As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
غافر
Ghafir
The Forgiver · Meccan · 85 ayahs
40:1–3Page 467
حمٓ ١
Ḥā, Meem.1
تَنزِيلُ ٱلۡكِتَٰبِ مِنَ ٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡعَلِيمِ ٢
The revelation of the Book [i.e., the Qur’ān] is from Allāh, the Exalted in Might, the Knowing,
غَافِرِ ٱلذَّنۢبِ وَقَابِلِ ٱلتَّوۡبِ شَدِيدِ ٱلۡعِقَابِ ذِي ٱلطَّوۡلِۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ إِلَيۡهِ ٱلۡمَصِيرُ ٣
The forgiver of sin, acceptor of repentance, severe in punishment, owner of abundance. There is no deity except Him; to Him is the destination.
حٰمٓ(1)اتارنا کتاب کا اللہ کی طرف سے ہے جو بڑا غالب خوب جاننے والا ہے(2) بخشنے والاہے گناہ کا اور قبول کرنے والا ہے توبہ کا، سخت سزا دینے والا ہے ، فضل والا، نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی، اسی کی طرف ہے لوٹ کرجانا(3)
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب عظیم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صادر ہوئی اور اس کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ جو اپنے کمال اور اپنے افعال میں انفرادیت کی بنا پر عبادت کا مستحق ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزِ ﴾ جو اپنے غلبہ کی بنا پر تمام مخلوق پر غالب ہے۔ ﴿الۡعَلِيۡمِ﴾ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ ﴿غَافِرِ الذَّنۢۡبِ ﴾ ’’وہ گناہ بخش دینے والا‘‘ گناہ گاروں کے ﴿وَقَابِلِ التَّوۡبِ ﴾ توبہ کرنے والوں کی ’’توبہ قبول کرنے والا‘‘ ﴿شَدِيۡدِ الۡعِقَابِ ﴾ جوگناہوں کا ارتکاب کریں اور ان گناہوں سے توبہ نہ کریں ان کو سخت سزا دینے والا ہے ﴿ذِي الطَّوۡلِ ﴾ ’’فضل و احسان کامالک ہے‘‘ یعنی ایسا فضل واحسان جو سب کو شامل ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال کو متحقق کر دیا اور یہ کمال اس حقیقت کا موجب ہے کہ وہ اکیلا ہی معبود ہو جس کے لیے تمام اعمال خالص کیے جائیں، تو فرمایا:﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ ان اوصافِ حمیدہ سے موصوف اللہ تعالیٰ کی طرف سےقرآن مجید کے نازل ہونے کے ذکر کی مناسبت یہ ہے کہ یہ اوصاف ان تمام معانی کو مستلزم ہیں جن پر یہ مشتمل ہے۔ کیونکہ قرآن کریم یا تو اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کے بارے میں خبر دیتا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال ہیں یا گزشتہ زمانوں اور آنے والے واقعات کی خبر دیتا ہے اور یہ علیم کی طرف سے اپنے بندوں کی تعلیم ہے یا وہ اپنی عظیم نعمتوں اور جسمانی احسانات اور ان احسانات تک پہنچانے والے اوامر کی خبر ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿ذِي الطَّوۡلِ ﴾ دلالت کرتا ہے۔ یا اللہ تعالیٰ کی شدید ناراضی اور ان معاصی کے بارے میں خبر ہے جو اس ناراضی کے موجب ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿شَدِيۡدِ الۡعِقَابِ ﴾ دلالت کرتا ہے۔ یا اس قرآن عظیم میں گناہ گاروں کو توبہ، انابت اور استغفار کی دعوت دی گئی ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿غَافِرِ الذَّنۢۡبِ وَقَابِلِ التَّوۡبِ شَدِيۡدِ الۡعِقَابِ ﴾ دلالت کرتا ہے۔ یا اس میں اس حقیقت سے آگاہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود برحق ہے، اس پر عقلی و نقلی دلائل دیے گئے ہیں۔ اور اس مضمون کو بہت تاکید کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ نیز قرآن کریم میں غیراللہ کی عبادت سے روکا گیا ہے، اس کے فساد پر عقلی و نقلی دلائل قائم کیے گئے ہیں اور غیر اللہ کی عبادت سے ڈرایا گیا ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا قول:﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ہے۔ یا اس میں اللہ تعالیٰ کے حکم جزائی، یعنی بھلائی کرنے والوں کے ثواب اور نافرمانوں کی سزا کے بارے میں خبر دی گئی ہے اور یہ حکم جزائی عدل پر مبنی ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿اِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ ﴾ دلالت کرتا ہے۔ یہ تمام عالی شان مطالب و معانی ہیں جن پر قرآن مشتمل ہے۔
40:4–6Page 467
مَا يُجَٰدِلُ فِيٓ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَلَا يَغۡرُرۡكَ تَقَلُّبُهُمۡ فِي ٱلۡبِلَٰدِ ٤
No one disputes concerning the signs of Allāh except those who disbelieve, so be not deceived by their [uninhibited] movement throughout the land.
كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوحٖ وَٱلۡأَحۡزَابُ مِنۢ بَعۡدِهِمۡۖ وَهَمَّتۡ كُلُّ أُمَّةِۭ بِرَسُولِهِمۡ لِيَأۡخُذُوهُۖ وَجَٰدَلُواْ بِٱلۡبَٰطِلِ لِيُدۡحِضُواْ بِهِ ٱلۡحَقَّ فَأَخَذۡتُهُمۡۖ فَكَيۡفَ كَانَ عِقَابِ ٥
The people of Noah denied before them and the [disbelieving] factions after them, and every nation intended [a plot] for their messenger to seize him, and they disputed by [using] falsehood to [attempt to] invalidate thereby the truth. So I seized them, and how [terrible] was My penalty.
وَكَذَٰلِكَ حَقَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَنَّهُمۡ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِ ٦
And thus has the word [i.e., decree] of your Lord come into effect upon those who disbelieved that they are companions of the Fire.
نہیں جھگڑا کرتے اللہ کی آیتوں میں مگر وہی لوگ جنھوں نے کفر کیا، پس نہ دھوکے میں ڈالے آپ کو چلنا پھرنا ان کا شہروں میں(4) جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح نے اور (دوسرے) گروہوں نے ان کے بعد، اور ارادہ کیا ہر امت نے اپنے رسول کی بابت کہ پکڑ یں وہ اس کو اور جھگڑا کیا انھوں نے جھوٹی باتوں کے ساتھ تاکہ ڈگمگا دیں اس کےذریعے سے حق کو پس پکڑ لیا میں نے ان کو، پس کیسی تھی میری سزا ؟(5) اور اسی طرح ثابت ہو گئی بات آپ کے رب کی اوپر ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا کہ بلاشبہ وہی ہیں دوزخی(6)
[4] اللہ تبارک وتعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ﴿مَا يُجَادِلُ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اللہ کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں۔‘‘ یہاں مجادلہ سے مراد ہے، آیات الٰہی کو رد کرنا اور باطل کے ذریعے سے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے جھگڑا کرنا اور یہ کفار کا کام ہے، رہے اہل ایمان تو وہ حق کے سامنے سرتسلیم خم کر دیتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے سے باطل کو نیچا دکھائیں۔انسان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اپنے دنیاوی احوال سے دھوکہ کھائے اور یہ سمجھنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کا دنیا میں اس کو اپنی نعمتوں سے نوازنا، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت کی دلیل ہے اور وہ حق پر ہے۔ بنابریں ارشاد فرمایا:﴿فَلَا يَغۡرُرۡكَ تَقَلُّبُهُمۡ فِي الۡبِلَادِ ﴾ ’’ان کا دنیا کے ملکوں میں چلنا پھرنا آپ کو کسی دھوکے میں نہ ڈال دے۔‘‘ یعنی مختلف انواع کی تجارت اور کاروبار کے سلسلے میں ان کا ملکوں میں آنا جانا آپﷺ کو دھوکے میں مبتلا نہ کردے۔ بلکہ بندے پر واجب یہ ہے کہ وہ لوگوں سے حق کے ساتھ عبرت حاصل کرے، حقائق شرعیہ کو دیکھے، ان کی کسوٹی پر لوگوں کو پرکھے، لوگوں کی کسوٹی پر حق کو نہ پر کھے جیسے ان لوگوں کا وتیرہ ہے جو علم وعقل سے محروم ہیں۔
[5] پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ڈرایا ہے جو آیات الٰہی کے ابطال کے لیے جھگڑتے اور بحث مباحثہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے گمراہ قومیں کیا کرتی تھیں ، مثلاً:﴿قَوۡمُ نُوۡحٍ ﴾ ’’قوم نوح‘‘ اور قوم عاد ﴿وَّالۡاَحۡزَابُ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے بعد کی دوسری جماعتوں نے (بھی جھٹلایا)‘‘ جو حق کو نیچا دکھانے اور باطل کی مدد کرنے کے لیے جمع ہو گئے ﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان کا یہ حال ہو گیا اور وہ اس بات پر اکٹھے ہو گئے کہ ﴿هَمَّتۡ كُلُّ اُمَّةٍۭ ﴾ ’’ہر گروہ نے ارادہ کر لیا‘‘ مختلف گروہوں میں سے ﴿بِرَسُوۡلِهِمۡ لِيَاۡخُذُوۡهُ ﴾ ’’کہ وہ اپنے رسول کو گرفتار کرلیں۔‘‘ یعنی اس کو قتل کردیں یہ انبیاء و مرسلین کے خلاف، جو اہل خیر کے قائد تھے، بدترین ہتھکنڈا تھا، جو صریح حق پر تھے جس میں کوئی شک وشبہ نہ تھا۔ انھوں نے انبیاء کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ کیا اس بغاوت، گمراہی اور بدبختی کے بعد اس عذاب عظیم کے سوا کچھ رہ جاتا ہے جس میں سے یہ کبھی نہ نکلیں گے؟ بنابریں ان کے لیے دنیاوی اور اخروی عذاب کے بارے میں فرمایا:﴿فَاَخَذۡتُهُمۡ ﴾ ’’ پھر میں نے انھیں پکڑ لیا۔‘‘ یعنی ان کو تکذیب حق اور حق کے خلاف اکٹھے ہونے کے سبب سے اپنی گرفت میں لے لیا ﴿فَكَيۡفَ كَانَ عِقَابِ ﴾ ’’ پھر (دیکھ لو) ہماری سزا کیسی سخت تھی۔‘‘ یہ سخت ترین اور بدترین عذاب تھا، یہ ایک زور دار آواز تھی، پتھروں کو اڑاتی ہوئی طوفانی ہوا تھی، یا اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا اور ان کو اپنی گرفت میں لے لیا یا سمندر کو حکم دیا اور ان کو غرق کر دیا، تب یہ مردہ پڑے کے پڑے رہ گئے۔
[6]﴿وَؔكَذٰلِكَ حَقَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا ﴾ ’’اسی طرح کافروں کے بارے میں بھی تمھارے رب کی بات پوری ہوچکی ہے۔‘‘ جیسا کہ ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی بات سچ ثابت ہوئی تھی، اسی طرح ان پر گمراہی ثابت ہو گئی جس کے سبب سے وہ عذاب کے مستحق ہو گئے، اس لیے فرمایا:﴿اَنَّهُمۡ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ﴾ ’’بلاشبہ وہ دوزخی ہیں۔‘‘
40:7–9Page 467
ٱلَّذِينَ يَحۡمِلُونَ ٱلۡعَرۡشَ وَمَنۡ حَوۡلَهُۥ يُسَبِّحُونَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَيُؤۡمِنُونَ بِهِۦ وَيَسۡتَغۡفِرُونَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْۖ رَبَّنَا وَسِعۡتَ كُلَّ شَيۡءٖ رَّحۡمَةٗ وَعِلۡمٗا فَٱغۡفِرۡ لِلَّذِينَ تَابُواْ وَٱتَّبَعُواْ سَبِيلَكَ وَقِهِمۡ عَذَابَ ٱلۡجَحِيمِ ٧
Those [angels] who carry the Throne and those around it exalt [Allāh] with praise of their Lord and believe in Him and ask forgiveness for those who have believed, [saying], "Our Lord, You have encompassed all things in mercy and knowledge, so forgive those who have repented and followed Your way and protect them from the punishment of Hellfire.
رَبَّنَا وَأَدۡخِلۡهُمۡ جَنَّٰتِ عَدۡنٍ ٱلَّتِي وَعَدتَّهُمۡ وَمَن صَلَحَ مِنۡ ءَابَآئِهِمۡ وَأَزۡوَٰجِهِمۡ وَذُرِّيَّٰتِهِمۡۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٨
Our Lord, and admit them to gardens of perpetual residence which You have promised them and whoever was righteous among their forefathers, their spouses and their offspring. Indeed, it is You who is the Exalted in Might, the Wise.
وَقِهِمُ ٱلسَّيِّـَٔاتِۚ وَمَن تَقِ ٱلسَّيِّـَٔاتِ يَوۡمَئِذٖ فَقَدۡ رَحِمۡتَهُۥۚ وَذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ ٩
And protect them from the evil consequences [of their deeds]. And he whom You protect from evil consequences that Day - You will have given him mercy. And that is the great attainment."
وہ(فرشتے)جو اٹھائے ہوئے ہیں عرش کو اورجو اس کےاردگرد ہیں وہ پاکیزگی بیان کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور ایمان رکھتے ہیں اس پر اور بخشش مانگتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، (کہ) اے ہمارے رب! گھیر لیا ہے تو نے ہر چیز کو (اپنی) رحمت اور علم سے، پس بخش دے ان لوگوں کو جنھوں نے توبہ کی اور پیروی کی تیرے راستے کی اور بچا ان کو عذاب دوزخ سے(7) اے ہمارے رب! اور داخل کر ان کو باغوں میں (جو) ہمیشہ رہنے والے (ہیں) وہ جن کا وعدہ کیا ہے تو نے ان سے اورجو نیک ہوئے ان کے باپ دادوں اور ان کی بیویوں اوران کی اولاد میں سے، بے شک تو بڑا غالب نہایت حکمت والا ہے(8) اور بچا ان کو برائیوں سے اور جس کو تو بچائے گا برائیوں سے اس دن، تو تحقیق رحم کر دیا تو نے اس پر، اور یہی ہے کامیابی بڑی(9)
[7] اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر اپنے کامل لطف و کرم اور ان اسباب کا ذکر کرتا ہے جو اس نے ان کی سعادت کے لیے مقرر فرمائے ہیں، یہ اسباب ان کی قدرت سے باہر تھے، مثلاً: ان کے لیے ملائکہ مقربین کا استغفار کرنا اور ان کے دین و آخرت کی بھلائی کے لیے دعا کرنا۔ اس ضمن میں عرش الٰہی اٹھانے والے فرشتے اور جو اس کے اردگرد ہیں ان کے شرف کی خبر ہے۔ اور اسی طرح اپنے رب کے قریب رہنے والے فرشتوں، ان کی عبادت کی کثرت، اللہ کے بندوں کے لیے ان کی خیرخواہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ انھیں معلوم ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ يَحۡمِلُوۡنَ الۡعَرۡشَ ﴾ ’’جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں۔‘‘ یعنی رحمٰن کا عرش، جو تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ جو تمام مخلوقات میں سب سے بڑا، سب سے وسیع، سب سے خوبصورت اور اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے، جو زمین و آسمان اور کرسی پر چھایا ہوا ہے۔ان فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے عرش اٹھانے پر مقرر کیا ہوا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سب سے بڑے اور سب سے طاقتور فرشتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ان فرشتوں کو اپنا عرش اٹھانے کے لیے چن لینا، ذکر میں ان کو مقدم رکھنا اور ان کو اپنے قرب سے سرفراز کرنا دلالت کرتا ہے کہ یہ سب سے افضل فرشتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ﴾(الحاقۃ: 69؍17)’’اور اس روز تیرے رب کے عرش کو آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے۔‘‘﴿وَمَنۡ حَوۡلَهٗ﴾ ’’اور جو اس کے اردگرد ہیں‘‘ یعنی قدرومنزلت اور فضیلت میں اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ﴿يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں۔‘‘ یہ ان فرشتوں کی، ان کی کثرت عبادت خاص طور پر تسبیح و تحمید کی بنا پر مدح ہے۔ تسبیح و تحمید میں تمام عبادات داخل ہیں کیونکہ تمام عبادات کے ذریعے سے اس طرح اللہ تعالیٰ کی تنزیہہ کی جاتی ہے کہ بندہ اپنی عبادات کو غیراللہ سے ہٹا کر صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کرتا ہے۔ نیز یہ عبادات اللہ تعالیٰ کی حمد ہیں بلکہ حمد ہی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ رہا بندے کا قول (سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ)تو یہ بھی اسی میں داخل ہے اور جملہ عبادات میں شامل ہے۔﴿وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اور وہ مومنوں کے لیے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں۔‘‘ یہ ایمان کے جملہ فوائد اور اس کے فضائل میں سے ہے کہ فرشتے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور گناہوں سے پاک ہیں، اہل ایمان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، لہٰذا پس بندۂ مومن اپنے ایمان کے سبب سے اس عظیم فضیلت کو حاصل کرتا ہے۔چونکہ مغفرت کے لیے کچھ اسباب ہیں جن کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی اور یہ اسباب اس خیال سے بالکل مختلف ہیں جو بہت سے اذہان میں آتا ہے کہ مغفرت طلب کرنے کی غرض و غایت مجرد گناہوں کی بخشش ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے فرشتوں کی دعائے مغفرت اور ان امور کا ذکر فرمایا جن کے بغیر دعائے مغفرت کی تکمیل نہیں ہوتی، چنانچہ فرمایا:﴿رَبَّنَا وَسِعۡتَ كُلَّ شَيۡءٍ رَّحۡمَةً وَّعِلۡمًا ﴾ ’’اے ہمارے رب! تیری رحمت اور علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘ تیرے علم نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، تجھ سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔ زمین میں کوئی ذرہ بھر چیز تیرے علم سے اوجھل ہے نہ آسمان میں اور کوئی چھوٹی چیز تجھ سے چھپی ہوئی ہے نہ کوئی بڑی چیز۔ تیری رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ علوی اور سفلی تمام کائنات اللہ تعالیٰ کی رحمت سے لبریز اور اس کی رحمت تمام کائنات پر چھائی ہوئی ہے۔ اس کی تمام مخلوق اس رحمت سے بہرہ مند ہوتی ہے۔ ﴿فَاغۡفِرۡ لِلَّذِيۡنَ تَابُوۡا ﴾ ’’پس جن لوگوں نے توبہ کی انھیں بخش دے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک اور معاصی سے توبہ کی ﴿وَاتَّبَعُوۡا سَبِيۡلَكَ ﴾ ’’اور جو تیرے راستے پر گامزن ہوئے‘‘ تیرے رسولوں کی اتباع، تیری توحید اور تیری اطاعت کے ذریعے سے ﴿وَقِهِمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور ان کو دوزخ کے عذاب سے بچالے‘‘ یعنی (اے اللہ!) ان کو عذاب سے اور اس کے اسباب سے بچا۔
[8]﴿رَبَّنَا وَاَدۡخِلۡهُمۡ جَنّٰتِ عَدۡنِ اِ۟ الَّتِيۡ وَعَدۡتَّهُمۡ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کو ہمیشہ رہنے کی بہشتوں میں داخل فرما جن کا تونے ان سے وعدہ فرمایا‘‘ یعنی جن کا تو نے اپنے رسولوں کی زبان پر وعدہ کیا۔ ﴿وَمَنۡ صَلَحَ ﴾ ’’اور جو صالح ہوں‘‘ یعنی جو ایمان اور عمل صالح کے ذریعے سے درست ہوں۔ ﴿مِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ ﴾ ’’ان کے آباء واجداد اور ان کی بیویوں میں سے‘‘ یعنی ان کی بیویوں، عورتوں کے شوہروں، ان کے دوستوں اور رفقاء میں سے ﴿وَذُرِّيّٰتِهِمۡ ﴾’’اور ان کی اولاد میں سے‘‘﴿اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ بے شک تو ہر چیز پر غالب ہے، تیری عزت کی قسم! تو ان کے گناہ بخش دیتا ہے، ان کی تکلیف دور کر دیتا ہے اور انھیں ہر بھلائی تک پہنچا دیتا ہے۔ ﴿الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ ’’حکیم‘‘ اس کو کہتے ہیں جو تمام اشیاء کو ان کے لائق حال مقام پر رکھتا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے کسی ایسی چیز کا سوال نہیں کرتے جو تیری حکمت کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ بلکہ تیری حکمت، جس کی تو نے اپنے رسولوں کی زبان پر خبر دی ہے اور تیرا فضل جس چیز کا تقاضا کرتا ہے، وہ یہ ہے کہ تو اہل ایمان کو بخش دے۔
[9]﴿وَقِهِمُ السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور انھیں برائیوں سے بچالے‘‘ یعنی تو ان کو برے اعمال اور ان کی جزا سے دور رکھ کیونکہ یہ انسان کو بہت تکلیف دیتے ہیں۔ ﴿وَمَنۡ تَقِ السَّيِّاٰتِ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’اور جس کو تو اس دن عذابوں سے بچالے گا۔‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿فَقَدۡ رَحِمۡتَهٗ﴾ ’’تو بے شک تو نے اس پر رحمت کی۔‘‘ کیونکہ تیری رحمت تیرے بندوں پر ہمیشہ سایہ کناں رہی ہے، بندوں کے گناہ اور ان کی برائیاں ہی انھیں اس رحمت سے محروم کرتے ہیں۔ جس کو تو نے برائیوں سے بچا لیا اسے تو نے نیکیوں کی توفیق اور ان کی جزائے حسن سے بہرہ مند کیا۔ ﴿وَذٰلِكَ ﴾ ’’اور یہ‘‘یعنی منہیات کا دور ہونا، برائیوں سے بچانا اور محبوب و مرغوب کا حاصل ہونا اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی کے سبب سے ہے۔ ﴿هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اس جیسی کوئی اور کامیابی نہیں اور مقابلہ کرنے والوں کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی چیز اچھی نہیں ہے۔فرشتوں کی یہ دعا اس حقیقت کو متضمن ہے کہ فرشتے اپنے رب کی کامل معرفت سے سرفراز ہیں وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کو وسیلہ بناتے ہیں۔ اللہ اپنے بندوں کی طرف سے اپنے اسماء کو وسیلہ بنانے اور جو دعا مانگی جا رہی ہو اس کی مناسبت سے اسمائے الٰہی کو وسیلہ بنانے کو پسند کرتا ہے۔ بندوں کی دعا اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول اور نفوس بشری کے تقاضوں کے اثرات کے ازالے کے لیے ہوتی ہے، جن کے نقص اور ان کے تقاضوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ، لہٰذا جب وہ ان معاصی اور اس کے مبادی و اسباب کا تقاضا کرتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ کے علم نے احاطہ کر رکھا ہے۔ تو فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات ’’رَحِیْم‘‘ اور ’’عَلِیْم‘‘ کو وسیلۂ دعا بنایا۔اس کی ربوبیت عامہ اور ربوبیت خاصہ کا اقرار ان کا اللہ تعالیٰ کے متعلق کمال ادب کو متضمن ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اختیار میں کچھ نہیں ۔یہ تو ان کی اپنے رب کے سامنے دعا ہے جو ہر لحاظ سے ایک محتاج ہستی سے صادر ہوتی ہے۔ جو کسی بھی حال کو اپنا وسیلہ نہیں بنا سکتی۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا کرم و احسان ہے۔اپنے رب کے ساتھ ان کی موافقت، ان اعمال یعنی عبادات سے محبت کو متضمن ہے جن کو وہ پسند کرتا ہے، جسے وہ قائم کرتے ہیں اور محبت کرنے والوں کی جدوجہد کی طرح جدوجہد کرتے ہیں، وہ ہیں اہل ایمان، اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق میں سے انھی سے محبت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام مکلف مخلوق کو ناپسند کرتا ہے مگر ان میں سے اہل ایمان کو پسند کرتا ہے۔فرشتوں کی اہل ایمان کے ساتھ محبت ہے کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں، ان کے احوال کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ کسی شخص کے لیے دعا کرنا، اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ دعا کرنے والا اس شخص سے محبت کرتا ہے کیونکہ انسان صرف اسی کے لیے دعا مانگتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا اپنے ارشاد:﴿وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ کے بعد کا فرشتوں کی دعا کی تفصیل اور شرح بیان کرنا، کتاب اللہ میں تدبیر کی کیفیت کی طرف لطیف اشارے کو متضمن ہے۔ نیز یہ اس بات کو بھی متضمن ہے کہ تدبر کرنے والا صرف مفرد لفظ کے معنی پر اقتصار نہ کرے۔ بلکہ اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ لفظ کے معنی پر خوب تدبر اور غوروفکر کرے۔ جب اچھی طرح معنی کا فہم حاصل کر لے تو اپنی عقل سے اس معاملے میں غور کرے، ان طریقوں پر غور کرے جو اس منزل تک پہنچاتے ہیں اور جن کے بغیر یہ ناتمام ہے اور جن پر تمام دارومدار ہے۔ اس کو یقین قطعی ہو جائے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مراد ہے، جیسا کہ اسے یقین ہے کہ وہ معنیٔ خاص اللہ تعالیٰ کی مراد ہے جس پر یہ لفظ دلالت کرتا ہے۔ وہ چیز جو اس کے لیے اس یقین کی موجب ہے کہ یہی معنی اللہ تعالیٰ کی مراد ہے، دو امور ہیں: ۱۔ اس کی معرفت اور اس بات کا یقین کہ یہ معنی کے توابع میں سے ہے اورمراد الٰہی اسی پر موقوف ہے۔ ۲۔ اس حقیقت کا علم رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کی کتاب میں تدبروتفکر کریں۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ ان معانی سے کیا لازم آتا ہے۔ اسی نے خبردی ہے کہ اس کی کتاب سراسر ہدایت، نور اور ہر چیز کو کھول کھول کر بیان کرنے والی ہے، یہ فصیح ترین اور ایضاح کے اعتبار سے جلیل ترین کلام ہے۔ اس سے بندۂ مومن توفیق الٰہی کے مطابق علم عظیم اور خیرکثیر سے بہرہ ور ہوتا ہے۔ ہماری اس تفسیر میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں نوازا ہے۔ کبھی کبھی بعض آیات میں، صحیح الفکر مگر غوروتدبر سے محروم شخص پر اس کا ماخذ مخفی رہتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہم پر اپنی رحمت کے خزانے کھول دے جو ہمارے احوال اور تمام مسلمانوں کے احوال کی اصلاح کا سبب بنیں۔ ہمارے پاس اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ ہم اس کی نگاہ کرم کے منتظر ہیں، اس کے احسان کووسیلہ بناتے ہیں، جس سے ہم ہر آن اور ہر لحظہ بہرہ مند رہتے ہیں۔ ہم اس سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں، یقینا ہمارے نفس کی برائی ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے راستے کی رکاوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ نہایت کریم اور عطا کرنے والا ہے جس نے ہمیں اسباب اور ان کے مسببات عطا کیے ہیں۔ یہ آیت کریمہ اس بات کو متضمن ہے کہ مومن کے ساتھ رہنے والے اشخاص، مثلاً: بیوی، اولاد اور دوست بھی اس کی صحبت کے باعث سعادت سے بہرہ ور ہوتے ہیں، مومن کی صحبت ان کے لیے ایسی بھلائی کے حصول کا سبب بنتی ہے جو اس کے عمل اور اسباب عمل سے خارج ہے، جیسا کہ فرشتے اہل ایمان اور ان کے نیک والدین، ان کی نیک بیویوں اور ان کی نیک اولاد کے لیے دعا کرتے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اہل ایمان کے ماں باپ، بیویوں اور اولاد میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَمَنۡ صَلَحَ ﴾ کے مطابق ’’صلاحیت‘‘ کا وجود لازم ہے تب اس صورت میں، ان کے لیے فرشتوں کی یہ دعا، ان کے عمل ہی کا نتیجہ ہے۔ واللہ أعلم۔
40:10–12Page 468
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يُنَادَوۡنَ لَمَقۡتُ ٱللَّهِ أَكۡبَرُ مِن مَّقۡتِكُمۡ أَنفُسَكُمۡ إِذۡ تُدۡعَوۡنَ إِلَى ٱلۡإِيمَٰنِ فَتَكۡفُرُونَ ١٠
Indeed, those who disbelieve will be addressed, "The hatred of Allāh for you was [even] greater than your hatred of yourselves [this Day in Hell] when you were invited to faith, but you disbelieved [i.e., refused]."
قَالُواْ رَبَّنَآ أَمَتَّنَا ٱثۡنَتَيۡنِ وَأَحۡيَيۡتَنَا ٱثۡنَتَيۡنِ فَٱعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوبِنَا فَهَلۡ إِلَىٰ خُرُوجٖ مِّن سَبِيلٖ ١١
They will say, "Our Lord, You made us lifeless twice and gave us life twice, and we have confessed our sins. So is there to an exit any way?"
ذَٰلِكُم بِأَنَّهُۥٓ إِذَا دُعِيَ ٱللَّهُ وَحۡدَهُۥ كَفَرۡتُمۡ وَإِن يُشۡرَكۡ بِهِۦ تُؤۡمِنُواْۚ فَٱلۡحُكۡمُ لِلَّهِ ٱلۡعَلِيِّ ٱلۡكَبِيرِ ١٢
[They will be told], "That is because, when Allāh was called upon alone, you disbelieved; but if others were associated with Him, you believed. So the judgement is with Allāh, the Most High, the Grand."
بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ پکارے (کہے) جائیں گے، البتہ ناراضی اللہ کی زیادہ بڑی ہے تمھاری ناراضی سے اپنے آپ پر جبکہ تم بلائے جاتے تھے ایمان کی طرف، تو تم انکار کرتے تھے (10) وہ کہیں گے اے ہمارے رب! موت دی تو نے ہمیں دو مرتبہ اورزندہ کیا تو نے ہمیں دو مرتبہ، پس اقرار کیا ہم نے اپنے گناہوں کا، پس کیا (اب) نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے؟ (11) یہ اس سبب سے کہ بلاشبہ جب پکارا جاتا تھا اللہ اکیلے کو تو انکار کرتے تھے تم اوراگر شریک ٹھہرایا جاتا(کسی کو)اس کے ساتھ تو تم (اسے)مان لیتے تھے، پس حکم تو اللہ ہی کا ہے جو نہایت بلند اور بہت بڑا ہے (12)
[10] اللہ تبارک و تعالیٰ اس فضیحت و رسوائی کا ذکر کرتا ہے جس کا کفار کو سامنا کرنا ہو گا، نیز ان کی دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کے رد ہونے اور ان پر زجروتوبیخ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’بے شک جن لوگوں نے کفر کیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اسے مطلق بیان کیا ہے تاکہ یہ کفر کی تمام انواع کو شامل ہو، مثلاً: اللہ تعالیٰ، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار وغیرہ۔ جب یہ لوگ جہنم میں داخل ہوں گے، تو اقرار کریں گے کہ وہ اپنے گناہوں کے باعث جہنم کے مستحق ہیں وہ اپنے آپ پر شدید غیظ و غضب کا اظہار کریں گے۔ تب اس وقت ان کو پکار کر کہا جائے گا:﴿لَمَقۡتُ اللّٰهِ ﴾ یعنی تم پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی ﴿اِذۡ تُدۡعَوۡنَ اِلَى الۡاِيۡمَانِ فَتَكۡفُرُوۡنَ ﴾ یعنی جب تمھیں اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کے متبعین نے ایمان کی دعوت دی، تمھارے سامنے دلائل و براہین بیان کیے جن سے حق واضح ہو گیا، مگر تم نے کفر کو اپنائے رکھا اور ایمان سے منہ موڑ لیا، جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں تخلیق فرمایا تھا اور تم اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت کے سائے سے نکل گئے تو اللہ تعالیٰ تم پر غصے اور ناراض ہوگیا۔ پس یہ ناراضی ﴿اَكۡبَرُ مِنۡ مَّؔقۡتِكُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ ﴾ ’’تمھاری اپنی ناراضی سے کہیں زیادہ ہے۔‘‘ یعنی اس کریم ہستی کی یہ ناراضی ہمیشہ تم پر نازل رہی حتی کہ تم اس حالت کو پہنچ گئے۔ آج تم پر اللہ تعالیٰ کا غیظ وغضب اور اس کا عذاب نازل ہوگا جبکہ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے ثواب سے سر فراز ہوں گے۔
[11] تب وہ واپس لوٹائے جانے کی تمنا کریں گے اور کہیں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثۡنَتَيۡنِ ﴾ ’’اے ہمارے رب تونے ہمیں دو مرتبہ موت دی۔‘‘ ایک قول کے مطابق اس سے مراد پہلی موت اور دو مرتبہ صور پھونکنے کے درمیان کی موت ہے یا اس سے مراد ان کے وجود میں لائے جانے سے پہلے عدم محض اور وجود میں لائے جانے کے بعد کی موت ہے۔ ﴿وَاَحۡيَيۡتَنَا اثۡنَتَيۡنِ ﴾ ’’اور دو مرتبہ تونے ہمیں زندہ کیا۔‘‘ یعنی دنیا کی زندگی اور آخرت کی زندگی، ﴿فَاعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوۡبِنَا فَهَلۡ اِلٰى خُرُوۡجٍ مِّنۡ سَبِيۡلٍ ﴾ ’’پس ہم کو اپنے گناہوں کا اقرار ہے تو کیا نکلنے کی کوئی سبیل ہے؟‘‘ یعنی وہ نہایت حسرت سے یہ التجا کریں گے، مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔
[12] انھیں اسباب نجات اختیار نہ کرنے پر سخت زجروتوبیخ کی جائے گی۔ ان سے کہا جائے گا: ﴿ذٰلِكُمۡ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِيَ اللّٰهُ وَحۡدَهٗ﴾ ’’یہ اس سبب سے کہ جب اکیلے اللہ کو پکارا جاتا تھا۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے لیے اخلاص عمل کے لیے بلایا جاتا اور شرک سے روکا جاتا تھا ﴿كَفَرۡتُمۡ ﴾ ’’تو تم انکار کرتے تھے۔‘‘ تمھارے دل اس سے ناگواری محسوس کرتے اور تم اس سے سخت نفرت کرتے تھے ﴿وَاِنۡ يُّشۡرَكۡ بِهٖ تُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’اور اگر اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جاتا تو تم مان لیتے تھے۔‘‘ تمھارے اس رویے نے تمھیں اس منزل پر پہنچایا۔ تم ایمان لانے سے انکار کرتے اور کفر پر ایمان لاتے رہے۔ تم اس طرز عمل پر راضی رہے جو دنیاوآخرت میں فساد اور شر کا باعث تھا اور اس طرز عمل کو برا سمجھتے رہے جس میں دنیاوآخرت کی بھلائی اور اصلاح تھی۔ تم بدبختی، ذلت اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے اسباب کو ترجیح دیتے رہے اور فوزوفلاح اور کامیابی کے اسباب سے منہ موڑتے رہے۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا١ۚ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾(الاعراف:7؍146)’’اگر وہ سیدھا راستہ دیکھیں تو اسے اختیار نہ کریں گے اور اگر ان کو گمراہی کا راستہ نظر آجائے تو اس پر چل پڑیں گے۔‘‘﴿فَالۡحُكۡمُ لِلّٰهِ الۡعَلِيِّ الۡكَبِيۡرِ ﴾ ’’تو (آج) فیصلہ اللہ کے ہاتھ ہے جو عالی مقام (اور سب سے) بڑا ہے۔‘‘ (العلی) سے مراد وہ ہستی ہے جو علو ذات، علو قدر اور علو قہر یعنی ہر لحاظ سے مطلق بلندی کی مالک ہے۔ اس کے علو قدر میں سے اس کا کمال عدل ہے کہ وہ تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے۔ وہ تقویٰ شعار لوگوں اور فاسق و فاجر لوگوں کو مساوی قرار نہیں دیتا۔ (الکبیر) جو اپنے اسماء و صفات اور افعال میں کبریاء اور عظمت و مجد کا مالک ہے جو ہر آفت، ہر عیب اور ہر نقص سے پاک ہے۔ اور جب فیصلے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور تمھارے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم میں دائمی خلود کا فیصلہ کیا ہے تو اس کے فیصلے میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences