As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
An-Nisa 4:71–79
4:71–74Page 89
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ خُذُواْ حِذۡرَكُمۡ فَٱنفِرُواْ ثُبَاتٍ أَوِ ٱنفِرُواْ جَمِيعٗا ٧١
O you who have believed, take your precaution and [either] go forth in companies or go forth all together.
وَإِنَّ مِنكُمۡ لَمَن لَّيُبَطِّئَنَّ فَإِنۡ أَصَٰبَتۡكُم مُّصِيبَةٞ قَالَ قَدۡ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيَّ إِذۡ لَمۡ أَكُن مَّعَهُمۡ شَهِيدٗا ٧٢
And indeed, there is among you he who lingers behind; and if disaster strikes you, he says, "Allāh has favored me in that I was not present with them."
وَلَئِنۡ أَصَٰبَكُمۡ فَضۡلٞ مِّنَ ٱللَّهِ لَيَقُولَنَّ كَأَن لَّمۡ تَكُنۢ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُۥ مَوَدَّةٞ يَٰلَيۡتَنِي كُنتُ مَعَهُمۡ فَأَفُوزَ فَوۡزًا عَظِيمٗا ٧٣
But if bounty comes to you from Allāh, he will surely say, as if [i.e., showing that] there had never been between you and him any affection, "Oh, I wish I had been with them so I could have attained a great attainment."1
۞ فَلۡيُقَٰتِلۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يَشۡرُونَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا بِٱلۡأٓخِرَةِۚ وَمَن يُقَٰتِلۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيُقۡتَلۡ أَوۡ يَغۡلِبۡ فَسَوۡفَ نُؤۡتِيهِ أَجۡرًا عَظِيمٗا ٧٤
So let those fight in the cause of Allāh who sell the life of this world for the Hereafter. And he who fights in the cause of Allāh and is killed or achieves victory - We will bestow upon him a great reward.
اے ایمان والو! لے لو تم اپنے بچاؤ کا سامان، پس نکلو تم گروہ گروہ یا نکلو تم اکٹھے(71) اور بلاشبہ بعض تم میں سے وہ ہیں جو یقیناً دیر کرتے ہیں (نکلنے میں) پس اگر پہنچے تمھیں کوئی مصیبت تو کہتا ہے، تحقیق انعام کیا اللہ نے مجھ پر کہ نہیں تھا میں ان کے ساتھ حاضر(72) اور البتہ اگر پہنچے تمھیں فضل اللہ کا تو وہ ضرور کہے گا، گویا کہ نہ تھی تمھارے درمیان اور اس کے درمیان کوئی دوستی، کاش کہ ہوتا میں ساتھ ان کے تو حاصل کرتا میں کامیابی بہت بڑی(73) پس چاہیے کہ لڑیں راستے میں اللہ کے، پھر وہ قتل کر دیا جائے یا غالب آجائے تو عنقریب دیں گے ہم اس کو اجر بہت بڑا(74)
[71] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے کفار دشمنوں سے چوکنے رہو۔ یہ حکم ان تمام اسباب کو شامل ہے جو دشمن کے خلاف جنگ میں مدد دیتے ہیں۔ جن کے ذریعے سے دشمن کی چالوں اور سازشوں کو ناکام بنایا جاتا اور اس کی قوت کو توڑا جاتا ہے۔ مثلاً قلعہ بندیوں اور خندقوں کا استعمال، تیر اندازی اور گھوڑ سواری سیکھنا اور ان تمام صنعتوں کا علم حاصل کرنا جو دشمن کے خلاف جنگ میں مدد دیتا ہے، وہ علوم سیکھنا جن کے ذریعے سے دشمن کے داخلی اور خارجی حالات اور ان کی سازشوں سے باخبر رہا جا سکے۔ اور اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَانۡفِرُوۡا ثُبَاتٍ ﴾ ’’جماعت جماعت ہوکر نکلا کرو۔‘‘ یعنی متفرق ہو کر جہاد کے لیے نکلو اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک جماعت یا لشکر جہاد کے لیے نکلے اور دیگر لوگ مقیم رہیں ﴿ اَوِ انۡفِرُوۡا جَمِيۡعًا ﴾ ’’یا تمام کے تمام جہاد کے لیے نکلو۔‘‘ یہ سب کچھ مصلحت، دشمن پر غلبہ حاصل کرنے اور دین میں مسلمانوں کی راحت کے تابع ہے۔ اس آیت کریمہ کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ ﴾(الانفال : 8؍60) ’’جہاں تک ہو سکے دشمن کے مقابلہ کے لیے فوجی قوت تیار کرو۔‘‘
[72] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کمزور ایمان مسلمانوں کے بارے میں آگاہ فرمایا جو کاہلی کی بنا پر جہاد سے جی چراتے ہیں۔ ﴿ وَاِنَّ مِنۡكُمۡ لَمَنۡ لَّيُبَطِّئَنَّ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے کہ عمداً دیر لگاتا ہے۔‘‘ یعنی اے اہل ایمان! تم میں سے بعض لوگ کمزوری، سستی اور بزدلی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نہیں نکلتے۔ یہی تفسیر صحیح ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس کے معنی ہیں، کہ وہ دوسروں کو جہاد کے لیے نکلنے سے روکتے ہیں۔ ایسا کرنے والے منافق تھے لیکن پہلے معنی دو لحاظ سے زیادہ صحیح ہیں۔اول: اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تم میں سے‘‘ اس پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ثانی: آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ كَاَنۡ لَّمۡ تَكُنۢۡ بَيۡنَؔكُمۡ وَبَيۡنَهٗ مَوَدَّةٌ ﴾ ’’گویا کہ تمھارے اور اس کے درمیان کوئی دوستی نہ تھی‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفار، مشرکین، منافقین اور اہل ایمان کے مابین محبت اور مودت کو منقطع کر دیا۔ نیز یہ فی الواقع ایسے ہی ہے۔ اس لیے کہ اہل ایمان کی دو قسمیں ہیں:(۱) وہ لوگ جو اپنے ایمان میں سچے ہیں، یہ صدق ایمان ان کے لیے کامل تصدیق اور جہاد کا موجب ہوتا ہے۔ (۲) وہ کمزور لوگ جو اسلام میں داخل ہوتے ہیں مگر وہ کمزور ایمان کے مالک ہوتے ہیں جہاد پر نکلنے کے لیے قوت سے محروم ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَلٰكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا …﴾(الحجرات : 49؍14) ’’عرب دیہاتی کہتے ہیں : ہم ایمان لائے۔ کہہ دیجیے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لائے۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے جہاد میں نہ نکلنے والوں کی غرض و غایت اور ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ ان کا سب سے بڑا مقصد دنیا اور اس کے چند ٹکڑے ہیں۔ ﴿ فَاِنۡ اَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةٌ ﴾ ’’پھر اگر تمھیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے‘‘ یعنی اگر تمھیں ہزیمت اٹھانا پڑتی ہے، اہل ایمان قتل ہوتے ہیں اور بعض حالات میں دشمن ظفریاب ہوتا ہے کیونکہ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی کچھ حکمت ہوتی ہے ﴿ قَالَ ﴾ یعنی جہاد سے جی چرا کر بیٹھ رہنے والا کہتا ہے ﴿ قَدۡ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيَّ اِذۡ لَمۡ اَكُنۡ مَّعَهُمۡ شَهِيۡدًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان کے ساتھ موجود نہیں تھا‘‘ وہ اپنی ضعف عقل اور ضعف ایمان کی وجہ سے سمجھتا ہے کہ جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا نعمت ہے حالانکہ یہی تو مصیبت ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ حقیقی نعمت تو اس بڑی نیکی کی توفیق ہے جس کے ذریعے سے ایمان قوی ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے بندہ عذاب اور خسران سے محفوظ ہوتا ہے اور اس جہاد میں ثواب اور رب کریم و وہاب کی رضا حاصل ہوتی ہے۔رہا جہاد چھوڑ کر بیٹھ رہنا تو اگرچہ پیچھے بیٹھ رہنے والا تھوڑا سا آرام تو کر لیتا ہے مگر اس آرام کے بعد طویل دکھ اور بہت بڑی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور وہ اس عظیم اجر و ثواب سے بھی محروم ہو جاتا ہے جو مجاہدین کو حاصل ہوتا ہے۔
[73] پھر فرمایا ﴿ وَلَىِٕنۡ اَصَابَكُمۡ فَضۡلٌ مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اگر تمھیں اللہ کا کوئی فضل مل جائے‘‘ یعنی فتح و نصرت اور مال غنیمت ﴿ لَيَقُوۡلَنَّ كَاَنۡ لَّمۡ تَكُنۢۡ بَيۡنَؔكُمۡ وَبَيۡنَهٗ مَوَدَّةٌ يّٰلَيۡتَنِيۡ كُنۡتُ مَعَهُمۡ فَاَفُوۡزَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’تو اس طرح ہے کہ گویا تم میں، اس میں دوستی تھی ہی نہیں، (افسوس کرتا اور) کہتا ہے کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو مقصد عظیم حاصل کرلیتا۔‘‘ یعنی وہ تمنا کرتا ہے کہ وہ بھی جہاد میں شریک ہوتا تاکہ وہ بھی مال غنیمت حاصل کر سکتا۔ مال غنیمت کے سوا اس کا کوئی مقصد ہے نہ اس کے سوا کسی اور چیز میں رغبت ہے۔ اے مسلمانوں کے گروہ! وہ گویا تم میں سے نہیں ہیں اور نہ ان کے درمیان اور تمھارے درمیان رشتہء ایمان کی مودت و محبت ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ تمام مومنین اپنے مفادات و مصالح اور دفع ضرر میں مشترک ہیں۔ وہ اس کے حصول پر خوش ہوتے ہیں خواہ یہ مفاد و مصلحت مومن بھائیوں میں سے کسی کے ذریعے سے حاصل ہوئے ہوں۔ اس سے محرومی پر دکھ محسوس کرتے ہیں اور جس میں ان کے دین اور دنیا کی اصلاح ہو، اس کے حصول کے لیے سب مل کر کوشش کرتے ہیں۔ اور یہ فقط دنیا کی تمنا کرتا ہے اور مذکورہ روح ایمانی سے تہی دست ہوتا ہے ۔
[74] یہ بندوں پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ ان پر اپنی رحمت کا سلسلہ منقطع کرتا ہے، نہ اپنی رحمت کے دروازے ان پر بند کرتا ہے بلکہ اگر کوئی ایسا کام کر بیٹھتا ہے جو اس کے حکم کے مطابق نہیں ہوتا تو وہ اسے اپنے نقصان کی تلافی کرنے اور اپنے نفس کی تکمیل کی دعوت دیتا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اخلاص اور اللہ کی راہ میں نکلنے کا حکم دیا ہے۔فرمایا ﴿ فَلۡيُقَاتِلۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ الَّذِيۡنَ يَشۡرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ ﴾’’پس چاہیے کہ وہ لوگ اللہ کے راستے میں لڑیں جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچتے ہیں‘‘ یہ اس آیت کی تفسیر کے بارے میں چند اقوال میں سے ایک قول ہے اور سب سے زیادہ صحیح ہے۔ ایک اور قول کے مطابق اس کا معنی یہ ہے کہ ان مومنوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا چاہیے جو اپنے ایمان میں کامل اور صدق کے حامل ہیں۔﴿ الَّذِيۡنَ يَشۡرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ یعنی آخرت میں رغبت رکھتے ہیں دنیا کو آخرت کے بدلے بیچ دیتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ کے خطاب کا رخ ہے کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنے کے لیے تیار کر کے عادی بنا لیا ہے۔ اس لیے کہ یہ لوگ ایمان کامل کے حامل ہیں جو جہاد کا تقاضا کرتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو جہاد کے لیے نہیں اٹھتے تو یہ لوگ جہاد کے لیے نکلیں یا گھر بیٹھے رہیں اللہ تعالیٰ کو ان کی پروا نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے ﴿ قُلۡ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهٖۤ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾(بنی اسرائیل : 17؍107) ’’کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے جب وہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ اپنی ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔‘‘ آیات کے آخر تک۔ نیز اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ ﴿ فَاِنۡ يَّكۡفُرۡ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدۡ وَؔكَّؔلۡنَا بِهَا قَوۡمًا لَّيۡسُوۡا بِهَا بِكٰفِرِيۡنَ﴾(الانعام : 6؍89) ’’اگر یہ کفار اس کا انکار کرتے ہیں تو ہم نے اس پر ایمان لانے کے لیے کچھ ایسے لوگوں کومقرر کر دیا ہے جو اس کا انکار کرنے والے نہیں۔‘‘بعض کہتے ہیں کہ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ لڑائی کرنے والے مجاہد کو کفار کے خلاف لڑنا چاہیے جنھوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خرید لی ہے۔ تب اس صورت میں آیت کریمہ میں موجود لفظ (اَلَّذِیْنَ) مفعول ہونے کی بنا پر نصب کے مقام پر ہے۔فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يُّقَاتِلۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو لڑتا ہے اللہ کے راستے میں‘‘ یعنی یہ جہاد ہو جس کا اللہ اور اس کے رسولﷺنے حکم دیا ہے اور بندہ اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص اور اس کی رضا کا قصد رکھتا ہو ﴿ فَيُقۡتَلۡ اَوۡ يَغۡلِبۡ فَسَوۡفَ نُؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’پس وہ قتل کر دیا جائے یا غالب آجائے، ہم اسے اجر عظیم عطا کریں گے‘‘ یعنی یہ اجر ان کے دین و ایمان میں اضافہ، مال غنیمت اور ثنائے حسن کی صورت میں عطا ہو گا۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت میں وہ ثواب تیار کر رکھا ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں اس کا کبھی گزر ہوا۔
4:75Page 90
وَمَا لَكُمۡ لَا تُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلۡمُسۡتَضۡعَفِينَ مِنَ ٱلرِّجَالِ وَٱلنِّسَآءِ وَٱلۡوِلۡدَٰنِ ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَآ أَخۡرِجۡنَا مِنۡ هَٰذِهِ ٱلۡقَرۡيَةِ ٱلظَّالِمِ أَهۡلُهَا وَٱجۡعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيّٗا وَٱجۡعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا ٧٥
And what is [the matter] with you that you fight not in the cause of Allāh and [for] the oppressed among men, women and children who say, "Our Lord, take us out of this city of oppressive people and appoint for us from Yourself a protector and appoint for us from Yourself a helper"?
اور کیا ہے تمھیں کہ نہیں لڑتے تم راستے میں اللہ کے اور ان لوگوں کی خاطر جو کمزور ہیں مردوں اور عورتوں اور بچوں میں سے؟ وہ جو کہتے ہیں، اے ہمارے رب! نکال ہمیں اس بستی سے کہ ظالم ہیں اس کے باشندے اور کر دے ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی حمایتی اور کر دے ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی مددگار(75)
[75] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے اس کی راہ میں جہاد کی ترغیب ہے نیز یہ کہ جہاد ان پر فرض کر دیا گیا ہے اور ترک جہاد ان کے لیے بہت بڑی ملامت کا باعث ہو گا۔ ﴿ وَمَا لَكُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’تمھیں کیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں لڑتے نہیں؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ مستضعفین مرد، عورتیں اور بچے جن کے پاس کوئی چارہ ہے نہ ان کے پاس آزادی حاصل کرنے کا کوئی راستہ اور اس کے ساتھ ساتھ انھیں دشمنوں کے ظلم و ستم کا سامنا ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہیں کہ وہ ان کو اس بستی سے نکالے جس کے باشندے کفر و شرک کے ارتکاب کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں اہل ایمان کو اذیتیں دے کر، ان کو اللہ کے راستے سے روک کر اور انھیں دعوت دین اور ہجرت سے منع کر کے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ان کا کوئی ولی اور مددگار مقرر فرما دے جو انھیں اس ظالم بستی سے نکال لے جائے۔ تب اس صورت میں جہاد تمھارے بچوں، عورتوں اور تمھاری عزت و ناموس کے دفاع کے زمرے میں شمار ہو گا۔ کیونکہ جہاد تو وہ ہے جس میں کفار کے مقابلے کی خواہش ہو۔ جہاد کی اگرچہ بہت بڑی فضیلت ہے اور جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کے لیے اس سے بڑھ کر ملامت ہے۔ تاہم وہ جہاد جس کے ذریعے سے اہل ایمان مستضعفین کو کفار سے نجات دلائی جاتی ہے اجر و ثواب کے اعتبار سے سب سے عظیم اور فائدے کے لحاظ سے سب سے بڑا جہاد ہے کیونکہ یہ دشمنوں سے دفاع کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔
4:76Page 90
ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِ ٱلطَّٰغُوتِ فَقَٰتِلُوٓاْ أَوۡلِيَآءَ ٱلشَّيۡطَٰنِۖ إِنَّ كَيۡدَ ٱلشَّيۡطَٰنِ كَانَ ضَعِيفًا ٧٦
Those who believe fight in the cause of Allāh, and those who disbelieve fight in the cause of ṭāghūt.1 So fight against the allies of Satan. Indeed, the plot of Satan has ever been weak.
وہ لوگ جو ایمان لائے، وہ لڑتے ہیں راستے میں اللہ کےاور وہ جنھوں نے کفر کیا، وہ لڑتے ہیں راستے میں شیطان کے، پس لڑو تم دوستوں سے شیطان کے، بلاشبہ مکر شیطان کا ہے نہایت کمزور(76)
[76]یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر ہے کہ اہل ایمان اس کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ ﴾’’اور کافر طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں‘‘ یہاں طاغوت سے مراد شیطان ہے۔ اس آیت سے متعدد فوائد حاصل ہوتے ہیں۔(۱)بندۂ مومن کے ایمان، اس کے اخلاص اور اس کی اتباع رسولﷺکے مطابق، اس کا جہاد اللہ کے راستے میں جہاد شمار ہوتا ہے۔ پس جہاد فی سبیل اللہ ایمان کے آثار، اس کے مقتضیات اور اس کے لوازم میں سے ہے۔ جیسے طاغوت کی راہ میں لڑنا کفر اور اس کے مقتضیات میں سے ہے۔(۲) جو کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اس کے لیے مناسب اور بہتر یہ ہے کہ وہ ایسے صبر و استقلال سے کام لے جس کا مظاہرہ دیگر لوگ نہیں کر سکتے۔ جب اولیائے شیطان لڑائی کرتے ہیں اور لڑائی میں صبر سے کام لیتے ہیں حالانکہ وہ اہل باطل ہیں۔ تب اہل حق کو تو صبر و استقلال سے زیادہ کام لینا چاہیے جیسا کہ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اِنۡ تَكُوۡنُوۡا تَاۡلَمُوۡنَ فَاِنَّهُمۡ يَاۡلَمُوۡنَ كَمَا تَاۡلَمُوۡنَ١ۚ وَتَرۡجُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرۡجُوۡنَ ﴾(النساء : 4؍104)’’اگر تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو جس طرح تمھیں تکلیف پہنچتی ہے اسی طرح ان کفار کو بھی تکلیف پہنچتی ہے۔ البتہ تم اللہ تعالیٰ سے ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔‘‘(۳) وہ بندۂ مومن جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اس کے پاس ایک مضبوط سہارا ہوتا ہے اور وہ ہے حق اور اللہ تعالیٰ پر توکل۔ اس مضبوط اور صاحب قوت ہستی سے صبر و ثبات اور نشاط طلب کیے جاتے ہیں۔ جبکہ باطل کے راستے میں لڑنے والے، جس کی کوئی حقیقت نہیں اور نہ اس کا کوئی قابل تعریف انجام ہے یہ صبر و ثبات کہیں سے طلب نہیں کر سکتے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَقَاتِلُوۡۤا اَوۡلِيَآءَؔ الشَّيۡطٰنِ١ۚ اِنَّ كَيۡدَ الشَّيۡطٰنِ كَانَ ضَعِيۡفًا﴾ ’’تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو یقینا شیطان کا داؤ کمزور ہوتا ہے۔‘‘ (کید) سے مراد وہ خفیہ چال ہے جس کے ذریعے سے دشمن کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ شیطان کی چال خواہ کتنی ہی خطرناک کیوں نہ ہو، بہرحال وہ انتہائی کمزور ہوتی ہے۔ ادنیٰ سے ادنیٰ حق کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ نہ وہ اس چال کے سامنے کھڑی رہ سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے لیے چلتا ہے۔
4:77–79Page 90
أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ قِيلَ لَهُمۡ كُفُّوٓاْ أَيۡدِيَكُمۡ وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقِتَالُ إِذَا فَرِيقٞ مِّنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ ٱلنَّاسَ كَخَشۡيَةِ ٱللَّهِ أَوۡ أَشَدَّ خَشۡيَةٗۚ وَقَالُواْ رَبَّنَا لِمَ كَتَبۡتَ عَلَيۡنَا ٱلۡقِتَالَ لَوۡلَآ أَخَّرۡتَنَآ إِلَىٰٓ أَجَلٖ قَرِيبٖۗ قُلۡ مَتَٰعُ ٱلدُّنۡيَا قَلِيلٞ وَٱلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ لِّمَنِ ٱتَّقَىٰ وَلَا تُظۡلَمُونَ فَتِيلًا ٧٧
Have you not seen those who were told, "Restrain your hands [from fighting]1 and establish prayer and give zakāh"? But then when battle was ordained for them, at once a party of them feared men as they fear Allāh or with [even] greater fear. They said, "Our Lord, why have You decreed upon us fighting? If only You had postponed [it for] us for a short time." Say, "The enjoyment of this world is little, and the Hereafter is better for he who fears Allāh. And injustice will not be done to you, [even] as much as a thread [inside a date seed]."
أَيۡنَمَا تَكُونُواْ يُدۡرِككُّمُ ٱلۡمَوۡتُ وَلَوۡ كُنتُمۡ فِي بُرُوجٖ مُّشَيَّدَةٖۗ وَإِن تُصِبۡهُمۡ حَسَنَةٞ يَقُولُواْ هَٰذِهِۦ مِنۡ عِندِ ٱللَّهِۖ وَإِن تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٞ يَقُولُواْ هَٰذِهِۦ مِنۡ عِندِكَۚ قُلۡ كُلّٞ مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِۖ فَمَالِ هَٰٓؤُلَآءِ ٱلۡقَوۡمِ لَا يَكَادُونَ يَفۡقَهُونَ حَدِيثٗا ٧٨
Wherever you may be, death will overtake you, even if you should be within towers of lofty construction. But if good comes to them, they say, "This is from Allāh"; and if evil befalls them, they say,1 "This is from you." Say, "All [things] are from Allāh." So what is [the matter] with those people that they can hardly understand any statement?
مَّآ أَصَابَكَ مِنۡ حَسَنَةٖ فَمِنَ ٱللَّهِۖ وَمَآ أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٖ فَمِن نَّفۡسِكَۚ وَأَرۡسَلۡنَٰكَ لِلنَّاسِ رَسُولٗاۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدٗا ٧٩
What comes to you of good is from Allāh, but what comes to you of evil, [O man], is from yourself.1 And We have sent you, [O Muḥammad], to the people as a messenger, and sufficient is Allāh as Witness.2
کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی کہ کہا گیا ان سے، روکے رکھو تم اپنے ہاتھ اور قائم کرو نماز اور دو تم زکاۃ، پھر جب لکھ دیا (فرض کر دیا) گیا ان پر لڑنا، تب ایک فریق ان میں سے ڈرتا تھا وہ لوگوں سے، مانند ڈرنے کے اللہ سے یا اس سے بھی زیادہ سخت ڈرنااور کہا انھوں نے، اے ہمارے رب! کیوں لکھا (فرض کیا) تونے ہم پر لڑنا؟ کیوں نہ مہلت دی تونے ہمیں ایک مدت قریب تک؟ کہہ دیجیے! فائدہ دنیا کا تھوڑا ہے اور آخرت بہتر ہے اس کے لیے جس نے تقویٰ اختیار کیا اور نہ ظلم کیے جاؤ گے تم تاگے برابر(77) جہاں کہیں بھی ہوگے تم! پا لے گی تمھیں موت خواہ ہو تم قلعہ ہائے مضبوط میں اور اگر پہنچے ان کو کوئی بھلائی تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر پہنچے ان کو کوئی برائی (تکلیف) تو کہتے ہیں یہ تیری طرف سے ہے، کہہ دیجیے! سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے، پس کیا حال ہے ان لوگوں کا؟ نہیں قریب کہ سمجھیں بات کو(78) جو پہنچے (اے انسان!) تجھ کو کوئی بھلائی تو (وہ) اللہ کی طرف سے ہے اور جو پہنچے تجھ کو برائی (تکلیف) تو (وہ) تیری اپنی طرف سے ہےاور بھیجا ہم نے آپ کو لوگوں کے لیے رسول بنا کراور کافی ہے اللہ گواہ(79)
[77]جب مسلمان مکہ مکرمہ میں تھے تو انھیں نماز اور زکٰوۃ کا حکم دیا گیا تھا۔ یعنی محتاجوں کی غمگساری کرنا۔ اور اس سے مراد وہ معروف زکٰوۃ نہیں جو ایک مخصوص نصاب کے مطابق اور مخصوص شرائط کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔ یہ زکٰوۃ مدینہ منورہ میں فرض ہوئی تھی اسی طرح اس وقت تک متعدد فوائد کی بنا پر جہاد کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ مثلاً:(۱)اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں پر شریعت کے احکام اس طرح فرض کرے کہ وہ ان پر شاق نہ گزریں۔ سب سے پہلے اہم ترین امر کا حکم دے، پھر آسان امور سے ابتدا کر کے بتدریج مشکل امور کا حکم دے۔(۲) اگر اہل ایمان پر ان کی قلت تعداد و قلت سامان اور کثرت اعداء کے باوجود قتال فرض کر دیا جاتا تو یہ چیز اسلام کو مضمحل کر دیتی۔ اس لیے چھوٹی مصلحت کو نظر انداز کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی گئی اور اس میں اس قسم کی دیگر حکمتیں تھیں۔بعض اہل ایمان چاہتے تھے کہ اس حال میں بھی ان پر قتال فرض کر دیا جاتا۔ مگر ان حالات میں ان پر جہاد فرض کیا جانا مناسب نہ تھا۔ اس وقت ان لوگوں کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ توحید، نماز، زکٰوۃ اور اس نوع کے دیگر احکام پر عمل کرتے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ فَعَلُوۡا مَا يُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَشَدَّ تَثۡبِيۡتًا﴾(النساء : 4؍66) ’’اگر یہ اس نصیحت پر عمل کرتے جو ان کو کی جاتی ہے تو ان کے لیے بہتر ہوتا اور دین میں زیادہ ثابت قدمی اور استقامت کا باعث ہوتا۔‘‘جب مسلمانوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اور اسلام قوی ہو گیا تو مناسب وقت پر ان پر قتال فرض کر دیا گیا۔وہ لوگ جو اس سے قبل قتال فرض ہونے کے لیے جلدی مچاتے تھے ان میں سے ایک گروہ نے لوگوں کے خوف، کمزوری اور بزدلی کی وجہ سے کہا۔ ﴿ رَبَّنَا لِمَ كَتَبۡتَ عَلَيۡنَا الۡقِتَالَ ﴾ ’’اے ہمارے رب تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کر دیا؟‘‘ ان الفاظ سے ان کی تنگ دلی اور اللہ تعالیٰ پر اعتراض کا اظہار ہوتا ہے حالانکہ ان کے لیے مناسب حال یہ تھا کہ وہ اس سے متضاد رویہ کا اظہار کرتے یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور اس کے اوامر پر صبر کرنا، مگر جو کچھ ان سے مطلوب تھا انھوں نے اس کے برعکس کیا۔ پس انھوں نے کہا ﴿ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ ﴾ ’’تھوڑی مدت اور ہمیں کیوں مہلت نہ دی۔‘‘ یعنی تو نے قتال کی فرضیت کچھ عرصہ اور متاخر کیوں نہ کر دی۔ غالب طور پر اس قسم کی صورت ان لوگوں کو پیش آتی ہے جو غیر سنجیدہ ہوتے ہیں اور تمام امور میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا غالب رویہ یہ ہوتا ہے کہ ان امور کے نازل ہونے پر یہ لوگ صبر نہیں کر سکتے۔ یہ امور ان کے لیے بوجھل تو نہیں مگر یہ لوگ بہت ہی کم صبر سے بہرہ ور ہیں۔جن حالات میں وہ جہاد سے جی چرا کر بیٹھ رہے ان سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو نصیحت کی چنانچہ فرمایا: ﴿ قُلۡ مَتَاعُ الدُّنۡيَا قَلِيۡلٌ١ۚ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے دنیا کا فائدہ تو بہت ہی کم ہے اور آخرت اس شخص کے لیے بہتر ہے جو متقی ہے‘‘ یعنی دنیا کی لذت اور راحت سے فائدہ اٹھانا بہت ہی کم عرصہ کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں تھوڑی سی مدت کے لیے بھاری بوجھ اٹھانا نفوس انسانی کے لیے آسان اور ہلکا ہوتا ہے۔ کیونکہ جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مشقت جو وہ برداشت کر رہا ہے طویل عرصے کے لیے نہیں ہے تو اس کے لیے اس کو برداشت کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ تب کیا کیفیت ہو گی جب تو دنیا اور آخرت کا موازنہ کرے اور معلوم ہو کہ آخرت اپنی ذات اور لذات میں اور زمان کے اعتبار سے دنیا سے کہیں بہتر ہے جنت کی ذات کے بارے میں ایک صحیح حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ’’جنت میں ایک کوڑے کے برابر جگہ دنیا اور اس کی موجودات سے کہیں بہتر ہے۔‘‘(جامع ترمذی، تفسير، باب ومن سورۃ آل عمران، حديث:3513)جنت کی لذتیں ہر قسم کی کدورتوں سے پاک ہیں بلکہ لذت کا جو تصور بھی فکر و خیال کی گرفت میں آ سکتا ہے۔ جنت کی لذتیں اس پر فوقیت رکھتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ ﴾(السجدۃ : 32؍17) ’’کوئی انسان نہیں جانتا کہ ان کے لیے (جنت میں) کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبیﷺکی زبان پر فرمایا: ’’میں نے (جنت میں) اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں ان کا کبھی گزر ہوا ہے۔‘‘(مسند أحمد:2؍438)رہی دنیا کی لذتیں تو یہ مختلف قسم کی کدورتوں کے شائبے سے پاک نہیں ہوتیں۔ اگر ان لذات کا ان آلام و مصائب اور غم و ہموم سے مقابلہ کیاجائے جو ان لذات کے ساتھ ملے ہوتے ہیں تو جنت کی لذتوں کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے ان کی کوئی نسبت ہی نہیں۔ رہا ان لذتوں کا زمانہ، تو دنیا آخر کار ختم ہو جائے گی اور انسان کی عمر، دنیا کی نسبت سے نہایت ہی معمولی سا عرصہ ہے۔ آخرت کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں اور وہاں کے رہنے والوں کے لیے ہمیشہ کی زندگی ہے۔ جب عقلمند شخص ان دو گھروں کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے اور ان کی حقیقت کا تصور کرتا ہے جیسا کہ تصور کرنے کا حق ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ ان میں سے کون سا گھر ترجیح کا مستحق ہے؟ کس کے لیے کوشش کرنی چاہیے اور کس کی طلب میں اسے جدوجہد کرنی چاہیے؟ ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى ﴾ ’’اور پرہیز گار کے لیے آخرت تو بہت اچھی چیز ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور دیگر تمام محرمات سے بچتا ہے اس کے لیے آخرت بہتر ہے۔ ﴿ وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا ﴾’’اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا‘‘ تم آخرت کے گھر کے لیے جو دوڑ دھوپ کرو گے تو اس کا کامل اور وافر اجر پاؤ گے جس میں کچھ بھی کمی نہ ہو گی۔[78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ بچاؤ کی تدبیر تقدیر کے مقابلے میں کوئی کام نہیں آسکتی اور گھر میں بیٹھ رہنے والے کا بیٹھنا، اللہ کی تقدیر کو ہٹا نہیں سکتا۔ ﴿ اَيۡنَ مَا تَكُوۡنُوۡا يُدۡرِكۡكُّمُ الۡمَوۡتُ ﴾ ’’تم جہاں کہیں بھی رہو موت تمھیں آ پکڑے گی‘‘ یعنی تم کسی زمانے میں اور کسی بھی جگہ پر ہو ﴿ وَلَوۡؔ كُنۡتُمۡ فِيۡ بُرُوۡجٍ مُّشَيَّدَةٍ ﴾ ’’خواہ تم مضبوط قلعوں اور اونچے محلوں میں ہی پناہ کیوں نہ لے لو (موت تمھیں پا لے گی)۔‘‘یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کی ترغیب کے لیے ہے اللہ تعالیٰ کبھی تو جہاد کی فضیلت اور اس کا ثواب بیان کر کے اس کی ترغیب دیتا ہے اور کبھی جہاد کو ترک کرنے کی سزا سے ڈرا کر جہاد پر آمادہ کرتا ہے۔ کبھی اس بارے میں آگاہ کر کے جہاد کے لیے ابھارتا ہے کہ جہاد سے جی چرا کر گھروں میں بیٹھ رہنے والوں کا بیٹھنا کسی کام نہیں آتا۔ اور کبھی کبھی اللہ تعالیٰ جہاد کے راستے کو ان کے لیے آسان کر دیتا ہے۔﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ حَسَنَةٌ ﴾ ’’اور اگر انھیں کوئی بھلائی ملتی ہے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو علم نہیں رکھتے، انبیاء و رسل علیہ السلام کی تعلیمات سے روگردانی اور ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ جب انھیں کوئی بھلائی مثلاً شادابی، کثرت مال، کثرت اولاد اور صحت وغیرہ حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں ﴿ هٰؔذِهٖ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔‘‘ جب انھیں کسی تکلیف مثلاً قحط، فقر و فاقہ، احباب و اولاد کی موت اور مرض وغیرہ کا سامنا ہوتا ہے تو پکار اٹھتے ہیں:﴿ هٰؔذِهٖ مِنۡ عِنۡدِكَ ﴾ ’’یہ (تکلیف) آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچی) ہے۔‘‘ یعنی اے محمدﷺ!یہ تمام مصیبت اس کے سبب سے آن پڑی ہے جو آپ لے کر آئے ہیں۔ انھوں نے رسول اللہﷺکی ذات اقدس سے بدشگونی لی، جیسا کہ ان سے پہلے کفار اللہ تعالیٰ کے رسولوں سے برا شگون لیتے رہے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کی قوم کے بارے میں خبر دی ہے:﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ١ۚ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾(الاعراف : 7؍131) ’’جب ان کو کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ ہماری وجہ سے ہے اور اگر انھیں کوئی برائی پہنچتی ہے تو موسیٰ اور ان کے اصحاب کی بدشگونی قرار دیتے ہیں۔‘‘ اور جیسا کہ حضرت صالحuکی قوم نے کہا: ﴿ اطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَنۡ مَّعَكَ ﴾(النمل : 27؍47) ’’تم اور تمھارے ساتھی ہمارے لیے بدشگونی کا باعث ہیں۔‘‘ اور جیسے یاسین کی قوم نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿ اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ١ۚ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ﴾(یٰسین : 36؍18) ’’ہم تمھیں بدشگون سمجھتے ہیں اگر تم باز نہیں آؤ گے تو ہم تمھیں سنگسار کر دیں گے۔‘‘چونکہ کفر کی وجہ سے ان کے دل باہم مشابہ ہیں اس لیے ان کے اقوال و افعال میں بھی مشابہت پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو برائی کے حصول اور بھلائی کے زوال کو انبیائے کرام کی تعلیمات یا بعض تعلیمات سے منسوب کرتے ہیں وہ اس مذمت میں داخل ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے: ﴿ قُلۡ كُلٌّ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ سب‘‘ یعنی نیکی اور برائی خیر اور شر ﴿ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ ہی کی طرف سے ہے۔‘‘ یعنی سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے اور اسی کی تخلیق ہے ﴿ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الۡقَوۡمِ ﴾ ’’انھیں کیا ہو گیا ہے؟‘‘ یعنی جن لوگوں سے یہ باطل قول صادر ہوا ہے ﴿ لَا يَكَادُوۡنَ يَفۡقَهُوۡنَ حَدِيۡثًا ﴾’’کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے۔‘‘ یعنی یہ لوگ بات کو بالکل ہی نہیں سمجھ پاتے اور نہ یہ لوگ سمجھنے کے قریب جاتے ہیں۔ یا یہ لوگ بات کو بہت ہی کم سمجھتے ہیں۔ مذکورہ تمام معنی کے مطابق یہ آیت کریمہ ان کے عدم فہم اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام میں عدم تفقہ پر زجر و توبیخ ہے۔ اور اس کا سبب ان کا کفر اور روگردانی ہے۔اس آیت کریمہ میں ضمناً ان لوگوں کی مدح کا پہلو نکلتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکے احکام کا فہم رکھتے ہیں۔ نیز اس میں فہم اور اس کے اسباب کے حصول کی ترغیب ہے۔ یہ فہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے کلام میں تدبر و تفکر اور اس منزل تک پہنچانے والے راستوں پر گامزن ہونے ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو سمجھا ہوتا تو معلوم ہو جاتا کہ نیکی اور برائی اور خیر و شر سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے کوئی چیز باہر نہیں۔ نیز انبیاء و رسل اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات کبھی بھی شر کا باعث نہیں ہوتیں کیونکہ وہ تو دین و دنیا اور آخرت کی بھلائی کے لیے مبعوث کیے جاتے ہیں۔[79] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَاۤ اَصَابَكَ مِنۡ حَسَنَةٍ ﴾ ’’تجھ کو جو فائدہ پہنچے۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں تجھے جو بھلائی حاصل ہوتی ہے ﴿ فَمِنَ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔‘‘ وہی ہے جس نے اس بھلائی سے نوازا اور اس کے اسباب پیدا کر کے اس کے حصول کو آسان بنایا ﴿ وَمَاۤ اَصَابَكَ مِنۡ سَيِّئَةٍ﴾ ’’تجھے جو نقصان پہنچے۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں تجھے جو برائی پہنچتی ہے ﴿ فَمِنۡ نَّفۡسِكَ ﴾ ’’وہ تیری طرف سے ہے۔‘‘ یعنی تیرے اپنے گناہوں کی وجہ سے اور تیری اپنی کمائی ہے اور جو اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے فضل و احسان کے دروازے کھول دیے ہیں اس نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے فضل و کرم سے بہرہ مند ہونے کے لیے ان دروازوں میں داخل ہوں اور انھیں آگاہ فرمایا ہے کہ گناہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے حصول سے مانع ہیں۔ اس لیے جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اسے صرف اپنے نفس کو ملامت کرنی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے حصول سے تو وہ خود مانع ہوا۔پھر اللہ تعالیٰ نے جناب محمدﷺکی رسالت کی عمومیت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا ﴿ وَاَرۡسَلۡنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوۡلًا١ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًا ﴾ ’’اور اے محمد(ﷺ)ہم نے آپ کو لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اور (اس بات کا) اللہ ہی گواہ کافی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی شہادت اس بات پر کافی ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی فتح و نصرت، بڑے بڑے معجزات اور روشن براہین و دلائل کے ساتھ آپ کی تائید فرمائی۔ اور یہ علی الاطلاق سب سے بڑی شہادت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ قُلۡ اَيُّ شَيۡءٍ اَكۡبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِيۡدٌۢ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَؔكُمۡ ﴾(الانعام : 6؍19) ’’ان سے پوچھو کہ سب سے بڑی شہادت کس چیز کی ہے۔ کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ ہی میرے اور تمھارے درمیان گواہ ہے۔‘‘جب اسے یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کا علم کامل، اس کی قدرت تام اور اس کی حکمت عظیم ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اپنی تائید سے نوازا اور نصرت عظیم کے ذریعے سے اس کی مدد فرمائی۔ تو اسے یقین ہو جائے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ ورنہ اگر آپ نے جھوٹ گھڑا ہوتا تو اللہ تعالیٰ آپ کو دائیں ہاتھ سے پکڑتا اور آپﷺکی رگ جاں کاٹ دیتا۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences