As-Sa'diAli 'Imran · 3:172–186

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Ali 'Imran 3:172–186

3:172–175Page 72

ٱلَّذِينَ ٱسۡتَجَابُواْ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ مِنۢ بَعۡدِ مَآ أَصَابَهُمُ ٱلۡقَرۡحُۚ لِلَّذِينَ أَحۡسَنُواْ مِنۡهُمۡ وَٱتَّقَوۡاْ أَجۡرٌ عَظِيمٌ ١٧٢

Those [believers] who responded to Allāh and the Messenger after injury had struck them. For those who did good among them and feared Allāh is a great reward -

ٱلَّذِينَ قَالَ لَهُمُ ٱلنَّاسُ إِنَّ ٱلنَّاسَ قَدۡ جَمَعُواْ لَكُمۡ فَٱخۡشَوۡهُمۡ فَزَادَهُمۡ إِيمَٰنٗا وَقَالُواْ حَسۡبُنَا ٱللَّهُ وَنِعۡمَ ٱلۡوَكِيلُ ١٧٣

Those to whom people [i.e., hypocrites] said, "Indeed, the people have gathered against you, so fear them." But it [merely] increased them in faith, and they said, "Sufficient for us is Allāh, and [He is] the best Disposer of affairs."1

فَٱنقَلَبُواْ بِنِعۡمَةٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَضۡلٖ لَّمۡ يَمۡسَسۡهُمۡ سُوٓءٞ وَٱتَّبَعُواْ رِضۡوَٰنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ ذُو فَضۡلٍ عَظِيمٍ ١٧٤

So they returned with favor from Allāh and bounty, no harm having touched them. And they pursued the pleasure of Allāh, and Allāh is the possessor of great bounty.

إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ يُخَوِّفُ أَوۡلِيَآءَهُۥ فَلَا تَخَافُوهُمۡ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ١٧٥

That is only Satan who frightens [you] of his supporters. So fear them not, but fear Me, if you are [indeed] believers.

وہ لوگ جنھوں نے حکم مانا اللہ اور رسول کا بعد اس کے کہ پہنچا انھیں زخم، واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے احسان کیا ان میں سے اور تقویٰ اختیار کیا، اجر ہے بہت بڑا(172) وہ لوگ کہ کہا ان سے لوگوں نے، بلاشبہ لوگوں نے جمع کیا ہے (لشکر) تمھارے مقابلہ میں پس ڈرو تم ان سے تو زیادہ کر دیا ان کو (اس بات نے) ایمان میں اور کہا انھوں نے، کافی ہے ہمیں اللہ اور وہ اچھا کارساز ہے(173) پس لوٹے وہ ساتھ احسان کے اللہ سے اور فضل کے، نہیں پہنچی انھیں کوئی برائی اور پیروی کی انھوں نے رضائے الٰہی کی اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے(174) یقیناً یہ تو شیطان ہی ہے، ڈراتا ہے وہ اپنے دوستوں سے، پس نہ ڈرو تم ان سے اور ڈرو مجھ سے اگر ہو تم مومن (175)

[173,172] جب رسول اللہﷺاحد سے مدینہ کی طرف لوٹ آئے آپ نے سنا کہ ابوسفیان اور اس کے ساتھ جو مشرک ہیں وہ مدینہ پر دوبارہ حملہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے اپنے اصحاب کرام کو جنگ کے لیے نکلنے کو کہا۔ اس کے باوجود کہ صحابہ کرام سخت زخمی تھے، رسول اللہﷺکی آواز پر لبیک کہتے ہوئے نکل آئے۔ جب وہ ’’حمراء الاسد‘‘ پہنچے تو ایک آنے والے نے ان کے پاس آ کر کہا ﴿ اِنَّ النَّاسَ قَدۡ جَمَعُوۡا لَكُمۡ ﴾ اس نے خوف زدہ کرنے کی غرض سے کہا کہ لوگ تمھیں مٹانے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ اس کے اس قول نے اللہ تعالیٰ پر ایمان اور بھروسے میں اور اضافہ کیا اور انھوں نے کہا۔ ﴿ حَسۡبُنَا اللّٰهُ ﴾ یعنی ہماری پریشانیوں میں اللہ تعالیٰ ہمیں کافی ہے ﴿ وَنِعۡمَ الۡوَؔكِيۡلُ ﴾ اور وہ بہترین کارساز ہے اور بندوں کی تدبیر اسی کے سپرد ہے اور وہ ان کے مصالح کا انتظام کرتا ہے۔

[174]﴿ فَانۡقَلَبُوۡا ﴾ یعنی مسلمان لوٹے ﴿ بِنِعۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضۡلٍ لَّمۡ يَمۡسَسۡهُمۡ سُوۡٓءٌ ﴾ ’’اللہ کے احسان اور فضل کے ساتھ، ان کو کوئی برائی نہ پہنچی‘‘ جب یہ خبر مشرکین کے پاس پہنچی کہ رسول اللہﷺاور آپ کے اصحاب کرام تمھارے تعاقب میں آ رہے ہیں اور جو پیچھے رہ گئے تھے وہ بھی اب نادم ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ مکہ واپس چلے گئے اور اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل و کرم سے مستفید ہو کر لوٹے کیونکہ اس حالت میں بھی ان کو جنگ کے لیے نکلنے کی توفیق ہوئی اور انھوں نے اپنے رب پر بھروسہ کیا۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے غازیوں کا پورا اجر لکھ دیا۔ پس اپنے رب کے لیے حسن اطاعت اور اس کی نافرمانی سے بچنے کی وجہ سے ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔

[175]﴿ اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّيۡطٰنُ يُخَوِّفُ اَوۡلِيَآءَهٗ ﴾ یعنی مشرکین میں سے جس نے ڈرایا اور کہا کہ لوگ تمھارے لیے اکٹھے ہو چکے ہیں۔ وہ شیطان کے داعیوں میں سے ایک داعی ہے جو اپنے دوستوں کو ڈراتا ہے جو ایمان سے محروم ہیں یا جن کا ایمان کمزور ہے۔ فرمایا: ﴿ فَلَا تَخَافُوۡهُمۡ وَخَافُوۡنِ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی شیطان کے دوست مشرکین سے نہ ڈرو کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق ہی تصرف کر سکتے ہیں۔۔۔ بلکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو جو اپنے ان دوستوں کی مدد کرتا ہے جو اس سے ڈرتے ہیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کا خوف واجب ہے اور اللہ تعالیٰ کاخوف لوازم ایمان میں شمار ہوتا ہے۔ بندہ اپنے ایمان کی مقدار کے مطابق خوف الٰہی رکھتا ہے۔ اور خوف محمود وہ ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور کے ارتکاب سے روک دے۔

3:176–177Page 73

وَلَا يَحۡزُنكَ ٱلَّذِينَ يُسَٰرِعُونَ فِي ٱلۡكُفۡرِۚ إِنَّهُمۡ لَن يَضُرُّواْ ٱللَّهَ شَيۡـٔٗاۚ يُرِيدُ ٱللَّهُ أَلَّا يَجۡعَلَ لَهُمۡ حَظّٗا فِي ٱلۡأٓخِرَةِۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٌ ١٧٦

And do not be grieved, [O Muḥammad], by those who hasten into disbelief. Indeed, they will never harm Allāh at all. Allāh intends that He should give them no share in the Hereafter, and for them is a great punishment.

إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱشۡتَرَوُاْ ٱلۡكُفۡرَ بِٱلۡإِيمَٰنِ لَن يَضُرُّواْ ٱللَّهَ شَيۡـٔٗاۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ ١٧٧

Indeed, those who purchase disbelief [in exchange] for faith - never will they harm Allāh at all, and for them is a painful punishment.

اور نہ غم میں ڈالیں آپ کو وہ لوگ جو جلدی کرتے ہیں کفر میں، بلاشبہ وہ ہرگز نہیں نقصان پہنچا سکیں گے اللہ کو کچھ بھی، ارادہ کرتا ہے اللہ یہ کہ نہ کرے ان کے لیے کوئی حصہ آخرت میں اور ان کے لیے عذاب ہے بہت بڑا(176) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے خریدا کفر کو بدلے ایمان کے، ہرگز نہیں نقصان پہنچا سکیں گے وہ اللہ کو کچھ بھی اور ان کے لیے عذاب ہے دردناک(177)

[176] رسول اللہﷺلوگوں کی ہدایت کے بہت آرزو مند تھے اور ان کو ہدایت کی راہ پر لانے کے لیے جدوجہد کرتے تھے۔ جب وہ ہدایت قبول نہ کرتے تو آپ بہت آزردہ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَا يَحۡزُنۡكَ الَّذِيۡنَ يُسَارِعُوۡنَ فِي الۡكُفۡرِ ﴾ یعنی ان کی کفر میں شدید رغبت اور چاہت کی وجہ سے آپ آزردہ خاطر نہ ہوں ﴿ اِنَّهُمۡ لَنۡ يَّضُرُّوا اللّٰهَ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے‘‘ پس اللہ تعالیٰ اپنے دین کا حامی و ناصر، اپنے رسول کی مدد کرنے والا اور ان کے بغیر اپنے حکم کو نافذ کرنے والا ہے۔ اس لیے آپ ان کی پروا نہ کریں۔ یہ محض اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ایمان سے محروم ہو کر اس دنیا میں اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے حقیر ہونے، اس کی نظر سے گرنے اور اللہ تعالیٰ کے اس ارادے کی وجہ سے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہو… ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔ ان کی جزا یہ ہے کہ اس نے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا اور انھیں اس توفیق سے نہ نوازا جو اس نے نہایت عدل و حکمت کی بنا پر اپنے اولیاء اور ان بندوں کو عطا کی جن کے ساتھ وہ بھلائی چاہتا ہے ۔۔۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ راہ ہدایت کے ذریعے سے تزکیہ نفس نہیں چاہتے اور اپنے فاسد اخلاق و اطوار اور برے مقاصد کی بنا پر رشد و ہدایت کو قبول نہیں کرتے۔

[177] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ لوگ جنھوں نے ایمان کے مقابلے میں کفر کو چن لیا پھر اس کفر میں اس شخص کی مانند رغبت کرنے لگے جو کسی محبوب مال تجارت کو خریدنے کے لیے اپنا محبوب مال خرچ کرتا ہے۔ فرمایا ﴿ لَنۡ يَّضُرُّوا اللّٰهَ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’وہ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچاتے۔‘‘ بلکہ ان کے فعل کا نقصان خود ان کی ذات کو پہنچتا ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘ وہ اللہ تعالیٰ کو کیسے نقصان پہنچا سکتے ہیں وہ ایمان سے دور بھاگتے رہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر میں پوری طرح راغب رہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے بے نیاز ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے لیے ان کفار کے سوا اپنے نیک اور پاک بندوں کو مقرر کر رکھا ہے اور اپنے دین کی مدد اور نصرت کے لیے اپنے پسندیدہ بندوں میں سے اصحاب عقل و بصیرت اور بڑے بڑے ذہین لوگوں کو تیار کر رکھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ قُلۡ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهٖۤ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾(بنی اسرائیل : 17؍107) ’’کہہ دیجیے کہ تم اس قرآن پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جن کو اس سے پہلے علم دیا گیا جب یہ ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں۔‘‘

3:178Page 73

وَلَا يَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَنَّمَا نُمۡلِي لَهُمۡ خَيۡرٞ لِّأَنفُسِهِمۡۚ إِنَّمَا نُمۡلِي لَهُمۡ لِيَزۡدَادُوٓاْ إِثۡمٗاۖ وَلَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ ١٧٨

And let not those who disbelieve ever think that [because] We extend their time [of enjoyment] it is better for them. We only extend it for them so that they may increase in sin, and for them is a humiliating punishment.

اور نہ گمان کریں کافر کہ بے شک جو ڈھیل دے رہے ہیں ہم ان کو، وہ بہتر ہے ان کی جانوں کے لیے، ہم تو صرف مہلت دیتے ہیں ان کو تاکہ زیادہ ہو جائیں وہ گناہ میں اور واسطے ان کے عذاب ہے رسوا کرنے والا(178)

[178] وہ لوگ جو اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے ہیں، اس کے دین کو دور پھینکتے ہیں اور اس کے رسولﷺکے خلاف جنگ کرتے ہیں، یہ نہ سمجھیں کہ ہمارا ان کو اس دنیا میں چھوڑ دینا، ان کا استیصال نہ کرنا اور ان کو مہلت دینا، ان کے لیے بہتر ہے اور ہم ان سے محبت کرتے ہیں۔ ہرگز نہیں، معاملہ ایسا نہیں جیسا وہ سمجھتے ہیں۔ یہ مہلت دینا تو ان کے حق میں برا ہے ان کی سزا اور عذاب میں اور اضافہ ہو گا اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا نُمۡلِيۡ لَهُمۡ لِيَزۡدَادُوۡۤا اِثۡمًا١ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’ہم تو انھیں اس لیے مہلت دیتے ہیں تاکہ وہ گناہوں میں اور ترقی کریں اور ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کی اس کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اس کے رویے میں پے در پے کفر کا اظہار ہوتا ہے۔ پھر وہ اس کو غالب اور مقتدر ہستی کی مانند پکڑ لیتا ہے۔ پس ظالموں کو اس مہلت سے ڈرنا چاہیے اور وہ یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ اس بڑی اور بلند ہستی کی پکڑ سے رہ جائیں گے۔

3:179Page 73

مَّا كَانَ ٱللَّهُ لِيَذَرَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ عَلَىٰ مَآ أَنتُمۡ عَلَيۡهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ ٱلۡخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِۗ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُطۡلِعَكُمۡ عَلَى ٱلۡغَيۡبِ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَجۡتَبِي مِن رُّسُلِهِۦ مَن يَشَآءُۖ فَـَٔامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦۚ وَإِن تُؤۡمِنُواْ وَتَتَّقُواْ فَلَكُمۡ أَجۡرٌ عَظِيمٞ ١٧٩

Allāh would not leave the believers in that [state] you are in [presently] until He separates the evil from the good. Nor would Allāh reveal to you the unseen. But [instead], Allāh chooses of His messengers whom He wills, so believe in Allāh and His messengers. And if you believe and fear Him, then for you is a great reward.

نہیں ہے اللہ کہ چھوڑ دے مومنوں کو اس (حالت) پر کہ ہو تم اوپر اس کے، یہاں تک کہ وہ علیحدہ کر دے ناپاک کو پاک سے اور نہیں ہے اللہ کہ مطلع کرے وہ تمھیں اوپر غیب کے لیکن اللہ پسند کر لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے اور اگر تم ایمان لاؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو تمھارے لیے اجر ہے بہت بڑا(179)

[179] یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت نہیں کہ وہ اہل ایمان کو پرکھے بغیر خلط ملط حالت میں چھوڑ دے۔ وہ ان کو پرکھے گا اور پاک کو ناپاک میں سے، مومن کو منافق میں سے اور سچے کو جھوٹے میں سے علیحدہ کرے گا۔ نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت نہیں کہ اپنے بندوں کو اس غیب پر مطلع کرے جس کا علم اس نے اپنے بعض بندوں (رسولوں) کو عطا کیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو مختلف قسم کی آزمائش اور امتحان میں مبتلا کرے تاکہ پاک میں سے ناپاک ممیز ہو جائے۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل مبعوث فرمائے اور ان کی اطاعت، ان کی پیروی اور ان پر ایمان لانے کا حکم دیا۔ ایمان اور تقویٰ کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔ پس انبیاء کرام کی اتباع کے اعتبار سے لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں اطاعت گزار اور نافرمان، مومنین اور منافقین، مسلمان اور کفار۔ تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کا ثواب و عقاب مترتب ہو۔ اور تاکہ اس کا عدل و فضل اور اس کی مخلوق پر اس کی حکمت ظاہر ہو۔

3:180Page 73

وَلَا يَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ يَبۡخَلُونَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦ هُوَ خَيۡرٗا لَّهُمۖ بَلۡ هُوَ شَرّٞ لَّهُمۡۖ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِۦ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ وَلِلَّهِ مِيرَٰثُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ ١٨٠

And let not those who [greedily] withhold what Allāh has given them of His bounty ever think that it is better for them. Rather, it is worse for them. Their necks will be encircled by what they withheld on the Day of Resurrection. And to Allāh belongs the heritage of the heavens and the earth. And Allāh, of what you do, is [fully] Aware.

اور نہ گمان کریں وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں ساتھ اس کے جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے کہ وہ بہتر ہے ان کے لیےبلکہ وہ بدتر ہے ان کے لیے، عنقریب وہ طوق پہنائے جائیں گے، اس (مال) کا کہ بخل کیا تھا انھوں نے ساتھ اس کے، دن قیامت کےاور اللہ ہی کے لیے ملکیت ہے آسمانوں اور زمین کی اور اللہ ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو، خوب خبردار ہے(180)

[180] یعنی جو لوگ بخل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مال، جاہ، علم اور دیگر چیزیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا ہے اور ان کو حکم دیا کہ ان چیزوں میں سے اس کے بندوں پر اتنا ضرور خرچ کریں جس سے خود ان کو نقصان نہ پہنچے۔ مگر انھوں نے بخل کیا اور ان چیزوں کو بندوں پرخرچ کرنے سے روک رکھا اور سمجھتے رہے کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ ان کے لیے بہتر ہے (یہ ان کے لیے بہتر نہیں) بلکہ یہ تو ان کے دین و دنیا و آخرت کے لیے بدترین چیز ہے۔ ﴿سَيُطَوَّقُوۡنَ مَا بَخِلُوۡا بِهٖ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ یعنی جس چیز کے بارے میں انھوں نے بخل کیا، اللہ تعالیٰ اسے طوق بنا کر ان کی گردن میں ڈال دے گا اور اس سبب سے انھیں عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے، چنانچہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ’اِنَّ الْبَخِیْلَ یُمَثَّلُ لَہُ مَالُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُجَاعاً اَقْرَعَ لَہُ زَبِیْبَتَانِ یَاخُذُ بِلِھْزِمَتَیْہِ یَقُولُ : اَنَا مَالُکَ اَنَا کَنْزُکَ‘ ’’قیامت کے روز بخیل کے مال کو ایک بڑا سانپ بنا دیا جائے گا جس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے وہ بخیل کو اس کے جبڑوں سے پکڑ لے گا اور کہے گا ’’میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔‘‘پھر رسول اللہﷺنے اس کے مصداق کے طور پر یہی آیت تلاوت فرمائی۔(صحیح البخاري، التفسیر، باب:﴿ولا يحسبن الذين يبخلون ...... من فضله﴾، حديث:4565، بلفظ:من آتاہ اللہ مالا فلم يؤد زکاتہ) یہ لوگ سمجھتے تھے کہ ان کا بخل ان کے لیے نفع مند اور عزت کا باعث ہے مگر معاملہ الٹ نکلا اور یہی بخل ان کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ اور عذاب کا باعث بن گیا۔﴿ وَلِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اقتدار اور بادشاہی کا مالک ہے تمام املاک اپنے مالک کی طرف لوٹتی ہیں اور بندے اس دنیا سے اس حالت میں جائیں گے کہ ان کے ساتھ درہم و دینار ہوں گے نہ کوئی مال و متاع۔ جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَرِثُ الۡاَرۡضَ وَمَنۡ عَلَيۡهَا وَ اِلَيۡنَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾(مریم : 19؍40) ’’زمین اور جو لوگ اس کے اوپر ہیں ہم ہی ان کے وارث ہیں اور انھیں ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔‘‘غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے سبب ابتدائی اور سبب انتہائی کو کیسے ذکر فرمایا ہے اور یہ دونوں اس بات کے موجب ہیں کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ چیزوں میں بخل نہ کرے۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ بندے کے پاس اور بندے کے ہاتھ میں جو کچھ ہے وہ بندے کی ملکیت نہیں، بلکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی نعمت ہے۔ اگر بندے پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کا احسان نہ ہوتا تو ان میں سے کوئی چیز بھی اسے عطا نہ ہوتی۔ لہٰذا جو کوئی یہ چیزیں لوگوں کو عطا کرنے میں بخل کرتا ہے وہ گویا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو لوگوں تک پہنچنے سے روکتا ہے۔ کیونکہ بندے پر اللہ تعالیٰ کا احسان اس بات کا موجب ہوتا ہے کہ وہ بندہ اللہ کے بندوں پر احسان کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاَحۡسِنۡ كَمَاۤ اَحۡسَنَ اللّٰهُ اِلَيۡكَ ﴾(القصص : 28؍77) ’’جیسی اللہ نے تیرے ساتھ بھلائی کی ہے تو بھی لوگوں کے ساتھ ویسی ہی بھلائی کر۔‘‘پس جسے اس بات کا یقین ہو گیا کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل و کرم کو دوسروں تک پہنچانے سے کبھی نہیں رکے گا جس سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا بلکہ یہ فعل اس کے دل اور مال میں اسے فائدہ ہی پہنچاتا ہے اس کے ایمان میں اضافہ کا باعث بنتا ہے اور اسے آفات سے محفوظ رکھتا ہے۔ثانیاً: اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ یہ سب کچھ جو بندے کے ہاتھ میں ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس کا وارث ہو گا اور وہ سب سے اچھا وارث ہے۔ کسی ایسی چیز میں آپ کا بخل کرنا کیا معنی رکھتا ہے جو چیز آپ کے پاس سے زائل ہو کر کسی دوسرے کے پاس منتقل ہو جائے گی۔ثالثًا: اللہ تعالیٰ نے سبب جزائی کا ذکر فرمایا چنانچہ فرمایا: ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ جب اللہ تعالیٰ تمھارے تمام اعمال کی خبر رکھتا ہے تو یہ حقیقت اس بات کی مستلزم ہے کہ وہ اچھے اعمال پر اچھی جزا دے اور برے اعمال پر بری سزا دے۔ اب جس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہے وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے سے باز نہیں رہ سکتا جس کا بدلہ ثواب ہے۔ اور بخل پر راضی نہیں ہو سکتا، جو عذاب کا باعث ہے۔

3:181–182Page 74

لَّقَدۡ سَمِعَ ٱللَّهُ قَوۡلَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ فَقِيرٞ وَنَحۡنُ أَغۡنِيَآءُۘ سَنَكۡتُبُ مَا قَالُواْ وَقَتۡلَهُمُ ٱلۡأَنۢبِيَآءَ بِغَيۡرِ حَقّٖ وَنَقُولُ ذُوقُواْ عَذَابَ ٱلۡحَرِيقِ ١٨١

Allāh has certainly heard the statement of those [Jews] who said, "Indeed, Allāh is poor, while we are rich." We will record what they said and their killing of the prophets without right and will say, "Taste the punishment of the Burning Fire.

ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيكُمۡ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَيۡسَ بِظَلَّامٖ لِّلۡعَبِيدِ ١٨٢

That is for what your hands have put forth and because Allāh is not ever unjust to [His] servants."

تحقیق سن لی اللہ نے بات ان لوگوں کی جنھوں نے کہا، بے شک اللہ فقیر ہے اور ہم مال دار، یقینا ہم لکھتے ہیں جو کچھ انھوں نے کہا اور ان کے قتل کرنے کو (بھی) انبیاء کا ناحق اور کہیں گے ہم چکھو عذاب جلانے والا(181) یہ بہ سبب اس کے جو آگے بھیجا تمھارے ہاتھوں نے اور یہ کہ اللہ نہیں ہے ظلم کرنے والا واسطے بندوں کے(182)

[181] اللہ تبارک و تعالیٰ ان متکبرین کے قول سے آگاہ فرماتا ہے جنھوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کے بارے میں بدترین اور قبیح ترین بات کہی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ انھوں نے جو بدزبانی کی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے سن لیا ہے۔ وہ اس بدزبانی کو لکھ کر محفوظ کر لے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ دیگر افعال قبیحہ بھی محفوظ کرے گا۔ مثلاً ان کا خیر خواہی کرنے والے انبیائے کرام کو ناحق قتل کرنا، اور وہ ان کو ان افعال پر سخت سزا دے گا، ان کی اس ہرزہ گوئی… ’’اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم دولت مند ہیں‘‘… کے بدلے میں کہا جائے گا ﴿ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡـقِ ﴾ یعنی بدن سے دل تک جلا ڈالنے والے عذاب کا مزا چکھو، ان کو دیا گیا یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ﴿ لَيۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ﴾ ’’بندوں پر ہرگز ظلم نہیں کرتا۔‘‘ وہ اس سے منزہ ہے۔

[182] فرمایا ﴿ ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡكُمۡ ﴾ یہ رسوائیاں اور قباحتیں جو انھیں عذاب کا مستحق بناتی اور ثواب سے محروم کرتی ہیں ان کا اپنا کیا دھرا ہے ۔ مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنھوں نے مذکورہ ہرزہ سرائی کی تھی۔ ان میں ’’فنحاص بن عازوراء‘‘ کا نام لیا جاتا ہے جو مدینہ میں علمائے یہود کا سرخیل تھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب فنحاص بن عازوراء نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾(البقرہ: 2؍245) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَاَقۡرَضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾(الحدید:57؍18) سنا تو اس وقت اس نے تکبر کی بنا پر یہ بات کہنے کی جسارت کی ۔۔ قبحہ اللٰہ۔اللہ تعالیٰ نے اس کی بدگوئی کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ ان کی یہ ہرزہ سرائیاں کوئی نئی چیز نہیں ہیں بلکہ وہ اس سے پہلے بھی اس قسم کے قبیح کام کرتے رہے ہیں ان کی ایک نظیر یہ ہے کہ انھوں نے نبیوں کو ناحق قتل کیا… یہاں ’’ناحق‘‘ کی قید لگانے سے مراد یہ ہے کہ وہ نبیوں کو لاعلمی اور ضلالت کی وجہ سے قتل نہیں کرتے تھے بلکہ اس جرم کی قباحت اور شناعت کو جانتے ہوئے بھی سرکشی اور عناد کی بنا پر قتل انبیاء علیہ السلام کے اقدام کی جرأت کرتے تھے۔

3:183–184Page 74

ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ عَهِدَ إِلَيۡنَآ أَلَّا نُؤۡمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّىٰ يَأۡتِيَنَا بِقُرۡبَانٖ تَأۡكُلُهُ ٱلنَّارُۗ قُلۡ قَدۡ جَآءَكُمۡ رُسُلٞ مِّن قَبۡلِي بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَبِٱلَّذِي قُلۡتُمۡ فَلِمَ قَتَلۡتُمُوهُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ١٨٣

[They are] those who said, "Indeed, Allāh has taken our promise not to believe any messenger until he brings us an offering which fire [from heaven] will consume." Say, "There have already come to you messengers before me with clear proofs and [even] that of which you speak. So why did you kill them, if you should be truthful?"

فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدۡ كُذِّبَ رُسُلٞ مِّن قَبۡلِكَ جَآءُو بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَٱلزُّبُرِ وَٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡمُنِيرِ ١٨٤

Then if they deny you, [O Muḥammad] - so were messengers denied before you, who brought clear proofs and written ordinances and the enlightening Scripture.1

وہ لوگ جنھوں نے کہا: بلاشبہ اللہ نے عہد لیا ہے ہم سے یہ کہ نہ ایمان لائیں ہم کسی رسول پر، یہاں تک کہ لائے وہ ہمارے پاس ایسی قربانی کہ کھا جائے اسے آگ، کہہ دیجیے! تحقیق آئے تمھارے پاس کئی رسول پہلے مجھ سے ساتھ واضح دلائل کے اور ساتھ اس کے جو کہا تم نے، پھر کیوں قتل کیا تم نے ان کو اگر ہو تم سچے؟(183) پس اگر جھٹلایا ہے انھوں نے آپ کو تو تحقیق جھٹلائے گئے کئی رسول آپ سے پہلے، لائے تھے وہ واضح دلائل اور صحیفے اور کتاب روشن(184)

[183] اللہ تعالیٰ ان افترا پردازوں کے احوال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ جو یہ کہتے ہیں ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَيۡنَاۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ہم سے عہد لے چکا ہے اور اس نے وصیت کی ہے کہ ﴿ اَلَّا نُؤۡمِنَ لِرَسُوۡلٍ حَتّٰى يَاۡتِيَنَا بِقُرۡبَانٍ تَاۡكُلُهُ النَّارُ ﴾ ’’ہم کسی رسول پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک کہ وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ لائے جسے آگ (آسمان سے نازل ہو کر) کھا لے۔‘‘پس انھوں نے یہ افترا پردازی کر کے اللہ تعالیٰ پر کذب بیانی اور انبیاء و مرسلین علیہ السلام کے معجزات کو صرف اسی ایک معجزے میں محصور کر کے یکجا کر دیا نیز یہ کہ وہ کسی ایسے رسول پر ایمان نہیں لائیں گے جس نے ایسی قربانی نہ کی ہو جسے آگ نے کھایا ہو۔ اس لیے وہ رسول اللہﷺپر ایمان نہ لانے کے سلسلے میں اپنے رب کی اطاعت اور اس کے عہد کا التزام کر رہے ہیں۔ یہ چیز معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے رسول مبعوث فرمائے ان سب کی معجزات و براہین کے ذریعے سے تائید کی۔ جس پر انسان مطمئن ہو جاتا ہے اور جس معجزے کا انھوں نے مطالبہ کیا انبیاء علیہ السلام اس سے قاصر نہیں رہے۔ اس کے باوجود انھوں نے انبیاء علیہ السلام کی دعوت کو بہتان و افترا کہہ کر اس کا التزام نہ کیا اور اسے باطل کہا اور اس پر عمل نہ کیا۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکو حکم دیا کہ وہ ان سے کہہ دیں ﴿ قُلۡ قَدۡ جَآءَكُمۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِيۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’مجھ سے پہلے کئی پیغمبر تمھارے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی وہ دلائل لے کر آئے جو ان کی صداقت کی تائید کرتے تھے ﴿ وَبِالَّذِيۡ قُلۡتُمۡ ﴾ اور وہ معجزہ لے کر بھی آئے جس کا تم نے مطالبہ کیا ہے، یعنی انھوں نے وہ قربانی بھی کی جس کو آگ نے کھایا ﴿ فَلِمَ قَتَلۡتُمُوۡهُمۡ۠ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا؟‘‘ یعنی اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ ہم تو رسول پر اس وقت ایمان لاتے ہیں جب وہ قربانی کرے اور آگ آسمان سے نازل ہو کر اسے کھا لے تو پھر تم یہ معجزہ دکھانے والے نبیوں کو قتل کیوں کرتے تھے۔ پس اس سے ان کا جھوٹ اور تناقض واضح ہو گیا۔

[184] پھر اپنے رسولﷺکو ان الفاظ میں خوشخبری سنائی ہے ﴿ فَاِنۡ كَذَّبُوۡكَ فَقَدۡ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’پس اگر انھوں نے تمھاری تکذیب کی ہے تو تم سے پہلے رسولوں کو بھی جھٹلایا گیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا اور اللہ کے رسولوں کی تکذیب کرنا ان ظالموں کی عادت اور وتیرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب اس وجہ سے نہ تھی کہ وہ معجزہ دکھانے سے قاصر رہے یا دلیل واضح نہ تھی بلکہ ﴿ جَآءُوۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ یعنی وہ تو دلائل عقلیہ اور براہین نقلیہ لے کر مبعوث ہوئے ﴿ وَالزُّبُرِ ﴾ ان کے لیے آسمان سے لکھی ہوئی کتابیں نازل ہوئیں ان کتابوں کو رسول کے سوا کوئی اور نہیں لا سکتا۔ ﴿ وَالۡكِتٰبِ الۡمُنِيۡرِ﴾ یعنی احکام شرعی کو روشن اور عیاں کرنے والی اور یہ احکام الٰہی جن محاسن عقلی پر مشتمل ہیں ان کو بیان کرنے والی ہیں نیز سچی خبروں کو روشن کرتی ہے۔ لہٰذا جب ان اوصاف کے حامل رسولوں پر ایمان لانا ان کی عادت نہیں تو ان کا معاملہ آپ کو غمزدہ نہ کر دے۔

3:185Page 74

كُلُّ نَفۡسٖ ذَآئِقَةُ ٱلۡمَوۡتِۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ أُجُورَكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۖ فَمَن زُحۡزِحَ عَنِ ٱلنَّارِ وَأُدۡخِلَ ٱلۡجَنَّةَ فَقَدۡ فَازَۗ وَمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا مَتَٰعُ ٱلۡغُرُورِ ١٨٥

Every soul will taste death, and you will only be given your [full] compensation on the Day of Resurrection. So he who is drawn away from the Fire and admitted to Paradise has attained [his desire]. And what is the life of this world except the enjoyment of delusion.

ہر نفس چکھنے والا ہے موت کو اور بلاشبہ پورے دیے جاؤ گے تم اپنے اجر دن قیامت کے، پس جو دور کر دیا گیا آگ سے اور داخل کر دیا گیا جنت میں تو یقینا وہ کامیاب ہوگیا اور نہیں ہے زندگانیٔ دنیا مگر سامان دھوکے کا(185)

[185] اس آیت کریمہ میں دنیا میں زہد کی ترغیب دی گئی ہے کہ یہ دنیا فانی ہے اور باقی نہیں رہے گی، یہ محض دھوکے کا سامان ہے یہ اپنی چکا چوند، اپنے غرور اور اپنی ظاہری خوبصورتی سے انسان کو دھوکے میں مبتلا کرتی ہے۔ پھر یہ دنیا ختم ہو جائے گی اور اس میں رہنے والے آخرت کے ٹھکانے میں منتقل ہو جائیں گے جہاں ہر نفس کو اچھے یا برے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے اس دنیا میں کیے ہیں۔ ﴿ فَمَنۡ زُحۡزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدۡخِلَ الۡجَنَّةَ فَقَدۡ فَازَ ﴾ ’’جسے آگ سے بچا کر جنت میں بھیج دیا گیا پس وہ کامیاب ہو گیا۔‘‘ یعنی دردناک عذاب سے نجات حاصل کر کے اور نعمتوں سے لبریز جنتوں میں پہنچ کر اس نے عظیم کامیابی حاصل کی۔ ان جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کے تصور کا گزر ہوا ہے۔اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ جس کسی کو جہنم کی آگ سے ہٹا کر جنت میں داخل نہ کیا گیا، وہ کامیابی سے محروم ہو گیا۔ بلکہ ابدی شقاوت اور سرمدی عذاب میں مبتلا کر دیا گیا۔ نیز اس آیت کریمہ میں برزخ کی نعمتوں کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے، لوگوں کو ان کے اعمال کا کچھ بدلہ برزخ میں بھی دیا جائے گا ان کے اعمال کے کچھ نمونے ان کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ یہ لطیف اشارہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے مستنبط ہوتا ہے ﴿ وَاِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ اُجُوۡرَؔكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ یعنی اعمال کی کامل جزا تو قیامت کے روز ہی ملے گی البتہ اس سے کم تر جزا برزخ میں عطا ہو گی۔ بلکہ بسا اوقات اس سے بھی پہلے کبھی کبھی یہ جزا دنیا ہی میں عطا ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَلَنُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰى دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَكۡبَرِ ﴾(السجدۃ : 32؍21) ’’ہم ان کو آخرت کے بڑے عذاب کے علاوہ دنیا کے عذاب کا مزا بھی چکھائیں گے۔‘‘

3:186Page 74

۞ لَتُبۡلَوُنَّ فِيٓ أَمۡوَٰلِكُمۡ وَأَنفُسِكُمۡ وَلَتَسۡمَعُنَّ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَمِنَ ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُوٓاْ أَذٗى كَثِيرٗاۚ وَإِن تَصۡبِرُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِ ١٨٦

You will surely be tested in your possessions and in yourselves. And you will surely hear from those who were given the Scripture before you and from those who associate others with Allāh much abuse. But if you are patient and fear Allāh - indeed, that is of the matters [worthy] of resolve.

البتہ ضرور آزمائے جاؤ گے تم اپنے مالوں اور اپنی جانوں میں اور بالیقین ضرور سنو گے تم ان لوگوں سے جو دیے گئے کتاب تم سے پہلے اور ان لوگوں سے جنھوں نے شرک کیا، ایذا (کی باتیں) بہت اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بلاشبہ یہ ہمت کے کاموں میں سے ہیں(186)

[186]اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ انھیں ان کے اموال میں اللہ کی راہ میں واجب اور مستحب نفقات کے ذریعے سے آزمایا جائے گا اور خود ان کو ایسی بوجھلتکالیف میں مبتلا کیا جائے گا جو اکثر لوگوں کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہیں مثلاً جہاد فی سبیل اللہ، جہاد میں مشقت، قتل، اسیری اور زخموں سے واسطہ پڑتا ہے اور مثلاً امراض جو خود اسے یا اس کے کسی محبوب فرد کو لاحق ہو جاتے ہیں۔﴿ وَلَتَسۡمَعُنَّ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ وَمِنَ الَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡۤا اَذًى كَثِيۡرًا﴾ یعنی تمھیں اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے خود تمھاری ذات، تمھارے دین، تمھاری کتاب اور تمھارے رسول کے بارے میں طعنے سننے پڑیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان امور کے بارے میں اپنے مومن بندوں کو آگاہ کرنے میں متعدد فوائد ہیں۔۱۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت اس کا تقاضا کرتی ہے تاکہ مومن صادق اور دیگر لوگوں کے درمیان امتیاز واقع ہو جائے۔۲۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو وہ ان کے لیے شدائد اور تکالیف کو مقدر کر دیتا ہے تاکہ وہ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی برائیوں کو مٹا دے اور تاکہ ان کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کے ایقان کی تکمیل ہو۔جب اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں آگاہ فرمایا اور وہ اسی طرح واقع بھی ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ ﴿ قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ١ٞ وَمَا زَادَهُمۡ اِلَّاۤ اِيۡمَانًا وَّتَسۡلِيۡمًا﴾(الاحزاب:33؍22) ’’تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے ساتھ وعدہ فرمایا تھا۔ اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا اس سے ان کے ایمان میں اضافہ اور تسلیم و رضا زیادہ ہو گئی۔‘‘۳۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس کی خبر دی تاکہ ان کے نفوس اس قسم کے شدائد برداشت کرنے کے لیے آمادہ ہوں اور جب سختیاں آن پڑیں تو ان پر صبر کریں۔ کیونکہ جب شدائد کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوں گے تو ان کا برداشت کرنا ان کے لیے آسان ہو جائے گا اور ان کا بوجھ ہلکا لگے گا، تب وہ صبر اور تقویٰ کی پناہ لیں گے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا ﴾ یعنی تمھاری جان و مال میں تم جس ابتلا و امتحان میں پڑے ہوئے ہو اور تمھیں ظالموں کی اذیتوں کا جو سامنا کرنا پڑا ہے اگر تم اس پر صبر کرو اور اس صبر میں تقویٰ کا التزام یعنی اس صبر میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے تقرب کی نیت رکھو اور اپنے صبر میں صبر کی شرعی حدود سے تجاوز نہ کرو یعنی ایسے مقام پر صبر نہ کرو جہاں صبر کرنا جائز نہ ہو بلکہ وہاں تمھارا کام اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے انتقام لینا ہو ﴿ فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ﴾ تو اس کا شمار ایسے امور میں ہوتا ہے جس پر عزم کیا جاتا ہے اور جس میں رغبت کے لیے سبقت کی جاتی ہے اور اس کی توفیق صرف انھیں عطا ہوتی ہے جو باعزم اور بلند ہمت لوگ ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا١ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾(فصلت:41؍35) ’’یہ بات صرف ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور اس بات سے صرف وہ لوگ بہرہ ور ہوتے ہیں جو نصیب والے ہیں۔‘‘

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском