As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Fatir 35:15–35
35:15–18Page 436
۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ أَنتُمُ ٱلۡفُقَرَآءُ إِلَى ٱللَّهِۖ وَٱللَّهُ هُوَ ٱلۡغَنِيُّ ٱلۡحَمِيدُ ١٥
O mankind, you are those in need of Allāh, while Allāh is the Free of need, the Praiseworthy.
إِن يَشَأۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَأۡتِ بِخَلۡقٖ جَدِيدٖ ١٦
If He wills, He can do away with you and bring forth a new creation.
وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ بِعَزِيزٖ ١٧
And that is for Allāh not difficult.
وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٞ وِزۡرَ أُخۡرَىٰۚ وَإِن تَدۡعُ مُثۡقَلَةٌ إِلَىٰ حِمۡلِهَا لَا يُحۡمَلۡ مِنۡهُ شَيۡءٞ وَلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبَىٰٓۗ إِنَّمَا تُنذِرُ ٱلَّذِينَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُم بِٱلۡغَيۡبِ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَۚ وَمَن تَزَكَّىٰ فَإِنَّمَا يَتَزَكَّىٰ لِنَفۡسِهِۦۚ وَإِلَى ٱللَّهِ ٱلۡمَصِيرُ ١٨
And no bearer of burdens will bear the burden of another. And if a heavily laden soul calls [another] to [carry some of] its load, nothing of it will be carried, even if he should be a close relative. You can only warn those who fear their Lord unseen and have established prayer. And whoever purifies himself only purifies himself for [the benefit of] his soul. And to Allāh is the [final] destination.
اے لوگو! تم (سب) محتاج ہو اللہ کے ۔ اور اللہ ہی ہے بے نیاز لائق حمد و ثنا(15)اگر وہ چاہے تو لے جائے(ہلاک کر دے) تمھیں اور لے آئے ایک مخلوق نئی(16)اور نہیں ہے یہ بات اللہ پرکچھ مشکل (17) اور نہیں بوجھ اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا بوجھ دوسرے کا، اور اگربلائے گا کوئی بوجھ لدا شخص اپنے بوجھ (اٹھانے) کو تو نہ اٹھایا جائے گا اس کے بوجھ میں سے کچھ بھی، اگرچہ ہو وہ رشتے دار ہی، بلاشبہ آپ تو ڈراتے ہیں صرف انھی لوگوں کو جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے اور قائم کرتے ہیں نماز اور جو پاک ہو گیا تو بلاشبہ وہ پاک ہوتا ہے اپنے ہی لیے، اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے(18)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہے، انھیں ان کے احوال و اوصاف سے آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں:(۱)وہ وجود میں آنے کے لیے اس کے محتاج ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو وجود میں نہ لائے تو وہ وجود میں نہیں آ سکتے۔(۲)وہ اپنے مختلف قویٰ، اعضاء اور جوارح کے حصول میں اس کے محتاج ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو یہ قویٰ عطا نہ کرے تو کسی کام کے لیے ان میں کوئی استعداد نہیں۔(۳)وہ خوراک، رزق اور دیگر ظاہری وباطنی نعمتوں کے حصول میں اسی کے محتاج ہیں اگر اس کا فضل و کرم نہ ہو اور اگر وہ ان امور کے حصول میں آسانی پیدا نہ کرے تو وہ رزق اور دیگر نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے۔(۴)وہ اپنے مصائب وتکالیف ، کرب و غم اور شدائد کو دور کرنے میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی مصیبتوں اور کرب و غم کو دور اور ان کی عسرت کا ازالہ نہ کرے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ مصائب و شدائد میں گھرے رہیں۔(۵)وہ اپنی مختلف انواع کی تربیت و تدبیر میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔(۶)وہ اسے الٰہ بنانے، اس سے محبت کرنے، اس کو معبود بنانے اور خالص اسی کی عبادت کرنے میں اس کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو ان امور کی توفیق عطا نہ کرے تو یہ ہلاک ہو جائیں، ان کی ارواح، قلوب اور احوال فاسد ہو جائیں۔(۷) وہ ان چیزوں کے علم کے حصول میں جنھیں وہ نہیں جانتے اور ان کی اصلاح کرنے والے عمل کے حصول میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو علم عطا نہ کرے تو وہ کبھی بھی علم سے بہرہ ور نہ ہو سکیں اور اگر اللہ تعالیٰ ان کو عمل کی توفیق سے نہ نوازے تو وہ کبھی نیکی نہ کر سکیں... وہ ہر لحاظ اور ہر اعتبار سے بالذات اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں خواہ انھیں اپنی کسی حاجت کا شعور ہو یا نہ ہو۔مگر لوگوں میں سے توفیق سے بہرہ ور وہی ہے جو دینی اور دنیاوی امور سے متعلق اپنے تمام احوال میں (اللہ تعالیٰ کے سامنے) اپنے فقرواحتیاج کا مشاہدہ کرتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی عاجزی اور فروتنی کا اظہار کرتا ہے اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہتا ہے کہ وہ اسے ایک لمحہ کے لیے بھی اس کے نفس کے حوالے نہ کرے، اس کے تمام امور میں اس کی مدد فرمائے اور وہ اس معنیٰ کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھتا ہے۔ ایسا شخص اپنے اس رب اور معبود کی کامل اعانت کا مستحق ہے جو ماں کے اپنے بچوں پر مہربان ہونے سے کہیں بڑھ کر اس پر مہربان اور رحیم ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ هُوَ الۡغَنِيُّ الۡحَمِيۡدُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جو ہر لحاظ سے غنائے کامل کی مالک ہے۔ وہ ان چیزوں میں سے کسی چیز کی محتاج نہیں جن کی مخلوق محتاج اور ضرورت مند ہوتی ہے کیونکہ اس کی صفات تمام ترصفات کمال اور جلال ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غنائے تام ہے کہ اس نے اپنی مخلوق کو دنیا وآخرت میں غنا سے نوازا ہے۔ ﴿الۡحَمِيۡدُ ﴾ وہ اپنی ذات اور اپنے ناموں میں قابل حمدوستائش ہے کیونکہ اس کے تمام نام اچھے، اس کے تمام اوصاف عالی شان اور اس کے تمام افعال سراسر فضل و احسان، عدل و حکمت اور رحمت پر مبنی ہیں۔وہ اپنے اوامرونواہی میں قابل تعریف ہے کیونکہ وہ اپنی صفات، فضل و اکرام اور جزاوسزا میں عدل و انصاف کے لیے قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے غنا میں قابل تعریف ہے اور وہ اپنی حمد وثنا سے مستغنی اور بے نیاز ہے۔
[16]﴿اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَاۡتِ بِخَلۡقٍ جَدِيۡدٍ﴾ اس سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ اے لوگو! اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمھیں لے جائے اور تمھاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے جو تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے ہوں۔ یہ ان کے لیے ہلاکت کی وعید اور اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں۔ اس میں زندگی بعد موت کے اثبات کا احتمال بھی ہے، نیز اس حقیقت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیّت ہر چیز پر نافذ ہے۔ اس کی مشیّت اس چیز پر بھی قادر ہے کہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں دوبارہ نئے سرے سے زندہ کرے، مگر اس زندگی کے لیے ایک وقت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے، اس وقت مقرر سے تقدیم ہو گی نہ تاخیر۔
[17]﴿وَمَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيۡزٍ ﴾ ’’اور یہ اللہ کو کچھ مشکل نہیں۔‘‘ یعنی کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے قبضہء قدرت سے باہر نہیں اور کوئی ہستی اسے عاجز نہیں کر سکتی۔
[18] اس کے بعد آنے والی آیت کریمہ آخری معنیٰ پر دلالت کرتی ہے، یعنی ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور کوئی شخص کسی دوسرے شخص کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَدۡعُ مُثۡقَلَةٌ ﴾ اگر کوئی نفس جس نے اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھایا ہوا ہو گا اور وہ کسی سے بوجھ اٹھانے کے لیے التماس کرے گا۔ ﴿لَا يُحۡمَلۡ مِنۡهُ شَيۡءٌ وَّلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبٰى ﴾’’تو کوئی شخص بھی خواہ اس کارشتہ دار ہی کیوں نہ ہو اس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘‘ کیونکہ آخرت کے احوال دنیا کے احوال کی مانند نہیں ہیں جہاں دوست، دوست کی مدد کرتا ہے، بلکہ قیامت کے روز تو بندہ تمنا کرے گا کہ اس کا کسی کے ذمے حق ہو، خواہ اس کے والدین اور اقارب کے ذمے ہی کیوں نہ ہو۔﴿اِنَّمَا تُنۡذِرُ الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَيۡبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ ’’آپ تو صرف انھی لوگوں کو نصیحت کر سکتے ہیں جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے اور نماز قائم کرتے ہیں۔‘‘ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جو انذار کو قبول کرتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو کھلے چھپے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کی تمام حدود و شرائط، ارکان و واجبات اور پورے خشوع کے ساتھ قائم کرتے ہیں کیونکہ خشیت الٰہی بندے سے اس عمل کا تقاضا کرتی ہے جس کے ضیاع پر سزا کا خوف ہو اور ایسے عمل سے دور رہنے کا تقاضا کرتی ہے جس کے ارتکاب پر عذاب کا خوف ہو۔ نماز بھلائی کی طرف بلاتی ہے اور فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ ﴿وَمَنۡ تَزَؔكّٰى فَاِنَّـمَا يَتَزَؔكّٰى لِنَفۡسِهٖ﴾ یعنی جس کسی نے اپنے نفس کو عیوب ، مثلاً: ریاء، تکبر، جھوٹ، دھوکہ، مکر وفریب، نفاق اور دیگر اخلاق رذیلہ سے پاک کیا اور اپنے آپ کو اخلاق حسنہ سے آراستہ کیا ، مثلاً: صدق، اخلاص، تواضع و انکسار، بندوں کی خیر خواہی اور دل کو بغض حسد، کینے اور دیگر اخلاق رذیلہ سے پاک رکھا، تو اس کے تزکیۂ نفس کا فائدہ اسی کو حاصل ہو گا۔ اس کے عمل میں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہو گی۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ پس وہ تمام خلائق کو ان کے اعمال کی جزا دے گا اور ان کے اعمال کا حساب لے گا اور کوئی چھوٹا یا بڑا عمل شمار کرنے سے نہیں چھوڑے گا۔
35:19–24Page 437
وَمَا يَسۡتَوِي ٱلۡأَعۡمَىٰ وَٱلۡبَصِيرُ ١٩
Not equal are the blind and the seeing,
وَلَا ٱلظُّلُمَٰتُ وَلَا ٱلنُّورُ ٢٠
Nor are the darknesses and the light,
وَلَا ٱلظِّلُّ وَلَا ٱلۡحَرُورُ ٢١
Nor are the shade and the heat,1
وَمَا يَسۡتَوِي ٱلۡأَحۡيَآءُ وَلَا ٱلۡأَمۡوَٰتُۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُسۡمِعُ مَن يَشَآءُۖ وَمَآ أَنتَ بِمُسۡمِعٖ مَّن فِي ٱلۡقُبُورِ ٢٢
And not equal are the living and the dead. Indeed, Allāh causes to hear whom He wills, but you cannot make hear those in the graves.1
إِنۡ أَنتَ إِلَّا نَذِيرٌ ٢٣
You, [O Muḥammad], are not but a warner.
إِنَّآ أَرۡسَلۡنَٰكَ بِٱلۡحَقِّ بَشِيرٗا وَنَذِيرٗاۚ وَإِن مِّنۡ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٞ ٢٤
Indeed, We have sent you with the truth as a bringer of good tidings and a warner. And there was no nation but that there had passed within it a warner.
اور نہیں برابر (ہو سکتا) اندھا اور دیکھنے والا(19) اور نہ اندھیر ے اور نہ روشنی(20) اور نہ سایہ اور نہ دھوپ(21) اورنہیں برابر (ہو سکتے) زندے اور نہ مردے، بے شک اللہ سنوا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور نہیں آپ سنا سکتے ان کو جو قبروں میں ہیں(22) نہیں ہیں آپ مگر صرف ڈرانے والے(23) بلاشبہ بھیجا ہم نے آپ کو حق کے ساتھ، خوشخبری دینے اور ڈرانے والا، اور نہیں ہوئی کوئی امت، مگر ضرور گزرا ہے اس میں ایک ڈرانے والا(24)
[23-19] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ حکمت الٰہی اور اس نے اپنے بندوں کو جو فطرت عطا کی ہے، ان کے لحاظ سے اضداد برابر نہیں ہوتیں، فرمایا:﴿وَمَا يَسۡتَوِي الۡاَعۡمٰى ﴾ ’’اور نہیں ہے برابر اندھا‘‘ جس کی بینائی نہیں ﴿وَالۡبَصِيۡرُۙ۰۰ وَلَا الظُّلُمٰتُ وَلَا النُّوۡرُۙ۰۰ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الۡحَرُوۡرُۚ۰۰ وَمَا يَسۡتَوِي الۡاَحۡيَآءُ وَلَا الۡاَمۡوَاتُ﴾ ’’اور دیکھنے والا، نہ اندھیرے اور روشنی، نہ سایہ اور دھوپ (برابر ہیں) اور نہ زندے اور مردے یکساں ہوتے ہیں۔‘‘ جیسا کہ تمھارے نزدیک بھی یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت اور کسی شک و شبہے سے پاک ہے کہ مذکورہ بالا تمام چیزیں برابر نہیں ہیں، تب تمھیں یہ حقیقت بھی معلوم ہونی چاہیے کہ معنوی طور پر متضاد اشیاء میں عدم مساوات زیادہ اولیٰ ہے۔پس مومن اور کافر برابر نہیں ہیں، نہ ہدایت یافتہ اور گمراہ برابر ہیں، نہ عالم اور جاہل برابر ہیں، نہ اہل جنت اور اہل جہنم برابر ہیں، نہ زندہ دل اور مردہ دل برابر ہیں۔ ان مذکورہ اشیاء کے درمیان اتنا فرق اور اس قدر تفاوت ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔جب تمام اشیاء کے مراتب معلوم ہو گئے اور ان کے درمیان امتیاز واقع ہو گیا اور وہ اشیاء اپنی اضداد میں سے واضح ہو گئیں جن کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے، تو ایک دوراندیش اور عقل مند شخص کو اپنے لیے وہی چیز منتخب کرنی چاہیے جو بہتر اور ترجیح دیے جانے کی مستحق ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُسۡمِعُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اللہ جس کو چاہتا ہے سنوادیتا ہے۔‘‘ یعنی جسے چاہتا ہے فہم و قبول کی سماعت عطا کرتا ہے کیونکہ وہی راہ دکھانے والا اور توفیق عطا کرنے والا ہے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِي الۡقُبُوۡرِ ﴾ ’’اور آپ ان کو جو قبروں میں پڑے ہیں نہیں سنا سکتے۔‘‘ یعنی جن کے دل مردہ ہو چکے ہیں آپ ان کو نہیں سنا سکتے، جس طرح آپ کا قبر کے مردوں کو بلانا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا، اسی طرح اعراض کرنے والے معاند کو بھی آپ کا بلانا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ آپ کا کام صرف ڈرانااور ان تک اس حکم کو پہنچا دینا ہے جس کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے، خواہ وہ اس کو قبول کریں یا نہ کریں۔ ﴿اِنۡ اَنۡتَ اِلَّا نَذِيۡرٌ﴾’’آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں۔ ‘‘
[24]﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾’’بے شک ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔‘‘ یعنی ہم نے آپ کو مجرد حق کے ساتھ بھیجا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وقت مبعوث فرمایا جب رسولوں کی بعثت منقطع تھی، راہ حق کے نشان گم ہو چکے تھے، علم مٹ چکا تھا اور خلائق آپ کی بعثت کی سخت ضرورت مند تھی۔ تب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا اور یوں آپ کو دین قیم اور صراط مستقیم کے ساتھ مبعوث فرمایا جو باطل نہیں، سراسر حق ہے، اسی طرح ہم نے آپ کو یہ قرآن عظیم دے کر بھیجا جو دانائی سے لبریز، یاد دہانی پر مشتمل، سراسر حق اور صداقت ہے۔ ﴿بَشِيۡرًا ﴾ آپ کو ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو آپ کی اطاعت کریں۔ ﴿وَّنَذِيۡرًا ﴾ اور ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو آپ کی نافرمانی کریں اور آپ کوئی نئے رسول تو نہیں ہیں۔ نہیں ہے۔ ﴿مِّنۡ اُمَّةٍ﴾ ’’کوئی بھی امت‘‘ سابقہ امتوں اور گذشتہ ادوار میں سے ﴿اِلَّا خَلَا فِيۡهَا نَذِيۡرٌ ﴾ ’’مگر اس میں ڈرانے والا آیا ہے‘‘ تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو۔ ﴿لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل سے زندہ رہے۔‘‘
35:25–26Page 437
وَإِن يُكَذِّبُوكَ فَقَدۡ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَبِٱلزُّبُرِ وَبِٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡمُنِيرِ ٢٥
And if they deny you - then already have those before them denied. Their messengers came to them with clear proofs and written ordinances and with the enlightening Scripture.
ثُمَّ أَخَذۡتُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۖ فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيرِ ٢٦
Then I seized the ones who disbelieved, and how [terrible] was My reproach.
اوراگر وہ جھٹلاتے ہیں آپ کو تو(نئی بات نہیں) تحقیق جھٹلایا تھا ان لوگوں نے بھی جو ان سے پہلے ہوئے، آئے تھے ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلوں کے ساتھ، اور صحیفوں کے ساتھ اور کتا ب روشن کے ساتھ(25) پھر پکڑ لیا میں نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، پس (دیکھو) کیسے (نازل) ہوا ان پر میرا عذاب (26)
[25] اے رسول! اگر یہ مشرکین آپ کو جھٹلاتے ہیں تو آپ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں جس کو جھٹلایا گیا ہو ﴿فَقَدۡ كَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١ۚ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’پس جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی تکذیب کر چکے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ ان کے رسول واضح دلائل کے ساتھ آئے جو حق اور ان رسولوں کی خبر کی صداقت پر دلالت کرتے تھے ﴿وَبِالزُّبُرِ ﴾ یعنی لکھی ہوئی کتابوں کے ساتھ آئے جن میں بہت سے احکام جمع تھے ﴿وَبِالۡكِتٰبِ الۡمُنِيۡرِ ﴾ یعنی جو اپنی سچی خبروں اور عدل پر مبنی احکام میں پوری طرح روشن ہے۔ ان کا اپنے رسولوں کو جھٹلانا، کسی اشتباہ اور رسولوں کی دعوت میں کسی کمی پر مبنی نہ تھا بلکہ اسکا سبب محض ان کا ظلم اور عناد تھا۔
[26]﴿ثُمَّ اَخَذۡتُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’، پھر میں نے (مختلف انواع کے عذاب کے ذریعے سے) ان کو پکڑا جنھوں نے کفر کیا تھا۔‘‘ ﴿فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيۡرِ ﴾ ’’پس میرا عذاب کیسا سخت تھا۔‘‘ ان پر؟ ان کے لیے نہایت سخت سزا تھی۔ اس لیے تم رسول کریم (ﷺ)کی تکذیب سے بچو ورنہ تم پر بھی وہی دردناک اور رسوا کن عذاب نازل ہو جائے گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے کائنات میں متضاد اشیاء کو تخلیق کیا جن کی اصل اور مادہ ایک ہے، مگر اس کے باوجود ان میں فرق اور تفاوت ہے جو معروف اور سب پر عیاں ہے تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت تامہ پر استدلال کریں۔
35:27–28Page 437
أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَخۡرَجۡنَا بِهِۦ ثَمَرَٰتٖ مُّخۡتَلِفًا أَلۡوَٰنُهَاۚ وَمِنَ ٱلۡجِبَالِ جُدَدُۢ بِيضٞ وَحُمۡرٞ مُّخۡتَلِفٌ أَلۡوَٰنُهَا وَغَرَابِيبُ سُودٞ ٢٧
Do you not see that Allāh sends down rain from the sky, and We produce thereby fruits of varying colors? And in the mountains are tracts, white and red of varying shades and [some] extremely black.
وَمِنَ ٱلنَّاسِ وَٱلدَّوَآبِّ وَٱلۡأَنۡعَٰمِ مُخۡتَلِفٌ أَلۡوَٰنُهُۥ كَذَٰلِكَۗ إِنَّمَا يَخۡشَى ٱللَّهَ مِنۡ عِبَادِهِ ٱلۡعُلَمَٰٓؤُاْۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ ٢٨
And among people and moving creatures and grazing livestock are various colors similarly. Only those fear Allāh, from among His servants, who have knowledge. Indeed, Allāh is Exalted in Might and Forgiving.
کیا نہیں دیکھا آپ نے، بلاشبہ اللہ نے نازل کیا آسمان سے پانی، پھر نکالے ہم نے اس کے ذریعے سے ایسے پھل کہ مختلف ہیں ان کے رنگ، اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ، مختلف ہیں ان کے رنگ اور بہت گہرے کالے سیاہ(27) اور انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں سے بھی، مختلف ہیں ان کے رنگ اسی طرح بلاشبہ ڈرتے ہیں اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف علماء ہی، بلاشبہ اللہ خوب غالب ہے بہت بخشنے والا(28)
[27] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے مختلف اقسام کے پھل پیدا کیے اور مختلف انواع کی نباتات اگائیں، دیکھنے والے ان کا مشاہدہ کرتے ہیں حالانکہ ان کو سیراب کرنے والا پانی ایک اور ان کو اگانے والی زمین ایک ہے۔اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو زمین کے لیے میخیں بنایا، آپ دیکھیں کہ پہاڑ گویا ایک دوسرے سے ملے ہوئے بلکہ وہ ایک ہی پہاڑ نظر آئیں گے، ان پہاڑوں کے رنگ مختلف ہیں، ان کے اندر سفید، زرد، سرخ اور گہرے سیاہ رنگ کی دھاریاں ہیں۔
[28] اللہ تعالیٰ نے انسانوں، چوپایوں اور مویشیوں کو پیدا کیا ان کو مختلف رنگ، اوصاف، آوازیں اور مختلف صورتیں عطا کیں جو آنکھوں کے سامنے عیاں ہیں اور دیکھنے والے ان کا مشاہدہ کر سکتے ہیں ان تمام چیزوں کی اصل اور ان کا مادہ ایک ہے۔ان کے درمیان تفاوت اللہ کی مشیّت پر عقلی دلیل ہے، جس نے ہر ایک کو مخصوص رنگ اور وصف سے مختص کیا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلیل ہے کہ اس نے ان کو وجود بخشا، یہ اس کی حکمت اور رحمت ہے کہ ان کو اس اختلاف اور تفاوت سے نوازا۔ اس تفاوت میں بے شمار فوائد اور منافع پنہاں ہیں اس تفاوت کے سبب سے راستوں کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور لوگ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں ۔نیز یہ اللہ تعالیٰ کے وسعت علم کی دلیل ہے، نیز اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا، مگر غافل شخص ان تمام اشیاء کو غفلت کی نظر سے دیکھتا ہے ان چیزوں کو دیکھ کر اسے نصیحت حاصل نہیں ہوتی ان چیزوں سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور اپنے فکر راست کی بنا پر ان میں پنہاں اللہ تعالیٰ کی حکمت کو جانتے ہیں۔ بنا بریں فرمایا:﴿اِنَّمَا يَخۡشَى اللّٰهَ مِنۡ عِبَادِهِ الۡعُلَمٰٓؤُا ﴾ ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ سے تو اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔‘‘ جو شخص سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتا ہے وہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ خشیت الٰہی اسے گناہوں سے باز رہنے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی تیاری کرنے کی موجب بنتی ہے۔یہ آیت کریمہ علم کی فضیلت کی دلیل ہے کیونکہ علم انسان کو خشیت الٰہی کی طرف دعوت دیتا ہے۔ خشیت الٰہی کے حامل لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اکرام و تکریم کے اہل ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنۡ خَشِيَ رَبَّهٗ﴾(البینۃ:98؍8) ’’اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے یہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈر گیا۔‘‘ ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ (کامل) غلبے کا مالک ہے‘‘ یہ اس کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے متضاد انواع واقسام کی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿غَفُوۡرٌ ﴾ ’’بخشنے والا ہے‘‘ توبہ کرنے والوں کے گناہوں کو۔
35:29–30Page 437
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَتۡلُونَ كِتَٰبَ ٱللَّهِ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنفَقُواْ مِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ سِرّٗا وَعَلَانِيَةٗ يَرۡجُونَ تِجَٰرَةٗ لَّن تَبُورَ ٢٩
Indeed, those who recite the Book of Allāh and establish prayer and spend [in His cause] out of what We have provided them, secretly and publicly, [can] expect a transaction [i.e., profit] that will never perish -
لِيُوَفِّيَهُمۡ أُجُورَهُمۡ وَيَزِيدَهُم مِّن فَضۡلِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ غَفُورٞ شَكُورٞ ٣٠
That He may give them in full their rewards and increase for them of His bounty. Indeed, He is Forgiving and Appreciative.1
بلاشبہ وہ لوگ جو تلاوت کرتے ہیں کتاب اللہ کی اور قائم کرتے ہیں نماز اور خرچ کرتے ہیں اس میں سے جو دیا ہم نے ان کو، پوشیدہ اور علانیہ، امید کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کی، جو ہرگز نہیں نقصان والی(29)تاکہ پورے دے وہ (اللہ) ان کو اجر ان کے اور زیادہ دے ان کو اپنے فضل سے، بے شک وہ بہت بخشنے والا، ازحد قدردان ہے(30)
[29]﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يَتۡلُوۡنَ كِتٰبَ اللّٰهِ ﴾ ’’بے شک جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں۔‘‘ یعنی اس کے اوامر میں اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے نواہی کو ترک کرتے ہیں، اس کی دی ہوئی خبروں کی تصدیق کر کے انھیں اپنا عقیدہ بناتے ہیں اور ان اقوال کو پسند نہیں کرتے جو اس کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس کے معانی میں غوروخوض اور ان کے فہم کے حصول کی خاطر اس کے الفاظ کی تلاوت کرتے ہیں، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے کتاب اللہ کی تلاوت کے عموم کو بیان کرنے کے بعد نماز کو مخصوص فرمایا، جو دین کا ستون، مسلمانوں کے لیے روشنی، ایمان کی میزان اور دعوی ٔ اسلام کی صداقت کی علامت ہے نیز اقارب، مساکین اور یتیموں پر زکاۃ، کفارات، نذر اور صدقات کے مال کو خرچ کرنے کو مخصوص فرمایا۔ ﴿سِرًّا وَّعَلَانِيَةً ﴾ ’’کھلے چھپے‘‘ تمام اوقات میں۔ ﴿يَّرۡجُوۡنَ ﴾ اس کے ذریعے سے وہ امید کرتے ہیں ﴿تِجَارَةً لَّنۡ تَبُوۡرَ﴾ ایسی تجارت کی، جو کبھی کساد کا شکار ہو گی نہ فساد کا، بلکہ وہ سب سے بڑی، عالی شان اور افضل ترین تجارت ہے، آگاہ رہو کہ وہ تجارت ان کے رب کی رضا، اس کے بے پایاں ثواب کا حصول، اس کی ناراضی اور عذاب سے نجات ہے۔ اس آیت کریمہ میں ان اہل ایمان کے اعمال میں اخلاص کی طرف اشارہ ہے، نیز اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ ان اعمال میں ان کے مقاصد برے اور نیت فاسد نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ جس چیز کی امید کرتے تھے وہ ان کو حاصل ہو گئی۔
[30]﴿لِيُوَفِّيَهُمۡ اُجُوۡرَهُمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ دے ان کو ان کا پورا پورا اجر‘‘ یعنی ان کے اعمال کی قلت و کثرت ان کے حسن و قبح کے اعتبار سے ان کا اجر۔ ﴿وَيَزِيۡدَهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اجر سے بڑھ کر نوازے گا۔ ﴿اِنَّهٗ غَفُوۡرٌ شَكُوۡرٌ ﴾ ’’بے شک وہ بخشنے والا قدر دان ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بخش دے گا اور ان کی تھوڑی سی نیکی کو بھی قبولیت کا شرف بخشے گا۔
35:31–35Page 438
وَٱلَّذِيٓ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ هُوَ ٱلۡحَقُّ مُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِعِبَادِهِۦ لَخَبِيرُۢ بَصِيرٞ ٣١
And that which We have revealed to you, [O Muḥammad], of the Book is the truth, confirming what was before it. Indeed Allāh, of His servants, is Aware and Seeing.
ثُمَّ أَوۡرَثۡنَا ٱلۡكِتَٰبَ ٱلَّذِينَ ٱصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَاۖ فَمِنۡهُمۡ ظَالِمٞ لِّنَفۡسِهِۦ وَمِنۡهُم مُّقۡتَصِدٞ وَمِنۡهُمۡ سَابِقُۢ بِٱلۡخَيۡرَٰتِ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَضۡلُ ٱلۡكَبِيرُ ٣٢
Then We caused to inherit the Book those We have chosen of Our servants;1 and among them is he who wrongs himself [i.e., sins], and among them is he who is moderate, and among them is he who is foremost in good deeds by permission of Allāh. That [inheritance] is what is the great bounty.
جَنَّٰتُ عَدۡنٖ يَدۡخُلُونَهَا يُحَلَّوۡنَ فِيهَا مِنۡ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٖ وَلُؤۡلُؤٗاۖ وَلِبَاسُهُمۡ فِيهَا حَرِيرٞ ٣٣
[For them are] gardens of perpetual residence which they will enter. They will be adorned therein with bracelets of gold and pearls, and their garments therein will be silk.
وَقَالُواْ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِيٓ أَذۡهَبَ عَنَّا ٱلۡحَزَنَۖ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٞ شَكُورٌ ٣٤
And they will say, "Praise to Allāh, who has removed from us [all] sorrow. Indeed, our Lord is Forgiving and Appreciative -
ٱلَّذِيٓ أَحَلَّنَا دَارَ ٱلۡمُقَامَةِ مِن فَضۡلِهِۦ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٞ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٞ ٣٥
He who has settled us in the home of duration [i.e., Paradise] out of His bounty. There touches us not in it any fatigue, and there touches us not in it weariness [of mind]."
اور وہ جو وحی کی ہم نے آپ کی طرف کتاب سے، وہ حق ہے ، تصدیق کرنے والی ہے اس (کتاب) کی جو اس سے پہلے ہے، بے شک اللہ ساتھ اپنے بندوں کے البتہ خوب خبردار، دیکھنے والا ہے(31) پھر وارث کیا ہم نے کتاب کا ان لوگوں کو جن کو ہم نے چن لیا اپنے بندوں میں سے، پس بعض تو ان میں سے ظلم کرنے والے ہیں اپنے نفس پر اور بعض ان میں میانہ رو ہیں اور بعض ان میں سے سبقت کرنے والے ہیں نیکیوں میں، اللہ کے حکم سے یہی ہے وہ فضل بہت بڑا(32) باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے، داخل ہوں گے وہ ان میں پہنائے جائیں گے وہ ان میں کنگن سونے اور موتی کے اور ان کا لباس ہو گا اس میں ریشم کا(33)اور وہ کہیں گے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ جس نے دور کر دیا ہم سے غم، بے شک ہمارا رب بہت بخشنے والا قدر دان ہے (34)وہ جس نے اتارا ہمیں ہمیشہ رہنے کے گھر میں اپنے فضل سے اور نہیں پہنچتی ہمیں اس میں کوئی تکلیف، اور نہیں پہنچتی ہمیں اس میں کوئی تھکاوٹ(35)
[31] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کتاب جو اس نے اپنے رسول ﷺ کی طرف وحی کی ﴿هُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’وہ حق ہے۔‘‘ کیونکہ وہ جن امور پر مشتمل ہے وہ حق ہیں اور اس نے حق کے تمام اصولوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔ گویا تمام حق صرف اسی کتاب کے اندر ہے، اس لیے تمھارے دلوں میں حق کے بارے میں کوئی تنگی نہ آئے اور تم حق سے تنگ آؤ نہ اسے ہیچ سمجھو۔ جب یہ کتاب حق ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ تمام مسائل الٰہیہ اور امور غیبیہ جن پر یہ کتاب دلالت کرتی ہے واقع کے مطابق ہوں، لہٰذا یہ جائز نہیں کہ اس سے کوئی ایسی مراد لی جائے جو اس کے ظاہر اور اس چیز کے خلاف ہو جس پر اس کا ظاہر دلالت کرتا ہے۔ ﴿مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ یعنی گزشتہ کتابوں اور رسولوں کی تصدیق کرتی ہے کیونکہ ان کتابوں اور رسولوں نے اس کتاب کے بارے میں پیش گوئی کی تھی اس لیے جب یہ کتاب آ گئی تو اس سے ان کی صداقت ظاہر ہو گئی اور چونکہ گزشتہ کتابوں نے اس کتاب کے بارے میں پیشین گوئی کرتے ہوئے خوشخبری دی اور یہ اس پیشین گوئی کی تصدیق کرتی ہے، اس لیے کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ کتب سابقہ پر ایمان لائے اور قرآن کا انکار کرے کیونکہ اس کا قرآن کو نہ ماننا، ان کتابوں پر اس کے ایمان کی نفی کرتا ہے کیونکہ ان کی جملہ خبروں میں سے ایک خبر قرآن کے بارے میں بھی ہے، نیز ان کی خبریں قرآن کی دی ہوئی خبروں کے مطابق ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِيۡرٌۢ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ اپنے بندوں سے خبردار اور دیکھنے والا ہے۔‘‘ اس لیے وہ ہر قوم اور ہر فرد کو وہی کچھ عطا کرتا ہے جو اس کے احوال کے لائق ہے۔ سابقہ شریعتیں اپنے اپنے وقت اور اپنے اپنے زمانے کے لائق تھیں، اس لیے اللہ تعالیٰ رسول کے بعد رسول بھیجتا رہا یہاں تک کہ حضرت محمد مصطفیٰﷺ پر سلسلۂ رسالت کو ختم کر دیا… پس حضرت محمد رسول اللہ ﷺ یہ شریعت لے کر تشریف لائے جو قیامت تک کے لیے مخلوق کے تمام مصالح کے مطابق ہے اور ہر وقت ہر بھلائی کی ضامن ہے۔چونکہ یہ امت کامل ترین عقل، بہترین افکار، نرم ترین قلوب اور پاک ترین نفوس کی حامل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے دین اسلام اور دین اسلام کو اس کے لیے چن لیا۔
[32] اس لیے فرمایا: ﴿ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡكِتٰبَ الَّذِيۡنَ اصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا ﴾ ’’ پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے چن لیا۔‘‘ اور ان لوگوں سے مراد امت محمدیہ ہے۔ ﴿فَمِنۡهُمۡ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ﴾ ’’پس کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں، ، ایسے گناہوں کے ارتکاب سے جو کفر سے کم تر ہیں۔ ﴿وَمِنۡهُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ﴾ ’’اور کچھ میانہ رو ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو محرمات کو ترک کرتے ہوئے صرف واجبات پر اکتفا کرتے ہیں۔ ﴿وَمِنۡهُمۡ سَابِقٌۢ بِالۡخَيۡرٰتِ ﴾ یعنی کچھ نیکیوں میں سبقت اور جدوجہد کرنے والے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو فرائض ادا کرتے ہیں، نہایت کثرت سے نوافل کا اہتمام کرتے ہیں اور محرمات و مکروہات کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس کتاب کی وراثت کے لیے ان تمام لوگوں کو چن لیا ہے، اگرچہ ان کے مراتب میں تفاوت اور ان کے احوال میں فرق ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے اس وراثت میں حصہ ہے حتیٰ کہ اس کے لیے بھی اس وراثت میں حصہ ہے جس نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا کیونکہ اس کے پاس اصل ایمان، علوم ایمان اور اعمال میں سے جو کچھ ہے وہ کتاب کی وراثت ہے۔ کتاب کی وراثت سے مراد، اس کا علم، اس پر عمل، اس کے الفاظ کا پڑھنا اور اس کے معانی کا استنباط ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿بِـاِذۡنِ اللّٰهِ ﴾ نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے کی طرف راجع ہے تاکہ وہ اپنے عمل کے بارے میں کسی دھوکے میں مبتلا نہ ہو جائے کیونکہ اس نے نیکیوں کی طرف سبقت صرف اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی مدد سے کی ہے، لہٰذا اس کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جس نعمت سے نوازا ہے وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَضۡلُ الۡكَبِيۡرُ﴾ یعنی ان لوگوں کے لیے، جنھیں اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے، اس جلیل القدر کتاب کی وراثت بہت بڑا فضل ہے جس کے سامنے تمام نعمتیں ہیچ ہیں۔ مطلق طور پر سب سے زیادہ جلیل القدر نعمت اور سب سے بڑا فضل اس عظیم کتاب کی وراثت ہے۔
[33] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان لوگوں کے اجر کا ذکر فرمایا جن کو اس نے یہ وراثت عطا کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿جَنّٰتُ عَدۡنٍ يَّدۡخُلُوۡنَهَا۠﴾ ’’وہ ہمیشہ رہنے والے باغات میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ ایسے باغات ہوں گے جو درختوں، گہرے سایوں، خوبصورت پھلواریوں، اچھلتی ہوئی ندیوں، عالی شان محلات اور آراستہ کیے ہوئے گھروں پر مشتمل ہوں گے، جو ہمیشہ رہیں گے اور کبھی زائل نہیں ہوں گے۔ وہاں ایک ایسی خوبصورت زندگی ہو گی جو کبھی ختم نہ ہو گی۔ (عَدْنٌ) سے مراد ’’اقامت‘‘ (قیام کرنا) ہے تو (جنَّاتُ عَدْنٍ) کا معنی باغاتِ اقامت ہے۔ باغات کی اقامت کی طرف اضافت کی وجہ یہ ہے کہ دائمی اقامت اور ہمیشگی ان باغات اور ان کے رہنے والوں کا وصف ہے۔ ﴿يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ ﴾ ’’وہاں انھیں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔‘‘ یہ وہ زیور ہے جو ہاتھوں میں پہنا جاتا ہے۔ وہ جس طرح چاہیں گے انھیں پہنیں گے اور یہ زیور انھیں دیگر تمام زیوروں سے زیادہ خوبصورت دکھائی دے گا۔ جنت میں زیور پہننے میں مرد اور عورتیں برابر ہوں گے۔ ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ وہ جنت میں پہنائے جائیں گے ﴿لُؤۡلُؤًا ﴾ ’’موتی‘‘ جو ان کے لباس اور جسم پر آراستہ ہوں گے۔ ﴿وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾ ’’اور وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا‘‘ یعنی باریک اور موٹا سبز ریشم۔
[34]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب ان پر نعمتوں کا اتمام اور لذتوں کی تکمیل ہو جائے گی تو ﴿قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡۤ اَذۡهَبَ عَنَّا الۡحَزَنَ ﴾ ’’وہ کہیں گے ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے دور کر دیا۔‘‘ یہ ہر قسم کے حزن و غم کو شامل ہے، لہٰذا انھیں حسن و جمال اور جسم میں کسی نقص کی بنا پر کوئی حزن و غم پیش آئے گا نہ ماکولات و مشروبات اور لذات میں کمی کی وجہ سے اور نہ جنت میں عدم دوام ہی کی وجہ سے کوئی غم لاحق ہوگا۔ اہل جنت ایسی نعمتوں میں رہیں گے جن سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہ ہو گی اور ابد الآباد تک ان نعمتوں میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوۡرٌ ﴾ ’’بے شک ہمارا رب بخشنے والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہماری تمام لغزشوں کو بخش دیا ہے ﴿شَكُوۡرٌ﴾ ’’قدر دان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہماری نیکیوں کو قبول فرما کر ہماری نیکیوں کی قدر کی، ان نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کیا اور ہمیں اپنے فضل سے ہمارے اعمال اور ہماری امیدوں سے بڑھ کر بہرہ ور کیا۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے ذریعے سے ہر مکروہ امر سے نجات پائی۔ اس کے فضل و کرم اور اس کی قدر دانی کی بنا پر جنت میں ہر مرغوب و محبوب چیز حاصل کی۔
[35]﴿الَّذِيۡۤ اَحَلَّنَا ﴾ ’’جس نے ہمیں اتارا۔‘‘ یعنی اس نے ہمیں جنت میں عبوری اور عارضی طور پر نازل نہیں فرمایا بلکہ مستقل طور پر نازل فرمایا ﴿دَارَ الۡمُقَامَةِ ﴾ ایسے گھر میں جہاں دائمی قیام ہے، جہاں بے شمار بھلائیوں، کبھی نہ ختم ہونے والی مسرتوں اور کسی قسم کے تکدر کے عدم وجود کی وجہ سے قیام کی خواہش کی جاتی ہے اور اس کا ہمیں جنتوں میں نازل کرنا ﴿مِنۡ فَضۡلِهٖ﴾ ہمارے اعمال کے سبب سے نہیں بلکہ اس کے فضل و کرم سے ہمیں جنت عطا ہوئی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو ہم کبھی اس مقام پر نہ پہنچ سکتے۔ ﴿لَا يَمَسُّنَا فِيۡهَا نَصَبٌ وَّلَا يَمَسُّنَا فِيۡهَا لُغُوۡبٌ ﴾ ’’یہاں ہم کو کوئی رنج پہنچے گا نہ تھکان۔‘‘ یعنی بدن، قلب اور دیگر قویٰ میں کثرت تمتع کی وجہ سے کوئی تھکاوٹ نہ ہو گی۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں اہل جنت کے بدن کو کامل زندگی عطا کرے گا اور انھیں دائمی طور پر راحت کے اسباب مہیا کرے گا۔ ان کے یہ اوصاف ہوں گے کہ ان کو کوئی کمزوری لاحق ہو گی نہ تھکن اور نہ کسی قسم کا حزن و غم... اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جنت میں نیند نہیں آئے گی کیونکہ نیند تو صرف تھکن دور کرنے اور راحت حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے... اور اہل جنت کو تو تھکن لاحق نہیں ہو گی... اور نیند گویا ایک چھوٹی موت ہے اور اہل جنت کو کبھی موت نہیں آئے گی... اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اہل جنت میں شامل کرے (آمین)
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences