As-Sa'diAl‑Furqan · 25:56–62

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Al-Furqan 25:56–62

25:56–60Page 365

وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا مُبَشِّرٗا وَنَذِيرٗا ٥٦

And We have not sent you, [O Muḥammad], except as a bringer of good tidings and a warner.

قُلۡ مَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍ إِلَّا مَن شَآءَ أَن يَتَّخِذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ سَبِيلٗا ٥٧

Say, "I do not ask of you for it any payment - only that whoever wills might take to his Lord a way."

وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱلۡحَيِّ ٱلَّذِي لَا يَمُوتُ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِهِۦۚ وَكَفَىٰ بِهِۦ بِذُنُوبِ عِبَادِهِۦ خَبِيرًا ٥٨

And rely upon the Ever-Living who does not die, and exalt [Allāh] with His praise. And sufficient is He to be, with the sins of His servants, [fully] Aware -

ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ ٱلرَّحۡمَٰنُ فَسۡـَٔلۡ بِهِۦ خَبِيرٗا ٥٩

He who created the heavens and the earth and what is between them in six days and then established Himself above the Throne1 - the Most Merciful, so ask about Him one well informed [i.e., the Prophet (ﷺ)].

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱسۡجُدُواْۤ لِلرَّحۡمَٰنِ قَالُواْ وَمَا ٱلرَّحۡمَٰنُ أَنَسۡجُدُ لِمَا تَأۡمُرُنَا وَزَادَهُمۡ نُفُورٗا۩ ٦٠

And when it is said to them, "Prostrate to the Most Merciful," they say, "And what is the Most Merciful? Should we prostrate to that which you order us?" And it increases them in aversion.

اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر خوشخبری دینے والااور ڈرانے والا (بنا کر)(56) آپ کہہ دیجیے! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی صلے کا مگر جو چاہے یہ کہ وہ پکڑے اپنے رب کی طرف راستہ (تو وہ اسے مان لے)(57) اور آپ توکل کیجیے اوپر اس زندہ (اللہ) کے جو نہیں مرتااور آپ تسبیح کریں ساتھ اس کی حمد کےاور کافی ہے اللہ ساتھ گناہوں کے اپنے بندوں کے خبر دار ہونے کے اعتبار سے (58) وہ ذات جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اورجو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں ، پھر مستوی ہوا عرش پر، (وہی) رحمن ہے، پس پوچھ لیں اس کی بابت کسی خبر رکھنے والے سے (59) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، سجدہ کرو تم رحمن کو تو کہتے ہیں وہ اور کیا ہے رحمن؟ کیا ہم سجدہ کریں اسے جس کی بابت تو حکم دیتا ہے ہمیں ؟ اور زیادہ کر دیا ان کو (تبلیغ نے) نفرت میں (60)

[56] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمدﷺ کو لوگوں پر داروغہ بنا کر بھیجا ہے نہ انھیں فرشتہ بنایا ہے اور نہ ان کے پاس چیزوں کے خزانے ہیں اس نے تو آپ کو صرف ﴿ مُبَشِّرًا ﴾ ’’خوشخبری سنانے والا‘‘ بنا کر بھیجا ہے آپ اس شخص کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سناتے ہیں جواللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے ﴿ وَّنَذِيۡرًا﴾ ’’اور ڈرانے والا۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے اس کو دنیاوی اور اخروی سزا سے ڈراتے ہیں اور یہ اوامر و نواہی میں سے ان امور کی تبیین کو مستلزم ہے جن کی بشارت دی گئی ہے اور جن سے انذار حاصل ہوتا ہے۔

[57] اے محمد! (ﷺ)آپ قرآن اور ہدایت پہنچانے پر ان سے کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتے کہ یہ چیز ان کو آپ کی اتباع کرنے سے روکتی ہو اور انھیں اس مالی بوجھ کی تکلیف اٹھانی پڑتی ہو۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيۡلًا ﴾ ’’مگر جو چاہے یہ کہ وہ اپنے رب کی طرف کوئی راستہ پکڑے۔‘‘ یعنی سوائے اس شخص کے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس کی رضا کی خاطر کچھ خرچ کرنا چاہتا ہے تو اس بارے میں بھی میں تمھیں ترغیب دیتا ہوں لیکن تمھیں اس پر مجبور نہیں کرتا اور تمھارے ذمے میرا کوئی اجر نہیں ، یہ تو تمھاری راجح مصلحت اور تمھارے رب کے پاس پہنچانے والے راستے پر تمھارا گامزن ہونا ہے۔

[58] پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے رب پر بھروسہ کرنے اور اسی سے مدد مانگنے کا حکم دیا، فرمایا :﴿ وَتَوَكَّلۡ عَلَى الۡحَيِّ ﴾ ’’اور اس زندہ پر بھروسہ کیجیے۔‘‘ یعنی اس ہستی پر بھروسہ کیجیے جس کے لیے کامل اور مطلق زندگی ہے ﴿ الَّذِيۡ لَا يَمُوۡتُ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِهٖ﴾ ’’جو کبھی نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کیجیے اور اپنی ذات اور مخلوق سے متعلق عام امور کے بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ ﴿ وَكَفٰى بِهٖ بِذُنُوۡبِ عِبَادِهٖ خَبِيۡرً﴾ ’’اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر رکھنے کے لیے کافی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبردار ہے وہ انھیں ان گناہوں کی سزا دے گا۔ ان کی ہدایت کی ذمہ داری آپ پر ہے نہ ان کے اعمال کی حفاظت آپ کا فرض ہے۔ یہ تمام امور صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ۔

[59]﴿الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰى ﴾ ’’جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا پھر وہ مستوی ہوا۔‘‘ یعنی ان امور کے بعد ﴿ عَلَى الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش پر ‘‘وہ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور تمام مخلوقات سے بلند، سب سے وسیع اور سب سے خوبصورت ہے۔ ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ ﴾ ’’وہ رحم کرنے والا ہے‘‘ جس کی بے پایاں رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اپنی سب سے زیادہ وسیع صفت کے ساتھ مخلوقات میں سے سب سے زیادہ وسیع مخلوق پر مستوی ہوا۔اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، وہ ان کے تمام ظاہر و باطن کی اطلاع رکھتا ہے، وہ عرش کے اوپر مستوی اور تمام مخلوق سے جدا ہے۔ ﴿ فَسۡـَٔلۡ بِهٖ خَبِيۡرًا ﴾ ’’تو اس کا حال کسی باخبر سے دریافت کر۔‘‘ اس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی ہی ذات کریمہ مراد لی ہے۔ وہی ہے جو اپنے تمام اوصاف اور اپنی عظمت و جلال کا علم رکھتا ہے اور اس نے تمھیں اپنے بارے میں آگاہ فرما دیا ہے اور اس نے تمھارے سامنے اپنی عظمت بیان کر دی ہے۔ جس کے ذریعے سے تم اس کی معرفت حاصل کر سکتے ہو۔ عارف اس کی معرفت حاصل کر کے اس کے سامنے سرافگندہ ہو گئے اور کفار نے اس کی عبادت سے تکبر کیا اور اس کو عار گردانتے ہوئے اس سے اعراض کیا۔

[60] بنابریں فرمایا: ﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اسۡجُدُوۡا لِلرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’جب ان (کفار) سے کہا جاتا ہے کہ رحمان کو سجدہ کرو۔‘‘ یعنی صرف رحمن کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ جس نے تمھیں تمام نعمتوں سے نواز رکھا ہے اور تم سے تمام سختیوں کو دور کیا ہے ﴿قَالُوۡا﴾ ’’تو انھوں نے (انکار کرتے ہوئے) کہا:‘‘ ﴿وَمَا الرَّحۡمٰنُ﴾ ’’اور رحمان کیا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے زعم فاسد کے مطابق کہتے ہیں کہ وہ ’’رحمن‘‘ کو نہیں پہچانتے۔ رسول (ﷺ)کے بارے میں ان کی جملہ جرح وقدح یہ بھی ہے کہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت سے روکتا ہے اور خود اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک اور معبود کو پکارتا ہے اور کہتا ہے )یارحمٰن( جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلِ ادۡعُوا اللّٰهَ اَوِ ادۡعُوا الرَّحۡمٰنَ١ؕ اَيًّا مَّا تَدۡعُوۡا فَلَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰؔى ﴾(بنی اسرائیل:17؍110) ’’کہہ دیجیے کہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر پکارو۔ اسے جس نام سے بھی پکارو اس کے سب نام بہت اچھے ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے کثرت اوصاف اور تعدد کمال کی بنا پر اس کے نام بھی بکثرت ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ہر نام اس کی ایک صفت کمال پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ اَنَسۡجُدُ لِمَا تَاۡمُرُنَا ﴾ ’’کیا جس کے لیے تم ہمیں کہتے ہو کہ ہم اس کے آگے سجدہ کریں ۔‘‘ یعنی مجرد تیرے حکم دینے سے اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں ۔ ان کا یہ قول رسول (ﷺ)کی تکذیب اور اللہ کی اطاعت کے بارے میں ان کے تکبر پر مبنی ہے۔ ﴿ وَزَادَهُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کیا ان کو‘‘ یعنی رحمن کو سجدہ کرنے کی دعوت نے ﴿ نُفُوۡرًا ﴾ ’’بدکنے میں ‘‘ یعنی ان کے حق سے باطل کی طرف بھاگنے، ان کے کفر اور ان کی بدبختی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس سورۂ کریمہ میں (تبارک) کا لفظ تین مرتبہ استعمال فرمایا ہے کیونکہ، جیسا کہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے، یہ لفظ باری تعالیٰ کی عظمت، اس کے اوصاف کی کثرت اور اس کے احسان اور بھلائی کی وسعت پر دلالت کرتا ہے۔ یہ سورۂ مبارکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت، اس کی لامحدود قوت و تسلط، اس کی مشیت کے نفوذ، اس کے علم و قدرت کے عموم، امری و جزائی احکام پر اس کے احاطۂ اختیار اور اس کی کامل حکمت پر دلالت کرتی ہے۔ اس میں بعض ایسی چیزیں بھی ہیں جو اس کی بے پایاں رحمت، اس کے وسیع جود وکرم اور اس کے دینی و دنیاوی احسانات پر دلالت کرتی ہیں یہ تمام اس وصف حسن کے تکرار کا تقاضا کرتے ہیں ،

25:61–62Page 365

تَبَارَكَ ٱلَّذِي جَعَلَ فِي ٱلسَّمَآءِ بُرُوجٗا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَٰجٗا وَقَمَرٗا مُّنِيرٗا ٦١

Blessed is He who has placed in the sky great stars and placed therein a [burning] lamp and luminous moon.

وَهُوَ ٱلَّذِي جَعَلَ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ خِلۡفَةٗ لِّمَنۡ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوۡ أَرَادَ شُكُورٗا ٦٢

And it is He who has made the night and the day in succession for whoever desires to remember or desires gratitude.

بابرکت ہے وہ ذات جس نے بنائے آسمان میں برج اور اس نے بنایا اس میں چراغ (سورج) اور چاند روشن (61)اور وہی ہے، (اللہ) جس نے بنایا رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا واسطے اس شخص کے جو چاہے یہ کہ نصیحت حاصل کرے وہ یا چاہے وہ شکر کرنا (62)

[61] چنانچہ فرمایا: ﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡ جَعَلَ فِي السَّمَآءِ بُرُوۡجًا ﴾ ’’اور بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمانوں میں برج بنائے۔‘‘ یہ عام ستارے ہیں یا سورج اور چاند کی منازل ہیں جہاں وہ منزل بمنزل چلتے رہتے ہیں اور وہ منازل ایسی ہیں جیسے شہروں کی حفاظت کے لیے برج اور قلعے ہوتے ہیں ۔ اس طرح ستارے ان برجوں کی مانند ہوتے ہیں جو حفاظت کے لیے بنائے جاتے ہیں … کیونکہ یہ ستارے شیاطین کے لیے شہاب ثاقب ہیں ۔ ﴿ وَّجَعَلَ فِيۡهَا سِرٰجًا﴾ ’’اور اس میں (آفتاب کو) چراغ بنایا۔‘‘ یعنی جس میں روشنی اور حرارت ہو اس سے مراد سورج ہے ﴿ وَّقَمَرًا مُّنِيۡرًا ﴾ ’’اور چمکتا ہوا چاند بھی بنایا۔‘‘ جس میں روشنی ہو مگر حرارت نہ ہو (وہ چاند ہے) یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عظمت اور اس کے بے شمار احسانات کی دلیل ہے چونکہ اس میں نمایاں تخلیق، انتہائی منظم تدبیر اور عظیم جمال ہے اس لیے یہ اپنے خالق کے تمام اوصاف میں اس کی عظمت پر دلالت کرتی ہے اور چونکہ ان میں مخلوق کے لیے مصالح اور منافع ہیں اس لیے یہ اس کی بھلائیوں کی کثرت پر دلالت کرتی ہے۔

[62]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ جَعَلَ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ خِلۡفَةً ﴾ ’’اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا۔‘‘ یعنی دن رات میں سے ایک جاتا ہے تو دوسرا اس کا پیچھا کرتا ہے یہ سلسلہ یونہی ہمیشہ چلتا رہے گا وہ کبھی اکٹھے ہوں گے نہ کبھی مرتفع ہوں گے۔ ﴿ لِّمَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّذَّكَّـرَ اَوۡ اَرَادَ شُكُوۡرًا﴾ ’’اس شخص کے لیے جو غور کرنا چاہے یا شکرگزاری کا ارادہ کرے۔‘‘ یہ شب و روز اس شخص کے لیے نصیحت ہیں جو ان سے نصیحت حاصل کرنا، عبرت پکڑنا، ان کے ذریعے سے بہت سے مطالب الٰہیہ پر استدلال کرنا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہتا ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کاشکر کرنا چاہتا ہے تو دن یا رات میں اس کے لیے ورد ہے۔ اگر کسی ایک وقت اس سے اس کا ورد فوت ہو جائے تو وہ دوسرے وقت میں اس کی تلافی کر سکتا ہے۔ نیز دل بھی شب و روز کی مختلف گھڑیوں میں ، اپنی کیفیات کے اعتبار سے تبدیلیوں کا سامنا کرتے رہتے ہیں انھیں نشاط اور کسل مندی، ذکر اور غفلت، قبض اور بسط، اقبال اور اعراض کی کیفیات پیش آتی رہتی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے شب و روز کو اس طرح تخلیق فرمایا ہے کہ وہ تسلسل سے باری باری وارد ہوتے رہتے ہیں تاکہ اگر ایک وقت فوت ہو جائے تو دوسرے وقت میں نشاط، ذکر اور شکر کی کیفیت حاصل ہو جائے نیز شب و روز کے تکرار میں عبادات کے اوقات کا تکرار ہے۔ جب بھی عبادات کا وقت دوبارہ آئے گا تو بندے میں ایک نیا ارادہ پیدا ہو گا جو گزشتہ وقت میں اس کی کسل مندی کا شکار ہو گیا تھا۔ اس طرح اس کے ذکر و شکر میں اضافہ ہو گا نیکیوں کا وظیفہ شجرۂ ایمان کے لیے آب پاشی کی حیثیت رکھتا ہے جس سے ایمان بڑھتا چلا جاتا ہے اگر یہ نہ ہو تو ایمان کا پودا مرجھا کر سوکھ جاتا ہے۔

اس پر اللہ تعالیٰ کی خوبصورت پیرائے میں کامل ترین حمد ہے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان بے شمار بھلائیوں اور احسانات کا ذکر کیا ہے جن سے اس نے اپنے نیک بندوں کو نوازا اور انھیں نیک اعمال کی توفیق سے سرفراز کیا جو انھیں جنت میں بلند ترین مقامات پر فائز کریں گے، چنانچہ فرمایا :

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском