As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
الزخرف
Az-Zukhruf
The Ornaments of Gold · Meccan · 89 ayahs
43:1–5Page 489
حمٓ ١
Ḥā, Meem.1
وَٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡمُبِينِ ٢
By the clear Book,
إِنَّا جَعَلۡنَٰهُ قُرۡءَٰنًا عَرَبِيّٗا لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ ٣
Indeed, We have made it an Arabic Qur’ān that you might understand.
وَإِنَّهُۥ فِيٓ أُمِّ ٱلۡكِتَٰبِ لَدَيۡنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ ٤
And indeed it is, in the Mother of the Book1 with Us, exalted and full of wisdom.2
أَفَنَضۡرِبُ عَنكُمُ ٱلذِّكۡرَ صَفۡحًا أَن كُنتُمۡ قَوۡمٗا مُّسۡرِفِينَ ٥
Then should We turn the message away, disregarding you, because you are a transgressing people?
حٰمٓ(1) قسم ہے کتاب واضح کی(2) بے شک کیا ہم نے اس کو قرآن عربی زبان میں، تاکہ تم سمجھو(3) اور بلاشبہ وہ اصل کتاب میں ہمارے پاس یقیناً بہت بلند (درجے والا) نہایت حکمت والا ہے(4) کیا پس روک لیں گے ہم تم سے ذکر (نصیحت) کو، اعراض کرتے ہوئے، اس لیے کہ ہو تم لوگ حد سے گزر جانے والے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] یہ قرآن عظیم کی قرآن پر قسم ہے، اللہ تعالیٰ نے کتاب مبین کی علی الاطلاق قسم کھائی اور متعلق کو ذکر نہیں فرمایا تاکہ یہ اس حقیقت پر دلالت کرے کہ یہ دین، دنیا اور آخرت کی ہر اس چیز کو بیان کر کے واضح کرتی ہے جس کی بندوں کو حاجت ہے۔ ﴿اِنَّا جَعَلۡنٰهُ قُرۡءٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ ’’ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے۔‘‘ یہ ہے وہ چیز جس پر قسم کھائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے سب سے فصیح، سب سے واضح اور سب سے زیادہ زور بیان والی زبان میں نازل فرمایا اور یہ اس کا بیان ہے اور اس میں پنہاں حکمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ﴾ شاید کہ تم اس کے الفاظ و معانی کو، ان کے آسان اور اذہان کے قریب ہونے کی بنا پر سمجھ سکو۔
[4]﴿وَاِنَّهٗ﴾ یعنی یہ کتاب ﴿فِيۡۤ اُمِّ الۡكِتٰبِ لَدَيۡنَا ﴾ ’’ (لوح محفوظ) میں ہمارے پاس ہے۔‘‘ یعنی ملأاعلیٰ میں بلند ترین اور افضل ترین مرتبے میں ہے۔ ﴿لَعَلِيٌّ حَكِيۡمٌ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ قدروشرف اور بلند مقام کی حامل ہے۔ یہ کتاب جن اوامرونواہی اور اخبار پر مشتمل ہے، ان میں حکمت رکھی گئی ہے۔ اس میں کوئی حکم ایسا نہیں جو حکمت، عدل اور میزان کے خلاف ہو۔
[5] پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس کی حکمت اور اس کا فضل تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اپنے بندوں کو مہمل اور آزاد نہ چھوڑے، ان کی طرف رسول بھیجے اور ان پر کتاب نازل کرے، خواہ وہ حد سے گزرنے والے ظالم ہی کیوں نہ ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿اَفَنَضۡرِبُ عَنۡكُمُ الذِّكۡرَ صَفۡحًا ﴾ یعنی کیا ہم تم لوگوں سے تمھارے اعراض اور عدم اطاعت کی بنا پر منہ موڑ کر تمھاری طرف نصیحت نازل کرنا چھوڑ دیں؟ نہیں، بلکہ ہم تم پر کتاب نازل کریں گے جس میں تمھارے لیے ہر چیز واضح کریں گے۔ اگر تم ایمان لائے اور راہ راست پر چلے تو یہ تمھیں عطا کی گئی توفیق ہے ورنہ تم پر حجت قائم ہو جائے گی اور تمھارا معاملہ تمھارے سامنے واضح ہو جائے گا۔
43:6–8Page 489
وَكَمۡ أَرۡسَلۡنَا مِن نَّبِيّٖ فِي ٱلۡأَوَّلِينَ ٦
And how many a prophet We sent among the former peoples,
وَمَا يَأۡتِيهِم مِّن نَّبِيٍّ إِلَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ ٧
But there would not come to them a prophet except that they used to ridicule him.
فَأَهۡلَكۡنَآ أَشَدَّ مِنۡهُم بَطۡشٗا وَمَضَىٰ مَثَلُ ٱلۡأَوَّلِينَ ٨
And We destroyed greater than them1 in [striking] power, and the example of the former peoples has preceded.
اور کتنے ہی بھیجے ہم نے نبی پہلے لوگوں میں(6) اور نہیں آتا ان کے پاس کوئی نبی مگر تھے وہ اس کے ساتھ ٹھٹھا ہی کرتے(7) پس ہلاک کر دیا ہم نے ان سے کہیں زیادہ زور آور لوگوں کو اور گزر چکی ہے مثال پہلے لوگوں کی(8)
[8-6] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ مخلوق میں ہماری سنت یہ ہے کہ ہم انھیں مہمل اور بیکار نہیں چھوڑتے ۔ پس کتنے ہی﴿وَؔكَمۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ نَّبِيٍّ فِي الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’نبی ہم نے پہلے لوگوں میں بھیجے۔‘‘ جو انھیں اللہ واحد کی عبادت کا حکم دیتے تھے جس کا کوئی شریک نہیں۔ تمام قوموں میں تکذیب ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ ﴿وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ نَّبِيٍّ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ان کے پاس جو بھی نبی آیا وہ اس کی دعوت کا انکار اور حق کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے اس کا تمسخر اڑاتے تھے۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنَاۤ اَشَدَّ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ہم نے انھیں ہلاک کیا جو سخت تھے۔‘‘ ان لوگوں سے ﴿بَطۡشًا ﴾ ’’قوت میں‘‘ یعنی زمین کے اندر قوت، افعال اور آثار کے لحاظ سے ﴿وَّمَضٰى مَثَلُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی ان لوگوں کی امثال و اخبار گزر چکی ہیں اور ان میں سے بہت سی مثالیں ہم تمھارے سامنے بیان کر چکے ہیں جن میں سامان عبرت اور تکذیب پر زجروتوبیخ ہے۔
43:9–14Page 489
وَلَئِن سَأَلۡتَهُم مَّنۡ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ لَيَقُولُنَّ خَلَقَهُنَّ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡعَلِيمُ ٩
And if you should ask them, "Who has created the heavens and the earth?" they would surely say, "They were created by the Exalted in Might, the Knowing,"
ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَرۡضَ مَهۡدٗا وَجَعَلَ لَكُمۡ فِيهَا سُبُلٗا لَّعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ ١٠
[The one] who has made for you the earth a bed and made for you upon it roads that you might be guided
وَٱلَّذِي نَزَّلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءَۢ بِقَدَرٖ فَأَنشَرۡنَا بِهِۦ بَلۡدَةٗ مَّيۡتٗاۚ كَذَٰلِكَ تُخۡرَجُونَ ١١
And who sends down rain from the sky in measured amounts, and We revive thereby a dead land - thus will you be brought forth -
وَٱلَّذِي خَلَقَ ٱلۡأَزۡوَٰجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ ٱلۡفُلۡكِ وَٱلۡأَنۡعَٰمِ مَا تَرۡكَبُونَ ١٢
And who created the species, all of them, and has made for you of ships and animals those which you mount
لِتَسۡتَوُۥاْ عَلَىٰ ظُهُورِهِۦ ثُمَّ تَذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ رَبِّكُمۡ إِذَا ٱسۡتَوَيۡتُمۡ عَلَيۡهِ وَتَقُولُواْ سُبۡحَٰنَ ٱلَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُۥ مُقۡرِنِينَ ١٣
That you may settle yourselves upon their backs and then remember the favor of your Lord when you have settled upon them and say, "Exalted is He who has subjected this to us, and we could not have [otherwise] subdued it.1
وَإِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ ١٤
And indeed we, to our Lord, will [surely] return."
اور البتہ اگر سوال کریں آپ ان سے، کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو تو یقیناً وہ ضرور کہیں گے کہ پیدا کیا ان کو بڑے زبردست خوب جاننے والے نے(9) وہ جس نے بنایا تمھارے لیے زمین کو بچھونا اور بنائے تمھارے لیے اس میں راستے، تاکہ تم راہ پاؤ (10) اور وہ جس نے نازل کیا آسمان سے پانی ایک اندازے سے، پھر زندہ کر دیا ہم نے اس کےذریعے سے مردہ شہر کو، اسی طرح تم (دوبارہ) نکالے جاؤ گے (11) اور وہ جس نے پیدا کیے جوڑے سب، اور بنائیں تمھارے لیے کشتیاں اور چوپائے کہ سوار ہوتے ہو تم(ان پر)(12) تاکہ جم کر بیٹھو تم ان کی پیٹھوں پر ، پھر یاد کرو تم نعمت اپنے رب کی، جب برابر ہو کر بیٹھ جاؤ تم ان پر اور کہو تم، پاک ہے وہ (اللہ) جس نے تابع کر دیا ہمارے اس کو اور نہیں تھے ہم اس کو قابو میں کر لینے والے (13) اور بے شک ہم طرف اپنے رب کی ضرور لوٹنے والے ہیں (14)
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿وَلَىِٕنۡ سَاَلۡتَهُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ لَيَقُوۡلُنَّ خَلَقَهُنَّ الۡعَزِيۡزُ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’(اگر) آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ ان کو اللہ وحدہ لاشریک نے پیدا کیا جو غالب ہے جس کے غلبہ کے سامنے اولین و آخرین تمام مخلوقات اپنے ظاہر و باطن کے ساتھ سرنگوں ہے۔ جب وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں تو وہ اللہ کا بیٹا، اس کی بیوی اور اس کے شریک کیسے ٹھہراتے ہیں؟ اور ان ہستیوں کو اس کا شریک کیوں کر قرار دیتے ہیں جو پیدا کر سکتی ہیں نہ رزق عطا کر سکتی ہیں اور نہ زندگی اور موت ان کے اختیار میں ہے؟
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان دلائل کا بھی ذکر کیا جو اس کی کامل نعمت و اقتدار پر دلالت کرتے ہیں، زمین کی اشیاء کو دلیل بنایا جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کیں، اس زمین کو بندوں کے لیے ٹھکانا بنایا جہاں وہ ہر اس چیز پر متمکن ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔ ﴿وَّجَعَلَ لَكُمۡ فِيۡهَا سُبُلًا ﴾ ’’اور اس میں تمھارے لیے راستے بنا دیے۔‘‘ یعنی ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے پہاڑی سلسلوں کے درمیان گزر گاہیں بنائیں جہاں سے گزر کر تم ان پہاڑوں کے پاس واقع ممالک کو جاتے ہو۔ ﴿لَّعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ﴾ تا کہ تم ان راستوں پر سفر کے دوران راہ پاؤ اور ضائع نہ ہو جاؤ اور تاکہ تم اس سے عبرت اور نصیحت حاصل کرو۔
[11]﴿وَالَّذِيۡ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ ﴾ ’’اور وہ ذات جس نے آسمان سے پانی اتارا اندازے کے ساتھ۔‘‘ وہ اس پانی میں کمی بیشی نہیں کرتا نیز پانی ضرورت کے مطابق ہوتا ہے، یہ پانی کم نہیں ہوتا کہ فائدہ مفقود ہو جائے اور نہ اتنا زیادہ ہوتا ہے جس سے انسانوں اور زمین کو نقصان پہنچے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ اس پانی کے ذریعے سے اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے اور اس کے ذریعے سے زمین کو سختی سے بچاتا ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿فَاَنۡشَرۡنَا بِهٖ بَلۡدَةً مَّؔيۡتًا ﴾ یعنی ہم نے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا۔ ﴿كَذٰلِكَ تُخۡرَجُوۡنَ ﴾ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے پانی کے ذریعے سے بنجر اور مردہ زمین کو زندہ کیا اسی طرح جب تم اپنے بزرخ کے مرحلے کو پورا کر لو گے، تو وہ تمھیں زندہ کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[12]﴿وَالَّذِيۡ خَلَقَ الۡاَزۡوَاجَ كُلَّهَا ﴾ ’’اور وہ ذات جس نے تمام چیزوں کے جوڑے پیدا کیے۔‘‘ یعنی وہ تمام اصناف جو زمین سے اگتی ہیں، خود ان کی ذات میں اور ان تمام اشیاء میں سے جن کا انھیں علم نہیں ، مثلاً: رات دن، گرمی سردی اور مذکر مونث وغیرہ میں سے۔ ﴿وَجَعَلَ لَكُمۡ مِّنَ الۡفُلۡكِ ﴾ ’’اور تمھارے لیے کشتیاں بنائیں‘‘ یعنی تمام بادبانی اور دخانی کشتیاں جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ ﴿وَالۡاَنۡعَامِ مَا تَرۡؔكَبُوۡنَۙ ۰۰ ﴾’’اور چوپائے بھی جن پر تم سوار ہوتے ہو۔‘‘
[13]﴿لِتَسۡتَوٗا عَلٰى ظُهُوۡرِهٖ﴾ ’’ تاکہ تم ان کی پیٹھ پر چڑھ بیٹھو۔‘‘ اور یہ آیت تمام مویشیوں کی پیٹھ کو شامل ہے، یعنی تم ان سواریوں کی پیٹھ پر استقرار پکڑو۔ ﴿ثُمَّ تَذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ رَبِّكُمۡ اِذَا اسۡتَوَيۡتُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ پھر جب تم ان پر ٹھیک طرح سے بیٹھ جاؤ، تو اس نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس ہستی کا ذکر کرو جس نے ان کو تمھارے لیے مسخر کیا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿وَتَقُوۡلُوۡا سُبۡحٰؔنَ الَّذِيۡ سَخَّرَ لَنَا هٰؔذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقۡرِنِيۡنَ﴾ اور کہو: اگر اللہ تعالیٰ نے ان کشتیوں اور مویشیوں کو ہمارے لیے مسخر نہ کیا ہوتا تو ہم ان کو مسخر کرنے کی طاقت اور قدرت نہیں رکھتے تھے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے ان سواریوں کو ہمارے لیے مسخر کیا اور ان کے اسباب مہیا کیے۔ اس سے یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ رب جو مذکورہ اوصاف سے متصف ہے جس نے بندوں پر ان نعمتوں کا فیضان کیا ہے وہی اس چیز کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، اس کی نماز پڑھی جائے اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوا جائے۔
43:15–25Page 490
وَجَعَلُواْ لَهُۥ مِنۡ عِبَادِهِۦ جُزۡءًاۚ إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَكَفُورٞ مُّبِينٌ ١٥
But they have attributed to Him from His servants a portion.1 Indeed, man is clearly ungrateful.
أَمِ ٱتَّخَذَ مِمَّا يَخۡلُقُ بَنَاتٖ وَأَصۡفَىٰكُم بِٱلۡبَنِينَ ١٦
Or has He taken, out of what He has created, daughters and chosen you for [having] sons?
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحۡمَٰنِ مَثَلٗا ظَلَّ وَجۡهُهُۥ مُسۡوَدّٗا وَهُوَ كَظِيمٌ ١٧
And when one of them is given good tidings of that which he attributes to the Most Merciful in comparison [i.e., a daughter], his face becomes dark, and he suppresses grief.
أَوَمَن يُنَشَّؤُاْ فِي ٱلۡحِلۡيَةِ وَهُوَ فِي ٱلۡخِصَامِ غَيۡرُ مُبِينٖ ١٨
So is one brought up in ornaments while being during conflict unevident1 [attributed to Allāh]?
وَجَعَلُواْ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةَ ٱلَّذِينَ هُمۡ عِبَٰدُ ٱلرَّحۡمَٰنِ إِنَٰثًاۚ أَشَهِدُواْ خَلۡقَهُمۡۚ سَتُكۡتَبُ شَهَٰدَتُهُمۡ وَيُسۡـَٔلُونَ ١٩
And they described the angels, who are servants of the Most Merciful, as females. Did they witness their creation? Their testimony will be recorded, and they will be questioned.
وَقَالُواْ لَوۡ شَآءَ ٱلرَّحۡمَٰنُ مَا عَبَدۡنَٰهُمۗ مَّا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنۡ عِلۡمٍۖ إِنۡ هُمۡ إِلَّا يَخۡرُصُونَ ٢٠
And they said, "If the Most Merciful had willed, we would not have worshipped them." They have of that no knowledge. They are not but misjudging.
أَمۡ ءَاتَيۡنَٰهُمۡ كِتَٰبٗا مِّن قَبۡلِهِۦ فَهُم بِهِۦ مُسۡتَمۡسِكُونَ ٢١
Or have We given them a book before it [i.e., the Qur’ān] to which they are adhering?
بَلۡ قَالُوٓاْ إِنَّا وَجَدۡنَآ ءَابَآءَنَا عَلَىٰٓ أُمَّةٖ وَإِنَّا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم مُّهۡتَدُونَ ٢٢
Rather, they say, "Indeed, we found our fathers upon a religion, and we are in their footsteps [rightly] guided."
وَكَذَٰلِكَ مَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ فِي قَرۡيَةٖ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوهَآ إِنَّا وَجَدۡنَآ ءَابَآءَنَا عَلَىٰٓ أُمَّةٖ وَإِنَّا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم مُّقۡتَدُونَ ٢٣
And similarly, We did not send before you any warner into a city except that its affluent said, "Indeed, we found our fathers upon a religion, and we are, in their footsteps, following."
۞ قَٰلَ أَوَلَوۡ جِئۡتُكُم بِأَهۡدَىٰ مِمَّا وَجَدتُّمۡ عَلَيۡهِ ءَابَآءَكُمۡۖ قَالُوٓاْ إِنَّا بِمَآ أُرۡسِلۡتُم بِهِۦ كَٰفِرُونَ ٢٤
[Each warner] said, "Even if I brought you better guidance than that [religion] upon which you found your fathers?" They said, "Indeed we, in that with which you were sent, are disbelievers."
فَٱنتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡۖ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُكَذِّبِينَ ٢٥
So We took retribution from them; then see how was the end of the deniers.
اور بنا لیا انھوں نے اس کے لیے، اس کےبندوں میں سے ایک حصہ، بلاشبہ انسان البتہ بہت ناشکرا ہے صریح (15) کیا لیں اس نے ان میں سے جو وہ پیدا کرتا ہے، بیٹیاں اورنوزا تم کو ساتھ بیٹوں کے (16) حالانکہ جب خوشخبری دی جاتی ہے ایک کو ان میں سے ساتھ اس کے کہ بیان کی اس نے رحمان کے لیے مثال تو ہو جاتا ہے اس کا چہرہ سیاہ اور وہ غم سے بھرا ہوتا ہے (17) کیا (اس کو اولاد ٹھہرایا ہے؟) جس کی پرورش کی جاتی ہے زیور میں اور وہ بحث و حجت میں نہیں ہے (بات کو) واضح کرنے والی (18) اور ٹھہرایا ہے انھوں نے فرشتوں کو، وہ جو بندے ہیں رحمن کے، عورتیں، کیا وہ حاضر تھے ان کی پیدائش کے وقت؟ضرور لکھی جائے گی شہادت ان کی اور وہ سوال کیے جائیں گے(19) اور انھوں نے کہا: اگر چاہے رحمن تو نہ عبادت کریں ہم ان کی، نہیں ہے واسطے ان کے اس کی بابت کوئی علم، نہیں ہیں وہ مگر اٹکل پچو باتیں کرتے (20) یا دی ہے ہم نے ان کو کوئی کتاب اس سے پہلے، پس وہ اس کو تھامنے والے ہیں؟ (21)(نہیں)بلکہ انھوں نے کہا: بلاشبہ پایا ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر اور ہم تو ان کے نشانات ِقدم ہی کے پیچھے چلنے والے ہیں (22) اور اسی طرح نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا، مگر کہا ان کے خوش حال لوگوں نے، بلاشبہ پایا ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر اور ہم تو ان کے نشانات ِ قدم ہی کی اقتدا کرنے والے ہیں (23) پیغمبر نے کہا: خواہ لاؤ ں میں تمھارے پاس صحیح تر، اس سے کہ پایا تم نے اس پر اپنے باپ دادوں کو؟ انھوں نے کہا، یقیناً ہم تو ساتھ اس کے، کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کے، انکار کرنے والے ہیں (24) تو بدلہ لیا ہم نے ان سے، پس دیکھیے! کیا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا؟ (25)
[15] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے قول کی قباحت بیان کرتا ہے، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے حالانکہ وہ اکیلا اور بے نیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے اور یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے: ۱۔ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اس کے بندے ہیں اور بندگی اولاد ہونے کے منافی ہے۔ ۲۔ بیٹا اپنے والد کا جز ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات سے علیحدہ ہے وہ اپنی صفات کمال اور نعوت جلال میں تمام مخلوق سے الگ ہے جبکہ بیٹا والد کا جز ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونا محال ہے۔
[16] ۳۔ کفار سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں حالانکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ بیٹیاں کمزور ترین صنف ہے اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تو بیٹیاں ہوں اور ان کو وہ بیٹے عطا کرے اور بیٹوں کے ذریعے سے ان کو فضیلت عطا کرے۔ اس صورت میں تو مخلوق اللہ تعالیٰ سے افضل ہے اور اللہ سے بالاوبلندتر ہے۔
[17] ۴۔ وہ صنف، جس کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے، یعنی بیٹیاں، تو یہ کمزور ترین اور خود ان کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسند صنف ہے حتیٰ کہ ان کی کراہت کا یہ حال ہے۔ ﴿وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمۡ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحۡمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجۡهُهٗ مُسۡوَدًّا ﴾ ’’ان میں سے کسی کو بیٹی کی ولادت کی، جسے وہ رحمان کی طرف منسوب کرتا ہے، خوشخبری سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے‘‘ یعنی سخت ناپسندیدگی اور ناراضی کے باعث اس کے چہرے پر سیاہی چھا جاتی ہے۔ ایسی چیز کو اللہ تعالیٰ کے لیے کیوں کر مقرر کرتے ہیں جسے وہ خود ناپسند کرتے ہیں۔
[18] ۵۔ عورت اپنے وصف، اپنی منطق اور اپنے بیان کے اعتبار سے ناقص ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَوَمَنۡ يُّنَشَّؤُا فِي الۡؔحِلۡيَةِ ﴾ ’’کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے۔‘‘ یعنی اپنے حسن و جمال میں کمی کی وجہ سے آرائش کرتی ہے اور ایک امر خارج سے خوبصورتی پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ﴿وَهُوَ فِي الۡخِصَامِ ﴾ اور بحث اور جھگڑے کے وقت، جو اس چیز کا موجب ہوتا ہے کہ وہ اپنی بات کو واضح کرے۔ ﴿غَيۡرُ مُبِيۡنٍ ﴾ تو وہ اپنی بات کو واضح اور اپنے مافی الضمیر کو کھول کر بیان نہیں کرسکتی تو یہ مشرکین اسے اللہ تعالیٰ کی طرف کیسے منسوب کرتے ہیں۔
[19] ۶۔ انھوں نے فرشتوں کو جو رحمن کے بندے ہیں، عورتیں قرار دے دیا پس اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کے بارے میں جسارت کی، انھوں نے ان کو بندگی اور اطاعت کے مرتبہ سے اٹھا کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی بعض صفات میں مشارکت کے مرتبہ پر فائز کر دیا، پھر ان کو مذکر کے مرتبہ سے نیچے مؤنث کے مرتبہ پر لے آئے۔ پس پاک ہے وہ ذات ہے جس نے ان لوگوں کے تناقض کو ظاہر کر دیا جنھوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا اور اس کے رسولوں کے ساتھ عناد رکھا۔ ۷۔ اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کے ذریعے سے ان کے دعوے کا رد کیا کہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو تخلیق فرمایا، پس وہ کسی ایسے معاملے میں کیسے بات کرتے ہیں جس کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ اس ضمن میں ان کے پاس کوئی علم نہیں۔ ان سے اس شہادت کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا، اس شہادت کو ان پر لازم کر دیا جائے گا اور اس پر ان کو سزا دی جائے گی۔
[20]﴿وَقَالُوۡا لَوۡ شَآءَ الرَّحۡمٰنُ مَا عَبَدۡنٰهُمۡ ﴾ ’’اور کہتے ہیں، اگر رحمان چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔‘‘ فرشتوں کی عبادت کرنے کے لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کی مشیت کو دلیل بنایا۔ مشرکین ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کی مشیت کو دلیل بناتے چلے آئے ہیں۔ یہ عقلی اور شرعی طور پر فی نفسہ باطل دلیل ہے۔ کوئی عقل مند شخص تقدیر کی دلیل کو قبول نہیں کر سکتا۔ اگر وہ کسی حال میں اس راہ پر گامزن ہوتا ہے تو اس پر ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔ رہا شرعی طور پر مشیت الٰہی کو دلیل بنانا، تو اللہ تعالیٰ نے مشیت کی دلیل کو باطل ٹھہرا دیا ہے۔ مشرکین اور رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے سوا کسی نے مشیت الٰہی کو دلیل نہیں بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حجت قائم کر دی ہے۔ اب بندوں کے لیے کوئی حجت باقی نہیں رہی۔
[21] بنابریں فرمایا: ﴿مَا لَهُمۡ بِذٰلِكَ مِنۡ عِلۡمٍ١ۗ اِنۡ هُمۡ اِلَّا يَخۡرُصُوۡنَ﴾ ’’ان کو اس کا کچھ علم نہیں وہ محض اٹکل پچو سے کام لیتے ہیں۔‘‘ جس کی کوئی دلیل نہیں ہوتی اور وہ شب کو اونٹنی کی مانند ٹیڑھی چال چلتے ہیں۔ ﴿اَمۡ اٰتَيۡنٰهُمۡ كِتٰبًا مِّنۡ قَبۡلِهٖ فَهُمۡ بِهٖ مُسۡتَمۡسِكُوۡنَ۠ ﴾ ’’کیا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی ہے کہ یہ اس سے سند پکڑتے ہیں؟‘‘ یعنی جو ان کے افعال کی صحت اور اقوال کی صداقت کے بارے میں خبر دیتی ہو، مگر معاملہ ایسا نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیﷺ کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور آپ کے سوا اور کوئی ڈرانے والا ان کے پاس نہیں آیا ۔جب عقل و نقل سے دونوں امور کی نفی ثابت ہو گئی، تب وہاں باطل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔
[22] ہاں، ایک شبہ باقی ہے جو کمزور ترین شبہ ہے اور وہ ہے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلیدجس کی وجہ سے یہ کافر اللہ کے رسولوں کی دعوت کو ٹھکراتے رہے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿بَلۡ قَالُوۡۤا اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ ﴾ ’’بلکہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا ہے۔‘‘ یعنی ایک دین اور ملت پر ﴿وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم انھی کے قدم بقدم چل رہے ہیں۔‘‘ اس لیے ہم اس چیز کی پیروی نہیں کریں گے جو محمد (ﷺ) لے کر آئے ہیں۔
[23]﴿وَؔكَذٰلِكَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡهَاۤ﴾ ’’اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں کوئی ہدایت دینے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا۔‘‘ یعنی بستی کے وہ لوگ جو نعمتوں سے نوازے گئے تھے اور وہ اشراف جن کو دنیا نے سرکش اور مال و دولت نے مغرور بنا دیا تھا اور وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے تھے۔ کہا: ﴿اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انھی کے نقش قدم کی اقتدا کر رہے ہیں۔ ‘‘پس ان لوگوں کا یہ رویہ کوئی نئی چیز نہیں ہے اور نہ یہ پہلے لوگ ہی ہیں جنھوں نے یہ بات کہی ہو۔ ان گمراہ مشرکین کا اپنے آباء و اجداد کی تقلید کو دلیل بنانے کا مقصد حق اور ہدایت کی اتباع نہیں، بلکہ یہ تو محض تعصب ہے جس کا مقصد اپنے باطل موقف کی تائید و نصرت ہے۔
[24] بنابریں ہر رسول نے، ایسے لوگوں سے جنھوں نے اس باطل شبہ کی بنا پر اس کی مخالفت کی، کہا ہے:﴿ اَوَلَوۡ جِئۡتُكُمۡ بِاَهۡدٰؔى مِمَّا وَجَدۡتُّمۡ عَلَيۡهِ اٰبَآءَكُمۡ ﴾ ’’اگرچہ میں تمھارے پاس ایسا دین لاؤ ں کہ جس راستے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہ اس سے کہیں سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی کیا تم ہدایت کی خاطر میری پیروی کرو گے؟ ﴿قَالُوۡۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا: جو (دین) تم دے کر بھیجے گئے ہو، ہم تو اس کا انکار کرتے ہیں۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ارادہ حق اور ہدایت کی اتباع نہ تھا۔ ان کا مقصد تو صرف باطل اور خواہشات نفس کی پیروی تھا۔
[25]﴿فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ پس اس باطل شبہ کی بنیاد پر ان کے حق کی تکذیب کرنے اور اس کو ٹھکرانے کا ہم نے ان سے انتقام لیا۔ ﴿فَانۡظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’پس دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ پس ان لوگوں کو اپنی تکذیب پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences