راست پر ہیں ۔
25:45–46Page 364
أَلَمۡ تَرَ إِلَىٰ رَبِّكَ كَيۡفَ مَدَّ ٱلظِّلَّ وَلَوۡ شَآءَ لَجَعَلَهُۥ سَاكِنٗا ثُمَّ جَعَلۡنَا ٱلشَّمۡسَ عَلَيۡهِ دَلِيلٗا ٤٥
Have you not considered your Lord - how He extends the shadow, and if He willed, He could have made it stationary? Then We made the sun for it an indication.1
ثُمَّ قَبَضۡنَٰهُ إِلَيۡنَا قَبۡضٗا يَسِيرٗا ٤٦
Then We [retract and] hold it with Us for a brief grasp.1
کیا نہیں دیکھا آپ نے اپنے رب (کی قدرت) کی طرف کہ کیسے پھیلا دیا اس نے سائے کو؟ اور اگر وہ چاہتا تو البتہ بنا دیتا اسے ساکن، پھر بنایا ہم نے سورج کو اس پر راہنما (45) پھر سمیٹ لیا ہم نے اسے اپنی طرف سمیٹنا تھوڑا تھوڑا(46)
[46,45] کیا تم نے اپنی آنکھ اور اپنی بصیرت سے اپنے رب کی قدرت کاملہ اور بے پایاں رحمت کا مشاہدہ نہیں کیا کہ وہ بندوں پر سائے کو پھیلا دیتا ہے اور یہ طلوع آفتاب سے قبل ہوتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ جَعَلۡنَا الشَّمۡسَ عَلَيۡهِ دَلِيۡلًا﴾ ’’پھر بنایا ہم نے سورج کو اس پر‘‘ یعنی سائے پر ﴿ دَلِيۡلًا ﴾ ’’دلیل‘‘ اگر سورج نہ ہوتا تو سایہ نہ پہچانا جاتا کیونکہ تمام اشیاء اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ قَبَضۡنٰهُ اِلَيۡنَا قَبۡضًا يَّسِيۡرًا ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف کھینچ لیا۔‘‘ پس جوں جوں سورج بلند ہوتا ہے تو سایہ آہستہ آہستہ سکڑتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ختم ہو جاتا ہے۔ مخلوق پر سائے اور دھوپ کا یکے بعد دیگرے واقع ہونا جس کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں ، اسی سے لیل و نہار ترتیب پاتے ہیں اور ایک دوسرے کا تعاقب کرتے ہیں پھر مختلف موسم ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں اور اس سبب سے مخلوق کے بہت سے مصالح حاصل ہوتے ہیں … یہ تمام امور اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ قدرت و عظمت کا مالک ہے وہ اپنے بندوں سے کمال رحمت و عنایت سے پیش آتا ہے۔ وہ اکیلا ہی معبود محمود، محبت اور تعظیم کا مستحق اور ذوالجلال والاکرام ہے۔
25:47Page 364
وَهُوَ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلَّيۡلَ لِبَاسٗا وَٱلنَّوۡمَ سُبَاتٗا وَجَعَلَ ٱلنَّهَارَ نُشُورٗا ٤٧
And it is He who has made the night for you as clothing1 and sleep [a means for] rest and has made the day a resurrection.2
اور وہی ہے (اللہ) جس نے بنایا تمھارے لیے رات کو لباس اور نیند کو (ذریعۂ) آرام اور اس نے بنایا دن کو اٹھ کھڑے ہونے کا وقت (47)
[47] یہ اللہ تعالیٰ کی تم پر بے پایاں رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے کہ اس نے رات کو تمھارے لیے بمنزلہ لباس بنایا جو تمھیں ڈھانپ لیتی ہے حتیٰ کہ تم رات کے وقت قرار پکڑتے ہو، سو کر آرام کرتے ہو اور نیند کے وقت تمھاری تمام حرکات منقطع ہو جاتی ہیں ۔ اگر رات نہ ہوتی تو بندے آرام نہ کر سکتے اور اپنی مصروفیات کو جاری نہ رکھ سکتے اور اس طرح انھیں بہت زیادہ ضرر پہنچتا اور اس کے برعکس اگر ہمیشہ رات رہتی تو بندے کی معاش اور دیگر مصالح معطل ہو کر رہ جاتے۔ مگر دن کو اللہ تعالیٰ نے جی اٹھنے کا وقت بنایا ہے جس میں بندے اپنی تجارت، سفر اور دیگر کاروبار کے لیے پھیل جاتے ہیں اور اس سے ان کے مصالح کا انتظام ہوتا ہے۔
25:48–50Page 364
وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَرۡسَلَ ٱلرِّيَٰحَ بُشۡرَۢا بَيۡنَ يَدَيۡ رَحۡمَتِهِۦۚ وَأَنزَلۡنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ طَهُورٗا ٤٨
And it is He who sends the winds as good tidings before His mercy [i.e., rainfall], and We send down from the sky pure water
لِّنُحۡـِۧيَ بِهِۦ بَلۡدَةٗ مَّيۡتٗا وَنُسۡقِيَهُۥ مِمَّا خَلَقۡنَآ أَنۡعَٰمٗا وَأَنَاسِيَّ كَثِيرٗا ٤٩
That We may bring to life thereby a dead land and give it as drink to those We created of numerous livestock and men.
وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَٰهُ بَيۡنَهُمۡ لِيَذَّكَّرُواْ فَأَبَىٰٓ أَكۡثَرُ ٱلنَّاسِ إِلَّا كُفُورٗا ٥٠
And We have certainly distributed it among them that they might be reminded,1 but most of the people refuse except disbelief.
اور وہی ہے (اللہ) جس نے بھیجا ہواؤں کو خوشخبری دینے والی پہلے اپنی رحمت (بارش) کےاور نازل کیا ہم نے آسمان سے پانی پاک (48) تاکہ زندہ کریں ہم اس کے ذریعے سے مردہ شہر کو اور تاکہ پلائیں ہم وہ پانی، ان چیزوں میں سے جنھیں پیدا کیا ہم نے، مویشیوں کو اور بہت سے انسانوں کو (49) اور البتہ تحقیق پھیر پھیر کر بیان کیا ہم نے اس (قرآن) کو ان کے درمیان تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں پس انکار کیا اکثر لوگوں نے مگر کفر کرنے سے (انکار نہیں کیا)(50)
[49,48]یعنی اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اپنے بندوں کو اپنی بے پایاں رحمت سے ڈھانپ لیا ہے اور اپنے رزق کی ان پر اس طرح فراوانی کی کہ اس نے اپنی رحمت یعنی بارش کے آگے آگے خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیجیں اور اس کے ذریعے سے اس نے بادلوں پر اپنے رزق کے دروازے کھول دیے … ان ہواؤں کے ذریعے سے بادل اٹھتا ہے پھر اکٹھا ہو کر گھٹا کے ٹکڑے بن جاتا ہے، ہوائیں اسے بار آور کرتی ہیں اور پھر اپنے رب اور تصرف کرنے والے کے حکم سے اس گھٹا کو کھینچ کر لاتی ہیں … تاکہ بارش برسنے سے پہلے بندے بارش کی آمد کی نوید پر خوش ہو جائیں اور بارش کے اچانک آجانے سے پہلے بارش کے لیے تیار ہو جائیں ۔﴿وَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوۡرًا ﴾ ’’اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی پاک کرنے والا۔‘‘ جو بندوں کو حدث اور گندگی سے پاک اور میل کچیل کو صاف کرتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی برکت یہ ہے کہ اس نے بارش برسا کر مردہ زمین کو زندہ کیا، پھر اس سے مختلف قسم کی نباتات اور درخت اگائے جنھیں انسان اور مویشی کھاتے ہیں :﴿وَّنُسۡقِيَهٗ مِمَّا خَلَقۡنَاۤ اَنۡعَامًا وَّاَنَاسِيَّ كَثِيۡرًا ﴾ یعنی ہم تمھیں اور تمھارے مویشیوں کو اس پانی سے سیراب کرتے ہیں ۔ کیا وہ ہستی جس نے خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیجیں ، ان کو متنوع امور پر مامور کیا، جس نے آسمان سے پاک اور بابرکت پانی برسایا، جس میں بندوں اور ان کے جانوروں کا رزق ہے اس بات کی مستحق نہیں کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہرایا جائے؟
[50] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کا ذکر فرمایا جن کا عینی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور بندوں کی طرف انھیں پھیر دیا تاکہ بندے اپنے رب کو پہچان لیں ، اس کا شکر ادا کریں اور اس کو یاد رکھیں مگر اس کے باوجود ﴿فَاَبٰۤى اَ كۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوۡرًا ﴾ اکثر لوگوں نے فساد اخلاق اور فساد طبائع کی بنا پر کفر اور ناشکری ہی کا رویہ اختیار کیا۔
25:51–52Page 364
وَلَوۡ شِئۡنَا لَبَعَثۡنَا فِي كُلِّ قَرۡيَةٖ نَّذِيرٗا ٥١
And if We had willed, We could have sent into every city a warner.1
فَلَا تُطِعِ ٱلۡكَٰفِرِينَ وَجَٰهِدۡهُم بِهِۦ جِهَادٗا كَبِيرٗا ٥٢
So do not obey the disbelievers, and strive against them with it [i.e., the Qur’ān] a great striving.
اور اگر ہم چاہتے تو البتہ بھیجتے ہم ہر بستی میں ایک ڈرانے والا (51)پس نہ اطاعت کریں آپ کافروں کی اور جہاد کریں آپ ان سے قرآن کے ذریعے سے جہاد خوب زور سے (52)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی مشیت کے نفوذ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو ہر بستی میں ڈرانے والا بھیج دیتا، یعنی ہر بستی میں ایسا رسول بھیج دیتا جو ان کو گناہوں کے انجام سے ڈراتا۔ پس اس کی مشیت اس سے قاصر نہ تھی مگر اے محمد! (ﷺ)آپ اور اپنے بندوں پر اس کی حکمت اور رحمت کا تقاضا یہ تھا کہ اس نے آپ کو سرخ و سیاہ، عربی و عجمی اور انس و جن تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔
[52] اس لیے ﴿فَلَا تُطِعِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’پس نہ بات مانیں آپ کافروں کی۔‘‘ یعنی کفار کی بات مان کر اس چیز کو ترک نہ کیجیے جس چیز کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے بلکہ اس کی تبلیغ کے لیے پوری کوشش کیجیے۔ ﴿ وَجَاهِدۡهُمۡ بِهٖ ﴾ ’’اور ان کے ساتھ جہاد کیجیے‘‘ ﴿ جِهَادًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’جہاد بہت بڑا۔‘‘ یعنی نصرت حق اور باطل کے قلع قمع کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھیے۔ اگر آپ دیکھتے ہیں کہ وہ تکذیب اور جسارت پر جمے ہوئے ہیں تو آپ اپنی پوری کوشش کرتے رہیے، آپ ان کی ہدایت سے مایوس ہو کر اور ان کی خواہشات کی خاطر تبلیغ کو ترک نہ کیجیے۔
25:53Page 364
۞ وَهُوَ ٱلَّذِي مَرَجَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ هَٰذَا عَذۡبٞ فُرَاتٞ وَهَٰذَا مِلۡحٌ أُجَاجٞ وَجَعَلَ بَيۡنَهُمَا بَرۡزَخٗا وَحِجۡرٗا مَّحۡجُورٗا ٥٣
And it is He who has released [simultaneously] the two seas [i.e., bodies of water], one fresh and sweet and one salty and bitter, and He placed between them a barrier and prohibiting partition.
اور وہی ہے (اللہ) جس نے ملا دیا دو سمندروں کو، یہ میٹھا ہے خوب میٹھااور یہ کھارا ہے، نہایت کڑوا اور بنا دیا اللہ نے ان دونوں کے درمیان ایک پردہ اورآڑ مضبوط (53)
[53] یعنی وہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا رکھا ہے، ایک لذیذ اور شیریں پانی اور یہ روئے زمین پر بہنے والے دریا ہیں ، دوسرا تلخ اور شور پانی۔ دونوں کی منفعت بندوں کے مصالح کے لیے ہے۔ ﴿وَجَعَلَ بَيۡنَهُمَا بَرۡزَخًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل کر رکھا ہے‘‘ جو دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملنے سے روکتا ہے تاکہ منفعت مقصود ضائع نہ ہو۔ ﴿ وَّحِجۡرًا مَّحۡجُوۡرًا﴾ اور دونوں کے درمیان ایک مضبوط رکاوٹ حائل ہے۔
25:54Page 364
وَهُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ مِنَ ٱلۡمَآءِ بَشَرٗا فَجَعَلَهُۥ نَسَبٗا وَصِهۡرٗاۗ وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرٗا ٥٤
And it is He who has created from water [i.e., semen] a human being and made him [a relative by] lineage and marriage. And ever is your Lord competent [concerning creation].
اور وہی ہے (اللہ) جس نے پیدا کیا پانی (منی) سے انسان کو، پھر بنایا اسے نسب (والا) اور سسرال (والا) اور ہے آپ کا رب بڑی قدرت والا (54)
[54] وہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے انسان کو ایک حقیر پانی سے پیدا کیا پھر اس میں سے بے شمار اولاد پھیلائی پھر اس نے نسب اور سسرال کے دو الگ الگ اور اکٹھے سلسلے چلائے ان تمام کا مادہ یہی حقیر پانی ہے اور یہ چیز اس کے اقتدار پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيۡرًا ﴾ ’’اور آپ کا رب بہت قدرت والا ہے۔‘‘ اور اللہ کا قادر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی عبادت حق ہے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت باطل ہے۔
25:55Page 364
وَيَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُهُمۡ وَلَا يَضُرُّهُمۡۗ وَكَانَ ٱلۡكَافِرُ عَلَىٰ رَبِّهِۦ ظَهِيرٗا ٥٥
But they worship rather than Allāh that which does not benefit them or harm them, and the disbeliever is ever, against his Lord, an assistant [to Satan].
اور عبادت کرتے ہیں وہ سوائے اللہ کے ان کی کہ نہیں نفع دے سکتے وہ انھیں اور نہ وہ نقصان پہنچا سکتے ہیں ان کواور ہے کافر اپنے رب کے مقابلے میں (شیطان کا) مدد گار (55)
[55] یعنی یہ لوگ بتوں اور مردوں کی عبادت کرتے ہیں جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان۔ انھوں نے ان معبودان باطل کو نفع و نقصان کے مالک کے ہمسر بنا رکھا ہے، حالانکہ ان پر فرض ہے کہ وہ اپنے رب کے ارشادات کی پیروی کریں اور اس کے دین کا دفاع کریں لیکن ان کا رویہ اس کے برعکس ہے۔ ﴿وَكَانَ الۡكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِيۡرًا ﴾ ’’اور ہے کافر اپنے رب کے خلاف مدد کرنے والا۔‘‘ پس باطل جو خود ساختہ بت اور ہمسر ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں اور کافر اپنے رب کے خلاف ان کی معاونت کر کے اپنے رب کا دشمن بن جاتا ہے اور اس کے خلاف جنگ اور عداوت کا اعلان کرتا ہے، حالانکہ وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا، اسے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت، تسلط اور قبضۂ قدرت سے باہر نہیں نکل سکتا اور اللہ تعالیٰ اس سے اپنے احسان اور بھلائی کو کبھی منقطع نہیں کرتا، لیکن وہ ہے کہ اپنی جہالت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ عداوت پر ڈٹا ہوا ہے۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences